بے اختیار : سلطان جمیل نسیم ۔ کینیڈا

بیان!
جی ہاں! اب میں بیان لکھوا سکتا ہوں حالانکہ ابھی میرے پیٹ میں سانس پوری طرح نہیں سما رہا ہے زیادہ بولنے کی کوشش کرتا ہوں تو پیٹ میں کھنچی ہوئی درد کی لکیر چھوٹے چھوٹے دائروں میں پھیلنے لگتی ہے۔ پھر بھی… پھر بھی میری حالت پہلے سے بہت رہے… میں کوشش کروں گا کہ آپ کے کہنے کے مطابق پوری تفصیل کے ساتھ… سارا واقعہ بتاسکوں… بس ذرا سی مہلت دے دیجیے… ایک گھونٹ پانی پی لوں … وہ ٹیبلٹ بھی اٹھادیجیے… شکریہ… جی تو کیا پوچھا تھا آپ نے…؟
جی ہاں میں بی اے پاس ہوں… اب یہ مسئلہ نہ چھیڑیے کہ مجھ جیسے جوان ڈاکے اور چوری کے پیشے کو کیوں اپنائے ہوئے ہیں… اس طرح بات پھیل جائے گی اور شاید آپ کو ناگوار بھی گزرے… کیا فرمایا…؟ جی نہیں… میں نے آج تک کوئی قتل نہیں کیا ہے… ہاں ایک مرتبہ … یہ بہت لمبے عرصے کی بات ہے جب میں ایک موٹر سائیکل اٹھا را تھا اس کا مالک آگیا… توتکار اور ہاتھا پائی سے بچنے کے لیے میں نے اسے دھکا دیا تو وہ جا کے دیوار سے ٹکرایا… میں نے بھاگتے بھاگتے دیکھا اس کا سر پھٹ گیا تھا اور خون نکل رہا تھا… اگر اس کو خون بہانا کہہ سکتے ہیں تو میں نے خون بہایا ہے۔
یہ بات میں نے آپ کے سوال کے جواب میں کہی… ورنہ میں تو اصل واقعہ ہی بیان کررہا تھا۔
اس مکان میں تین آدمی رہتے ہیں۔
نہیں … چوتھے کے بارے میں مجھے پتا نہیں… ہاں… ہاں شاید یہ بات مجھے بعد میں معلوم ہوئی کہ چوتھا بھی تھا… ویسے میں نے یہی دیکھا ہے کہ اس مکان میں تین ہی بندے رہتے ہیں… ایک وہ… دوسری اس کی ماں اور تیسری بیوی… صاحب پہلے میری بات سن لیجیے پھر سوال کرکے اپنی تسلی کرلیجیے گا… اور اگر آپ تمام واقعے کو اپنے ہی سوالوں کی روشنی میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے… آپ سوال کرتے جائیے میں جواب دیتا رہوں گا… بس تو پہلے مجھے تفصیل سے سب کچھ بیان کرلینے دیجیے۔
وہ اتفاقاً ہی نظر میں آگیا تھا۔ ہوا یوں کہ میں ہوٹل میں بیٹھا تھا… سامنے سڑک پر اس نے اپنی کار لا کے روکی۔ باہر آیا پان والے کی دکان کی طرف بڑھ گیا… جب وہ سگریٹ خرید رہا تھا تو میری ہی طرح ہوٹل میں بیٹھے ہوئے دو آدمی اس کی باتیں کرنے لگے۔ ان کی باتوں کو سن کر میرے کان کھڑے ہوئے۔
پہلے وہ شہر کی ایک پس ماندہ بستی میں رہتا تھا اور کسی فیکٹری میں کام کرتا تھا جہاں سے یونین بنانے کی کوشش میں نکال دیا گیا اب کسی دوا ساز کمپنی کے لیے مختلف قسم کی ٹیبلٹس بناتا ہے۔ شروع میں تو نوکری حاصل کرنے کے لیے جوتیاں چٹخاتا رہا تھا پھر ایک دوست کے مشورے اور اشتراک سے دوا کی ٹکیاں بنانے کا کام اپنے گھر پر شروع کیا۔ جب کاروبارچل نکلا تو ماں کا رہا سہا زیور بیچ کر علیحدہ جگہ لے لی پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے بنگلا بھی خریدلیا اور کار بھی… مہینہ بھر پہلے ایک صنعت کار کی بیٹی سے شادی کی ہے۔
ان لوگوں کی باتیں میں نے بڑی توجہ سے سنیں… ایسی ہی آسامیوں کی تاک میں تورہتا ہوں… اس کے بارے میں اور ٹوہ لگانے کی خاطر میں نے سوچا کہ ہوٹل میں بیٹھے ہوئے ان لوگوں سے یارانہ گانٹھوں… پھر سوچا نہیں ایسے معاملوں میں تو اپنے سائے سے بھی بدکنا چاہیے…وقت چور کے پائوں تلے دبا ہوتا ہے۔ ذرا سا وزن ہلکا پڑا اور وہ چیختا چلاتا نکل بھاگا۔ اس لیے احتیاط لازم ہے۔ نجانے کب کون کس بات کی گواہی دینے کو آجائے۔
میں نے ارادہ کرلیا کہ خود ہی ساری جاسوسی کروں گا… یہ تو معلوم ہو ہی گیا تھا کہ وہ اسی علاقے میں رہتا ہے… اس کی کار کا رنگ آنکھوں میں بھروالیا اور ماڈل ذہن میں بسا لیا نمبر دل پر لکھ دیا وہ دن میں نے اسی ہوٹل میں آتے جاتے گزاردیا…دفتروں میں کام کرنے والے بابو تو وقت پر جاتے ہیں اور گھنٹے سوا گھنٹے کی دیر سویر سے لوٹ آتے ہیں لیکن یہ کاروباری لوگ توبہ… صبح سے شام تک کا ہر لمحہ بیچ دینا چاہتے ہیں۔
وہ رات گئے واپس ہوا۔
اس کا گھر دیکھنے کے بعد کاروباری جگہ بھی دیکھنی ضروری تھی۔
میں اٹھائی گیرا نہیں ہوں صاحب… اصول کے مطابق کام کرتا ہوں… بے شک اس طرح دیر ضرور لتی ہے لیکن رنگ بھی چوکھا آجاتا ہے۔ میں روز کنواں کھودنے اور کھانے کا قائل نہیں ہوں… ٹھکانے کا شکار ڈھونڈ تا ہوں تاکہ مہینے دو مہینے آرام سے گزر جائیں… چنانچہ پھر دوسرے دن میں نے کارخانہ بھی دیکھ لیا۔
اس نے اپنے پرانے محلے کے ایک بوسیدہ مکان میں دوا سازی کی فیکٹری قائم کی ہے۔ اسی مکان کی پہلی منزل پر دفتر بھی بنالیا ہے۔ جس کی ایک کھڑکی سڑک کی طرف کھلتی ہے۔ انجان آدمی تو سوچ بھی نہیں سکتا کہ اس جگہ کسی قسم کا کاروبار بھی ہوتا ہوگا مگر اس کا دھندہ خوب چل رہا ہے۔ دن بھر میں کئی سوزوکیاں خام مال لے کے آتی ہیں اور بنا بنایا مال لے جاتی ہیں۔ آنے جانے والے مال کی نگرانی ایک بوڑھا پٹھان چوکیدار کرتا ہے جو سارا دن دروازے کے ایک طرف پڑی چارپائی پر بیٹھا نسوار کھاتا اور تھوکتا رہتا ہے۔ اس کا دفتری کام سنبھالنے کے لیے دو آدمی ہیں اور میرا خیال ہے پانچ سات آدمی کارخانے میں بھی کام کرتے ہیں۔
وہ صبح ساڑھے دس بجے کے قریب کارخانے پہنچتا ہے اور کچھ وقت وہاں گزارنے کے بعد ادویات ساز فیکٹریوں اور دفتروں کے چکر لگانے کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے۔
ساڑھے پانچ بجے تمام کارندے چھٹی کر جاتے ہیں اور چوکیدار اپنی چارپائی گھسیٹ کر اندر لے جاتا ہے اور دروازہ بند کرلیتا ہے پھر یہ دروازہ اسی وقت کھلتا ہے جب وہ کہیں گیا ہو تو درازے کے پاس گاڑی روک کر ہارن بجائے یا اندر سے اپنا کام ختم کرکے گھر جانے کے لیے نکلے… مطلب یہ کہ سارے کارکنوں کے جانے کے بعد بھی وہ اکیلا دفتر میں بیٹھ کر دو تین گھنٹے گزارتا ہے۔
صبح سے شام تک اس کے پیچھے پیچھے پھرنے سے ہی یہ سارے بھید مجھ پر کھلے… اور … اصل بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ وہ دن بھر میں حاصل ہونے والی رقم اپنے پاس رکھتا ہے۔ دفتر میں چوڑتا ہے اور نہ بینک میں جمع کراتا ہے… ایسے لوگ جو دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں سے کھیلنے لگتے ہیں وہ بینک میں حساب کتاب کم ہی رکھتے ہیں۔ سارا لین دین بالا ہی بالا ہوتا ہے حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والی ہی حکومت کو لٹیرا سمجھتے ہیں۔
خیر صاب… قصہ مختصر… تیسرے دن جب وہ اپنے گھر سے نکلا تو میں پھر پیچھے ہولیا… اس دن وہ کارخانے میں ایسا گیا کہ نکلنے کا نام ہی نہ لے… میں اپنی گاڑی میں بیٹھے بیٹھے پسینے میں نہا گیا۔
انتظار کی دھوپ میں آدمی دھیرے دھیرے سوکھتا ہے۔ وقت اسے گیلے کپڑے کی طرح ایک دم نہیں نچوڑدیتا بلکہ آہستہ آہستہ بل دے کر اس کے صبر کو بوند بوند ٹپکاتا رہتا ہے… میں بے صبرا نہیں ہوں… مگر اس دن تو ایسے پسینے چھوٹے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگا… میں نے سوچا، اگر وہ شام تک نہیں نکلا تو کیا میں الو کی طرح بیٹھا اس کے دفتر کی کھڑکی کو تکتا رہوں گا؟ پھر خود کو سمجھایا کہ میں کوئی سرکاری ملاززت تھوڑی کررہا ہوں جو اپنے کام سے بیزار ہونے لگا… یہ پیشہ تو میری محبت ہے اور میں اس محبت کا اسیر ہوں… نشے کی طرح لت پڑ گئی ہے یہ وقت جو اس کی راہ تکتے ہوئے گزررہا ہے یہ بھی اسی نشے کا سودا ہے… میں خیالوں کے ریلے میں ڈول رہا تھا کہ وہ اپنے دفتر سے نکلا… میں چوکنا ہو کر بیٹھ گیا… اس نے کار کی پچھلی سیٹ پر پڑا ہوا بریف کیس نکالا… میں سمجھ گیا، بریف کیس خالی ہے… ایک تو اس کا اٹھانے کا انداز… دوسرے … اگر اس میں کچھ ہوتا تو یوں کار میں نہ چھوڑتا… اگر کار میں رکھنا ہی ہوتا تو پھر ڈگی میں رکھتا… خیر… میں تیار ہو کر بیٹھ گیا کہ وہ چلے تو میں اپنی کار اس کے پیچھے ڈال دوں… لیکن وہ… وہ تو بریف کیس اٹھا کے پیدل ہی چل دیا… چند قدم آگے بڑھا تو میں بھی گاڑی سے باہر آگیا، اور اس کے پیچھے چلنے لگا… جب وہ ایک قریبی بینک میں گیا تو میں نے پسینہ پونچھتے ہوئے سوچا آج چوک ہوگئی… ضرور اس بریف کیس میں مال ہوگا جسے وہ بینک میں جمع کرانے گیا ہے… پھر ڈوبتے ہوئے دل کو اس خیال نے سہارا دیا کہ ممکن ہے آج ہی وہ دن ہو جس کی تلاش میں دو تین روز سے بھٹک رہا ہوں۔ اس لیے کہ میں نے اس نگرانی کے دوران بریف کیس اس کے پاس نہیں دیکھا تھا ضرور آج وہ ایک بڑی رقم بنک سے نکلوائے گا۔ ذہن میں کھچڑی سی پک رہی تھی۔ میں نے انتشار خیال سے بچنے کے لیے خود کو تسلی دی۔ جہاں اتنا انتظار کیا ہے تھوڑا سا اور سہی… جب وہ بینک سے نکلے گا تو سارا معاملہ سامنے آجائے گا… وہ آیا تو اس کو دیکھ کر اطمینان بھری ٹھنڈی سانس لی… ایک ہاتھ میں بریف کیس تھا اور وہ اپنا توازن درست رکھنے کے لیے خالی ہاتھ کی طرف ذرا سا جھکا ہوا تھا۔
شام ڈھلے وہ گھر پہنچا تو میں بھی ساری فکروں سے نچنت ہوگیا تھا۔ کئی فیکٹریوں اور دفتروں میں جانے کے باوجود بریف کیس کے وزن میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا… گھر کے سامنے پہنچ کر اس نے معمول کے مطابق دو تین مرتبہ ہارن بجایا۔ گیٹ کھولنے والی… دونوں کی مسکراہٹ سے پتا چلتا تھا… اس کی گھر والی تھی… گاڑی کے اندر جاتے ہی دروازہ بند ہوگیا۔
میں بھی وہاں سے پلٹا … گھر گیا… پہلے نہایا پھر اپنی تیاری کے ساتھ اس کے مکان کے سامنے پہنچ گیا۔
رات نو بج کر سترہ منٹ پر اس کے دروازے پر ایک ہنڈا سوک آکے ٹھہری جس میں دو آدمی تھے۔ ان میں سے ایک نے اتر کر کال بیل بجائے جس کے جواب میں چند لمحوں بعد خود اس نے آکے دروازہ کھولا اور پرتپاک انداز میں آنے والوں سے معانقہ کیا۔ پھر ان کو گھر میں لے گیا۔
جی نہیں… میں ان آدمیوں کو نہیں پہچانتا ہوں۔
ان کے گھر میں جانے کے بعد میں نے سوچا اب کم سے کم آدھے گھنٹے کی چھٹی ہوگئی۔ اتنی دیر میں ہوٹل پہنچ کر ایک کپ گرم چائے تو پی سکتا ہوں… پھر چائے کے خیال ہی کو پی گیا۔ اس رات کی خاطر تو کئی دن سے خوار ہورہا ہوں… اب یہ بھی معلوم کر ہی لوں کہ وہ بریف کیس کی رقم ان دونوں کو دیتا ہے یا نہیں… اگر یہ لوگ لے گئے تو پھر ٹھنڈے ٹھنڈے جا کر گرم چائے ہی پینی ہے۔ یہی جاننے کے لیے میں اپنی اندھیرے میں کھڑی ہوئی گاڑی میں بیٹھا رہا۔
دس بجے… گیارہ بجے… بارہ بج گئے… اور وہ دونوں باہر نہیں نکلے… میں بھی پتا مارے بیٹھا رہا… ایک بجنے میں جب دو تین منٹ تھے اس وقت وہ دونوں باہر آئے… میں نے نظروں ہی نظروں میں ان کو جانچا… بریف کیس کی رقم کسی کے جسم سے چپکی ہوئی دکھائی نہ دی… پانچ سات سال کا تجربہ ہے صاب… ایک نظر میں تاڑ لیتا ہوں کہ رقم جیب میں رکھی ہے یا نیفے میں اڑسی گئی ہے۔ جب وہ دونوں چلے گئے تو اس نے اندر جا کے گیٹ بند کیا اور باہر کی روشنیاں بھی۔
میں نے کچھ دیر صبر کرنے کے بعد سر اٹھا کے دیکھا… گلی میں کوئی بھی نہیں تھا۔ چوکیدار بھی کسی دوسری لین میں سیٹی بجا رہا تھا۔ آہستہ سے گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر آیا… چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ہوا گیٹ کے قریب قریب پہنچا آج دو مرتبہ میرے سامنے گیٹ کھلا اور بند ہوا تھا۔ مجھے معلوم ہوگیا تھاکہ یہ بھی عام لوہے کے دروازوں کی طرح ، ہلکے گیج کا بنا ہوا ہے اسی لیے ہاتھ لگاتے ہی ٹین کی طرح بجنے لگتا ہے… گیٹ سے ذرا ہٹ کر میں نے چاروں طرف دیکھا… مکان کی چھ فٹی بانڈری وال پر ہاتھ رکھے اور ایک جست میں دیوار پر تھا گھر کے اندر ایک بند دروازے کی جھری سے روشنی پانی کی طرح بہتی ہوئی باہر کی طرف آتی دکھائی دے رہی تھی… میں محتاط انداز سے صحن میں اتر گیا… میں عجلت سے کام لینا نہیں چاہتا تھا… استاد کلن خان… اللہ ان کو غریق رحمت کرے، نصیحت کر گئے ہیں کہ کسی گھر میں اترنے کے فوراً بعد کاروائی شروع نہ کرنا اور یہ بھی کہ پہلے چھپنے کی جگہ اور نکلنے کا راستہ ضرور دیکھ لینا… استاد نے مجھے چاقو چلانا سکھایا ہے… وہ کہتے تھے … پستول اور بندوق تو عورتوں کے ہاتھ میں بھی زیور کی طرح سجنے لگتے ہیں… لیکن چاقو … یہ ہنر مند کے پاس ہی کرتب دکھاتا ہے۔ انہوں نے یہ قسم بھی لی تھی کہ جب اپنی جان پر بن رہی ہو تو تب ہی چاقو کی پیاس بجھانا… ہاں یہ بھی کہا تھا کہ عورتوں اور بچوں کے خون سے مرد کی عزت اور خنجر کی آب جاتی رہتی ہے۔ ویسے صاب ایمان کی بات تو یہ ہے کہ خون خرابہ مجھے بھی پسند نہیں… لیکن چاقو ہمیشہ ساتھ رکھتا ہوں اور ایسے موقعوں پر اسے کھول کر ضرور جانچتا ہوں… چنانچہ موقع کی جگہ بیٹھ کر پہلا کام میں نے یہی کیا، چاقو کھولا اور اس کی دھار پہ انگوٹھے کی ہوائی پھیری۔ پھر بند کرکے جیب میں رکھ لیا۔
گھنٹہ بھر اپنی جگہ سے اٹھا برآمدے اور گھر کے کھلے حصے کا ایک چکر لگانے کے بعد معلوم ہوگیا کہ اندرجانے کے دو دروازے ہیں… ایک گیٹ کے سامنے ڈرائنگ روم میں کھلتا ہے اور دوسرا جو بیچ گلی میں ہے وہ لائونج میں… دونوں پچھلے کمروں میں ابھی تک روشنی ہورہی ہے اور ایئرکنڈیشنز چل رہے تھے۔
میں نے باری باری کمروں کی بند کھڑکیوں کے قریب ٹھہر کر یہ سن گن لینے کی کوشش بھی کی کہ ابھی وہ لوگ باتیں کررہے ہیں یا سونے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں مگر ایئرکنڈیشنز کی آواز میں ایسا ممکن نہیں ہوا… میں گلی کے دروازے کے پاس پائوں پسار کے بیٹھ گیا۔
ایک کمرے کی بتی بجھی … میں اپنی جگہ ساکت بیٹھا رہا… جب یہ یقین آگیا کہ روشنی بند کرنے والوں کی آنکھ بھی لگ گئی ہوگی تب اٹھا… جیب سے دستانے نکال کر پہنے… چہرے پر ر ومال کا نقاب باندھا اور دروازے کے ہینڈل کو پکڑ کر اندازہ لگایا کہ چٹخنی کے ساتھ تالا تو نہیں ڈالا گیا ہے۔
استاد کلن خان کا بخشا ہوا ہنر کام آیا اور ذرا سی کوشش سے اندر کی چٹخنی کھل گئی۔ بعض دروازے قبضوں کی خرابی کے سبب کھلتے اور بند ہوتے وقت مکینوں کو پکارتے ہیں اس لیے میں نے اصول بنا رکھا ہے کہ دروازہ کھولنے سے پہلے یہ معلوم کرلیتا ہوں کہ پٹ فریادی تو نہیں ہیں۔ یہ نئے گھر کے نئے دروازے تھے۔ ابھی مکان کو مکینوں سے انس نہیں ہوا تھا۔ اس لیے دروازہ خاموشی سے کھل گیا۔ چند لمحوں تک کھلے دروازے کے باہر کھڑا رہا پھر گھر میں داخل ہوا۔ میرا خیال تھا سارا معاملہ نمٹانے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ پھر بھی میں نے احتیاط کی خاطر ڈرائنگ روم میں جا کر باہر کھلنے والے دروازے کو نیم وا کردیا۔
اب میرے سامنے دو کمرے تھے اور مجھے فیصلہ کرنا تھا… میں اس کمرے کی طرف بڑھا جس میں ابھی روشنی ہورہی تھی نئے شادی شدہ جوڑے کی آنکھوں میں نیند کی بجائے جوانی کے خواب ہوتے ہیں جن کی تعبیر وہ ایک دوسرے میں دیکھتے رہتے ہیں۔ اسی کمرے میں مجھے کام دکھانا تھا اور جوانی میں ڈوبے ہوئے جوڑے کی طرف سے مزاحمت کا امکان بھینہیں تھا۔ اس لیے میں نے بے خواب آنکھوں سے بھرے ہوئے کمرے میں جانے کا فیصلہ کرلیا۔ دروازے کو ہاتھ لگایا تو پتا چلا کہ اندر سے بند کرنا بھول گئے ہیں۔ میں نے چاقو نکالا اور ایک دم دروازہ کھول دیا…
کمرے میں بھری ہوئی روشنی اور ایئرکنڈیشنز کی ٹھنڈ مجھ سے ٹکرائی… میں پلکیں جھپکا کے دیکھا… ایک عورت آنکھیں بند کیے مصلّے پہ قبلہ رو بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھی۔ کمرے کی ٹھنڈی فضا میں ورد کیے جانے والے لفظوں کی تھرتھراہٹ لوبان کی دھوئیں کی طرح پھیلی ہوئی تھی۔ لحظہ بھر کے لیے مجھے جھرجھری سی آئی پھر میں سنبھل گیا۔ ایک نظر میں سارے کمرے کوٹٹول لیا۔ میرے کام کی کوئی چیز نہیں تھی… چند ساعتوں تک سانس روکے کھڑارہا۔ اس کے بعد پھر باہر آگیا… دروازہ میں نے اتنی ہی احتیاط سے بند کردیا جس احتیاط سے کھولا تھا… آج کل دروازوں میں مغربی انداز کے تالے لگائے جاتے ہیں جو صرف اندر سے بند ہوتے ہیں باہر سے مقفل کردینے کے باوجود اندر سے کھل جاتے ہیں اسی طرح ہم جیسے لوگوں کے لیے خطرے کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔
میں اس کمرے سے باہر آنے کے بعد بھی چوکنا رہا کہ اگر وہ باہر نکل آئے تو اس کو چیخنے چلانے کا موقع نہ دوں… مگر عبادت میں مصروف عورت کو شاید میرے آنے کی خبر ہی نہیں ہوئی… اس کی طرف سے مطمئن ہوجانے کے بعد میں دوسرے کمرے کی طرف بڑھا… نوبیاہتا جوڑا اسی میں تھا… میں نے ہینڈل کو چھوا… دروازہ توقع کے مطابق اندر سے بند تھا… جیب سے تار نکالا… لاک میں ڈال کے آہستہ سے گھمایا… ٹھک… تالا کھل گیا لیکن آواز کی تیزی سے میرا وجود جھنجھنا اٹھا… سناٹے میں اپنے قدموں کی چاپ گراں گزررہی تھی … تالا کھلنے کی آواز تو دھماکا معلوم ہوئی… میں پھر دیوار سے چپک گیا… ایک … دو … تین… چار … پانچ… پانچ منٹ کا وقفہ بہت تھا۔ جب کسی کے جاگ اٹھنے کا اندیشہ بھی ذہن میں اونگھنے لگا تو میں نے دروازہ کھولا اور اندر پہنچ گیا… کمرے میں گھپ اندھیرا تھا اور ایئرکنڈیشنز کی آواز کے ساتھ ساتھ ہلکے ہلکے خراٹوں کی گونج بھی شامل تھی… پہلے کمرے میں دیکھ کر میں نے اسی کمرے کے سوئچ بورڈ کا بھی اندازہ لگالیا تھا… کمرے میں روشنی پھیلتے ہی دونوں میاں بیوی نے کروٹ سی بدلی اور ذرا سی آنکھیں کھول کر ایک دوسرے کو دیکھا… پھر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے… ادھر ان کی نظر مجھ پر اٹھی ادھر میں چاقو لہرا کے ان کے سر پہ جا دھمکا۔
’’مار ڈالوں گا اگر آواز نکالی‘‘
لڑکی نے کمبل اوپر کھینچ کر اس کا کونہ منہ میں دبالیا تھا پھر دہشت کے مارے ہوں ہوں ہوں جیسی آواز نکل رہی تھی۔
وہ چند لمحے سکتے کے عالم میں رہا۔ پھر اپنے حواس پر جلد ہی قابو پالیا اور بولا۔
ک… کون ہو… تم… کیا چاہتے ہو۔
’’مال نکالو…‘‘
اس نے اٹھنے کے لیے جنبش کی تو میں نے چاقو کی نوک گردن پر رکھ دی۔
’’ہوشیاری دکھائی تو گردن اڑادوں گا… سمجھے؟‘‘
چاقو کی ٹھنڈی دھار اس نے اپنی گردن میں اترتی ہوئی محسوس کی ماتھے پر پسینے کے قطرے ابھر آئے… وہ خوف سے کانپنے لگا… کمبل کے اندر اس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ سے مجھے شبہ ہوا جیسے وہ مجھے دبوچ لینے کا ارادہ کررہا ہے۔ میں نے بلا تامل دوسرے ہاتھ سے کمبل کھینچ کر زمین پر پھینک دیا… لڑکی کمبل کا کونہ منہ میں دبائے ہوئے تھی۔ وہ نکلا تو اس کی ہلکی سی چیخ بلند ہوئی لیکن فوراً ہی اس نے دونوں ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لیے اور سکڑ سمٹ کر گھٹڑی سی بن گئی وہ بھی کچھ بدحواس ہوا۔ دونوں کو شرم سے دہرا ہوتے دیکھ کر میں نے ان کو کپڑے پہننے کی مہلت دی… اور اس کے بعد کہا… ’’اٹھ… جو کچھ مال ہے سب سامنے رکھ دے‘‘
وہ چون و چراں کیے بغیر چاقو کی نوک کے ساتھ اٹھا۔ الماری کھول کر زیور اور نقدی نکالی ۔
’’اور کہاں ہے…؟‘‘
’’بس یہی ہے…‘‘ اس کی کانپتی آواز کو میں نے اپنی دھمکی سے بند کردیا۔
’’جھوٹ نہیں چلے گا… سمجھا… ورنہ گردن اتار کے ہاتھ پہ رکھ دوں گا‘‘
اس نے ایک لفظ کہے بغیر لرزتے ہاتھوں سے الماری کے اوپر رکھا ہوا بریف کیس اٹھایا۔ میرے کہنے سے کھولا ۔ اس میں ساٹھ ستر ہزار کے لگ بھگ رقم تھی… میں نے الماری سے نکالے ہوئے زیور اور روپے بریف کیس میں رکھ کربند کرنا چاہا تو تھرتھراتے لہجے میں بولا…’’اس میں … میرے کاغذات …‘‘
’’نکال لے…‘‘
اس نے چند کاغذات نکال کر پلنگ پر ڈالے اور جب وہ بریف کیس بند کرنے لگا تو میں نے کہا …’’ٹھہر جا… میرے حساب سے ابھی تیرے پاس کچھ اور بھی ہونا چاہیے‘‘
’’نہیں… اللہ کی قسم… اب کچھ نہیں ہے‘‘
’’ٹھیک ہے بند کردے…‘‘
بریف کیس بند کرانے ک بعد میں نے اسے دیوار کی طرف منہ کرکے پلنگ پر بیٹھنے کے لیے کہا اور گردن سے چاقو ہٹاتے ہوئے تنبیہہ کی…
’’میرے باہر نکلتے ہی تم دونوں چیخنے چلانے کی کوشش نہ کرنا… سمجھے… اور… رپورٹ بھی صبح جا کے لکھوانا۔
’’ابھی جائے گا تو ڈیوٹی پر موجود کانسٹبل بھی گالیاں دے کر سویرے آنے کے لیے کہے گا‘‘
اس نے سعادت مندی سے اقرار میں گردن ہلائی… جب بریف کیس اٹھانے کے بعد میں الٹے قدموں دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا تو اس بے ہودہ شخص نے تکیے کے نیچے رکھا ہوا پستول نکال کر مجھ پر داغ دیا… اللہ کے فضل سے ایک تو میں بھی غافل نہیں تھا دوسرے اس کے لرزتے ہاتھوں نے نشانہ خطا کیا… گولی دیوار میں لگی لیکن دھماکہ تو ہوا… میرے نکل جانے کے لیے بہت وقت تھا… کوئی رکاوٹ بھی نہیں تھی… پستول کی آواز سے اگر پاس پڑوس میں جگار ہوبھی گئی تو میں جانتا تھا کہ فوری طور سے کوئی بھی آنے کی کوشش نہیں کرے گا… آج کل رات بے رات اتنے فائر ہوتے ہی رہتے ہیں کہ شہر والے ان آوازوں سے خوب مانوس ہوگئے ہیں۔ اس دھماکے کو بھی وہ معمول کی فائرنگ سمجھے ہونگے۔ اور اگر پڑوسی خطرے کی بو سونگھ بھی لیں تو… اب ہمدردی جتانے کے لیے ہم زبان اور ہم قوم ہونا ضروری ہوگیا ہے… اپنے گروہ کے لیے تو جان لڑادیتے ہیں لیکن دوسرے کی جان پر بنی ہو تو اس کی فریاد سے کان پر جوں نہیں رینگتی… گویا… میرے نکل بھاگنے کے لیے وقت بھی تھا اور موقع بھی… لیکن پتا نہیں کیا ہوا… یکایک مجھے پہلی بار بے موقع غصہ آیا…اب بھی سوچتا ہوں تو اپنی حماقت کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ ا س کے پستول سے نکلی ہوئی گولی دیوار میں نشان بنا کر ابھی فرش پر گری بھی نہیں ہوگی کہ میں نے بریف کیس اس پر کھینچ مارا… وہ سہما ہوا تو پہلے ہی تھا پستول چلنیکی آواز نے بھی اس پر بوکھلاہٹ طاری کردی… شاید استعمال بھی پہلی ہی مرتبہ کیا تھا… رہی سہی کسر بریف کیس کی چوٹ نے پوری کردی… پستول اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرا تو میں نے پلٹ کے جادبوچا… ایک ہاتھ اس کی گردن پہ رکھ کے اسے پلنگ میں دھونسا اور دوسرا ہاتھ اٹھا کے چاہا کہ چاقو اس کے پیٹ میں اتاردوں… اسی وقت کھلے دروازے سے کوئی بجلی کی سی تیزی کے ساتھ آیا اور میرے اٹھے ہوئے ہاتھ سے جھول گیا۔
میں نے جو کچھ کہا ہے یہ لفظ کہنے میں دیر بہت لگی ہے جبکہ سارا معاملہ لمحوں میں بیت گیا تھا۔ میں نے دیکھا اس کی بیوی ایک کونے میں سمٹی خوف سے تھرتھر کانپ رہی تھی… میرے ہاتھ سے لپٹنے والی وہ بڑی بی تھیں جو دوسرے کمرے میں مصلے پر بیٹھی وظیفہ پڑھ رہی
تھیں۔ ان کو اچانک اپنے ہاتھ سے لپٹا دیکھ کر پل بھر کو میں بھی پریشان ہوا… مگر پھر وہی انتقامی جذبہ جو مجھ پہ حاوی ہوگیاتھا اُس میں ذرہ برابر کمی نہیں ہوئی… میں نے ہاتھ جھٹک کر کاغذجیسے وزن کی بڑی بی کو پلنگ پر پھینک دیا مگر وہ ترنت اپنے بیٹے کے اوپر ڈھال کی طرح پھیل گئیں…
’’نہیں بیٹا نہیں… یہی تو باقی رہا ہے میرا ایک چراغ تو تیرے شہر کی ہوا نے بجھا دیا۔ خدا کے واسطے … اس کو بخش دے…‘‘
بڑی بی دہائی دینے لگیں مگر ان کی فریاد خطاہوجانے والے نشانے کی طرح میرے سر سے گزر گئی… میرے ساتھ ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک د م نجانے کیسے مجھ پر غصے کابھوت سوار ہو گیا تھا آنکھوں میں خون اتر آیا تھا… میں نے بہتیرا چاہا کہ بڑی بی کو پرے ہٹا کر چاقو اس لڑکے کے سینے میں اتاردوں۔ لیکن وہ گھگھیائے ہوئے لہجے اور آنسو بہاتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اپنے بیٹے کی جان بخشی کی الجتا بھی کرتی رہیں اور میرے اس ہاتھ کو ہٹانے کی کوشش بھی کی جس سے میں نے لڑکی کی گردن دبوچ رکھی تھی۔
’’معاف کرددو… معاف کردد…‘‘
یہ آواز سن کر میں نے سامنے دیکھا اس کی بیوی کہنیوں تک ہاتھ جوڑے معافی طلب کررہی تھی۔
ایک لمحہ وہ تھا جس نے میرے وجود میں غصے کی آگ اور انتقام کا شعلہ بھڑکایا تھا اور پھر دوسرا لمحہ وہ تھا جو سانپ کے پھن کی مانند اٹھا اور زہر کے مانند مجھ میں پھیل گیا۔ میں نے ان تینوں کی صورتیں دیکھیں… زندگی کا اڑا ہوا رنگ امید و بیم کی پرچھائیوں میں لت پت زندگی کی بھیک مانگتے ہوئے ملتجی چہروں کے کشکول، مجھے ایسا لگا جیسے اِس وقت سب کچھ میرے اختیار میں ہے۔ جیسے… میں ان کو زندگی بھی دے سکتا ہوں ۔ جیسے میں ان کے سانس کی ڈوری اپنے ہاتھ میں تھامے ہوئے چاقو سے جب چاہوں کاٹ سکتا ہوں۔
مختار ہونے کاجذبہ کسی آدمی کے اندر جب کسی جنگلی درخت کی طرح سر اٹھاتا ہے تو وہ ساری دنیا کو اپنے سائے میں سمجھنے لگتا ہے مجھے بھی یوں محسوس ہوا جیسے میں بہت اونچا ہوں… کسی دیوتا کی طرح… کسی تناور درخت کی مانند… جیسے موت کی دھوپ اور زندگی کی چھائوں میرے اختیار میں ہے۔
میں آج تک ایسے احساس کے روبرو نہیں آیا تھا… اب آیا تو یہ احساس میرے وجود سے نکل کر ایک فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ چند لفظوں کی صورت سمٹنے والا تھا… میں… اس کی گردن سے اپنا ہاتھ ہٹا کے کہنا چاہتا تھاکہ جا تجھے زندگی دی… عین اسی لمحے… اس احمق شخص نے جھپٹا مار کے چاقو میرے ہاتھ سے چھین لیا… پل بھر کی غفلت کے بعد میں سنبھلا تو درد کا شعلہ میرے پیٹ میں اتر گیا۔
اس کے بعد کیا ہوا… یہ آپ جانتے ہیں۔