ماشکی : ملک ناصر دائود ۔ حویلیاں، پاکستان

گاؤں میں ووٹوں کا اندراج ہوا تو سرکاری اہلکار نے جب اس سے نام پوچھا تو اس نے جواب دیا ’’میرا نام ماشکی ہے ۔‘
وہاں موجود تمام لوگ ہنس پڑے ۔ووٹ درج کرنے والے بابو نے کہا ’’تم اپنا پورا نام بتاؤ جو شناختی کارڈ میں درج ہے ‘‘
اس نے دماغ پر ذور ڈالا تو اسے یاد آیا کہ میرا نام بشیر ہے ۔قصور اس کا نہیں تھا ۔لوگ بچپن سے اسے ماشکی کے نام سے پکارتے تھے اور یہ نام سنتے سنتے خود بھی اصل نام بھول چکا تھا ۔۔۔بشیرنے اپنی غربت کی طرح اس لقب کو بھی تقدیر کا لکھا سمجھ کر ہنسی خوشی قبول کر لیا ۔۔۔فیکے کمہار کا بیٹا بشیر گاؤں کے لوگوں کو مشکیزہ سے پانی بھر کر دیتا رہا تھا ۔۔۔اس نیکی کے بدلے میں مزدوری تو کبھی پوری ملی نہیں مگر اک نیا نام ’’ماشکی ‘‘لوگوں نے اسے دیا ۔۔۔دیہی سماج میں ذات پات اور پیشہ حوالہ بن جاتا ہے یہی اس کے ساتھ ہوا ۔بھلا ہو الیکشن کا ،اس کو اپنا بھولا بسرا نام یاد آگیا ۔اس کی ماں جب تک زندہ تھی اسے’’ محمد بشیر ‘‘کہہ کر پکارتی تھی ۔وہ تو بچپن میں ہی اللہ میاں کے پاس چلی گئی اور اس کا ابا بھی لوگوں کی اس کو ماشکی کہنے لگا ۔
فیکے کمہار کا بیٹا اللہ میاں نے اچھی مٹی کا دیا تھا ۔سارا دن محنت مزدوری کرتا ۔مجال ہے کبھی کسی نے اس کی شکایت لگائی ہو ۔برتوں کیلئے پانی لانے کے ساتھ وہ برتن بنانے میں بوڑھے فیکے کی مدد کرتا ۔گاؤں کے کئی گھروں میں مشکیزے سے پانی ڈھوتا ۔اس طرح باپ بیٹا مل کر زندگی کے ’’آوے ‘‘کو چلا رہے تھے ۔
فیکا کمہار بوڑھا ہو چکا تھا ۔صحت تو اس کی کافی عرصے سے خراب تھی ۔اب کھانسی کے دورے الگ پڑنے شروع ہوچلے تھے ۔ماشکی چاہتا تھا کہ اس کا باپ اب کام نہ کرے اور آرام کرے مگر اس کو پانی بھرنے سے اتنی مزدوری نہیں ملتی تھی کہ ان لوگوں کا گزارہ ہوتا ۔فیکے کے بنائے برتن اب کم بکتے تھے ۔ایک تو ان کا معیار دن بدن خراب ہوتا جا رہا تھا تو دوسری طرف دھات کے بنے برتنوں کا استعمال بڑھتا جا رہا تھا ۔ماشکی اکثر سوچتا کہ ان کے حالات کب تبدیل ہوں گے ۔اچھے دن کب اور کیسے آئیں گے ؟وہ اپنے بوڑھے بیمار باپ کا اطھا علاج کب کروا سکے گا ۔وہ ہر رات یہ سوچتا ہوا نیند کی وادی میں جا پہنچا اور پھر علی الصبح پانی بھرنے کیلئے نکل کھڑا ہوتا۔
گاؤں دیہات کے لوگ ان کے گھر سے آکر گھڑے ،صراحیاں ،تندور ،چولہے ،کوزے اور گل دان خریدتے ۔ہفتے میں ایک دن ماشکی برتن گدے پر لاد کر قریبی گاؤں کا پھرا لگالیتا ۔وہ عرس ،میلوں ٹھیلوں اور کھیل تاشوں کے مقامات پر جا پہنچتا ۔اس کے برتن بک جاتے اور آمدن بڑھ جاتی ۔ساری بھاگ دور کے بعد اسے عمر بھر پیٹ بھر کھانا نصیب ہوا نہ مرضی کے کپڑے ملے ۔۔۔میلے میں وہ کبھی کبھا ر سستی جلیبی خرید کر کھا لیتا ۔۔۔گرما گرم جلیبی اس کو بہت اچھی لگتی تھی ۔
فیکے کمہار کا کاروبا ر ختم ہوتا جا رہا تھا ۔وہ بہت چڑ چڑا ہوگیا تھا ۔بات بات پر ماشکی کو کوستا رہتا تھا ۔اس کا خیال تھا کہ ماشکی محنت سے جی چرانے لگا ہے اس لئے برتن بک نہیں رہے ۔انہی دنوں ماشکی کا چچا دوسرے گاؤں سے آیا ،تو فیکے کمہار نے اسے ساری بات بتائی ۔اس کے جہاں دیدہ بھائی نے اسے حوصلہ دیا اور ماشکی کو بلاکر مثلہ سلجھانے کی کوشش کی ۔جب وہ معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا تو اس نے اپنے بھتیجے کو مٹی کے کھلونے ’’کہگو گھوڑے ‘‘بنانے کا مشورا دیا اگلے دن چچا ن ماشکی کو کچھ کھلونے بنا کر دکھائے ۔مٹی کے بنے چھوٹے چھوٹے کھلونے جن میں بادشاہ ،وزیر شیر ،تھا نیدار ،افسر صاحب ،اردلی ،نوکر چاکر ،گھوڑے ،گدھے ،ہاتھی اور نیزے شامل تھے ۔یہ کھلونے بنانے آسان تھا اور مزدوری بھی ذیادہ ملتی تھی ۔اس طرح پرانے کاروبار میں ایک تبدیلی آگئی ۔
فیکاکمہار اور ماشکی دونوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب مٹی کے کہگو گھوڑے خوب بکنے لگے ۔گلی محلے کی عورتیں بچوں کے لئے بادشاہ اور وزیر والی مورتیاں خوشی سے خریدتی تھیں ۔بچے شوق سے اور زد کر کے کھلونے لیتے تھے ۔۔۔چار پیسے زیادہ آنے لگے تو ماشکی نے پانی ڈھونے کا کام چھوڑدیا ۔۔۔وہ اپنے باپ کو شہر ڈاکٹر کے پاس لے گیا ۔اس کو ٹی بی کی بیماری تھی ۔۔۔واہ ری قسمت اچھے دن آئے تو کسی دوا کے ردعمل سے فیکا بیماری کے ساتھ زندگی سے نجات پا گیا ۔
ماشکی کے چچا نے خوب ساتھ نبھایا اور ماشکی کی شادی اپنی بیٹی سے کروا دی ۔وہ نیک عورت کہگو،گھوڑے بنانے کے فن سے آشنا تھی ۔نئے نئے کھلونے بنتے گئے اور وقت کا پہیہ آگے بڑھتا رہا ۔

گاؤں کے ممبر نے بتایا الیکشن ہونے والے ہیں ۔دعا کرو چوہدری صاحب جیت جائیں تو تم کو شہر ان کے کارخانے میں پکی نوکری پر لگوا دوں گا۔بس یوں سمجھو تبدیلی آئی کہ آئی !۔۔۔ماشکی کو یہ بات بڑی اچھی لگی ۔وہ خیالوں میں اپنے آپ کو صاف ستھرے کپڑے پہنے بڑے ہوٹل میں بیوی کے ہمراہ گوشت کا سالن کھاتے ہوئے دیکھنے لگا ۔وہ شہر میں بیوی کیلئے چوڑیاں اور اپنے لئے چمڑے کے کھسے لینے لگا ۔اسے اچانک اپنے میلے ہاتھوں میں پھنسی مٹی سے بدبو آنے لگی ۔۔۔
ماشکی کی بیوی نے اسے ایک دو با راحساس دلدیا کہ اب وہ گھر میں کم پیسے کم دینے لگا ہے ۔۔۔تب اسے احساس ہوا کہ کہگو گھوڑے بکنا کم ہو گئے ہیں ۔پہلے لوگ خوشی خوشی مٹی کے کھلونے لیتے تھے ۔اب یہ کیا ہو گیا ہے لوگوں کو سٹور میں بادشاہ ،وزیر ،شیر ،تلواریں ،جہاز، گھوڑیسب اوپر نیچے پڑے تھے ۔ان کا ڈھیر بڑھتا جا رہا تھا ۔ان پڑھ ماشکی پریشان ہو گیا ۔
وہ ایک دن گاؤں کے ماسٹر کے پاس مشورہ کرنے پہنچ گیا ۔اس کی بات سن کر ماسٹر صاحب بولے ۔ماشکی بیٹا! پہلے بادشاہ وزیر نیک اور عادل ہوتے تھے ۔لوگ ان سے محبت کرتے تھے ۔۔۔ان کو پوجتے تھے ۔۔۔ان کی مورتیں خریدتے تھے ۔۔۔اب ایسا نہیں ہے بیٹا۔۔۔حکمران لالچی اور اپنے مفاد کیلئے کام کرتے ہیں ۔۔۔تم سمجھتے ہو نہ میری بات ۔۔۔تم کوئی اور کاروبار کرو۔۔۔کوئی تبدیلی لاؤ۔۔۔ماشکی بے چارہ ان کی باتیں سن کر اور پریشان ہو گیا۔۔ واپسی پر وہ سوچتا رہا ۔۔۔یہ تبدیلی کیا ہے ۔۔۔خدایا میں کیا کروں ؟تبدیلی کیسے لاؤں ‘‘
رات کو بیوی نے اسے پریشان دیکھا تو پریشانی کی وجہ پوچھی ۔۔۔ماشکی نے اپنی ہمسفر کو کونسلر اور ماسٹر صاحب کی تمام باتیں بتا ڈالیں ۔۔۔وہ ان پڑھ عورت بولی منے کے ابا ::اب تم بوڑھے ہو گئے ہو ۔۔۔پانی بھرنے کا دم تم میں نہیں رہا ۔۔۔خاندانی پیشہ کہگو گھوڑے بنانا ہے ۔۔۔کوئی اور کام ہم کر نہیں سکتے ۔۔۔کیوں میں غلط تو نہیں کہہ رہی ؟ ماشکی بولا : یہ تو تو ٹھیک کہہ رہی ہے ۔آگے بات کر ۔۔۔وہ بولی: کونسلر کے وعدے تم بول جاو ۔اور ماسٹر صاحب ٹھیک ہی کہتے ہوں گے جو کہتے ہیں ۔۔۔تبدیلی ہم نے خود لانی ہے ۔۔۔بس تو شہر جا کر اچھے اچھے رنگ لے آ ۔ماشکی بولا ::باؤلی ہو گئی ہے کیا ؟رنگوں سے کیا تبدیلی آئے گی بھلا ۔۔؟وہ بولی ۔ہم رنگدار مورتیاں بنائیں گے ۔چٹا گورا بادشاہ ،غلابی رنگ کا وزیر ،کالی موچھوں والا موٹا تھانیدار ،خاکی وردی والا فوجی ،کالے کالے غلام اور ،اور سبز رنگ کا جہاز بنائیں گے ۔
ماشکی ے بیوی کی بات مان لی ۔اس کی واقعی قسمت بدل گئی ۔تبدیلی نے آنا تھا اور تبدیلی آ گئی ۔لوگ برنگ برنگے کھلونے خریدنے لگے ۔۔۔سٹور میں پرانے پڑے بادشاہ ،وزیر ،شیر اوربڑے بڑے لوگوں کی مورتیں ہاتھوں ہاتھ بک گئیں بچے سمجھے نئے کھلونے آ گئے ہیں کاروبار چل پڑا ۔ماشکی ’’کہگو گھوڑے ‘‘کی آواز لگاتا تو مائیں ایک ایک کر کے کھلونے خریدتی تھیں ۔
چند دن بعد الیکشن ہوئے اور ملک میں نئے حکمران آگئے ۔