پھر پریاں آگئیں : کاشف بٹ ۔ راولپنڈی، پاکستان

آسمان نے زمیں کی سمت دیکھا تھا…
زمین تڑپ اٹھی تھی… تڑپ… ہلچل… آہ و فغاں… بھاگ دوڑ …
زمین پہ تہیں لگا دی گئیں… بجری، سیمنٹ اور اینٹوں سے بنی عمارات کی…
زمین پہ اِک اور زمین بچھا دی گئی…
بابا! پھر کیا ہوا تھا…؟؟
پھر کچھ بھی سلامت نہ رہا… بیٹا!… تم نے چائے کی پیالی میں سے اُٹھتے ہوئے دُھویں کو دیکھا ہے…؟
جی بابا… لیکن اِس دھویں کا تعلق اُس سے کیا…؟
ہے بیٹا… تعلق ہے…
جیسے ایک پیالی میں کھولتی ہوئی چائے اپنی تپش کو بھاپ کی صورت فضا میں چھوڑ دیتی ہے ایسا ہی حال ہماری زندگی کا بھی ہے… اُس سانحے نے ہمیں… ہمارے وجود… ہمارے ماحول کو غم کی اُبلتی بھٹی بنا دیا تھا اور اُس میں سے اُٹھنے والی بھاپ میں ہماری آہیں شامل تھیں… جو اب بھی ہماری فضا میں گھومتی ہیں…
بابا…!!
جی… بولو …دانش!… کیا کہنا چاہتے ہو…!!
بابا!… مجھے آپ کی باتوں سے خوف آتا ہے… رات کو ماں سے بھی میری بات ہوئی تھی، وہ بھی میری باتوں کا کوئی جواب نہیں دے رہی تھیں… اُن کی خاموشی مجھے کاٹتی ہے… اور آپ کی مشکل باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں…
میں نے تمہیں کتنی بار سمجھایا کہ ماں سے بات نہ کیا کرو… وہ تمہاری باتوں کا جواب نہیں دے گی… بھلا کبھی تصویر بھی کوئی بات کرتی ہے…؟؟
بابا… ماں مجھ سے بات کرتی ہے…
بابا!… تمہیں علم ہے اکثر رات کو جب میں سو جاتا ہوں تو ماں مجھے خواب میں لوری سنانے آتی ہے…
چلو ٹھیک ہے… رات کافی ہو گئی اب جا کے سو جاؤ…
نہیں بابا… مجھے سونا نہیں… مجھے ساری کہانی سننی ہے… بتاؤ ناں… پھر کیا ہوا؟
اُس کی باتیں کبھی ختم نہ ہوتی تھیں… اور میرے اندر کی حرارت کبھی کم نہ ہوتی…
اُس صبح میں بیٹھک میں بیٹھا روسو کی social contract کے مطالعے میں مصروف تھا… ’’انسان آزاد پیدا ہوا ہے لیکن جہاں دیکھو پا بہ زنجیر ہے‘‘ زنجیر کی حقیقت اور ماہیت کیا ہے؟… اُس سانحے کے بعد میں نے اس پہ بہت غور و فکر کیا۔
میں نے ابھی چیزوں کو سمجھنا شروع کیا تھا، لیکن اُس سانحے نے سارے راز پھر سے دفنا دیئے تھے… شاید اُس صبح زمیں نئے انکشافات سے ہم کنار ہونے والی تھی… شاید ایسی صبح کے انتظار میں زمانے گزر جاتے ہیں… اور ایسی صبح سے انسان صدیوں پناہ مانگتا ہے… شاید ایسی ہی کسی صبح گلاب کنول کی شاخ پہ کھلا ہو گا اور دیا ہوا کے دوش پہ جلا ہو گا…
آکاش!… اُس نے میرے عقب میں سرگوشی کی تھی…
اوہ …تم کب آئی؟
دیکھنے آئی تھی کہ جناب پہ روزے نے کیا اثرات چھوڑے…
واہ…! روزے میں لوگ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور صاحب روسو کو لے کر بیٹھے ہوئے ہیں…!!
چلو دیکھ لیا ناں… میں نے مسکراتے ہوئے اُس کی جانب دیکھا۔
روز ہی دیکھتی ہوں… ویسے تم ایسے لوگوں کو اللہ ہی سمجھائے…
آ ہا… فائزہ! تم ہر بات کے بیچ خدا کو کیوں لے آتی ہو…
کیونکہ خدا ہی تو ہے جس کے ہاتھ میں یہ سارا نظام ہے… خدا کا شکر ہے کم از کم تم روزے تو رکھتے ہو۔
اور اِس بات کا بھی شکر ادا کرو کہ پورا مہینہ سحر سے افطار تک روزہ رکھتا ہوں… ورنہ خدا کا خوف نہ ہوتا تو ایک ایک دن میں سو بار عید منا چکا ہوتا…
کیا مطلب سو بار عید منانے سے…؟؟
دیکھو یار!… عید کی پہلی شرط تو چاند دیکھنا ٹھہری ہے… اور ہمارے ہاں تو ایسا ہی ہے کہ جسے چاند نظر آ جائے اُس کی عید ہو جاتی ہے … سو میرے لیے تو:
تمہارے بعد کوئی چاند دیکھتا کیسے
تمہارے رُخ سے عیاں عید کا اشارا تھا
آکاش…!!
اچھا چھوڑو بیٹھو… لو! میں نے کتاب بند کر دی۔
ابھی ابھی نازیہ کی کال آئی تھی… بتا رہی تھی دانش بہت تنگ کر رہا ہے… کہتا ہے گھر جانا ہے… آپ اُسے لے کیوں نہیں آتے… دیکھیں اُس کے بغیر گھر کتنا سونا سونا لگتا ہے۔
ہاں… میں بھی سوچ رہا ہوں کہ آج کالج سے سیدھا ایبٹ آباد چلا جاؤں اور اُسے لے آؤں… تم تیاررہنا، میں تمہیں ساتھ لیتا جاؤں گا۔
نہیں… آپ چلے جائیے گا… میں نے افطار کی تیاری کرنی ہے اور دانش کی من پسند چیزیں بھی تو تیار کرنی ہیں ناں۔
تم ماں بیٹے بھی عجیب ہو… کہیں تو ایک دوسرے کی جدائی برداشت نہیں کرتے اور کہیں ایک ہفتہ ہونے کو ہے اور تم ایک دوسرے سے الگ بیٹھے ہو۔
کہاں الگ ہیں آکاش… تم تو جانتے ہو کہ نازیہ دانش پہ جان چھڑکتی ہے… اللہ نے اُسے اولاد دی ہوتی تو سوچو وہ اپنی اولاد سے کتنا پیار کرتی۔
ہاں اگر اللہ نے اُسے اولاد دی ہوتی تو تمہارا دانش بھی تمہارے پاس ہی ہوتا… وہ تو تم سے زیادہ اُسے اپنی ماں سمجھتا ہے۔
وہ بھی تو دانش کو اپنا بیٹا ہی جانتی ہے… تم تو جانتے ہو اُسے دانش سے کتنا لگاؤ ہے۔
چلو ٹھیک ہے جی… میں کالج سے واپسی پہ ایبٹ آباد چلا جاؤں گا… میں نے دوبارہ کتاب کھول لی۔
اُس نے اگلے ہی لمحے میرے ہاتھ سے کتاب لے لی… میری بات ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
انسان واقعی پا بہ زنجیر ہے… میں نے مسکراتے ہوئے اُس کی جانب دیکھا۔
اب میں تمہارے لیے زنجیر ہو گئی ہوں…؟؟
میں نے کب کہا… یہ تو روسو کہتا ہے۔
روسو نے جس زنجیر کی بات کی ہے میں اسے بخوبی سمجھتی ہوں… سو تم مجھے الفاظ کے ہیر پھیر میں نہ اُلجھاؤ۔
فائزہ صاحبہ! یہ الفاظ کا ہیر پھیر نہیں… روسو انسانی آزادی کا علم بردار ہے… کاش اُس نے اِس social contract کی جانب بھی کچھ توجہ دی ہوتی جسے عرفِ عام میں شادی کہا جاتا ہے… حالانکہ وہ خود اِس کا ڈسا ہوا تھا۔
ہاں اب یہی باتیں رہ گئی ہیں ہمارے بیچ… لو پکڑو کتاب… میں چلی۔
تم تو خوامخواہ پریشان ہو گئی… اچھا بولو… میں ہمہ تن گوش ہوں… میں نے کتاب اُس کے ہاتھ سے لے کر ایک جانب رکھ دی۔
میں نے تم سے پہلے بھی ایک دو بار کہا تھا کہ باہری کمرے کی دیواروں میں نمی آ گئی ہے… تم کسی مستری کو دکھا دو، جوں جوں سردی بڑھے گی وہاں بیٹھنا محال ہوتا جائے گا۔
میرے ذہن میں نہیں رہا تھا… آج تو دانش کو لینے جانا ہے البتہ کل ضرور کسی مستری کو لے کر آؤں گا۔
آپ کے اِس کل کے انتظار میں پہلے ہی دو ماہ گزر چکے۔
نہیں کل کا پکا…
ٹھیک… اچھا اب تیار ہو جائیں… آپ کے جانے کا وقت ہوا ہی چاہتا ہے۔
ٹھنڈک دن بدن شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ دل تو چاہتا تھا کہ گھر سے قدم باہر نہ نکالے جائیں لیکن فکرِ معاش کہاں چین سے بیٹھنے دیتی ہے۔ دروازے سے نکلتے ایک لمحے کو ہماری نظریں ملی تھیں… وقت تھم گیا تھا۔
بابا… بابا… آپ خاموش کیوں ہو گئے؟؟
دانش کی آواز نے مجھے ماضی سے حال میں لا کھڑا کیا۔
کچھ نہیں بیٹا… تم سوئے کیوں نہیں؟… میں اُس کی آنکھوں میں تیرتی ہوئی حیرانی واضح دیکھ سکتا تھا۔
بابا! بتاؤ ناں پھر کیا ہوا؟؟
میں اُسے کیسے بتاتا کہ پھر کیا ہوا تھا۔
وقت اُس لمحے تھم گیا تھا… واپس جلدی آ جانا…!! فائزہ کی آواز بہت دُور سے آتی محسوس ہوئی تھی… ایسا نہیں تھا کہ اُس نے پہلی بار مجھے جلد لوٹنے کا کہا تھا… ہمیشہ ایسا ہی ہوتا تھا جب میں گھر سے باہر جاتا تو اُس کے یہی الفاظ ہوتے اور جب میں گھر لوٹتا تو اُس کا ایک ہی شکوہ ہوتا… آج دیر کیوں کر دی؟
روز ہی تو اِسی وقت واپس آتا ہوں… میں بھی رٹا رٹایا جواب دیتا… سو ہمارے درمیان یہ مکالمہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھا۔
واپس جلدی آ جانا…!! اُس نے دوسری بار کہا۔
کہا تھا نا…کہ دانش کو خود سے زیادہ دور نہ رکھا کرو… ٹھیک ہے میں دوسرے پیریڈ کے بعد تمہارے صاحبزادے کو لینے کے لیے روانہ ہو جاؤں گا… اُس کے لبوں پہ ایک مسکراہٹ پھیل گئی… دانش سے ملنے کی خوشی میں… یا پھر میرے کیے گئے وعدوں پر… جو ہمیشہ مؤخر ہو جاتے۔
گاڑی نے یکدم جھٹکے لینے شروع کر دیئے… اسلم نے میری طرف دیکھا… ابھی وہ کچھ کہنے ہی والا تھا کہ سڑک کے دائیں بائیں ایستادہ عمارتیں زمیں بوس ہونے لگیں… زمین نے اپنی بانہیں پھیلا دی تھیں… ہر شے زمین کی گود میں جانے لگی… دھول نے ہماری آنکھوں کے آگے سے سب منظر یکسر ہٹا دیئے تھے… اِس دنیا سے اگرہماراکوئی رابطہ تھا تو صرف سننے کی حد تک… چیختے چلاتے بھاگتے قدموں کی آوازیں… دل خراش آہیں اور سسکیاں… اُن چند لمحوں میں دنیا یکسر بدل گئی تھی…
فائزہ اپنی آنکھوں میں کتنے ہی خواب لیے مکان کے منوں ملبے تلے دب گئی تھی… ابھی تو اُسے دانش سے ملنا تھا… لیکن وہ مجھ سے روٹھ گئی تھی… قدرت نے آج مجھے تاخیر کا موقع نہیں دیا تھا… اپنا کھیل دکھایا تھا۔
بابا… دانش نے پھر مجھے پکارا…وہ میرے چہرے پر لکھی کہانی پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
بیٹا… کہانی ختم ہو گئی۔
نہیں بابا! کہانی ختم نہیں ہوئی… بتاؤ ناں پھر کیا ہوا…؟؟
پھر پریاں آ گئیں بیٹا…!!
اوہ… بابا آپ نے یہ سوچنے میں اتنا وقت کیوں لگا دیا۔
میں اُسے کیسے بتاتا کہ یہ سوچنے میں اتنا وقت کیسے لگا… فائزہ کی نعش کے ساتھ سوشل کنٹریکٹ بھی ملی جو وہ آخری لمحے پڑھ رہی تھی۔