بطور خاص : عظیم انصاری کی دس غزلیں

غزل


مدتوں بعد جنوں اُس کا اُتر تو آیا
مدتوں بعد سہی لوٹ کے گھر تو آیا
مدتوں بعد درِ دل پہ ہوئی پھر دستک
مدتوں بعد کوئی لیکے خبر تو آیا
مدتوں بعد تبسم میں چھپایا غم کو
مدتوں بعد مجھے کوئی ہنر تو آیا
مدتوں بعد میرے دل میں تمنا جاگی
مدتوں بعد کوئی خواب نظر تو آیا
مدتوں بعد بہت ٹوٹ کے برسا بادل
مدتوں بعد دعائوں میں اثر تو آیا
مدتوں بعد گرا دست دعا پر آنسو
مدتوں بعد میرے ہاتھ گہر تو آیا
مدتوں بعد جگا دل میں تصور اُس کا
مدتوں بعد وہی شوقِ سفر تو آیا
مدتوں بعد حقیقت سے چرائی آنکھیں
مدتوں بعد تخیل کا نگر تو آیا
مدتوں بعد ملا پھر کوئی منصور ہمیں
مدتوں بعد کوئی دار پہ سر تو آیا
مدتوں بعد ہوا پیڑ وہ سر سبز عظیمؔ
مدتوں بعد سہی اس پہ ثمر تو آیا


غزل


یوں بار بار زخم جو کھاتا رہے گا دل
کب تک وفا کی رسم نبھاتا رہے گا دل
دیوار و در سے سبزہ اگاتا رہے گا دل
شاداب اپنے غم کو بناتا رہے گا دل
باتوں سے اپنی آگ لگائے گا وہ مگر
ہر ہر قدم پر اس کو بجھاتا رہے گا دل
شاید اسی کے عزم سے ڈر جائے یہ ہوا
آندھی میں بھی چراغ جلاتا رہے گا دل
تم نفرتوں کے بیچ ہی بوتے رہو مگر
اس سر زمیں سے پیار اگاتا رہے گا دل
جب جب نئے خیال سے سجائے گا دل دماغ
شعروں کو بے نظیر بناتا رہے گا دل
جاگے گا یہ سماج بھی ایک صبح نو کے ساتھ
اُمید کی جو جوت جگاتا رہے گا دل
جب تم نہیں رہو گے تو جینے کا لطف کیا
اوروں کے ساتھ کیسے نبھاتا رہے گا دل
دل کا معاملہ ہے ،اسے دل پہ چھوڑیئے
آئے گا جب دماغ تو جاتا رہے گا دل
کچھ تو اسے قرار میسر ہو اے عظیمؔ
کب تک غموں کا بوجھ اٹھاتا رہے گا دل


غزل


دنیا سے کہیں خود کو وہ بیزار نہ کرلیں
سو ایسے کریں ان کو ذرا پیار نہ کرلیں
اس خوف سے ہر بار دھڑکتا ہے مرا دل
خوابوں کے گھروندوں کو وہ مسمار نہ کرلیں
بس اس لئے حالِ دل مضطر نہیں لکھّا
میرے لئے وہ زیست کو دشوار نہ کرلیں
یہ سوچ کے ہم ان کی بلائیں نہیں لیتے
چہرے کی پھبن اور بھی گلنار نہ کرلیں
برسات کی اس رات میں دو جان ہیں تنہا
ایسے میں کہیں خود کو گنہگار نہ کرلیں
برسوں کے جو بچھڑے ہوئے پھر آج ملے ہیں
تہوار سے کیوں پہلے ہی تہوار نہ کرلیں
جب اُن کے بنا جینے کا کچھ لطف نہیں ہے
کیوں بگڑے ہوئے رشتے کو ہموار نہ کرلیں
خوشیوں میں بھی یہ سوچ کے دل سہما ہوا ہے
آفات جہاں مجھکو گرفتار نہ کرلیں


غزل


اپنی ہر بات جو بے خوف و خطر کہتا ہے
وہ زمانے کے خدائوں سے کہاں ڈرتا ہے
کسی کو فرصت ہے بھلا ایسی خبر رکھنے کی
کون جیتا ہے یہاں ،کون یہاں مرتا ہے
کتنا بدلا ہے زمانے کا چلن اب کے برس
پانی مہنگا ہے مگر خوں یہاں سستا ہے
چاند پہ جاکے نہیں کوئی پنپنے والا
پیڑ تو اپنی زمیں پر ہی سدا پھلتا ہے
ایک لقمہ بھی مجھے لگتا ہے اس روز حرام
میرے ہمسائے کا چولہا جو نہیں جلتا ہے
جستجو لاکھ کرو اس کو چھپانے کی مگر
عشق کا روگ چھپائے سے کہاں چھپتا ہے
کاٹ پاتا نہیں میں دست جنا کو جس دم
میرے احساس پہ آرا سا کوئی چلتا ہے
دیکھ لیتی ہیں اُنھیں جب بھی نگاہیں اپنی
پھر مجھے کوئی نہیں کوئی نہیں جچتا ہے
مسکراتے ہیں کہ آدابِ مراسم ہیں عظیمؔ
ورنہ دل کھول کے کوئی بھی نہیں ہنستا ہے


غزل


بساط وقت کا جو ایک بڑا کھلاڑی ہے
زمانہ ساز ہے ، بنتا مگر اناڑی ہے
جہاں کے ڈر سے تمناّ کی لاش گاڑی ہے
بہت ہی کرب سے تصویر اس کی پھاڑی ہے
ہمیشہ رہتا ہوں میں رحمتوں کے سائے میں
کسی کی میں نے جو نیا نہیں اجاڑی ہے
بہت کٹھن ہے مگر اس کو پاٹنا ہوگا
دلوں کے درمیاں جو گہری ایک کھاڑی ہے
تمام پیڑ ہیں تشویش کے احاطے میں
ہوا کے ہاتھ میں بے رحم سی کلہاڑی ہے
اسی سبب سے ہیں شیدا عروسِ دنیا پر
بدن کو کوڑھ چھپائے حسین ساڑی ہے
جھکائے بیٹھے ہیں سبر کو عظیمؔ سب نقّاد
سخن کی بزم میں شمشیر ایسی گاڑی ہے


غزل


ملئے اگر کسی سے تو ملئے خوشی کے ساتھ
ایسا لگے کہ آدمی ہے آدمی کے ساتھ
ہوگی دعا قبول خدا کے حضور میں
دل بھی جھکائیں آپ ذرا عاجزی کے ساتھ
ہنگامۂ حیات میں کیا اعتدال ہے
غم بھی ہیں ساتھ ساتھ جہاں میں خوشی کے ساتھ
دنیائے خوش دماغ کو کس کی لگی نظر
ہر شخص جی رہا ہے یہاں بے دلی کے ساتھ
ہوتا نہیں نصیب اجالا کسی طرح
یہ کیسی تیرگی ہے مری زندگی کے ساتھ
غیروں کی دوستی نے سہارا دیا مجھے
ملتے ہیں آپ لوگ مگر بے رخی کے ساتھ
ہونگے وہی بلند زمانے میں اے عظیمؔ
لڑتے ہیں بار بار جو مشکل گھڑی کے ساتھ


غزل


دےکے دستک یہ مجھے کون جگا دیتا ہے
مری پلکوں پہ نئے خواب سجا دیتا ہے
کر کے احسان جو دنیا کو جتا دیتا ہے
اپنی فطرت کی وہ پہچان کرا دیتا ہے
کس لئے ہاتھ میں پھیلائوں کسی کے آگے
جبکہ بن جانگے مجھے میرا خدا دیتا ہے
ایک ہی پل میں ہے سب کھیل بگڑنے والا
غم کا طوفان بھلا کب یہ پتا دیتا ہے
کیسے بگڑی ہوئی قسمت کو سنوارا جائے
آدمی آج کہاں دل سے دعا دیتا ہے
اے عظیمؔ اس سے بڑا کون ہے عظمت والا
اپنا ہر درد ہنسی میں جو اڑا دیتا ہے


غزل


کچھ اس طرح کی زیست میں محشر بپا رہا
اپنی خبر رہی نہ تمھارا پتا رہا
لو آج اس کی چھائوں سے محروم ہوگئے
وہ سایہ دار پیڑ جو برسوں سے کھڑا رہا
میرے لہو کا رنگ نہ آیا کبھی نظر
اس طرح اس کے ہاتھوں میں رنگِ حنا رہا
آندھی کی تیز رو بھی نہ اس کو بہا سکی
آیا جو اس کی زد پہ تو پودا جھکا رہا
رستہ بھٹک نہ جائے کہیں کوئی راہگیر
یہ سوچ کر میں میل کا پتھر بنا رہا
سودا نہ کر سکا جو کبھی مصلحت کے ساتھ
احباب کی نظر میں وہ اکثر برا رہا
آخر وہ سرفراز ہوا ایک دن عظیمؔ
اپنے اصول پر جو ہمیشہ کھرا رہا


غزل


موسم نہیں تھا کوئی دل آرا کسی طرح
تیرے بغیر وقت گزا را کسی طرح
پورا ہوا نہ دل کا خسارا کسی طرح
آیا نہ ہاتھ پر وہ دوبارا کسی طرح
کردار اس جہان میں اس کا ہوا بلند
جس نے بھی نفسِ خام کو مارا کسی طرح
یہ اور بات ہے کسی نیزے پہ آگیا
میں نے تو اپنے سر کو ابھارا کسی طرح
کشتیٔ دل میں آیا تھا طوفاں کہ اَلاَماں
عزمِ جواں سے پایا کنارا کسی طرح
محوِ سفر تھا عرش پہ خواہش کا جو پرند
فرش زمیں پہ اس کو اتارا کسی طرح
آساں نہیں ہے کھیل محبت کا اے عظیمؔ
جیتا کسی طرح کبھی ہارا کسی طرح


غزل


پہلے امیر شہر کا لہجہ بدل گیا
پھر یو ہوا کہ شہر کا نقشہ بدل گیا
ایسا نہیں کہ میرا وتیرہ بدل گیا
میں تو وہی ہوں آپ کا چشمہ بدل گیا
کرنے لگا جو چاند کا انسان اب سفر
لگتا ہے یہ کہ دونوں کا راستہ بدل گیا
ظاہر ہوا شعور پہ تب عاشقی کا رنگ
جب امتحانِ شوق کا پرچہ بدل گیا
کل تک تو کررہے تھے طوافِ درِ صنم
یہ کیا ہوا کہ آپ کا قبلہ بدل گیا
تنقید کر رہا تھا پس پشت وہ عظیمؔ
دیکھا جو اُس نے مجھ کو تو جملہ بدل گیا