غزل : فاروق جائسی ۔ کانپور، انڈیا

منظر میرے حالات کے کالے تو بہت ہیں
لیکن تیری یادوں کے اجالے تو بہت ہیں

ڈرتے ہیں کہیں صبر کا ساغر نہ چھلک جائے
ہم اپنا دل زار سنبھالے تو بہت ہیں

ہوں منزل جاناں کی طرف گامزن اب بھی
ہر چند مرے پائوں میں چھالے تو بہت ہیں

احساس کا آئینہ سلامت ہے ابھی تک
لوگوں نے ادھر سنگ اچھالے تو بہت ہیں

کیا غم جو ہمیں کوئی بچانے نہیں آتا
ساحل سے ہمیں دیکھنے والے تو بہت ہیں

اس تک جو نہ پہونچوں کو کمی اپنی ہے فاروقؔ
بکھرے ہوئے تابندہ حوالے تو بہت ہیں