غزل : بدر منیر ۔ ایبٹ آباد، پاکستان

نہیں تھا بے سبب اس راز کا عیاں ہونا
مرے وجود سے تخلیق تھا جہاں ہونا
عجب دکھائے مناظر بھی سر کی چوٹ نے کیا
سما کو ارض ،کبھی ارض آسماں ہونا
خروج ہے غمِ دوراں سما غم جاناں
دیارِ دل کا تمہیں اب ہے پاسباں ہونا
تمام عمر جلا ہے یہ دل ضیا کے لیے
اسے ہے بعد فنا نذرِ شمع داں ہونا
ہجومِ غم کی عبادت پہ ہے اُمیدِ بہشت
سکوں ملا نہیں یاں چین کیا وہاں ہونا
یہی ہے عشقِ حقیقی جو دل میں لے کے گزر
خدا تلک نہیں ممکن ہے نردباں ہونا
کسی بھی جنگ میں فاتح بنائے جذبۂ شوق
بلند اس میں نہیں پیر سے جواں ہونا
ملیں جو ریشمی بانہوں کے زاہدو گھیرے
خیالِ خام ہے پھر نعمتِ جناں ہونا