غزل : عرفان سلیمی ۔ کانکی نارہ، انڈیا

لمحے اداسیوں کے، بکھرتے چمن کی رات
آنکھوں میں آ بسی ہے ہماری۔ تھکن کی رات

اتر جو اس کے دل میں وہ میں تھا کہ عشق تھا
چھپنے لگی جو دیکھ کے اس کے بدن کی رات

اے دوست میری شمع پگھل جائے گی مگر
اس نے نچوڑ لی ہے تری انجمن کی رات

بے باک روشنی کی سفارت ہمارے نام
ہم سے ہی جگمگائی ہے دار و رسن کی رات

بے چاند، بے چراغ سہی پھر بھی ہے عزیز
عرفانؔ کیوں نہ ہو ، یہ ہے میرے وطن کی رات