غزل : اصغر شمیم ۔ کولکاتا، انڈیا

کیا بتائوں کیسے میں جیتا رہا
پتھروں کے شہر میں شیشہ رہا

پھول وہ سارے اُٹھا کر لے گیا
راستوں کے خار میں چنتا رہا

سر زمینِ کربلا کہتی رہی
جان دی جس نے وہی زندہ رہا

اک گھروندا ریت کا تھا سامنے
میں ہوا کے طیش سے ڈرتا رہا

طنز کے پتھر مری جانب اڑے
میں مگر چپ چاپ یہ سہتا رہا

امن سے قائم نشاطِ زندگی
مدتوں اصغرؔ یہی کہتا رہا