کتاب : عرفان ادب ۔۔۔ مبصر : محمد عبدالعزیز سہیل

کتاب : عرفان ادب
مصنف : ڈاکٹر محمد ابرار الباقی
صفحات: 128
قیمت: 200/-روپیئے
ملنے کا پتہ: ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس نئی دہلی
مبصر: محمد عبدالعزیز سہیل،ریسرچ اسکالر(عثمانیہ) لطیف بازار، نظام آباد(سیل نمبر:9299655396)
____________________________________________
’’عرفان ادب‘‘اردو کے ابھرتے نقاد و مضمون نگار ڈاکٹر محمد ابرار الباقی اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو ساتاواہانا یونیورسٹی کریم نگر کی ادبی وتنقیدی مضامین پر مشتمل کتاب ہے جوکہ 2012ء میں عفیف پرنٹرس دہلی سے شائع ہوئی اس کتاب کو اردو اکیڈیمی آندھرا پردیش کی جزوی مالی امداد سے شائع کیاگیاہے۔ عرفان ادب میں جملہ 10مضامین ہیں جو اپنی انفرادیت کے مظہر ہیں۔ کتاب کی فہرست ابواب پر ہی نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈاکٹر ابرار الباقی نے اردو دنیا کی معتبر اور مقبول شخصیتوں کو اپنی تحریر کیلئے منتخب کیا ہے ساتھ ہی ساتھ اردو ادب کی جدید اصناف پر بھی طبع آزمائی کی ہے کتاب کا انتساب یونیورسٹی آف حیدرآباد کے اساتذہ اردو کے نام معنون کیاگیا ہے جہاں سے ڈاکٹر ابرار الباقی نے اپنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔
پیش لفظ’’ پیش گفتار ‘‘کے عنوان سے پروفیسر سلمان اطہر جاوید نے رقم کیا ہے ۔ پروفیسر سلیمان اطہر جاوید کتاب کے مضامین پر روشنی ڈالتے ہوئے رقمطراز ہیں’’ڈاکٹر محمد ابرارالباقی نے ان مضامین میں کچھ ایسے پہلونکالے ہیں کہ تھوڑا بہت ہی سہی، اقبالیات میں ان کی حیثیت امتیازی ہوجاتی ہے ونیز انہوںنے مضامین میں اپنے زاویہ نظر سے کام لیا ہے اقبال کی طرح چکبست کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی پرایقان شک و شبہ سے بالاتر ہے ۔‘‘ (پیش گفتا ر ،عرفان ادب ص5)
پروفیسر سلمان اطہر جاوید نے ڈاکٹر ابرار الباقی کے منتخب کردہ مضامین کے موضوعات کو وقت کا ایک اہم تقاضہ قرار دیا ہے اور عنوانات کے انتخاب کو پسند فرمایا ہے ساتھ ہی کتاب کی اشاعت پر مبارکباد بھی پیش کی ہے ۔
عرفان ادب میں پیش گفتار کے بعد’’عرفان ادب باقی‘‘ کے عنوان سے ڈاکٹر محمد نسیم الدین فریس صدر شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد نے تقریظ لکھی ہے ۔ڈاکٹر محمد نسیم الدین فریس نے مصنف کا مختصر تعارف اپنی تقریظ میں پیش کیاہے اور عرفان ادب کے مضامین سے متعلق اپنی رائے دی جس میں لکھتے ہیں:
’’مصنف نے ان مضامین میں نہایت اہم موضوعات کو دقت نظر سے اکٹھا کیا ہے اور نہایت ذہانت سے اس کی تشریح و تفسیر کی ہے ان کا زاویہ نگاہ تاثراتی ہے ۔ ان مضامین میں انہوںنے تفہیم و تحسین کے ساتھ ساتھ موضوع کی عصری معنویت کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔(عرفان ادب باقی ،عرفان ادب ص8)
عرفان ادب میں تقریظ کے بعد مصنف نے ’’کچھ مضامین کے بارے میں‘‘ کے عنوان سے عرفان ادب کو شائع کرنے کے مقاصد بیان کیے ہیں ۔ مصنف نے ادب کے مقصد سے متعلق کیا خوب جملے لکھے ہیں دیکھیں ’’ادب کامقصد انبساط ذات ہے تو دوسرا مقصد تعمیر حیات ایک ایسے دور میں جب کہ انسان خود دنیا کے حوادث کا شکار ہوگیا ہو ادب کے تعمیری پہلو کی اہمیت واضح رہی ہے ، جبکہ ماضی میں ادب کے حظ و انبساط کے پہلو کو اہمیت دی جاتی تھی۔ کیونکہ اس وقت عام زندگی چین و سکون میں کٹتی تھی اور انسان ادب کی مختلف جہتوںجیسے داستان اور مثنوی وغیرہ سے اپنے حسین خوابوں کی تکمیل چاہتاتھا۔(کچھ مضامین کے بارے میں، عرفان ادب ص10
غرض یہ کہ ڈاکٹر ابرار الباقی نے دور حاضر کے تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے تعمیری ادب کے پہلو پر سیر حاصل گفتگو کی ہے جوکہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہم لکھتے بہت ہیں لیکن ہمارے پیش نظر سماج اور سماج کی اصلاح اور خاص کر تعمیری ادب کا پہلو اجاگر نہیں ہوتا۔ جبکہ حالی اور سرسید تحریک نے اردو ادب میں اصلاح ادب کے عنوان سے بہت بڑی تبدیلیاں برپا کی تھیں جوکہ عوامی شعور کی ایک بہترین مثال تھی ۔ ڈاکٹر باقی کی گفتگو سے خواجہ الطاف حسین حالیؔ کی یاد ذہنوں میں تازہ ہوجاتی ہے ۔
اس کتاب میں ادبی شخصیتوں اور اصناف پر تفصیل سے اظہار خیال کیاگیاہے عنوانات کی تفصیل یہ ہے ۔ میر تقی میر ایک عہد ساز شاعر، اکبر آلہ آبادی کی طنزیہ و مزاحیہ شاعری، قومی یکجہتی اور اقبال کی شاعری، چکبست ایک محب وطن شاعر، تحریک آزادی کے بے باک صحافی، محمد علی جوہر جنوبی ہندکے معمار تعلیم ڈاکٹر محمد عبدالحق، ڈاکٹر زور دکنی ادب کے معمار، فیض کی نظم صبح آزادی ایک مطالعہ ، آزاد نظم ایک مطالعہ، اردو میں خاکہ نگاری کی روایت۔
زیر تبصرہ کتاب کاپہلا مضمون ’’میر تقی میر ایک عہد ساز شاعر‘ ہے یہ دیگر مضامین کے مقابل سب سے زیادہ اہمیت کا حامل مضمون ہے ۔ ڈاکٹر ابرار الباقی نے میر تقی میر کے زمانے کے پس منظر اور میر کی شاعری پر بحث کی۔ اور مدلل گفتگو کی ہے پھر ساتھ ہی جگہ جگہ اشعار کے ذریعہ حوالے دیئے۔ ڈاکٹر باقی نے اپنے مضمون میں میر کواندرون بین انسان قرار دیا ہے اس سلسلہ میں انہوںنے انسان کے برتائو کی قسمیں بیان کی ہیںاور ساتھ ہی انہیںاناپرست ذہنیت کا حامل قرار دیاہے ۔ بہرحال مضمون کے مطالعہ سے ڈاکٹر باقی کی تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوں کا اعتراف ہوتاہے اور سہل اور سلیس انداز بیاں کامشاہدہ بھی ہوتاہے۔ مضمون کے مطالعہ سے خامیاں کم اور خوبیاں زائد نظر آئینگی۔
کتاب کا تیسرامضمون’’قومی یکجہتی اور اقبال کی شاعری‘‘عنوان پر لکھاگیا۔ مصنف نے اس مضمون کے آغاز میں قومی یکجہتی کی تعریف اور تصور کو بیان کیا ہے ساتھ ہی ہندوستان کے جغرافیائی حالات کو بھی بیان کیاہے۔ دراصل اس طرح سے اپنی نوعیت کا منفرد انداز ڈاکٹر باقی نے اس مضمون میں پیش کیا ہے وہ ایک طرف ہندوستان کی قوموں کا تذکرہ کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف ہندوستانی تہذیب اور روایات کو بھی بیان کرتے ہوئے اپنے مضمون کو آگے بڑھاتے ہیں۔
اس مضمون میں ہندوستان کے سماجی ڈھانچے کو بڑی خوبی سے پیش کیا گیا ۔ ڈاکٹر باقی نے علامہ اقبال کی قومی یکجہتی پر مبنی شاعری کو ان کی ابتدائی دور کی شاعری قرار دیاہے ۔ڈاکٹر باقی نے اقبال کی قومی یکجہتی کی کی شاعری کانچوڑ اس شعر کوقرار دیاہے۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا
اس مضمون میں ڈاکٹر باقی نے اپنی تحریر کو مستند بنانے کے لئے علامہ اقبال سے متعلق سابق وزیرا عظم ہندوستان اندرا کمار گجرال کے مضمون کا اقتباس بھی پیش کیاہے جوکہ منفرد اور دلفریب لہجہ میں لکھاگیا۔
زیر تبصرہ کتاب کا آخری مضمون’’اردو میں خاکہ نگاری کی روایت‘‘ کے عنوان سے شامل ہے مصنف نے مضمون کے آغاز میں خاکہ کے معنی ومفہوم کو بیان کیاہے اور ساتھ ہی مشاہیر ادب کی نظر میں خاکہ نگاریکی تعریف حوالوں کے ذریعہ بیان کی۔ انہوںنے خاکہ نگاری کو طویل سوانح نگاری کا لبادہ قرار دیاہے مصنف نے اس مضمون میں بہت زیادہ حوالے نقل کئے ہیں جوکہ ایک مختصر مضمون کیلئے بہت زیادہ نظر آتے ہیں اگر حوالے اپنی بات کومضبوط بنانے کیلئے کم استعمال کئے جاتے تو بہترتھا۔بہرحال زیر تبصرہ کتاب کے مطالعہ سے انداز ہ ہوتا ہے کہ مصنف نے تحقیق وتنقید کے اصولوں کوسامنے رکھتے ہوئے بڑی احتیاط اور جانبداری سے یہ مضامین تحریر کئے ہیں۔ اور موضوع پر تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے اپنی رائے بھی دی ہے۔ اور اردو کے شعرا کے کلام کی عصر حاضر کے تناظر میں اہمیت و افادیت اجاگیر کی ہے۔ جس سے ان مضامین کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔’’عرفان ادب‘‘ کا ٹائٹل بہت خوبرو اور بہترین ڈیزائن کیاگیاہے ساتھ ہی کتاب کوچھونے سے ہی انداز ہوتاہے کہ کتاب کی طباعت ، پیپر اور کوالٹی عمدہ ہے جوکہ ایجوکیشنل بک ہائوس نئی دہلی سے طبع کروائی گئی ہے اور ISBNنمبر کے ساتھ شائع ہوئی ہے ۔ کتاب کی اشاعت پر ڈاکٹر ابرار الباقی کو مبارکباد پیش کرتاہوں ساتھ ہی یہ امید کرتاہوں کہ یہ کتاب قارئین اور ادب کے طالب علموں کیلئے ایک انمول اور بیش بہا قیمتی تحفہ سے کم نہیں ہے امید کہ اردو قارئین اس تصنیف کی پذیرائی کریں گے۔