پاکستان میں علامتی افسانے کے رُجحانات: محمد بشیر رانجھا، راولپنڈی-پاکستان

حیاتِ انسانی کسی نہ کسی طور پر ادب سے جڑی ہوئی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ زندگی پر اثر انداز ہونے والے خارجی اثرات ان میں خود بخود سرایت کر جاتے ہیں۔ افسانہ نگاری ادب کی ایک ایسی ہی خاص صنف ہے جو ہماری روزمرہ زندگی کے عمومی رویوں کو خصوصی انداز میں پیش کرتی ہے۔ زندگی کی بنتی بگڑتی اقدار، معاشرے میں پھیلی ہوئی مادیت اور بے حسی ، فرد کافرد سے رابطہ منقطع ہوجانے کا داخلی دنیا کا سفر، یہ سب مل کر مختلف نفسیاتی عوامل و عوارض کو جنم دینے کا باعث بن جاتا ہے۔ زندگی کی دوڑ میں سارے دن کا تھکا ہارا انسان کسی ایسے مشغلے کی جستجو میں رہتا ہے جو عارضی ماحول کی تلخیوں کو کم کر دے اور وقتی طور پر وہ رومان کی تخیلاتی وادی میں گم ہو جائے۔ اس کے لیے ادب کی دنیا میں اس کو مطمئن کرنے کے لیے بہت کچھ ملتا ہے اور اس طرح ایک فرد کا دوسرے فرد سے ربط و ضبط کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ ماحول، خیالات، رجحانات اور معاشرے میں نت نئی ابھرتی ہوئی تحریکیں انسانی مزاج پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ادیب معاشرے کا حساس رکن ہوتے ہوئے ان تبدیلیوں کو جذب کرتا ہے اور پھر اس کی عکاسی اس کی تحریر کرتی ہے۔ اردو افسانہ پر بھی مختلف قسم کے عالمی و قومی اثرات وقتاً فوقتاً مرتب ہوئے۔ اردو میں افسانہ نگاری کا آغاز کسی حد تک مغربی ادب کا مرہونِ منت ہے۔ تاہم اگر اردو کی مختلف داستانوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں بھی افسانوی عناصر نمایاں دکھاتی دیتے ہیں۔عمومی خیال یہ ہے کہ افسانہ کا نقطۂ آغاز پریم چند سے ہوا۔ پریم چند نے رومانوی فضا کے ساتھ افسانے کو زندگی کی حقیقت اور دھرتی کی خوشبو سے روشناس کرایا۔مشرق کے مخصوص تہذیبی انداز کو افسانوی تحریروں میں سمویا۔ افسانوی ادب میں سماجی اخلاقیات کو بڑے احسن طریقے سے شامل کرنے کی کوشش کی۔ اس طرزِ بیان نے داستان کی خیالی دنیا کی سجاوٹ کی بجائے افسانے میں زمینی حقائق اور معاشرتی تبدیلیوں کا کامیابی سے آشنا کیا۔
پریم چند کی افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ ہمیں مغربی اثرات کے تحت اردو افسانہ نگاری میں رومانیت کی تحریک بھی چلتی نظر آتی ہے۔ اس تحریک کے پیروکاروں نے ادب برائے ادب کے تحت مختلف مغربی تراجم کے ذریعے افسانہ نگاری کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ تک یہ تحریک اردو کے ادبی افق پر چھائی رہی لیکن اس تحریک کے زیرِ اثر لکھے جانے والے ادب نے جس طرح تخیلاتی اُلجھاؤ سے فرد کو حقیقی دُنیا سے لاتعلق کر دیا اس کے خلاف ایک شدید ردِ عمل اُبھر آیا۔ اس رجحان کے زیرِ اثردر آنے والی بے عملی ترقی پسند تحریک اور مارکسزم کی مقصدیت کے سامنے ٹھہر نہ سکی۔ غرض یہ کہا جا سکتا ہے کہ ۱۹۳۰ء تک اردو افسانہ تعمیری دور سے گزر تا رہا۔ کہانی میں مجموعی لحاظ سے تنوع آ گیا۔ اس دور کی نمایاں خاصیت یہ تھی کی روسی، انگریزی ، امریکی، چینی اور جاپانی کہانیوں کے بے شمار اردو ترجمے ہوئے جن کا اردو افسانہ پر گہرا اثر پڑا۔ چونکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ افسانہ نگار خود کو زمانے کے نئے تقاضے سے ہم آہنگ نہیں کر سکے اس لیے اس دور کے افسانوں میں قابلِ ذکر جدت کم نظر آتی ہے
افسانہ کے بتدریج ارتقا کے ساتھ ادیبوں کے خیالات میں تبدیلی کا عنصر نمایاں ہوتا گیا اور یوں خوابوں کی دنیا سے حقیقت کی طرف سفر شروع ہو گیا۔ اردو افسانہ کی تاریخ میں ۱۹۳۶ء کا سال سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ سال ترقی پسند تحریک کی ابتدا کا سال ہے۔اس دور کے افسانوی مجموعے’’ انگارے‘‘ میں معاشرے کی بدحالی ، معاشی پستی اور سیاسی جدوجہد کو موضوعِ سخن بنایا گیا۔ ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر افسانہ خیال پرستی اور رومانیت کی منازل طے کرکے حقیقت پسندی کی طرف رواں دواں ہو گیا۔ ترقی پسند تحریک کے تحت معاشرے میں سماجی ، معاشی اور معاشرتی روایات کو بہت اہمیت دی گئی۔ مزدور اور سرمایہ دار، ظالم اور مظلوم ، حاکم اور محکوم کے قصے کو حقیقت نگاری کی ذیل میں رکھ کر پیش کیاگیا۔ درحقیقت ہر دور کا ادب کسی نہ کسی انداز میں ترقی پسند ہوتا ہے اور روزمرہ زندگی کا آئینہ دار بھی۔ اسی طرح برِ صغیر میں معاشرتی حقیقت نگاری کی ابتدا ترقی پسند ادیبوں سے کہیں پہلے منشی پریم چند کر چکے تھے۔ پریم چند کی اس روایت کو آگے بڑھانے کی کوشش ترقی پسند ادیبوں نے کی، انہوں نے اپنے اردگرد کے ماحول کو گہری نگاہ سے دیکھا اور پھر کہانی کے داخل اور خارج دونوں پہلو یکساں اہمیت کے ساتھ لفظوں میں ڈھال دئیے۔ اسی تحریک کے تحت بے رحم تجزیاتی عمل سے زندگی کی ناہمواریوں کو عیاں کرنے کی روش ابھرنے لگی مگر جلد ہی یہ روش اشتراکی یا طبقاتی حقیقت نگاری کا رخ اختیار کر گئی اور سماجی مسائل کے ساتھ ساتھ طبقاتی شعور کو ملا جلا کر افسانہ کا رجحان تقویت پکڑنے لگا۔ اسی طرح معاشی ناہمواری اور مختلف طبقوں کے درمیان رسہ کشی کے موضوعات کو فوقیت حاسل ہو گئی:
’’ پرانی حقیقت نگاری کی روایت کی حد بندی باہمی تضادوں کو دور کرتی ہے۔ اشتراکی حقیقت نگاری حقیقت کی بعینیہ اسی طرح پیش کرتی ہے جیسی کہ وہ ہے بلکہ جیسا کہ انسان نے اسے بنایا ہے اور جیسا کہ اسے ہونا چاہئیے۔ خارجی دنیا کو پیش کرنے میں اس تغیر پذیر رشتہ کو جگہ دیتی ہے۔ اس حقیقت نگاری میں غیر شعوری سماجی نفسِ مضمون شعوری ہو جاتا ہے اور وہ مخصوص طبقاتی شعور سے زندگی کو پیش کرتی ہے۔ یہ حقیقت نگاری خارجی ہے‘‘۔ (۱)
بالعموم ترقی پسند افسانہ کو سماجی حقیقت نگاری کے حامل افسانہ کی ایک نوع گردانا جاتا ہے البتہ ترقی پسند افسانہ نگار سماجی حقیقت نگار کے مقابلہ میں زیادہ مہارت سے زندگی کا عکس پیش کرتا ہے۔
ترقی پسند افسانہ نگاروں کا اصل مقصد اس دنیا کو بنی نوع انسان کے لیے زیادہ سے زیادہ حیات افروز اور خوش آئند بنانا تھا۔ اس لیے اشتراکیت ، جمہوریت، آزادی، غلامی، آمریت، مذہبی اجارہ داری، طبقاتی تنگ نظری، نسلی برتری، معاشی جبریت، فنسیاتی پیچیدگیاں، جنسی الجھنیں اور معاشرتی ناہمواریاں سبھی زیرِ بحث آئیں۔ ہرچند کہ اس دور کے افسانہ نگاروں میں سے بعض نے محض اشتراکیت کے پروپیگنڈا کو ادب سمجھا۔ کچھ نے جنسی مسائل کے حوالے سے فحش نگاری کو جزوِ اعظم بنایا اور بعض نے مذہب سے یکسر بیزاری کا اظہار کر کے لادینیت کے فروغ کو ادب کا جزولاینفک قرار دینے کی کوشش کی اور کچھ ادیب ایسے بھی تھے جنہوں نے اصلاحی مقاصد کو جادۂ اعتدال سے آگے نہ بڑھنے دیا۔یہ صورتتحال اعتدال پسند اور انتہا پسند گروہوں کے درمیان کچھ عرصہ کے لیے چپقلش اور تلخی و ترشی کا باعث بھی بنی لیکن آخر کار سب کچھ ٹھیک ہو گیا یعنی اردو افسانہ پر میانہ روی اور اعتدال پسندی کا عنصر غالب آ گیا۔ نئے لکھنے والے اس تحریک سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ محمد حسن عسکری، شوکت صدیقی، ہاجرہ مسرور، خدیجہ مستور، رام لعل، شفیق الرحمن، اشفاق احمد، ممتاز شیریں، بانو قدسیہ، ابراہیم جلیس، قدرت اللہ شہاب، انتظار حسین، سید انور اور بہت سے دوسرے جن کو حقیقی شہرت قیامِ پاکستان کے بعد ملی ان سب ادیبوں نے اردو افسانے کو تکنیک اور موضوع دونوں اعتبار سے وہ کچھ دیا کہ یہ اپنے پیش رو افسانہ نگاروں کے فکر و فن سے ہم آہنگ ہو کر بھی الگ اور منفردرہے، اتنے منفرد کہ اردو افسانہ کا ایک نیا دور یہیں سے شروع ہوتا ہے۔
۱۹۴۷ء کے بعد افسانہ نگاروں کی توجہ کا مرکز مہاجرت و فسادات کے نتیجہ میں ہونے والے واقعات رہے۔ اس دور کے افسانہ نگاروں کو گذشتہ ادوار کی سماجی حقیقت نگاری، جنسی مسائل، اشتراکی پروپیگنڈا اور انقلابی نعروں سے کو سروکار نہیں رہا بلکہ تازہ موضوعات اور نئے تجربے ہی افسانوں میں شامل کیے گئے۔اس برتاؤ میں بھی نئے لکھنے والوں کا فنی رویہ پرانے ادیبوں سے مختلف رہا۔ اس سے پہلے کرداروں کی پیشکش میں ان کے عمل اور ردِ عمل کو زیادہ اہمیت حاصل تھی۔ اب کردار کے نفسیاتی عوامل اور ذہنی کیفیات کو مرکزِ نگاہ بنایا گیا۔ اس طرح جدید سماجی علوم اور نئی دریافتوں کے مطالعہ نے کرداری مطالعہ کا رخ بدل دیا۔ ماحول اور کردار کو سمجھنے سمجھانے کے لیے ذہن و لاشعور کی گرہیں کھولنا ضروری ہو گیا۔
آزادی کے بعد فسادات اور ہجرت کے نتیجہ میں رونما ہونے والے واقعات کے ساتھ ساتھ اپنوں کے جبروستم بدعنوانیوں اور ناانصافی کی داستانیں اردو افسانہ کا مقبول ترین موضوع بن گئیں۔ موضوعات میں اس تغیّر کے دوش بدوش فنی رویہ میں تبدیلی یہ ہوئی کہ کرداروں اور ان کے اعمال کی صورت گری کی جگہ افسانوںمیں نفسیاتی عوامل اور ذہنی کیفیات کو زیادہ قابلِ توجہ سمجھا جانے لگا بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہے کہ زندگی کے متنوع تجربات اور جدید سماجی علوم کے مطالعہ نے کرداری مطالعہ کا رخ ڈھنگ ہی بدل دیا۔ ماحول اور کردا ر کو شناخت کرنے لے لیے واقعات کی تفصیل کی بجائے ان کی نفسیاتی گرہیں کھولنا زیادہ اہمیت کا حامل ہو گیا۔
۱۹۶۰ء سے ۱۹۸۰ء کا درمیانی عرصہ افسانہ کے موضوعاتی لحاظ سے قوس و قزح کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس دور میں نئے اور پرانے دونوں ر نگ یکجا ہو گئے۔ یکجائی کے باوجود دونوں کی انفرادیت بھی الگ الگ جھلکتی رہی۔ ادبی کاوشیں اس اعتبار سے منفرد ہو گئیں کہ تخلیق کا آغاز کرنے والے اور معتبر لکھنے والے دونوں کا رویہ نمایاں طور پر منظر عام پر آیا۔ ان کی سوچ طرزِ احساس، فنی رویہ ، افسانوں میں عصری شعور ،زندگی اورمسائل کا ادراک اور عرفان گھل مل کر شاہکار کی تخلیق کرنے لگے۔
۱۹۶۰ء سے پہلے عموماً افسانہ افسانہ کی تشریح کچھ اس طرح کی جاتی ۔ ایک منظم پلاٹ، کوئی نمایاں کردار، کہانی کے روپ میں کوئی خصوصی واقعہ اور زمان و مکان کے ساتھ مخصوص قسم کا تاثر ضرور موجود ہو لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ان تمام نکات کے ہمراہ کئی نئی روایات افسانہ میں شامل ہو گئیں۔ اس طرح بتدریج جدید تر افسانہ پرانی روایتوں اور فنی تکنیک کی جکڑ بندیوں سے آزاد ہو گیا۔ اب کسی واضح پلاٹ ، کردار یا تاثر کی ضرورت نہ رہی بلکہ افسانہ عہدِ حاضر کے مبہم ، پر پیچ اور حیران کن زندگی کا پیچیدہ استعارہ بنا دیا گیا۔عرفِ عام میں اسے علامتی یا ستعاراتی افسانہ کہا جانے لگا۔ علامتی افسانہ میں افسانہ نگار اپنے ذاتی مشاہدے اور تجربے کی اپنی داخلیت میں سمو کر دُور رَس لفظی پیکروں اور شعروں میں اس طرح پیش کرتا ہے کہ زندگی کے ایک دو پہلو نہیں بلکہ کئی رنگ ایک ساتھ پھیلتے اور اڑتے نظر آتے ہیں۔ تہذیبی زندگی ایک جال کی طرح الجھے رشتوں کا تانا بانا بنتی نظر آتی ہے۔
جدید افسانہ نگاروں میں شدید ردِ عمل اس وقت ہوا جب ترقی پسند تحریک کے دوران بے رحم حقیقت نگاری اورمقصدیت کو مبالغہ آمیزی کی حد تک شامل کر دیا گیا چنانچہ جدید افسانہ نگاروں نے ادب میں اس کلیہ پرستی، نعرے بازی اور ادب کو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے کی کھل کر مخالفت کی۔ افسانہ نگاری کی قدیم اور کلاسیکی روایات کو بھی رد کر دیا گیا بلکہ افسانہ کی مروجہ ہیئت اور فنی اصول کے خلاف بھی شعوری بغاوت کا آگاز ہو گیا۔ حقیقت نگاری کے ردِ عمل میں علامتی اور تجریدی اسلوبِ اظہار بتدریج بڑھ گیا۔
۱۹۶۰ء کی دہائی میں اردو افسانہ نے موضوع اور رجحان کے اعتبار سے ایک اور بڑی کروٹ لی۔ درحقیقت اس تبدیلی کا بنیادی تعلق تہذیبی زندگی کی شکست و ریخت اور پرانی اقدارکے بوسیدہ ڈھانچے کا منہدم ہونا تھا۔ عصری زندگی کی بدلتی ہوئی نت نئی ترجیحات نے شعور آگہی کے کئی نئے روزن کھول دئیے۔ قومی و بین الاقوامی دونوں سطحوں پر سیاسی اور سماجی حالات میں تبدیلی آئی۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے مادی آسائیشوں کے ساتھ معاشرے میں ذہنی تناؤ اورالجھاؤ کو فروغ دیا۔ سیاسی بیداری ، حریت پسندی اور خوف و ہراس کی ایک نئی فضا بن گئی ، حرب و ضرب کے جدید آلات نے انسانی تباہی کے نئے نئے طریقے ایجاد کر دئیے۔ گوریلا جنگ اور چھاپہ ماروں نے زندگی کا سکون تہ و بالا کر دیا۔ غلامی اور استحصال کے خلاف جنوبی ایشاء اور افریقہ میں کئی نئی تحریکوں اور تنظیموں نے سر اٹھایا۔ غلامی کے شکنجے میں جکڑی ہوئی کئی اقوام اپنی جدوجہد کے بل بوتے پر آزادی سے ہمکنار ہو گئیں۔ عزم و حوصلہ کی اس سرکش لہر نے بہت سے مقتدر لوگوں کو ملک بدری پر مجبور کر دیا۔ عرب اسرائیل جنگ، فلسطین اور ویت نام کا تنازعہ ایک تیسری عالمگیر جنگ کا اشارہ دینے لگا۔ بیرونی دنیا کے علاوہ دورنِ ملک بھی حالات تیزی سے بدلنے لگے۔ آمرانہ اقدامات اور جمہوریت کی ناکامی نے ملک کی سیاسی فضا کو بری طرح متاثر کیا اور یہ انتشار اقتصادی استحکام پر بھی اثر انداز ہوا۔ روزبروز بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور ہوش ربا گرانی سے عوام الناس بے دلی اور بے حسی کا شکار ہو گئے۔ اسی ماحول میں پاکستان کی نوخیز مملکت کو دو خوفناک جنگوں سے واسطہ پڑا۔ ۱۹۶۵ء کی پاک بھارے جنگ اور پھر ۱۹۷۱ء میں سقوطِ ڈھاکہ کا حوصلہ شکن المیہ ناقابلِ برداشت ثابت ہوا۔ ان دونوں واقعات سے پیدا شدہ حالات و مسائل نے قومی اور عوامی سطح پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ اس دور کے بیشتر افسانے انہی حالات کے غماز ہیں۔ سماجی زندگی میں افراتفری، بدحالی ، عدم مساوات ، لاقانونیت، بد نظمی، رشوت ستانی اور ذخیرہ اندوزی نے اپنے پنجے گاڑ دئیے۔ اس منتشر ماحول نے اردو افسانہ کو بھی اپنے اثرات سے متاثر کیا۔ اس سارے منظر اور پس منظر کا عکس اردو افسانہ میں کبھی کردار، کبھی مکالمہ اور کبھی ماحول کے حوالے سے ملتا ہے۔
بے اطمینانی اور بے دلی کی اس فضا میں بعض عالمی تحریکوں اور زندگی کے بارے میں فلسفیانہ بحثوں خصوصاً جدیدیت اور وجودیت کے زیرِ اثر عدم تحفظ، تنہائی اور بے یقینی کا احساس خوف وہراس کی فضا کے ساتھ مسلط ہوتا گیا۔اس طرزِ احساس نے موضوعات اور ان کے برتنے کے ڈھب کو بھی خاصا بدل دیا۔ وہ لوازم جو افسانہ کا حقیقی ڈھانچہ کہلاتے تھے یکسر ختم ہو گئے اور نیا افسانہ ان سب سے آزاد ہو گیا۔
اردو افسانہ میں جدید رجحان کی نمود کے سلسلہ میںسیاسی سطح کی زبان بندی اور ترقی پسند تحریک کے تحت افسانے میں حقیقت پسندی کے رجحان سے انحراف کو بطور وجوہ پیش کرنے کی روش عام ہے۔ مگر جدید اردو افسانہ میں علامتی رجحان کی ایک اور اہم وجہ عالمی ادب سے اس کا انسلاک بھی تھا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے بقول:
’’ ہمارا علامتی افسانہ ایک طرف تو بے رحم حقیقت نگاری کی روش سے انحراف کا عمل تھا۔ دوسری طرف سیاسی جبر کی فضا میں سانس لینے کی ایک کاوش اور تیسری طرف( اور یہی سب سے اہم بات ہے) شے، کردار اور کہانی کے بطن میں موجود پراسراریت کا ادراک کرنے کے عالمی رجحان سے منسلک ہونے کا ایک اقدام تھا۔ ہمارے جدید علامتی افسانے نے بے حد نازک اور لطیف نفسی کیفیات اور معنی کو گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے جو رومانوی انداز یا حقیقت پسندانہ عکاسی کے مقابلے میں ایک نسبتاً مشکل عمل ہے—علامتی افسانہ نے سائیکی کی گہرائیوں میں اتر کر کیفیات کو اور واردات کو مس کیا ہے اور یہ عمل گرامر میں جکڑی ہوئی زبان کے بس کا روگ نہیں تھا چنانچہ علامتی افسانہ خود کو حقیقت سے منقطع نہیں کرتا تاہم وہ خود حقیقت کی محض بالائی سطح تک محدود بھی نہیں رکھتا، بلکہ سدا شے یا کردار یا فضا کو بنیاد بنا کر دوسری جانب کی پراسراریت کو مس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جس کے باعث افسانہ میں معنی کے کئی پرت پیدا ہو جاتے ہیں—علامتی افسانہ لفظ کی قلب ماہیت کرکے اسے معانی کو گرفت میں لینے کے قابل بناتا ہے۔‘‘(۲)
۱۹۵۵ء تا ۱۹۷۰ء تک کا عرصہ علم و ادب کی دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے اعتبار سے بڑا ہنگامہ خیز تھا۔ نت نئی ایجادات، کمپیوٹر ٹیکنالوجی، طِب، حیاتیات اور سائنس کے میدان میں چونکا دینے والے انکشافات مثلاً بگ بینگ، بوٹ سٹریٹ تھیوری، ڈی این اے کی مخصوص گرائمر وغیرہ نے انسان کے سابقہ تیقن کو چکنا چور کر دیا۔ فرد کے اندرپرانی اقدار کے ٹوٹنے اور قدیم نظریات کی حتمیت کے ریزہ ریزہ ہو جانے سے تشکیک کا عمل ظاہر ہونا شروع ہو گیا۔ نتیجتاًانسانی رویوں نے بھی نیاچولا پہننا شروع کر دے ۔ بے جا سماجی و معاشی پابندیاںنا روا محسوس ہونے لگیں اور اس بوجھ سے آزادی کی کوشش ہر میدان میں ہونے لگی۔ ان سب عوامل نے مل کر فرد کی ذہنی صلاحیت اور فکری و عملی استعداد پر گہرا اثر ڈالا۔ صنعتی نظام، مادیت پرستی، وسیع ذرائع ابلاغ اور رسل و رسائل کی فراوانی پر انسانی زندگی میں جو کاروباری رویے دَر آئے تھے، جدید افسانہ نگاروں نے ان سب رویوں کو خاص طور پر محسوس کیا بلکہ اپنی تحریروں میں اس مشاہدے کا بھرپور اظہار بھی کیا۔ اس طرح پرانے نظریات اور قدیم تصورات کو نظر انداز کرکے حقائق کو ایک نئے زاویے سے جانچنے پرکھنے کے عالمی رویہ کی بنا پر ادب میں نئے راستوں کی تلاش کو رجحان فروغ پانے لگا۔
جدیدیت پرانی دنیا کے خاتمے اور نئی دنیا کے جنم لینے کے درمیانی عرصہ میں نمودار ہوتی ہے۔ یہ وقفہ دراصلAnti Thesisکا مرحلہ ہے جس میں گذشتہ تجربات کا نچوڑ اور نئے امکانات کی خوشبو رچی بسی ہوتی ہے مگر اپنی بے ہئیتی ، بے قراری اور سیال پن کی بنا پر اس نے کوئی واضح شکل اختیار نہیں کی ہوتی۔ کہنے کی مقصد یہ ہے کہ جدیدیت کے غیر معمولی تحرک روایت شکنی، اجتہادی طرزِ عمل اور توڑ پھوڑ کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگ اسے منفی معنوں میں لیتے ہیں جو درست نہیں ہے۔(۳)
ڈاکٹر غلام حسین اظہر لکھتے ہیں:
’’ آج جدیدیت انسان کو محض ایک جسمانی وجود قرار دینے کے بجائے اسے ایک روحانی وجودبھی قرار دیتی ہے، لیکن اس کی روحانی عظمت کے لیے جسمانی تقاضوں کو پورا کرنے کی قائل ہے اور شر کی تلاش سماجی علائق میں کرتی ہے نہ کہ انسان کے انفرادی وجود میں‘‘۔(۴)
جدیدیت دراصل فرد کی انفرادیت کی نمود ہے جس کا بنیادی نقطہ نگاہ انسانی عظمت کا اعتراف ہے۔ مختصر لفظوں میں اس کو ہم ایک ہمہ گیر ذہنی انقلاب کا نام بھی دے سکتے ہیں اور یہ ذہنی تبدیلی ایک نئے جہاں کا پیش خیمہ ہے۔ اسی ہمہ گیر انقلاب نے ادب کو ایسے جدید ادب میں ڈھال دیا جو انسانی عظمت کے خدوخال اور سماج کی ہئیت کو اس طرح منظر عام پرلائے جو انسان کے روحانی اور جسمانی تقاضوں کو بھی پورا کرے اور اس کی شخصی آزادی پر بھی کوئی آنچ نہ آئے۔ مصنف کی ذمہ داری دوسرے تمام مفکرین اور باشعور لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس کا ادب نہ صرف اپنے زمانے اک عکاس ہوتا ہے بلکہ نت نئی اختراعات نئی روایات کی امین بھی ہوتی ہیں۔
جدیدیت کے زیر اثر افسانے میں کارجی واقعات کے اندر داخلی محرکات کی تلاش ہوئی اور کردار کے باطن کو یا اس کے ہم زاد یا پرچھائیں کو نشان زد کرنے سے Grand Narrative وجود میں آیا۔ جدیدیت کے اظہار کے لیے اسلوب، نقطہ نظر یا رویے کے نئے پن کی موجودگی ایک اہم شرط ہے۔
افسانہ نگاروں نے جب جدید افسانہ لکھنا شروع کیا تو سیاسی اور ادبی سطح پر انتشار پھیلا ہوا تھا۔ دانشور طبقہ شدید ذہنی کرب میں مبتلا تھا۔ انسان دوستی، سماجی انقلاب اور معاشی مساوات کے بارے میں پرانے تصورات اور عقائد ملیا میٹ ہو چکے تھے۔ اقدار و عقائد کی شکست و ریخت نے اردو زعر و ادب پر گہرا اثر دالا اور جدید افسانہ اسی سارے ماحول میں پروان چڑھا۔ جدید افسانہ نگاروں کا زندگی کے مسائل سمجھنے اور پرکھنے کا انداز انفرادی تھا۔ اسی لیے صنعتی دور کے بدحال معاشی اور سماجی پس منظر کے مقابلہ میں انسان کی داخلی شخصیت ، فکری اور جذباتی ناآسودگی ، فرد کی تنہائی اور زندگی کی بے معنویت نے جدید موضوعات کر زیرِ بحث لانے کی کوشش کی اور اس طرح طرزِ تحریر کا ایک نیا انداز منصۂ شہود پر آیا۔
جدید افسانے کی تخلیق اب وابستگی، غیروابستگی، گردوپیش کے بارے میں سوچنے، اسے سمجھنے اور اسی کے متعلق فکری اظہار کے مختلف رویے سے عبارت ہے۔ تخلیقی اظہار، ذاتی فکر، تجربے اور مشاہدے کا نچوڑ ہوتا ہے۔ کوئی بھی باشعور شخص اپنی رائے بنانے کے لیے سمعی، بصری اور فکری صلاحیت کو استعمال کرکے اپنی تخلیق کے خدوخال سنوارتا ہے۔ فطری طور پر ہر شخص کی آنکھ کا زاویہ مختلف ہوتا ہے، اس لیے ایک تصویر کو دیکھنے والے کی نگاہ مختلف اور منفرد روپ دے دیتی ہے۔ یہ امر اتفاقیہ بھی ہو سکتا ہے ، شعوری بھی اور لاشعوربھی اس میں کارفرما ہوتا ہے۔ شعوری طور پر دیکھنے میں فنکاری اور نظریاتی دونوں نقطہ ہائے نگاہ کارفرمائی کر سکتے ہیں۔ تجربہ احساس اور شعور دونوں کوجنم دیتا ہے۔ احساس اور شعور کا فنکارانہ استعمال تجربے کی اہمیت کو بڑھا دیتا ہے۔ مزید برآں اس کی معنویت کی نئی سطحیں دریافت کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔
جدید افسانہ ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر اب تک لکھے جانے والے افسانوں سے مواد کے اعتبار سے مختلف ہے بلکہ اس کی ہیئت اور اسلوب بھی جداگانہ انداز کا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ زندگی اور ادب کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر کا اختلاف ہے۔ جدیدیت اور اردو افسانے پر شہزاد منظر نے اس طرح اظہارِ خیال کیا ہے:
’’ یہ درست ہے کہ جدید افسانہ کہانی بیان نہیں کرتا نہ اس کا کوئی متعین پلاٹ ہوتا ہے۔ جدید افسانہ میں پلاٹ کو ثانوی حیثیت ہوتی ہے۔ اولیت مرکزی تصور اور فکر کو حاصل ہوتی ہے۔ افسانے میں کردار، مناظر اور واقعات کی محض دھند ہوتی ہے۔ افسانہUnder Currentکے طور پر چھپا رہتا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود کامیاب افسانہ کی پہچان یہ ہے کہ اسے پڑھنے والا افسانے کے مرکزی خیال یا فکر سے گہرے طور پر متاثر ہو اور اس پر معنویت کی پرت کھل جائیں‘‘۔(۵)
جدید اردو افسانے میں کہانی پن کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہے۔ احساس ، کیفیت، مرکزی تصور یا فکر کو فوقیت دے کرمتعین پلاٹ کو ثانوی درجہ دیا یا گیا۔ افسانے کو نئی زمین اور نیا آسمان فراہم کر دیا گیا۔ نت نئے تجربات نے جہاں موضوعات کو متنوع بنایا وہاں اردو افسانے کو بامِ عروج تک پہنچانے کی بھی بھرپور کوششیں کی گئیں۔ جدید افسانے نے اردو ادب کی تاریخ میں فنا ہونے والا کردار ادا نہیں کیا۔
جدید افسانے کا کردار ایک سیدھے سادے راستے پر بلا خوف وخطر سفر نہیں کرتا بلکہ اس کا یہ سفر پُرپیچ اور پُر خار راستوں کے درمیان بل کھاتی پگڈنڈیوں میں سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس طرح دورانِ سفر کردار کے خفیہ گوشے خود بخود بے نقاب ہونے لگتے ہیں لیکن بالفرضِ محال اگر ہو مکمل خدوخال کے ساتھ عازمِ سفر ہو تو اس کے باوجود سفر کے دوران اس کے نقش و نگار دھندلانے لگتے ہیں۔ درحقیقت جدید افسانہ نے کردار کے ظاہری چہرے کے ذریعے عقب میں موجود پرطھائیں کو جھلک دکھانے کا موقع فراہم کیا۔ پرچھائیں بذاتِ خود بے چہرہ ہوتی ہے لیکن حقیقت میں علامتی پیکر اسے ہی کہا جاتا ہے۔ جدید اردو افسانے میں کردار سے زیادہ پرچھائیں پر توجہ دینے کے نتیجے میں کہانی اور کردار کے نقوش مدہم پڑ گئے لیکن کہانی افسانے کے پس منظر میں کسی نہ کسی رنگ میں موجود رہی۔ جدید اردو افسانہ کے کردار کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ اس کے ماتھے پر کردار کا ٹھپہ نہیں لگا ہوتا۔ اسمائے صفت سے نجات پا کر اس کی حالت غیر ٹھوس ہو گئی ہے اور اس طرح اس میں چکنی مٹی کی ایسی نرمی ابھر آئی ہے جس سے جس طرح چاہیں کام لے لیں۔
اردو کے جدیدافسانے نے ظاہری چہرے کے عقب میں موجود پرچھائیں کو کردار سے جوڑے رکھا۔ اسی لیے افسانہ نگار جدید افسانے میں پرچھائیں کی نشان زدگی کے لیے بعض مرتبہ ’’ شعور کی رو‘‘ کا آزماتا ہے اور یوں کردار کی پرچھائیںکی نقاب کشائی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی طرح بعض اوقات وہ کردار کے اعمال و افعال سے اس دوسری ہستی کو ڈھونڈنے کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے اور بعض اوقات افسانے کے آغاز میں ہی اس دوسری ہستی کو مرکزی درجہ دیا جاتا ہے۔
افسانہ نگار بعض اوقات کردار کو بلاواسطہ اپنا موضوع بنا لیتا ہے اور کردار کے سحر میں ڈوب کر اس کی پرچھائیں نگاہوں سے اوجھل ہی رہتی ہے۔جدید اردو افسانہ میں باطن کے اظہار کے لیے نفسیات کے نئے اصولوں سے خصوصی فائدہ اٹھایا گیا۔ اسی لیے تلازمِ خیالات اور شعور کی رو سے جدید (علامتی و تجریدی) افسانہ مزیّن کیا گیا۔ ان دونوں کے اشتراک سے افسانہ میں مزید وسعت اور لچک پیدا ہوگئی۔ جدید افسانہ نے وقت کا جو تصور اپنایا وہ بہت حد تک داخلی ہے اسی وجہ سے جدید افسانہ، جدید مصوری اور آزاد نظم میں بہت مماثلت ہے۔ آزاد نظم کی مانند جدید افسانہ بھی فارم کی قید سے آزاد ہے۔
جدید افسانہ میں واقعہ یا کردار کی اہمیت ضرور ہے مگر اس کا معروضی یا ٹھوس وجود اہم نہیں ہے۔ چنانچہ وہ باطنی واردات کے لیے علامت اور تمثیل سے کام لینے کی کوشش کرتا ہے۔ افسانہ میں علامت کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ افسانہ نگار ہر نوع کی جزئیات سے حقیقت پر روشنی ڈالنے کے برعکس ایک علامت سے کسی صورتحال کی مختلف سطحوں کی ترجمانی کرتا ہے۔ یہ علامت روایت سے اخذ شدہ عام فہم بھی ہو سکتی ہے اور خود ساختہ وضع کردہ مبہم اشکال والی بھی۔ ادبی علامتیں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک تو ہمہ گیر اور آفاقی نوعیت کی جس کے مفاہیم عام طور پرمعلوم ہوتے ہیں، ایسی علامتیں قدیم دیوما لائی پرانی داستانوں، قصے کہانیوں، اساطیر اور مقدس صحائف سے ماخود ہوتی ہیں۔مصنف ان علامتوں کے مسلّم اور معلوم معنوں میں تبدیلی تو نہیںکرتا لیکن اس کے استعال اور تلازمہ کی مدد سے ایسی فضا ضرور پیدا کر دیتا ہے جس سے موضوع یا خیال کی وضاحت از خود ہو جاتی ہے۔ یہ علامتیں گہری معنویت کی حامل ہیں جس سے فکر کی نئی راہیں کھلتی ہیں، ابلاغ کے مؤثر وسیلے میسر آتے ہیں۔ ایسی علامتیں سادہ اور آسان فہم ہوتی ہیں کیونکہ قاری کا ذہن پہلے سے ہی داستان کے پس منظر سے آشنا ہوتا ہے۔
جب افسانہ نگار جانے پہچانے فکری سانچوں سے الگ علامتوں کی تشکیل کرتا ہے تو یہ علامتیں نجی یا ذاتی علامت کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں کیونکہ ان کے ساتھ کوئی ایسا تصور وابستہ نہیں ہے جو مصنف اور قاری کے درمیان اشتراک کا رشتہ قائم کر سکے۔علامتی افسانہ مصنف اور قاری دونوں کے لئے بعض مخصوص قسم کے نفسی تقاضوں کی تسکین یا پھر عدم تسکین کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ جدید افسانہ خارج سے داخل کی طرف مراجعت کر چکا ہے اور انسان کے داخلی کرب کو بہت سے لکھنے والوں نے اپنی تخلیق کا موضوع بنایا ہے۔ اردو افسانہ میں مختلف کرداروں کی ذہنی و قلبی کیفیات کو گرفت میں لینے کے لیے تجرید اور علامتی اسلوب کے رجحان نے فروغ پایا ہے۔ علامت اور تجرید کے سہارے جدیدافسانہ نگار موجودہ دور کے انسان کی کیفیات کو گرفت میں لینے کی کوشش کرتا ہے حالانکہ اس سے پہلے بھی علامت اور تجرید کو خارجی حقیقت نگاری کا ذریعہ بنایاگیا لیکن آج کا افسانہ علامتوں کے ذریعے انسانی سائیکی کی تہہ در تہہ گہرائیوں سے ایسے جوہر کی غواصی میں مبتلا ہے جو عصر حاضر کے زہریلے اثرات کو زائل کر سکیں۔ غرض جدید افسانہ ایک ایسا تجربہ ہے جس نے واقعہ، پلاٹ اور کردار کی چاردیواری میں نقب لگا کر احساس اور خود کلامی پر مبنی ساخت قائم کرکے ایک انوکھے انداز سے اردو کے افق کو مزید وسعت عطا کر دی ہے۔
آئیڈلزم کے چکنا چور ہو جانے اور مثالی دنیا کے خواب بکھر جانے کے سبب جدید دور کا فرد نہ صرف یاسیت کا شکار ہوا بلکہ عدم تحفظ اور پہچان کی تلاش نے اس کے ذہنی مسائل میں اضافہ کرکے اسے الجھا کے رکھ دیا ہے اور جدید افسانہ نے فرد کی اس کیفیت کی عکاسی بھرپور انداز میں بطریقِ احسن کی ہے۔
جدید افسانہ کا بنظرِ غائر جائزہ لینے کے بعد یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ جدید افسانہ درحقیقت قدیم و جدید کا ایسا امتزاج ہے جو ابھی پہلی منزل سے پوری طرح شناسائی حاصل نہیں کر سکا اور اپنی منزل کی آشنائی کے لیے سرگرداں بھی ہے اور جدید راستوں کی چھان پھٹک کرتے ہوئے جھنجھلا بھی رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ قدیم و جدید کی اس آویزش میں عہد کہنہ کے محافظ راستوں پر دورِ جدید کے چھاپہ ماروں کا غلبہ ہے۔ یادِ ماضی انسان کی جبلّت میں روزِ ازل سے موجود ہے۔ اسی لیے جدید اردو افسانے میں پرانی تہذیبی روایتوں کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے اور تصویر کشی بھی نمایاں ہے اور اس رجحان نے نئے افسانے کو داستانوی فضا سے نئے معنوں کے ساتھ ایک خوبصورت موڑ پر لاکھڑاکیا ہے۔
اردو افسانہ کی کرداری اور لفظیاتی جہتوں میں جو خوشگوار اضافہ ہوا ہے اس کی بنیادی وجہ علاقائی تقاضوں کی ترجمانی اور نمائندگی کے بھرپور تاثر کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ نئے افسانے میں شعور اور تحت الشعور کی رو کو بطورتکنیک استعمال کرکے حقائق تک رسائی حاصل کی جاتی ہے جس سے کردار کے مطالعے کے سلسلے شعور اور تحت الشعور تک پہنچنے کا رجحان روز افزوں ہوتا گیا جس سے جدید افسانہ انسانی نفسیات کے قریب تر ہو گیا۔
جدید افسانہ میں ذات کے اندر سفر کرنے کا عمل بہت نمایاں ہے۔ افسانہ نگار سماجی عوامل یا خارجی زندگی سے بالکل بے نیاز تو نہیں لیکن جدید افسانے کو باطن کا نمائندہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ عصرِحاضر میں اردو افسانہ میں علامت پسندی ، تجرید، تمثیل اور فکر و فلسفہ غالب ہے۔ اس کی فنی حیثیت کو افسانہ نگار تسلیم تو کرتا ہے لیکن افسانہ کو جمالیاتی حسن، تامل و فکر سے ہم آہنگ کرنے اور اس کی تخلیقی سطح کو جاندار شاعرانہ حسن دینے پر ضرورت سے زیادہ توجہ دیتا ہے جس کی وجہ سے افسانہ میں بعض اوقات الجھاؤ کی کیفیت ابھرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
ادب ہر دور میں اسی معاشرے کا عکاس ہوتا ہے جس میں ادیب سانس لیتا ہے۔جہاں اس کی فکر اورسوچ پروان چڑھتی ہے ۔ فرق صرف یہ ہے کہ ہر شخص کا زاویہ نگاہ مختلف ہوتا ہے۔وہی ادب دیرپا ثابت ہوتا ہے جس میں علامت کی خوبصورت تخلیق ہو، استعارہ کی قدرت ہو لیکن آج کا افسانہ پرانے علامتی رویوں سے بہت مختلف ہے۔ جدید افسانہ کی علامتیں اور استعارے اتنے طویل ، گہرے، تجریدی، مبہم اور پیچیدہ ہیں کہ ان کی تہہ تک پہنچنا کارِ دارد ہے۔ جدید افسانہ نگار کا مشاہدہ بڑا گھمبیر تأثر دیتا ہے کیونکہ وہ اپنے مشاہدے یا تجربے کو سادہ استعار ے میں بیان نہیں کرتا بلکہ باطن کی پرآشوب دنیا میں غوطہ زن ہو کرلفظی پیکر میں ڈھالتا ہے۔ یوں زندگی کے مختلف رنگ ایک دوسرے میں گھل مل کر الجھاؤ کی کیفیت بن جاتے ہیں۔ تہذیبی زندگی کے مختلف رشتے باطنی کیفیت کو تصویر کشی سے باہم ٹوٹتے بکھرتے، الجھتے اور جال بنتے دکھائی دیتے ہیں۔ جدید افسانہ نگاروں کو آزاد فضا تو ضرور میسر آئی لیکن یہ سب نظر کا دھوکہ تھا، یہ نام نہاد آزادی جب طبیعت پہ گراں گرزی تو ان کو حقیقی آزادی کی طلب ہوئی، ایسی آزادی جس میں وہ اپنی جرأتِ اظہار کو عمل میں لا سکیں۔ بلا جھجھک اپنے خیالات کا برملا اظہار کر سکیں ایسی آزادی کو بغاوت کا نام بھی دیا جا سکتا ہے اور جرم و نفرت سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ نئی نسل بہر حال اس کی مرتکب اور اقراری ہے کیونکہ خوف کی چار دیواری میں پروان چڑھنے والے جذبے اپنے اظہاری رویّوں کو علامت، تجرید، تمثیل اور خوابوں میں ڈھال دیتے ہیں۔ بے شک ان کے یہ جذبے ناروا، بے معنی اور مبہم ہی کیوں نہ ہوں لیکن عصری زندگی کے تناظر میں ان کی اہمیت کم نہیں ہے۔ عین ممکن ہے آج جس جدید افسانے کو تجریدی ، علامتی اور مہمل کہا جا رہا ہے وہ معنویت اور امن و آشتی کی راہ ہو کیونکہ ماضی کی بہت سی مثالیں ایسی ہیں جس میں بظاہر خوش آئند نظر نہ آنے والا رویہ مستقبل میں بہت مثبت نتائج کا حامل ثابت ہو جائے۔
اپنی مختلف خوبیوں کے ساتھ ساتھ جدید افسانہ میں کچھ فنی خامیاں بھی ہیں جیسے کہانی پن کا پہلو دب جانے سے عام قاری اور ادیب کے درمیان خلا نمو دار ہو گیا۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے قاری اور افسانہ نگار کے درمیان ذہنی مطابقت اور ہم آہنگی ہونی چاہئیے چونکہ عموماً جدید افسانہ پلاٹ یاکردار کی ہو بہو عکاسی نہیں کرتا بلکہ کردار کے خیال،سوچ ، جذبے اور احساس کے بل بوتے پر افسانے کا جال بنتا ہے اور کردار کے باطن کو زیادہ اہمیت نہیں دیتا اس لیے بعض اوقات افسانہ عام فہم محسوس نہیں ہوتا۔
ہیئت اور تکنیک کے معاملے میں جدید افسانہ نئے تجربات کا حامل ہے۔ بعض اوقات افسانہ نگار کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے ابلاغی دشواریاں درپیش ہو جاتی ہیں۔ جدید افسانہ میں وحدتِ تاثیر مجروح ہونے کی بنیادی وجہ تجریدی خیالات ، محسوسات اور کیفیات پر افسانہ کی بنا رکھا جانا ہے۔ ا س وجہ سے بعض اوقات جدید افسانہ کا عام قاری اس داخلی سطح یا معنویت کو سمجھنے سے قاصررہتا ہے۔
جدید اردو افسانے نے سیاسی، معاشی، معاشرتی، جنسی اور نفسیاتی زاویوں کو بالکل نئے پیراہن عطا کر دئیے ہیں۔جدید افسانہ فرد کی فکری ، جذباتی اور حساساتی زندگی کے ساتھ داخلی کشمکش ، انتشار، مشینی ماحول کی پیدا کردہ یکسانیت، افسردگی اور تنہائی کو موضوعِ سخن بناتا ہے۔ بڑے فنکارانہ طریقے سے جدید افسانے نے انسانی سائیکی کو متصور کیا ہے۔ غیر شعوری طور پر ذہن میں پرورش پانے والے پر آشوب احساسات کو منظرِ عام پر لانے کا سہرا جدید افسانہ نگار کے سر ہے۔
جدید افسانہ نئے ذہن کا آئینہ دار ہے اسی لیے تو اپنے علامتی ، رمزی، تمثیلی، تجریدی اور استعاراتی ابعاد کی وساطت سے جدید دور میںHuman Situationکا ادراک حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوا ہے۔جدید افسانہ انسانی فنسیات کی عمیق گہرائیوں کو منظرِ عام پر لانے کا کام بہ احسن و خوبی کرتا ہے۔
حوالہ جات
۱۔ دیوندراسر، ادب، ماکس اور مارکسیت، ادبِ لطیف، لاہور، ۱۹۵۶ء جلد ۳۶،شمارہ۲۰،ص۹
۲۔ وزیرآغا ڈاکٹر، دائرے اور لکیریں، لاہور، مکتبہ خیال،۱۹۸۶ء ص ۱۴۳ تا۱۴۵
۳۔ سلیم آغا قزلباش، جدید اردو افسانے کے رجحانات، انجمنِ ترقیٔ اردو،۲۰۰۰، ص۴۶۴
۴۔ غلام حسین اظہر، سوال یہ ہے، اوراق، ستمبراکتوبر۱۹۷۳ئ، لاہور، ص۱۰-۱۱
۵۔ شہزاد منظر، جدید اردو افسانہ، منظر پبلی کیشنز، کراچی،۱۹۸۲ء ص ۴۹