رمز حیات کا شاعر صباؔ اکبر آبادی: پروفیسر عبدالقادر فاروقی ۔ امریکہ

شاعری انسانی زندگی کی وہ رمز حیات ہے جس کے دامن میں زندگی کے اندھیرے، اجالے ، نشیب و فراز ، غم و خوشی، جنم لے کر لذت درد و کرب کا احساس پیداکرتے ہیں۔ اور یہی لذت درد و کرب شاعر کا نغمہ بن جاتا ہے جس میں ہمیں سحر کی بے تاب شادابی جو اندھیروں میں جنم لی ہمیں نئی زندگی کی خوشی و شادمانی کا پیغام دیتی ہے اور کبھی شام کی مایوسی جس کو دوپہر کی تمازت نے جنم دیا زندگی کو غمگین اور بے رونق کردیتی ہے۔ خواجہ محمد امیر صبا اکبر آبادی کے کلام میں جہاں زندگی کی بے تابی ملتی ہے وہاں غم زندگی کا درد و کرب بھی ملتا ہے۔

رقص کرتی ہے موج طوفاں میں
زیست جو غرق جام ہوتی ہے

ہو وجود اپنا چراغ شب خلوت کی طرح
عارضی شمع سے ہم گھر میں اجالا نہ کریں

صبح تک ختم ہوہی جائے گا
زندگی رات بھر کا قصہ ہے

اجل سے تلخ سہی زندگی، صبا! لیکن
ہر ایک دل میں ہے کچھ خواہش حیات ابھی

وہ دن قریب ہیں جب کچھ کہیں نہ ہوگا ، صبا!
زمیں کے پاس یا قدموں پہ آسماں ہے ابھی

اردو شاعری خاص کر غزل کے حسن اور اس کی خوبصورتی میں نہ صرف رفاقت و رقابت ہی نہیں بلکہ زندگی کی کشمکش بھی پوشیدہ ہے۔ جس سے اردو غزل جہاں حسن و عشق کی پرواز رکھتی ہے وہاں زمین کے نقش قدم کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ شاعر جو ایک انسان ہوتا ہے جو زندگی کے زنداں میں رہ کر ہمیشہ آزاد رہا ہے۔ جس کے یہاں حقیقت کے دامن میں تصور کی یہ راز ملتی ہے، قصہ حسن و عشق میں زندگی کی کشمکش کے رنگوں سے غزل کی خوبصورت اور حسین بناتا ہے۔
صبا اکبر آبادی کی غزلیں بھی وہ حسن و خوبصورتی کا مجسمہ ہیں جس کے باطن میں زندگی کے شب افروز بھی ہے اور شب غم بھی ہے۔ جس کو صبا اکبر آبادی نے پر اثر انداز میں افشاں کردیا ہے۔ ان کی غزلوں میں حسن و عشق کی ہلچل بھی ہے اور دل کی دھڑکنوں میں بسی ہوئی زندگی بھی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔

حیات و موت دو پہلو ہیں اس کی خوش نگاہی کے
اجل کا کیوں سہارا ڈھونڈتی ہے زندگی میری

خاک و خوں عشق کی منزل نہیں، اے وحشتِ دل
اور آگے کہیں جانا ہے بیاباں سے ہمیں

غم و آلام کی ہے کیسی کہانی دنیا
جاگنا چاہیے اس خواب پریشاں سے ہمیں

رہائی کی امید اس قید غم سے جیتے جی کیا ہے
فریب زندگی ہے یہ قفس کی زندگی کیا ہے

ہر لمحہ زندگی میں وہ مرتے رہے، صبا!
رنگِ حیات جن کے دلوں میں فزوں نہ تھا

میرے لیے ، صبا! مرے زنداں کی حد نہیں
آزاد ہو کے میں تو جہاں بھر میں قید ہوں

حسن کے ہی وجہ سے عشق بیدار ہوتا ہے او ر عشق کے جذبات اور اس کی بیداری ہی حسن کو اور بھی حسین بناتا ہے۔ جس سے محبوب کے حسن کی بے تابی اور تابناکی کی دھڑکن بن کر عاشق او ر معشوق میں بے چینی اور اضطراب پیدا کرتے ہیں۔
صبا اکبر آبادی کی غزلوں میں وہ دھڑکن سنائی دیتی ہے جس میں عشق ہے چین اور بے قرار ہو کر یہ کہتا ہے

وہ موج گل سہی پھر صورت آتش اثر کیا ہے
لگا کر آگ دل میں جو بجھادے وہ نظر کیا ہے
جس نے دیکھیں رہ گزار دوست کی تابانیاں
ذرّہ پا کے راہ میں شمس و قمر بھی کھو گئے

تجھ سے بچ کر کون نکلا ہے طلسم آرزو
بے بصر بھی گم ہوگئے اہل نظر بھی کھو گئے

طاقت دیدار ظاہر اور آنکھوں کو یہ شوق
بس تمہیں دیکھا کریں ، دیکھاں کریں، دیکھا کریں

دیکھا ہے اس نظر میں اثر التفات کا
اس وقت دل دھڑکن نہ اٹھے کائنات کا

محبوب کا انتظار بھی وہ لذتِ عشق کی تڑپ ہے جب محبوب کے انتظار میں اس کے وصل کی آرزو اور تمنا میں ہر ایک پل اور لمحہ بے قرار بن جاتا ہے اور یہی بے قراری اس کی زندگی کو بے رنگ اور بے سکون بنا ڈالتی ہے۔ اور یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کی زندگی ریت کا صحرا بن چکی ہے جس میں وہ پھنستا ہوا جارہا ہے اور نہ ہی اسے زندگی کا رخ نظر آتا ہے اورجب اسی ریت کے صحرا میں آہٹ کی ایک ہلکی سی آواز ہی زندگی کا رخ بدل دیتی ہے اور یہ آہٹ ہی اس کی دھڑکنیں بن جاتی ہیں۔

جب تک تمہارے قدموں کی آہٹ نہیں سنیں
معلوم اس مکاں میں نہ ہوں گے مکیں سے ہم

پھر کس کا ہے انتظار، صبا!
بے قراری سی بے قراری ہے

بسا اوقات راتیں انتظار دوست میں گزریں
امیدوں کے کفن میں کام آرہا چاندنی اکثر

شام غم یہ کس کے قدموں کی صبا! آہٹ ہوئی
دل میں گونجے ہیں ترانے اک نئی آواز کے

اے زندگی کا جبر کہ زندہ ہیں اس کے بعد
جس کے بغیر سانس بھی لینا عذاب تھا

غم فرقت کی بھی عجیب کیفیت ہوتی ہے یہی غم تنہائی کا ساتھی بن کر زندگی کو عذاب کی کیفیت میں مبتلا کردیتا ہے۔ اور اس غم کی چبھن سے ہر ایک آنسو تمازت غم لیے ہوتے ہوے ہیں۔ اور ہر ایک آنسو کا قطرہ اپنی زباں کہے اٹھتا ہے

اب قصہ تنہائی سنا دیتے ہیں آنسو
اب کانپتے ہونٹوں میں بھی آواز کہاں ہے

ساری دنیا دیکھتی ا ے میری تنہائی کا رنگ
ایک خلوت غم کی تھی جس کو تماشا کردیا

اک شبِ فرقت میںآخر دو اجالے کیسے ہوں
وقت آیا شمع جلنے کا، بجھا جاتا ہے دل

فرقت میں جو عالم تھا، بیاں ہو نہیں سکتا
تو دیکھ سکے مجھ سے اگر ہو کے جدا دیکھ

اشکباری نہیں فرقت میں شررباری ہے
آنکھ میں خون کا قطرہ ہے کہ چنگاری ہے

صبااکبر آبادی کے کلام میں وہ زندگی کی حقیقیتں بھی ملتی ہیں جو ہر انسان ان حقیقتوں کے راستوں پہ سفر کرتا ہے۔ ماضی کے قدموں کو ناپا تو جاسکتا ہے مگر ہر اٹھنے والا قدم کونسا پیغام دے گا خود انسان اس سے ناواقف رہتا ہے۔ ہر انسان اپنے دور کا مسافر ہوا ہے۔ اور یہی مسافر اپنی کہانیوں کو اسی روپ اور رنگ میں پیش کرتا ہے جس سے وہ گزر گیا ہے۔ زندگی محدود اور لامحدود کا مجموعہ ہے اور یہ سچائی ہمیں صبا اکبر آبادی کے یہاں ملتی ہے۔

نمودِ غیب کو عین شہود کہتے ہیں
کہانیوں میں ڈھلی ہیں حقیقتیں کیا کیا

دائروں میں جو بٹ گیا ہوں میں
اپنے مرکز سے ہٹ گیا ہوں میں

جب کسی سے پیش قدمی ظلم کی رکتی نہ ہو
اس جگہ لازم ہے خود سینہ سپر ہوجائیے

اس طرح لڑتے ہیں دنیا میں یہ دنیا والے
جیسے دنیا کو ضرورت نہیں انسانوں کی

آشیاں میں تھے تو کتنی مختصر تھی کائنات
قید ہو کر حوصلے بڑھنے لگے پرواز کے

جلوئوں کی کمی منزل ہستی میں نہیں ہے
اک خواب یقیں چاہیے ہر صبح حسین ہے

ہر نفس زیست گزر جانے کا غم طاری ہے
موت کا خوف بھی اک روح کی بیماری ہے

خودی ہر انسان میں ہوتی ہے۔ خود کی شناخت ہی خودی بن جاتی ہے۔ اور یہی خود کی پہچان ہے نہ صرف منزل کی کامیابی اور کامرانی کا ذریعہ بن جاتی ہے بلکہ وہ کائنات میں اپنا ایک اہم مقام پاتا ہے۔ صبا اکبر آبادی نے خودی کی وضاحت میں اس اہمیت پر زور دیا ہے کہ خودی انسان کا ایک وہ کردار ہے جس پر اس کا عمل ہی اس کی کامیابی کا ضامن بن جاتا ہے۔ خودی اور بے خودی یعنی انسان خودی میں بے خود ہوجاتا ہے توپھر ایک ایسی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس سے خود اس کی اپنی راہ متعین ہوجاتی ہے۔ جو بیان کے باہر ہوجاتی ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔

یہ مشت خاک اک دن پھول بن جائے گی دنیا میں
خودی بن جائے گی کروٹ بدل کر بے خودی میری

خودی، بے خودی کا سہارا نہ ہوگی
خودی بھی تو اپنی جگہ بے خودی ہے

جو خون گرم نہ کام آئے جاں نثاروں کا
چراغ جل نہیں سکتے تھے ان کی محفل کے

صبا کو اس کی خود داری پہ تم باغی نہ کہہ دینا
تمہارے سامنے جھکتا ہے دل سرخم نہیں ہوتا

مل گئیں خاک میں لاشیں انہیں نادانوں کی
راہ ساحل پہ جو دیکھا کیسے طوفانوں کی

آج تک منجھدار کو ساحل سے ہم دیکھا کیے
اب ذرا منجدھار سے نظارہِ ساحل سہی

خواجہ محمد امیر صبا اکبر آبادی کا کلام رومانیت کے ساتھ ساتھ سوز زندگی کی آواز ہے۔ اور یہ انکشافات بھی کیا ہے کہ ہر دور اور ہر زمانہ اپنی شناخت خود کرتا ہے۔ جس سے جو احساسات پیدا ہوتے ہیں وہی الفاظ بن جاتے ہیں۔ خزاں ہوں یا بہار یہ سلسلہ تو جاری رہے گا ختم ہونے والا نہیں۔

چار دن میں خاک سی اڑنے لگی گی جب، صبا!
یہ بہاریں گم نہیں ہوں گی خزاں ہونے کے بعد

یہ انقلاب دہر بھی دیکھا ہے، اے صبا!
جو پھول باغ میں تھے وہ اک قبر پہ ملے

اک مصرع بھی جو زندہ رہے کافی ہے، صبا!
میرے ہر شعر کی شہرت ہو ضروری تو نہیں