نا اتفاقی کے فائدے : خورشید احمد عون ۔ ہری پور، پاکستان

کیا آپ کا دل تسلیم کرتا ہے کہ اتفاق میں برکت ہوتی ہے بجاہے کہ پوری قوم مل جل کر کسی پر ٹوٹ پڑے تو اُسے ختم کر دیتی ہے مگر اس سے برکت نہیں بحران پیدا ہوتا ہے۔ آٹے اور چینی کا بحران بھی قوم کے اس اتفاق سے پیدا ہوتا ہے۔ یعنی ہماری قوم نے اس پر اتفاق کیا ہوا ہے کہ آٹا اور چینی ہر قیمت اور ہر صورت میں کھانا ہے۔
’’اتفاق میں برکت ہے‘‘ کے تحت ہمیں جتنی بھی کہانیاں پڑھائی گئیں ان کے منفی پہلوئوں پر ہماری توجہ ’’مولابخش‘‘نے مبذول نہیں ہونے دی۔ اساتذہ ہمیں پہلے ہی خبردار کر دیتے تھے کہ آج ہم جو کہانی پڑھنے جا رہے ہیں اس کا نتیجہ ’’اتفاق میں برکت ہے‘‘ ہی نکالنا ہے اور یاد کرنا ہے پرچے میں آسکتا ہے۔ اساتذہ سے اختلاف کی گنجائش تقریباََ نہ ہونے کے برابرتھی۔ کیونکہ ہم میں جرات اور جمہوریت کی کمی پائی جاتی تھی۔ مگر آج ہم آزاد ہیں اور ان کہانیوں کا تجزیہ کر کے بتاتے ہیں کہ ’’اتفاق‘‘ کے کتنے سائیڈ ایفیکٹس ہیں جو ہمیشہ ہم سے پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔
سب سے پہلے بوڑھے کسان اور اس کے نافرمان بیٹوں کی کہانی لیں ۔ اس پر سب سے بڑا اعتراض تو یہ ہے کہ اگر اس کسان کے بیٹے نافرمان اور جھگڑالو تھے تو اپنے والد محترم کے کہنے پر کیوں فوراََ لکڑیوں کا گٹھا اُٹھا لائے۔ اُن کی حکم عدولی کی صفت کہاںمر گئی تھی۔ کتنی عجیب بات ہے کہ والد صاحب اُنہیں اتحاد و اتفاق کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے رہے مگر وہ نہ مانے لیکن جب لکڑیوں کا گٹھا لانے کو کہا تو فوراََ لے آئے۔
پھر جب کسان نے باری باری اُنہیں گٹھا توڑنے کو کہا اور وہ ناکام ہوگئے تو معلوم ہے کیا ہوا؟ اُس دن گھر میں کھانا نہ پک سکا کہانی کا دوسرا حصہ جس میں کسان نے بیٹوں کو ایک ایک لکڑی توڑنے کو دی دراصل دوسرے دن شروع ہونا چاہیے تھا۔ اُسی وقت یہ حکم دینے کی کوئی تُک نہیں بنتی۔ کسی بھی باپ کے نافرمان بیٹے تھکن جھنجھلا ہٹ اور خفت میں اپنے باپ کے سر کے سوا کوئی اور چیز توڑنے پر آمادہ نہیں ہوسکتے۔ یقینا دوسرے دن ہی کسان نے منت سماجت کر کے اُنہیں ایک ایک لکڑی توڑنے پر راضی کیا ہوگا۔ آخر برکت ولا نتیجہ بھی نکالنا تھا۔ ساتھ کھانا بھی پکوانا تھا۔
اب کہانی نمبر 2پر غور کریں جس میں بتایا گیا ہے کہ کسی جنگل میں دو بیل بڑے اتفاق سے رہتے تھے۔ جنگل کے تمام جانور اُن سے بہت ڈرتے تھے۔ آپ خود بتائیں کسی کو ڈرانا دہشت پھیلانا کوئی اچھی بات ہے۔ ایک اتفاق کی مو ہوم برکت سکھاتے سکھاتے ان کہانیوں کے ذریعے دہشت گردوں اور بھتا خوروں کے گروہوں کی تربیت بھی کی جار ہی ہے۔ وہ تو بھلا ہو لومڑی کا جس نے اپنی ذہانت اور سیاسی تدبیر سے دونوں میں پھوٹ ڈلوا دی۔ ورنہ یہ ظالم تو پورے جنگل کے جانوروں کو ڈرا دھمکا کر شہروں کی طرف بھگا دیتے اور اُن کی جائیدادوں پر قبضہ کر لیتے۔
صرف آٹے کا بحران ہی نہیں اتفاق سے اور کئی مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ نیک و بد میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ کو معلوم نہیں مگر ہم بتاتے ہیں کہ جب لوگ مل جل کر رہتے ہیں تو ایک دوسرے کے عیبوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح عیب داروں کی خامیاں سامنے نہ آسکنے کی وجہ سے سچ تک رسائی ناممکن ہو جاتی ہے۔
جب لوگوں کی اصلیت واضح نہیں ہوگی تو آپ اُن کے متعلق صائب رائے کیسے قائم کر سکیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اتحادو اتفاق رکھنے والے معاشروں میں گلی گلی راہنما نہیںپائے جاتے ۔ وہاں بڑے بوڑھے بچوں کو بات بات پرٹوک کر اُن کی اصلاح نہیں کرتے۔ جبکہ نااتفاقی کے ثمرات چکھنے والے معاشروں میں بآسانی پتا چل جاتا ہے کہ پانی میں کتنا دودھ ہے۔ آپ کسی بھی شخص کے متعلق تمام خفیہ معلومات پڑوسیوں سے بلامعاوضہ حاصل کر سکتے ہیں۔
مل جل کر کام کرنے سے کام چور اور محنتی افراد میں امتیاز کرنا بھی مشکل ہو جاتاہے کیونکہ اس طرح کیے گئے کاموں سے جو برکت حاصل ہوتی ہے وہ برابر تقسیم ہو جاتی ہے۔ بلکہ ہمارے ہاں یہ برکت نکموں کو زیادہ ملتی ہے۔ میرا دوست کہتا ہے کہ ہم سب مل کر پراجیکٹ تکمیل کو پہنچاتے ہیں مگر تنخواہ سب سے زیادہ باس کو ملتی ہے۔ خود اُس نے اپنی یہ عادت بنا رکھی ہے کہ باس کے آگے سے گزرتا ہے نہ پیچھے سے۔ اتنا زیادہ ا حترام کرنے کی وجہ پوچھی توکہنے لگا … میں نے کسی سے سنا ہے کہ باس کے آگے سے اورد ولتّی جھاڑنے والے جانور کے پیچھے سے نہیں گزرنا چاہیے۔ دونوں صورتوں میں نقصان پہنچ سکتا ہے۔
نقصان سے یاد آیا کہ اتفاق سے کام کرنے میں یہ نقصان بھی ہے کہ دوسروں کے کرتوت آپ کے کھاتے میں پڑ سکتے ہیں۔ ویسے یہ بات فائدہ مند بھی ہوسکتی ہے اگر آپ اپنے کرتوت دوسروں کے کھاتے میں ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو۔ تاہم اس کے لیے آپ کو بہت وقت درکار ہے آپ اتنی جلدی کسی دفتر میں بڑے افسر نہیں بن سکتے۔
یاد رکھیے گھل مل کر رہنے سے آپ اپنی انفرادیت کھو سکتے ہیں۔ ایک امام یا عالم جو نہایت سخت محنت اور مطالعے کے بعد اپنی خودی بلند کرتا ہے تو وہ محض ملت میں اتفاق و اتحاد قائم کرنے کی خاطر اُسے گم نہیں کر سکتا۔ اُسے نمایاں ہونے کے لیے دوسروں سے الگ حیثیت اور مقام رکھنا پڑے گا۔ غالباََ یہی وجہ تھی کہ ایک ہی دور میں پیدا ہونے اور وفات پانے والے مختلف ائمہحضرات نے اپنی بصیرت اور تحقیق سے ایک ہی دین میں مختلف فقے نکال کر خود کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیاخدانخواستہ وہ کسی ایک مسلک یا فقے پر اکھٹے ہو جاتے تو آج اُن کی کوئی پہچان ہوتی نہ دینی مسائل میں اتنی ورائٹی۔ جمود اور یکسانیت پیدا ہوجاتی۔ اور صدشکر کہ آنے والی نسلیں خواہ وہ کتنی ہی مادہ پرست یا گمراہ ہو جائیں اتنی احسان فراموش نہیں کہ اپنے پچھلوںکے دیئے گے اختلافات بھول کر کسی اور بے راہ روی کا شکا ر ہو جائیں۔
ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ اتفاق کے ساتھ رہنے والوں کو نظر لگ جاتی ہے۔ اگر نہ لگے تو نااتفاقی کا دھڑکا ضرور لگا رہتا ہے۔ ہر وقت دعا کی جاتی ہے۔
اے اللہ ہمارا اتحاد قائم رکھ۔
ایک دوسرے کی فکر کھائے جاتی ہے۔ اپنا خیال کوئی نہیں رکھتا ۔ جو لوگ اپنا خیال نہیں رکھتے بیمار پڑ جاتے ہیں۔ فضا میں عجیب سکوت طاری رہتاہے۔ زندگی بور بور سی لگنے لگتی ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ ایک شخص کہے اورباقی سنیںاتنا قحط الرجال ہو کہ ایک ہی راہنما سے کام لیا جائے ۔ پورے ملک میں صرف ایک قوم پائی جاتی ہو۔ خدانخواستہ ہم چین یا جاپان چلے جائیں تو ہمارا دم گھٹ جائے ایک جیسی ناکیں ہی نہیں ظالموں کا طرز زندگی بھی ایک جیسا ہے۔ لوگ کہتے ہیں اُنہوں نے ترقی کی ہے جبکہ ہمارے ذہن کے مطابق وہ جیسے تھے اب بھی ویسے ہی ہیں۔ یعنی وہ پہلے بھی چینی اور جاپانی تھے آج بھی چینی اور جاپانی ہیں۔ نہ کوئی صوبائی پہچان نہ حمیت۔ اتنا عرصہ گذار ا ایک ملک سے دوسرا ملک نکالا نہ نئے صوبے بنانے کی تحریکیں چلائیں۔ بس کھلونے اور مشینیں بنانے میں لگے رہتے ہیں اللہ کرے یہ دونوں مسلماں ہو جائیں پھر دیکھتے ہیں…
مختلف قوموں کی تاریخ پڑھاتے وقت بھی عموماً ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اتحاد و اتفاق سے قائم رہتی ہیں۔ لیکن یہ کیسے وجود میں آتی ہیں ؟یہ بات اکثر نہیں بتائی جاتی۔ اگر آپ اساتذہ سے پڑھنے کی بجائے خود پڑھیں تو معلوم ہوگاکہ نئے نئے ملک اور قومیں صرف نااتفاقی کی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔ خود سوچیے اگر نااتفاقی جیسی نعمت نہ ہوتی اور آدم ؑ سے لے کر آج تک ہم سب ایک قوم ہی ہوتے یا ایک ہی ملک میں پائے جاتے تو ملک کی خارجہ پالیسی کیسے تشکیل پاتی۔ غیر ملکی امداد کا تو تصور پیدا نہ ہوتا اور ہماری ترقی رک جاتی۔
دُنیا کی قوموں میں اختلافات کو فروغ دینے کے لیے اپنی تہذیب اور سرمایہ استعمال کرنے والی بڑی طاقت کی تاریخ دیکھیں یہ نہ صرف نااتفاقی اور کشمکش سے معرض وجود میں آئی ہے بلکہ اس کی ترقی کا راز بھی فساد پھیلانے میں مضمر ہے۔ جب ہسپانیہ انگلستان اور فرانس نے موجودہ ریاست ہائے امریکہ میں اپنی نو آبادی قائم کیں تو ان کے درمیان پھوٹ پڑگئی۔ نو آبادیوں اور آبائی باشندوں کے درمیان خانہ جنگی ہوئی جس کے نتیجے میں تیرہ ریاستیں آزاد ہوگئیںاور آج ہم مزے کر رہے ہیں۔
ویسے مغربی تہذیب کے تمام عناصر ( زبان، رہن سہن، جمہوریت، کرنسی) میں یہ خوبی ہے کہ جہاں جاتے ہیں امتیاز پیدا کرتے ہیں۔ جاہل گنوار اور مہذب و شائستہ میں فرق واضح کرتے ہیں۔ یقین جانیے جن ممالک میں انگریزی صحیح طریقے سے داخل نہیں ہو سکی۔وہاں کے عام لوگ تو کیا حکمران تک اتنے ان پڑھ ہیں کہ غیر ملکیوں کے سامنے شرع آرزو کے لیے مترجم کا سہارا لیتے ہیں۔ مغربی جمہوریت کا تو مفہوم ہی یہی ہے کہ اپنی رائے کا اظہار کیا جائے اور دوسرے کی رائے سے اختلاف۔
ہم کہہ رہے تھے کہ اکثر ملکو ں نے نااتفاقی سے جنم لیا۔ قیام پاکستان بھی ہندو مسلم اتحاد کے ٹوٹنے سے ہی ممکن ہوا۔ اور اب لوگ استحکام پاکستان بھی صوبائی اور لسانی اختلافات میں ڈھونڈ رہے ہیں۔