سائبر غزل : شاہد جمیل ۔ پٹنہ، بہار، انڈیا

ہزاروں سائٹیں ایسی کہ ہر سائٹ پہ دم نکلے
نہ پوچھو کس طرح پھر سائبر کیفے سے ہم نکلے

سب عاشق تھک گئے اَپ لوڈ کر کے اپنی سائٹ پر
وصال یار کی سی ڈی میں سو سو پیچ و خم نکلے

وہاں اب ہر طرف کمپیوٹروں کے چوہے پھرتے ہیں
مرے لکھنے کے کمرے سے سبھی کاغذ قلم نکلے

عدو کا پاس ورڈ، اُف کس بلا کا پیرہن نکلا
غضب کی جلوہ آرائی میں شیشیے کے صنم نکلے

ہمیں سائٹ نوردی کو تو گوگل جام جم ٹھہرا
جہاں بینی کو اب کیونکر یہ کمرے سے قدم نکلے

قیامت خیز چیٹنگ میں ہلاکت خیز ہیکنگ تھی
سو اپنی پاس بُک میں ڈھیر سے اعداد کم نکلے

بلاگنگ کی قسم بدقسمتی کیا وائرس نکلی
خوشی کی ڈائون لوڈنگ کی الم کے زیرو بَم نکلے

رقیب یار کی ٹیوننگ کہاں چل کر کہاں پہونچی
برآمد جنک میلوں میں ،مرکب پیچ و خم نکلے

خوشا، اے وادیء سرفنگ، بہ چشم شاہدؔ حیراں
ہمارے بائی فوکل میں ، غضب کے زیر و بَم نکلے