نظم : تری آنکھیں: شہناز نبی ۔ کولکاتا، انڈیا

تری آنکھوں کے بجھنے سے
بڑی دہشت ہوئی مجھ کو
اجالے میرے حصے کے
تری آنکھوں میں رکھے تھے
امیدیں، آرزوئیں ، خواب
اب کچھ بھی نہیں میرے
میں ہر موسم میں کہتی ہوں
ّذرا سا رنگ دے جانا
ستاروں سے چمک مانگی
بہت سی روشنی لی مہر و مہہ سے
پھول سے خوشبو
مگر گوندھوں انہیں کیسے
کسی بھی آنکھ میں پانی کا اک قطرہ نہیں ملتا