نظم : اب رہنے دو: جاوید احمد ۔ کہوٹہ، پاکستان

کچی دھوپ میں بہتے ہوئے دریا کا ساتھ
اب اور نہیں
اب رات ہوئی
اک چھپی ہوئی دنیا میں مجھ کو جانے دو
اب کوئی سحر منظور نہیں
اب خاموشی کے سائے مجھ پر رہنے دو
اب کوئی بات نہیں ہوگی
مجھے تاریکی کے ان دھاروں میں بہنے دو
اب رہنے دو