متروک نسلیں : صدف اقبال ۔ گیا، بہار، انڈیا
        میں ایک ہیجڑہ ہوں پیدائشی ہیجڑہ۔جانے خدا نے ہماری یہ تیسری صنف کیوں بنائی ہے۔
کیا مقصد ہے اس کا۔شاید اپنی دل لگی کا سامان کیا ہوگا۔ 
مجھے کس نے پیدا کیا میرے والدین کون ہیں یہ تو نہیں معلوم پر مجھے بھی میری ماں نے نو ماہ اپنے پیٹ میں رکھا ہوگا۔میرا بھی کوئی باپ ہوگا جس نے میری پیدائش کے دن گنے ہوںگے۔میں یونہی تصور کرتا ہوں کہ میری پیدائش پر کیا ہوا ہوگا۔
شاید جب میں پیدا ہوا ہوںگا تو دایہ نے میری جنس کی شناخت کے لئے تجسس کے ساتھ میرے ناف کے نیچے نظر ڈالی ہوگی۔اور چیخ پڑی ہوگی۔
’’بیگم صاحبہ آپ نے ہیجڑہ جنا ہے‘‘۔
ماں نے شرمندہ  ہو کر آنچل میں یوں منہ چھپایا ہوگا جیسے مجھے پیدا کرنے میں سراسر قصوراسی کا ہو۔نہ میری پیدائش پر خوشیاں منائی گئی ہوںگی اور نہ مٹھائی بانٹی گئی ہوگی۔عام رواج ہے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہیجڑوں کی ٹولی کو بلا کر ڈھول بجوایا جاتا ہے۔ان سے ناچ گانا کرایا جاتا ہے۔پیسے اور کپڑے دئے جاتے ہیں۔شاید میری پیدائش پر بھی ہیجڑوں کی ٹولی کو بلوایا گیا ہوگا اور انہیں پیسے اور کپڑے کے بجائے مجھے ہی دے دیا گیا ہوگا۔پھر میں سوچتا ہوں نہیں ایسا نہیں ہوا ہوگا۔کوئی ماں باپ اتنے ظالم نہیں ہوتے کہ اپنی اولاد یوں کسی کو دے دیں چاہے وہ ہیجڑہ ہی کیوں نہ ہو۔پھر میں ان ہیجڑوں کے درمیان کیسے آیا۔شاید میں گناہ کی پیدا وار ہوںگا ۔مجھے کوڑے پر پھینک دیا گیا ہوگااور اتفاقاً مجھے ایک ہیجڑے نے ہی اُٹھایا ہوگا۔پتہ نہیں حقیقت کیا تھی مگر سچ یہ تھا کہ میں ایک ہیجڑے کی گود میں پلا تھا۔رانی ہی میرا سر پرست تھا۔میں کون تھا ؟ کہاں سے آیا تھا ؟میرے سوالوں پر وہ چپ سادھ لیتا۔شاید اس کے پاس میرے سوالوں کا شافی جواب نہیں تھا۔میںنے ہوش سنبھالتے ہی اپنے ارد گرد ایک منفرد دنیا دیکھی۔تالیاں پیٹتے،گالیاں دیتے،گاتے بجاتے،ناچتے ہیجڑے۔جسم فروشی کے دلدل میں اترے ہوئے ہیجڑے۔شراب پی کرنشے میں دھت ادھر ادھر لڑھکے ہوئے ہیجڑے۔
میرا ننھا سا دل سہما رہتا۔یہ دنیا مجھے اجنبی سی لگتی۔پرائی لگتی۔یہ اطراف میں بکھرے ہیجڑے بڑے غیر مانوس لگتے۔میں کچھ بڑا ہوا تو فرار کی راہیں تلاش کرنے لگا۔اکثر کسی کونے کھدرے میں چھپ کر گھٹنوں میں سر دئیے بیٹھارہتا۔رانی مجھے تلاش کرکرکے ہلکان ہوتارہتا۔
جہاں ہم رہتے تھے وہ ایک قدیم حویلی تھی۔شاید کسی نواب کی رہی ہوگی۔اس آسیب زدہ حویلی میںبرسہا برس سے ہیجڑوں کا بسیرا تھا۔اس حویلی کی سامنے والی بلڈنگ میں طوائفیں رہتیں تھیں۔میں نے ایک طوائف کی بیٹی سے دوستی کر لی۔ہم دونوں ایک ساتھ طرح طرح کے کھیل کھیلتے۔میں اسکی سیلن زدہ کوٹھری میں گھسا رہتا۔
طوائف کی بیٹی چونکہ تربیت کے مراحل میں تھی۔اس لئے اسے پڑھانے کے لئے ایک مولوی آتا۔میں بھی اس کے ساتھ کاپی پنسل لے کر بیٹھ جاتا۔میری آشنائی حرفوں سے ہونے لگی۔رانی نے جب میرا شوق دیکھا تو مجھے ایک قریبی اسکول میں داخل کرا دیا۔اس نے کس جدوجہد سے داخلہ کروایا یہ تو نہیں معلوم مگر میری تعلیم کا سلسلہ شروع ہو گیا۔مجھے اپنے اسکول کا وہ پہلا دن آج بھی یاد ہے۔جب میں نے ڈرتے ڈرتے ایک نئی دنیا میں قدم رکھا تھا۔رنگ و نور سے بھری دنیا باہیں پھیلائے میری منتظر تھی۔
رانی مجھے ایک لڑکی بنا کر اسکول بھیجتا۔اسکرٹ شرٹ پہن کر دو چوٹیاں باندھ کر جن میں سفید ربن لگا ہوتا،بیگ کاندھے پر جما کر جب میں اسکول جانے کے لئے تیار ہوتا تو رانی میرا منہ چوم لیتا۔نم آنکھوں سے مجھے دور تک جاتے ہوئے دیکھتا رہتا۔
اسکول کی لڑکیوں نے کھلے دل سے خیر مقدم کیا۔جلد ہی کئی سہیلیاں بن گئیں۔میںان کی زبان سے ان کے گھر کے قصے بھائیوں بہنوں کی داستانیں دلچسپی سے سنتا۔کسی اورجہاں کی کہانیاں معلوم ہوتیں۔ماؤرائی قصے لگتے میں سحر زدہ سا ہو جاتا۔میری ایک ہم جماعت تھی جس کا نام نیلو تھا۔خوبصورت ،شوخ،اور ہنس مکھ۔اسے جانے مجھ میں کیا نظرآیا کہ اپنی ساری سہیلیوں کو ترک کرکے مجھ سے دوستی کرلی۔ وہ مجھے بھی ایک لڑکی سمجھتی، ساتھ کھیلتی،باتیں کرتی۔اس کی دوستی نے مجھے مکمل کر دیا تھا۔ادھورا پن زائل ہونے لگا تھامیں نے ہوش سنبھالتے ہی بہت گھناونی دنیا دیکھی تھی۔میرا شعور کم سنی ہی میں پختہ ہوگیا ۔ بچپن تو بچپن ہی میں ہاتھ چھڑا کر کہیں غائب ہو گیا تھا۔سارے جہاں کی سنجیدگی اورپختگی میری ذات میں سمٹ آئی تھی۔چونکہ ذہین تھا۔ہر کلاس میں فرسٹ آتااس لئے سارے ٹیچرس مجھ سے خوش رہتے۔اسکول کا وقت چوبیس گھنٹوں کا گزارا ہوا بہترین وقت ہوتا۔چھٹی ہوتی تو میرا دل گھر جانے کو نہ کرتا۔میں مردہ قدموں سے گھر لوٹتا۔
مگر اس خوبصورت وقت کا دورانیہ نہایت مختصر ثابت ہوا۔یہ طلسم جلد ہی ٹوٹ گیا۔
جب میں آٹھویں کلاس میں تھا تب میرے سیاہ دنوں کا آغاز ہوا۔میری آواز تبدیل ہونے لگی۔ہونٹوں کے اوپر بالوں کی مہین سی لکیر نظر آنے لگی۔اسکول کے سارے بچوں کے لئے یہ بیحد حیرت کی بات تھی۔ان کے ہاتھوں میں ایک مشغلہ آ گیا۔میں انکے لئے ایک تفریح کا سامان بن گیا۔میں بیحد دل برداشتہ ہوا مگر جب نیلو بھی مجھ سے کترانے لگی تو میں بری طرح ٹوٹ گیا۔اندر سے مرنے لگا۔میں پھر سے تنہااور ادھورا ہو گیا۔ایک دن میں نے ہمت کرکے پوچھ لیا۔
’’نیلو اب تم مجھ سے باتیں نہیں کرتیں۔میرے ساتھ نہیں رہتیں۔دوستی کیوں ختم کر دی تم نے‘‘۔
اُس نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے غور سے میرا چہرہ دیکھا اور سپاٹ لہجے میں بولی۔
’’میں کسی بھاری آواز والی اور مونچھوں والی سے دوستی نہیں کر سکتی‘‘۔
اس ایک جملے نے مجھے سر عام ننگا کر دیا۔میں چھپ چھپ کر گھنٹوں روتا۔دن میں کئی کئی بارشیو بناتا۔اپنی آواز کو حتٰی امکان مہین کرکے بولنے کی کوشش کرتا۔ہر روز ٹوٹتا اور خود کو نئے سرے سے جوڑتا۔
رانی بغور میرا معائنہ کرتا رہتا۔میری کیفیت اس سے چھپی نہیں تھی۔وہ مجھے سمجھاتااور حوصلہ بڑھاتا۔کسی طرح اسکول کا وقت گذرا اور میں کالج میں آگیا۔عمر بڑھی تو برداشت کرنے کی قو ت بھی بڑھی۔علم نے جہاں میری شخصیت کو سنوارا وہیں آگہی کا عذاب بھی دیا۔کالج کی دنیااسکول کی دنیا سے وسیع تھی۔ وہاں خوش باش لڑکے اور لڑکیاں تھیں۔ہنستے گاتے اٹھکھیلیاںکرتے جوڑے تھے۔مگر میں وہاں بھی اپنی ذات کا قیدی تھا اور تنہا تھا روز اول کی طرح۔لڑکے لڑکیاں آتے جاتے مجھ پر فقرے اچھالا کرتے۔میں جس طرح خاموشی سے سرجھکائے اپنی کلاس میں داخل ہوتااور اسی طرح خاموشی سے مہر بہ لب نگاہیں زمین میں گاڑے واپس آ جاتا ۔پھر حسب عادت اپنی کوٹھری میں قید ہو جاتا۔
میرا واحد مقصد علم حاصل کرنا تھا۔اونچی تعلیم حاصل کرنی تھی۔سماج میں مقام بناناتھا۔یہ وقت امتحان کا وقت تھا۔مجھے یقین تھا اگر میں ابھی ثابت قدم رہا تو آئندہ کامیابیاں میرے قدم  چومیں گی۔ میں ناخواندہ ہیجڑوں میں علم کی شمع جلانا چاہتا تھا۔مجھے معلوم تھا یہ ڈگر آسان نہیں مگر میراعزم میرا حوصلہ میرے ساتھ تھا۔مجھے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا حق تھا۔اور مجھے اپنے حق سے محرومی گوارا نہیں۔میں اپنے ماحول سے فرار چاہتا تھا۔بھاگ جانا چاہتا تھا۔اس گھنائونی دنیا کو دیکھ دیکھ کرگھبراہٹ محسوس ہوتی۔لگتا ایک ان دیکھی آگ ہے جو جسم و جاں کو جلا رہی ہے۔ایک دن میں راکھ ہو جاؤں گا۔روح میں چھالے پڑے ہوئے تھے ۔میں ایک عام انسان کی مانند جینا چاہتا تھا۔لوگوں سے گھلنا ملنا چاہتا تھا۔میں دنیاوالوں کو بتانا چاہتا تھا کہ ہم بھی حساس ہوتے ہیں۔تمہارے رویے تمہاری آنکھوں سے جھانکتی نفرت ہمیں مار دیتی ہے۔یہ ہتک بھرا رویہ جو تم لوگ روا رکھتے ہو ہمیں سلگا دیتی ہے۔پھر ہم بدلہ لینے لگتے ہیں۔بسوں اور ٹرینوں میں تمہیں تنگ کرتے ہیں۔شور کرتے ہیں۔پیسے چھین لیتے ہیں۔کیوں؟ کیونکہ تمہارے رویے ناقابل برداشت ہیں۔یہ آنکھوں سے جھانکتی نفرت ہمیں سلگا دیتی ہے۔پھر ہم تمہیں خوفزدہ کرتے ہیں دھمکاتے ہیں۔اس طرح شائد ہم اپنی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔ہمیں بھی یہ کائنات حسین معلوم ہوتی ہے۔ہمیں بھی رنگ خوشبو پھول کا حسن متاثر کرتا ہے۔ہم بھی کبھی بے انتہا مسرت محسوس کرتے ہیں کبھی غم زدہ ہوتے ہیں۔ہمارے سینے میں بھی ایک جذبات سے بھرا گوشت پوشت کا دل دھڑکتا ہے۔ہم بھی انا پرست ہوتے ہیں۔ہمیں بھی محبت اور نفرت کرنے کا ہنر معلوم ہے۔ہمیں بھی محبت اور نفرت کرنے کا ہنر معلوم ہے۔ہمیں عضو معطل مت سمجھو۔ہم سماج کا سڑا گلا انگ نہیں ہیں ہمیں بھی جینے اور زندہ رہنے کا حق ہے۔ہم کسی دوسرے سیارے کی مخلوق نہیں جو تم لوگ ہمیںاس قدر اچنبھے سے دیکھتے ہو۔
الفاظ میرے اندر  شور مچاتے رہتے۔میں خود سے ہی ہم کلامی کرتا رہتا۔میں نے ایم،بی،اے کیا۔مجھے بینک کی نوکری پسند تھی میں اسکے امتحان کی تیاری کرنے لگا۔رات دن کتابوں میں سر  دیئے رہتا۔کل ہی میرا ایک ہم عمر ہیجڑہ میری پڑھائی کا مذاق اڑا رہاتھا۔
’’کیا کرو گے اتنا پڑھ کر میری جان کوئی فائدہ نہیں ۔ہم صرف تالیاں پیٹنے کے لئے پیداہوئے ہیں۔ناچ گا کر تالی بجا کر بھیک مانگنا ہی ہمارا پیشہ ہے‘‘۔۔۔۔وہ بولا۔
’’نہیں تم غلط ہو اب لوگوں کا نظریہ تبدیل ہو رہا ہے۔سرکار نے بھی قانونی طور پر ہمیں تیسری صنف کا درجہ دے دیا ہے۔اب ہم بھی ڈاکٹر ،انجینیر یا کوئی بڑا سرکاری آفیسر بن سکتے ہیں۔جہاز اڑا سکتے ہیں۔ایک کامیاب سیاست داں بن سکتے ہیں۔ہم چاہیں تو فوج میں بھی جا سکتے ہیں۔اب تو ٹی وی کے کئی شو صرف ہمارے دم پہ کامیاب ہوتے ہیں‘‘۔
میں نے دلائل دئے۔۔
’’ہا ۔ہا۔ہایہ کس دنیا کی باتیں کر رہے ہو تم۔قانون بنا دینے سے اس کی تشہیر کر دینے سے دوچار ہیجڑوں کو کوئی قابل قدر عہدہ دینے سے ہماری تقدیر نہیں بدلنے والی۔زمینی حقائق کچھ اور ہوتے ہیں میری جان‘‘۔۔۔دوسرا ہیجڑہ بولا۔۔۔
’’ہمیں آگے آنا ہوگا۔ ہر میدان میں اپنا لوہا منوانا ہوگا۔ہمیں تعلیم حاصل کرنی ہوگی۔ہائی پروفائل بننا ہوگا۔اپنی حیثیت منوانی ہوگی۔ہمیں یہ سماجی نظام کو بدلنے کی کوشش کرنی ہوگی۔اس پرانے فرسودہ ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔جب کوشش ہی نہیںکریں گے تو اپنی حیثیت منوائیں گے کیسے‘‘؟۔۔میں نے سمجھانے کی کوشش کی۔۔
’’میری جان اگر میں لڑکی ہوتا تو کسی کی ماں بہن بیٹی ہوتا ۔اگر مرد ہوتا تو کسی کا بیٹا ،داماداورشوہر ہوتا۔مگر ہم ہیجڑے ہیں بدنصیب ہیجڑے۔صدیوںپہلے جو ہمارا مقام تھا آج بھی وہی ہے اور آنے والے وقت میں بھی ہمیں سماجی ناسور ہی سمجھا جائے گا‘‘۔ایک ہیجڑے نے کمرے کی بدرنگی دیوار پر پیک تھوکتے ہوئے کہا۔
’’میں سماج میںاونچا مقام حاصل کروں گا۔عزت ،شہرت،دولت اور نیک نامی کماؤں گا۔ایک گھر بناؤں گا ۔یتیموں کو گود لوں گا۔ہیجڑوں کا مستقبل بناؤں گا۔ہمارے لئے جو سماجی رویہ اور نظریہ ہے دونوں بدلوں گا۔مجھے دیکھ کر یقینا تمہارے اندر انقلاب پیدا ہوگا‘‘۔۔۔۔۔۔۔
’’یہ انقلاب پیدا کرے گا یہ بھول گیا ہے کہ اس ملک کے ایک شہر کا نام ہمارے نام پر ہے۔تو لوگوں نے کس قدر شور مچایا تھا۔دھرنے دئے جلوس نکالے۔لوگ ہمارا نام تک برداشت نہیں کرتے تو کہاں ہمیں اپنے بیچ برداشت کریں گے‘‘۔۔
’’ہا ۔ہا۔ہا‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یاروں وہ آفیسر یاد ہے جسے اپنی نوکری گنوانی پڑی تھی۔اس کا جرم بس یہی تھا کہ وہ ہماری طرح بن کر گھوما کرتا تھا‘‘۔۔۔۔۔
’’ہا۔ہا۔ہا‘‘۔۔۔۔۔۔ 
سارے ہیجڑے زور زور سے ہنسنے لگے۔۔
مجھے لگایہ ہنس نہیں رہے خود پر نوحہ کر رہے ہیں۔ان کی ہنسی کی تہ میں آنسوں دکھائی دے رہے تھے۔مجھے لگا ہم بزدل ہیں شاید خود ہی سماج سے کٹ کر رہنا چاہتے ہیں۔ہم اپنی ایک الگ دنیابسا چکے ہیں اور اس دنیا میں ہم کسی کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتے ۔ہمارے اپنے رسم و رواج ہیں۔ بے شمار رسم و رواج۔جسے انجام دے کر سب بے پناہ خوشی محسوس کرتے ۔شایدہم نے ان چھوٹی چھوٹی بے شمار رسموں کو اس لئے جنم دیا کہ خوشی کا کوئی سامان پیدا کیا جائے۔ہم لوگ موت کو اپنی نجات سمجھتے ہیں۔میں دیکھتا کہ موت پر ہیجڑے خوشی مناتے بینڈ باجے کے ساتھ لاش دفن کی جاتی۔میں بیحد غم زدہ ہو جاتا ۔یقینا ہماری زندگی برزخ کی مانند ہے اور موت ہمارے لئے ایک خوشگوار تجربہ۔
میں دیکھتا یہ لوگ اپنی افزائش نسل کے لئے بے حد سفاک حرکتیںکرتے۔یہ مردوںکے اعضائے تناسل کاٹ کر ہیجڑہ بنا دیتے۔عورتوں اور لڑکیوں کا آپریشن کروا کراپنے جیسا بنا دیتے۔ننھے ننھے بچوں کو اغوا کر لیتے۔انہیں اپنی نسل میں شامل کر لیتے۔میںجانتا تھا کہ یہ ہماری نفسیات ہیں کہ ہم اپنی تعداد میں اضافہ چاہتے ہیں۔مگر میں ان جیساہر گز نہیں بن سکتا۔حالانکہ میں نے بہت طویل آبلوں بھرا سفر طے کیا ۔مجھ پر تھکن حاوی تھی۔میں گھپ اندھیری رات میں صحرا کا مسافر تھا۔انگارے روح پر اگے ہوئے محسوس ہوتے۔اب مجھے سکون کی خواہش تھی۔ سستانا چاہتا تھا۔
بلا آخر میں نے پی،او کا امتحان نمایاں کامیابی سے پاس کر لیا اب صرف میرا انٹرویوباقی تھا مجھے یقین تھا کہ میں یہ انٹرویو بخوبی پاس کر جاؤں گا۔کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ایک روشن اور تابناک مستقبل باہیںپھیلائے میرا منتظر تھا۔میرے جسم کی ساری سوئیاں نکل چکی تھیں۔بس پلکوں کی سوئیاںکی باقی ہیں۔میں خود کو ہوائوں میں اڑتامحسوس ہونے لگا۔انٹرویو سے ایک رات پہلے میری کامیابی کی خوشی میںرانی نے دعوت کی اور ہیجڑوں کی محفل سجائی۔سبھی کو جی بھر کر شراب پلائی۔میں نے بھی اس دن کئی پیگ شراب پی اور پیروں میں گھنگھرو باندھ کر خوب ناچا۔خوشی سے میرا انگ انگ رقص کرنے لگا دل چاہا میں ساری دنیا کو چیخ چیخ کر بتاؤں کہ کل کا سورج میرے لئے نئی زندگی کا پیغام لانے والاہے۔رات کی تاریکیاں چھٹ رہی ہیں۔سحر نمودار ہو رہی ہے۔ایک روشن مستقبل مجھے آوازیں دے رہا ہے۔میں نے انٹرویو والے دن پوری تیاری کی ۔بہترین ساڑی زیب تن کی۔بالوں کونئے ہیئر اسٹائل میں سنوارا۔پیروں میں میچنگ  خوبصورت سینڈل پہنی۔دیدہ زیب پرس ٹانگا۔میں ظاہری طور پر بھی وہاں آنے والی خواتین سے کم نہیں لگنا چاہتا تھا۔پتہ نہیںکیوں ایک بے قراری سی تھی۔نا معلوم سی بے چینی پورے وجود کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔
رانی اور چند دوسرے ہیجڑے بھی میرے ساتھ آگئے تھے اور باہر رک کر میری کامیابی کی دعائیں کر رہے تھے۔ایک ایک کرکے نام پکارا جا رہا تھا۔باری باری امیدوار اندر جا رہے تھے۔کچھ چہرے چمک لئے واپس آ رہے تھے اور کچھ بجھے ہوئے مایوس چہرے۔میں ایک ایک چہرے کو بغور دیکھتا رہا اور پڑھنے کی کوشش کرتا رہا۔خدا خدا کرکے میرا نام بھی پکارا گیا۔میں ڈھڑکتے دل کے ساتھ اندر کمرے میں داخل ہوا۔ایک میز کے گرد چند لوگ بیٹھے تھے۔کئی آنکھیں ایک ساتھ میری طرف اٹھیںاور مسکرائیں۔
ایک ہاتھ نے مجھے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
میں اپنا اعتماد بحال کرتے ہوئے کرسی پر جا بیٹھا۔
’’میں آپ کو مسٹر کہوں یا مس‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک آواز ابھری۔
’’ یہ دو جنس کے درمیان جھولتا ہوا ادھورا انسان ہے۔مسٹر یا مس نہیں ہے یہ‘‘۔ ہلکی آواز میںدوسرے چہرے نے کہا۔
مجھے ایسا لگا اُن کی آنکھوں میں تمسخر ہے، تضحیک ہے۔مگر میں نے اسے اپنا وہم گردانا۔انہوں نے مسکراتی آنکھوں اور سنجیدہ چہرے کے ساتھ میرا انٹرویو لیا۔میں نے اعتماد کے ساتھ ہر سوالوں کا تسلی بخش جواب دینے کی کوشش کی۔
انہوں نے انٹرویو ختم کرنے کے بعد مجھے باہر جانے کا اشارہ کیا۔
’’سر میں امید رکھوں‘‘۔۔۔۔میں نے اُٹھتے ہوئے کہا۔
’’ایک ہفتہ کے اندر آپ کو نتائج کی خبر کر دی جائے گی‘‘۔۔
میں امید کا جگنو مٹھی میں تھامے باہر نکل آیا۔
لمحہ لمحہ انتظار اور اضطراب میں کٹا ۔چار پانچ دنوں کے بعد میل کے ذریعہ اطلاع دی گئی کہ میرا انتخاب نہیں ہوا۔
مجھے بے حد شاک لگا۔میں مایوسی کے دل دل میں گر پڑا۔رانی نے ایسے وقت میں میرا بہت ساتھ دیا۔میری ہمت بندھائی۔پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔میں انٹرویو دیتے دیتے اور ناکامی کا منہ دیکھتے دیکھتے ہارنے لگا۔سارے خوشنما خواب کچے رنگوں کی مانند میری آنکھوں سے اُڑنے لگے۔ایک ویرانی اور ہو کا عالم میری ذات پر محیط ہو چکا تھا۔میں نے معمولی نوکریاں بھی کرنے کی کوشش کی مگر کسی نے نوکری نہیں دی۔دوکانوں پر سیلز مینی کرنی چاہی،ہوٹلوں میں برتن دھونے چاہے ،گھروں میں نوکر بننا چاہا پر ہر کوئی میرے سوال پر نفی میں گردن ہلا دیتا۔ سبزیوں کا ٹھیلہ لگایا مگر میری شکل دیکھ کر کوئی میری طرف رخ بھی نہ کرتا۔جوتے پالش کرنے چاہے پر لوگ مجھے دیکھ کر بدک جاتے۔  میں رزق حلال کماناچاہتا تھا۔ہیجڑوں کی طرح بھیک نہیں مانگنا چاہتا تھا۔بھیک بھی وہ جو دھاندلی دکھا کر زبردستی مانگی جاتی۔میں زندگی کی سب سے پر خار راہوں سے گزر رہا تھا۔میرا پورا وجو د لہولہان تھا۔میری روح تک زخمی تھی۔اپنے ٹوٹے بکھرے وجود کو پھر سے جوڑا اور اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کی ایک اور کوشش کی۔پھر سے تیاری کی اور بینک کا امتحان دیا۔میں ہر بار کی طرح پاس ہو گیا۔انٹرویو والے دن میں بیحد نروس تھا۔میری خود اعتمادی کھو چکی تھی۔نام پکارے جانے پر میں ڈرتے ڈرتے اندر داخل ہوا۔میرا حسب معمول انٹرویو ہوا مگر لینے والوں کی بے دلی اور بے زاری عیاں تھی۔میں آنکھوں میں طوفان چھپائے مرے مرے قدموں سے باہر نکل آیا۔گھر آکر میںپھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔میرے ساتھ سارے ہیجڑے بھی رونے لگے۔بلند آوازمیں بین کرنے لگے۔مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میری موت ہو گئی ہے اور سب مجھے دفنانے کے بعد سوگ منا رہے ہوں۔شام تک میں ڈھاڑیں مار مار کر روتا رہا۔رات میں رانی اوردوسرے ساتھیوں نے مجھے زبردستی اُٹھایا اور ایک بار میں لیتے آئے۔چند پیگ پینے کے بعدمیری حالت کچھ سنبھل گئی۔میں نے یونہی نظر اُٹھا کر سامنے دیکھا تو وہی لوگ جو آج انٹرویو میں شامل تھے شغل کر رہے تھے۔میں بلا ارادہ ہی اپنی کرسی سے اُٹھا اور ان کے قریب جا کھڑا ہوا۔
انہوں نے نظریں اُٹھا کر میری جانب دیکھا۔
’’ارے یہ تو وہی ہے جس کا آج ہم نے انٹرویو لیا تھا‘‘۔۔ایک بھاری چہرے والے نے کہا۔
’’ہاں میں وہی ہوں ۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اس بار میرا انتخاب ہوا یا ہمیشہ کی طرح مسترد کر دیا گیا ہوں‘‘۔
’’ہمیں افسوس ہے خانہ پری کے لئے تمہارا انٹرویو لیا گیا۔مگر ہم تمہیںمنتخب نہیںکر سکتے‘‘۔۔
’’کیوں نہیں کر سکتے۔کیا مجھ میں اہلیت نہیں۔کیا میں اس عہدے کے لائق نہیں۔آپ مجھ پر میری صلاحیتوں پر اعتماد تو کریں۔امید ہے میں کھرا اتروں گا‘‘۔۔میں نے لب کشائی کی۔
’’ایک ہیجڑے کو نوکری دے کر ہم سارے بینک کو ہیجڑہ بنا دیں۔نہیں ہم ایسی غلطی نہیںکر سکتے‘‘۔۔۔۔ایک نے دوسرے کو مخاطب کیا۔
’’ہماری اہمیت تسلیم کی جا چکی ہے۔ہمیں بھی قانونی طور پر تیسری صنف کا درجہ حاصل ہے۔ہم بھی اس منصب کے دعویدار ہیں‘‘۔۔۔میں نے احتجاج کیا۔
’’چونکہ تم نے امتحان پاس کیا تھااس لئے ہم تمہارا انٹرویو لینے پر مجبور تھے۔مگر تمہیں کامیاب کرنا ہماری مجبوری نہیںتھی۔ہم اپنے بینک میں ایک ہیجڑے کو یہ اہم عہدہ نہیں دے سکتے۔بینک کی ساکھ پر برا اثر پڑ سکتا ہے۔جو ہمیں گوارہ نہیں‘‘۔۔۔ایک بیحد سنجیدہ صورت نے کہا۔
’’تمہارا سلیکشن نہیں ہوا۔اب تم یہاں سے جاؤ۔لوگ متوجہ ہو رہے ہیں‘‘۔ایک نحوست بھری آواز ابھری۔
مجھے لگا کسی نے اچانک آسمان کی اونچائی سے مجھے گہری کھائی میں پھینک دیا ۔میرا ذہن ماؤف ہو گیا۔فضا دھوئیں سے بھری محسوس ہوئی۔میری سانسیں رکنے لگیں۔غصے اورنفرت کی تیز لہر میرے پورے وجود میں اُٹھی۔
’’تم سب سالے ہیجڑے ہو ۔سماجی ہیجڑے۔سیاسی ہیجڑے۔ہا۔ہا۔ہا۔تم نے ایک ہیجڑے کو رد کیا ہے۔میں ہزار ہیجڑے تم میں سے پیدا کروں گا۔ہا۔ہا۔ہا۔یہاں سب  ہیجڑے بیٹھے ہیں‘‘۔۔۔میں نے تالی ٹھونکتے ہوئے کہا اور مڑ گیا۔۔
میں اونچی آواز میں ٹھہاکہ لگاتا ہوا اور زور زور سے تالیاں بجاتا ہوا دروازے کی سمت بڑھ گیا۔۔۔۔
’’سنو‘‘۔۔۔۔۔ان میں سے کسی نے مجھے پکارا
میں پلٹا اور سوالیہ نگاہوں سے پکارنے والے کو دیکھنے لگا ۔۔۔ 
’’ہم ہوٹل ہیریٹج ان میں ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ تم آج رات کمرہ نمبر ۲۰۲ میں آ جانا‘‘ ایک غلیظ چہرے نے مکروہ آواز میں مسکراتے ہوئے کہا ۔۔ اس کی بات پہ باقی لوگ بھی مسکرانے لگے  ۔۔
میرے اندر آگ لگ گئی ۔ جو جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی چلی گئی ۔ کمرہ نمبر ۲۰۲ ۔۔۲۰۲ ۔۔۔۲۰۲ ۔۔چلو ایک رات ہی ہے ۔اس کی لذت بھی چکھ دیکھیں۔ 
اگلی صبح کمرہ نمبر ۲۰۲ سے ایک کی بجائے دو لاشیں نکلیں ۔ اور اخبارات کی سرخیاں سلگ رہی تھیں ۔

یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟