صحرا میں بھٹکتی چڑیا : ڈاکٹر شاہد جمیل ۔ پٹنہ، بہار، انڈیا
’’راجکماری!…راجکماری!…رجّو!…‘‘
 دیارِ غیر میں شناسا پُکار پر اُس کے بڑھتے قدم ازخودرُک گئے۔ اُس نے مُڑکر دیکھا۔ دیدی کار سے اُترکر لپکتی ہوئی بڑھی اور اُس سے لپٹ گئی۔ دھڑکنوں میں پنہاں محبت، ترنگ کی طرح ایک دوسرے کے وجود کو اپنی گرفت میں لینے اور لمس، جذبات کو ڈی کوڈ کرنے لگا۔
راجکماری نے محسوس کیا، سینے سے چمٹی رانی نہیں بلکہ یہ تو صحرا میں بھٹکتی پیاسی چڑیاہے،جو سیرابی چاہتی ہے۔
رانی کی نگاہوں میں اچانک نانی کا گھر آنگن اور پھُدکتی گوریّاؤں کا جھنڈ مجسم ہوگیا۔وہ اکثر جھلستی دوپہر میں کھڑکی پر پانی بھری کٹوری رکھ کر بستر پر لیٹ جاتی۔ پھر پیاسی گوریّاؤں کا تانتا سالگ جاتا۔ کبھی کبھار بلبل بھی آدھمکتی۔ محتاط گوریّا کھڑکی پر اُترتے ہی گردن گھما گھماکرپہلے ماحول کا جائزہ لیتی پھر کٹوری پر بیٹھ کر چونچ بھر بھر کے پانی پینے لگتی ۔ سیرابی سے سرشار گوریّا پانی میںدو تین بار چونچ مار کرچھینٹے اڑاتی، چوں چوں کرتی اور پھُر سے اڑ جاتی۔جس کا جی چاہتا، کٹوری میں اُتر کر نہاتی اور نیم کی شاخ پر بیٹھ کر پنکھ سکھانے سنوارنے لگتی۔بلبل پانی پی کر فوراً اُڑ جاتی۔جب کبھی اُس کا نغمہ کانوں میں رس گھولنے لگتا تب وہ بستر چھوڑ دیتی تھی۔ اُس کی متلاشی آنکھوں کو اُسی وقت قرار آتا جب وہ ٹہنی پر چھُپی بیٹھی رہ رہ کر دم ہلاتی نغمہ سرا بلبل کو دیکھ لیتی تھی۔اُس نے سوچا:بچپن، ساون کی بارش سے دُھلے آکاش جیسا من موہک اور یادیں، البم میں جڑی تصویروںجیسی…
’’دیدی! کہاں کھو گئی؟‘‘
راجکماری کے استفسار پر رانی، یادوں کی وادی سے لوٹ کر بولی :
’’ تم کب آئی؟ کہاں رہ رہی ہو؟‘‘
’’ اِسی سال فروری میں۔امبیدکر نگر کے سکٹر- ۲میں بال گوپال اَناتھ آشرم میں کام کرتی اور وہیں رہتی بھی ہوں۔ چھٹّی کے دن اکثر شام کے سمَے اِسی طرح گھومتے پھرتے جب تھک جاتی، تب بس پکڑکر لوٹ جاتی ہوں۔ سنجوگ سے تمہاری نظر مجھ پر پڑ گئی۔ بھگوان نے ہمیں ایک یُگ کے بعد مِلا دیا… آج یہ بھرم بھی ٹوٹ گیا کہ تم ر جّوسے خفا ہو… دیدی ! کہاں جارہی تھی ؟ ‘‘
’’میں بھی من بہلاوے میں نکلی ہوں…آؤ بیٹھو!میں آج ہی تمہارا آشرم دیکھ لیتی ہوں… یہ میرے روٹ میں ہے۔‘‘
 بازوپکڑ کر رانی نے اپنائیت سے کہا ۔
 رانی کار اِس طرح چلا رہی تھی، جیسے بطخیں شام کے وقت تالاب سے دھیرے دھیرے نکلتی ہیں۔ راجکماری کے حُسن وشباب کو دیکھ کررانی گہری سوچ میں ڈوب گئی ۔ ایک شُبہ اُس کے دل میں سمندری ڈونگا کی طرح نمودار ہوکر غائب ہو جاتا۔
راجکماری کا خفتہ تجسس بیدار ہو گیا ۔ اُس رازِ سر بستہ سے وہ فی الفور واقف ہونا چاہتی تھی کہ آخر ہوا کیا تھا؟ دیدی اچانک اپنے گھر کیوں چلی گئی تھی؟ لوٹ کر کیوں نہیں آئی؟ خاموشی کی دھند دبیز تھی اور وہ قرض خواہ کی طرح موقع تلاش رہی تھی۔ ریڈ لائٹ جل اُٹھی۔ کار رُکی تب اُس نے پوچھا :
’’دیدی! تم کہاں رہتی ہو؟‘‘
’’ میرا بائی کالونی میں ایک چھوٹا سا فلیٹ لے رکھّا ہے …‘‘
’’ دلّی میں ؟‘‘
’’نہیں، گُڑگاؤں میں…‘‘
کار چل پڑی۔گفتگو کا سلسلہ پھُس پھُسے دھاگے کی طرح ٹوٹ گیا۔ پھر بھی وہ پیشہ ورسائل کی طرح صبر و تحمل سے کام لے رہی تھی۔
رانی دانستہ خاموش تھی۔ وہ سوچ رہی تھی، آخر وہ کیا اور کس کے متعلق باتیں کرے۔ نانی زندہ نہیں۔چالبازمامی اور مطلبی ماما اِس کے ماتا پِتا اور وشواس گھاتی راجہ بھی اِسی کا بھائی ہے…
راجکماری نے گفتگو کا سلسلہ جوڑنے کی کوشش کی:
’’دیدی! تمھیں یاد ہے؟میں نہاتے سمَے …‘‘
رانی فوراًبولی :
’’ہاں! پانی کا جگ اُٹھاتے ہی اُچھلنا، کودنااوررونا شروع کر دیتی تھی ۔ ہاتھ میں صابن دیکھتے آنکھیں کس کر میچ لیتی ۔سب سے مشکل کام، سَر سے ہاتھ ہٹاہٹاکر بال جھاڑنا اور آسان کام کپڑے پہنانا ۔ خود سے کپڑے پہننے اور بن سنور کر آئینہ دیکھنے میں تم کو بڑا مزہ آتا تھا… ‘‘
راجکماری چہک کر بولی:
’’دیدی! تمھیں تو سب یاد ہے۔‘‘
’’رجّو!یادیں،سہیلیاں سی ہوتیں اور موسم کی طرح آتی جاتی رہتی ہیں۔ ‘‘
ماضی، اچانک رانی کے روبرو قاتل فرار مجرم کی طرح مسکرانے لگا۔
وہ رات اَماوس کی نہیں تھی۔پونم کی شیتل کرنیںماں کے آنچل کی طرح سکون بخش رہی تھیں۔کھڑکی سے چاند اُسے اور وہ چاند کو دیکھ رہی تھی ۔ نہ جانے کب اُس کی آنکھ لگ گئی ۔جب اُس کی آنکھیں کھلیں تو کھلی کی کھلی رہ گئیں۔چور سیندھ لگاکر ڈاکو بنا لوٹ رہا تھا۔ اُس کی گرفت گھڑیال جیسی تھی۔ مدافعتی حربے ناکارہ ثابت ہورہے تھے۔جہدِ مسلسل سے تھک ہار کر وہ سُبکنے لگی تھی اور وہ فاتح حکمراں کی طرح مقبوضہ جاگیر کے چپّے چپّے کاجائزہ لیتا رہا۔ اُسی سمَے گاؤں کے مندر میں سیتا ہرن کا پرسنگ سنایا جارہا تھا۔
اُس نے کان میں پھُس پھُساکر کہا تھا:
’’رانی!دوش میرا نہیں،دوشی تمھارا سُندر روپ اوریہ کامنی کومل کایا ہے… تمھارا اَنگ اَنگ مادک اور شریر، سکھ ساگر جیسا… ‘‘
 وہ جیسے ہی الوداعی بوسہ کے لئے جھکا ، اُس کے منھ پر تھوک کر وہ بولی تھی :
’’نیچ! پاپی! تمھیں معلوم نہیں عورت کا ایک روپ درگا کا بھی ہوتا ہے…‘‘
تھوک کو آستین میںپوچھ کر راجہ نے بے شرمی سے کہا تھا:
’’اور دوسرا دَروپدی کا،تیسرا داسی کا اور بھی بہت سارے روپ ہیں…‘‘
اُس نے تڑپ کر کہا تھا:
’’ وشواس گھاتی!ایک بات یاد رکھنا۔کسی سے اپنی فتح کابکھان مت کرنا ورنہ بہنیں راکھی باندھنا چھوڑکر اُس دن بھائی سے اپنی سلامتی کی دعا ئیںمانگیں گی اور… ‘‘
وہ کمرے سے نکل گیا ۔تب وہ خاموش ہو گئی تھی۔
بے سدھ پڑی وہ چاند کوپھر دیکھنے لگی تھی۔کریہہ منظر کی تاب نہ لاکر چاند بھی لڑھک پڑا تھا۔ اُسے وہ اُداس اور بے بس لگا ۔ اُس کے سپنے شفق رنگ ہوگئے ۔اُس نے سوچا تھا: وہپلک جھپکتے کنگال ہوگئی۔ اب وہ انمول رتن کا تحفہ نہیں دے سکے گی۔ اُس رات وہ سو نہیں پائی تھی۔
 سوچ نے اچانک کروٹ بدلی تو اُس کا ریزہ ریزہ وجود مکمل ہوگیا تھا۔اُس نے اُٹھ کر سرہانے رکھے پانی کے گلاس کو ایک ہی سانس میں خالی کرکے فیصلہ لیا تھا کہ …
’’دیدی! آشرم سے آگے نکل رہی ہو۔‘‘
راجکماری اُسے ماضی سے پھر حال میں کھینچ لائی۔ وہ جھینپتے ہوئے بولی:
’’اوہ! میں بھول گئی کہ تمھارا کمرہ دیکھتے ہوئے چلنا ہے۔ ‘‘
گاڑی پارک کرکے دونوں ایک ساتھ اُتریں۔ سیکوریٹی گارڈ نے رانی کو بغور دیکھ کر راجکماری سے پوچھا :
’’میڈم آپ کے ساتھ ہیں؟‘‘
’’میری دیدی ہیں ۔ اپنا آشرم دیکھنے آئی ہیں۔ ‘‘
’’رجسٹر میں نام پتا درج کروا لیجئے…‘‘
پھر اُس نے آواز لگائی :
’’کرشنا! میم صاحب کو آشرم دِکھانا ہے۔ اِنھیں بڑے صاحب سے ملوا دو۔ ‘‘
ایک بچہ دوڑتا ہواراجکماری کے پاس جا کھڑا ہوا۔ رانی اُس کے سَر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی :
’’آشرم کسی اور دن دیکھوں گی۔ابھی تو راجکماری کا کمرہ دیکھنا ہے ۔ ‘‘
کرشنا دو قدم ساتھ چل کر ٹھہر گیا۔
 مطلوبہ جانکاریاں درج کرتے کرتے رانی کو کوفت ہونے لگی ۔ آنکھوں کے سامنے جھولتی لٹ کو کان کے اوپر رکھ کر وہ سوچنے لگی: آج کا انسان کتنا ڈرا، سہما اور چوکنّاہے ۔پوری دنیا میں سُرکچھا اُپایوںپربے حساب پیسہ خرچ کیا جارہا ہے۔اب گھر میں آنگن ، آنگن میں پیڑ اور گھونسلے نہیں ہوتے۔ لوگ گھرنما پنجرے میں رہنے لگے ہیں۔ چپّے چپّے میں گریل سے ناکہ بندی۔ برآمدے ، بالکونی اورروشن دان میںلگے گریل پر بھی گھنی جالیاں لگوالیتے ۔پھر بھی حادثوں پر لگام نہیں لگتی۔پرندے بھی نظر نہیں آتے…
دھاگے سے بندھے قلم کو رجسٹر پر رکھتے وقت رانی کی نگاہوں میں زنجیر سے بندھا اَدھ کھُلابینک کا گریل، مندر کی دان پیٹی، پیاؤ کا گلاس اور آپس میںگتھے مسافرکے اسباب کی شبیہ رقص کر گئی۔
’’دیدی! اب چلو بھی۔ ہر سمَے سوچتی ہی رہتی ہو؟‘‘راجکماری اُکتا کر بولی۔
دونوں کیبن سے باہر نکل آئیں۔سامنے ہی دیوار پرجلی حروف میں انگریزی اور ہندی میں لکھا تھا،’آپ سی سی ٹی وی کیمرے کی نظر میں ہیں۔‘
راجکماری کا کمرہ دراصل ایک کچن تھا، جس میں آرڈر دے کر بنوایا ہوا چھوٹا سا فولڈنگ کھاٹ لگا تھا۔ ریک پر ضروریاتِ زندگی سے جڑے معمولی سامان اوراشیائے خورد و نوش رکھی تھیں۔
شرمسار راجکماری بولی :
’’دیدی! یہ اَاستھائی ویوستھاہے…بعد میں کمرہ الاٹ ہوگا… پاؤں کے نیچے زمین اور سَر کے اُوپر چھت سے زیادہ ہمیں چاہئے بھی نہیں…‘‘
وہ تھوڑی دیر خاموش رہ کر بولی :
’’دیدی! دل کی بات کہوں؟‘‘
’’بولو…‘‘رانی کی نگاہیں اُس کے چہرے پر مرکوز ہوگئیں۔
’’ بُرا مت ماننا…رشتے داروںکے گھر پلے بچے بون سائی جیسے ہوتے ہیں۔ پنپ نہیں پاتے۔دیدی! میں نے بھی بہت دکھ جھیلے ہیں۔لیکن اب بہتر جیون جی رہی ہوں۔اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں۔سوجھ بوجھ اورآتم وشواس بڑھا ہے۔ ہاؤبھاؤ سے ہی دل کا بھید جان لیتی ہوں…دیدی! اَناتھ بچوں کی سیوا میں اَپار سکھ ملتا ہے اوردن کیسے گزر جاتے، پتا نہیں چلتا… اب تو تم بھی مل گئی دکھ سکھ بانٹنے والی، چنتا سماپت… بیٹھو نا! چائے بناتی ہوں۔ ‘‘
رانی کچن سے باہر نکلتے ہوئے بولی :
’’چلو،آج ہی میں تمھیں اپنا آشیانہ دِکھاتی ہوں۔رات میرے ساتھ رہنا ۔ گزرے دنوں کوپھر سے جئیں گے۔کل بینک جاتے سمَے تمہیں ڈراپ کردوں گی۔‘‘
راجکماری چہک کر بولی :
’’چلو! …کاغذی خانہ پُری میں بہت سمَے لگ جاتا ہے۔‘‘
صبح میں تالاب کی طرف جاتی بطخوں کی طرح رانی کار تیز چلا رہی تھی ۔ دونوں خاموش تھیں۔ ہو سکتا ہے اپنے اپنے ماضی کے اوراق کو اُلٹ پُلٹ کر نشان زد کر رہی ہوں کہ پہلی ملاقات میں کس کس ورق کو پیش کرنا ہے۔
ماضی،ساز کی طرح لمس سے بھی متحرّک ہوجاتا ہے۔ راجکماری نے تو طبلے پر تھاپ جڑ دی تھی۔رانی کے ذہن میں راجکماری کی پیدائش کا دن ویڈیو فوٹیج کی طرح رواں ہو گیا۔
بیٹی کی پیدائش کی خبر سنتے ہی ماما کو نہ جانے کون سابہت ضروری کام نکل آیا۔ اُس دن وہ دیر رات گھر لوٹے تھے ۔چَھٹّی کے دن بھی رات دس بجے گھرلوٹے اور سیدھے اپنے بستر پرچلے گئے تھے۔ ایک دو کروٹیں بدل کر کراہتے ہوئے اُنھوں نے پُکاراتھا :
’’رانی !سَرمیں تیل ڈال کر دَبادو… سَردرد سے پھٹا جا رہا ہے…‘‘
’’ آئی ماما جی! ‘‘ اُس نے قدرے تاخیر سے جواب دیا تھا۔
سَر دباتے ہوئے وہ سوچنے لگی تھی، کیسے ہیں ماما؟ سب لوگوں نے ننھی سی گُڑیا کو مانگ مانگ کر گود میں لیا ، چوما اور پیا رکیا۔ نانی تو سب کے پیچھے پیچھے بھاگتی اور دُہائی دیتی رہیں :
 ’’اب ہو بھی گیا …ہوا لگ جائے گی… ہنسلی اکھڑ جائے گی… سب کو بچہ لینا نہیں آتا … دیکھو! کیسے منھ کھول رہی ہے… ‘‘
بچوں پر پابندی لگا کریہ اُمید دِلائی گئی تھی کہ جب تھوڑی بڑی ہوجائے گی تب سب کو جی بھر کرگودمیں لینے دیا جائے گا۔ اُسے غصّہ آیا تھا، اُسے بھی بچہ ہی سمجھا جا رہا ہے۔ وہ تو دس سال کی ہوچکی ہے، سائیکل چلاکر اسکول جاتی ہے۔ ایک لڑکی سائیکل سے گرپڑی تھی تووہ اپنی سائیکل پر اُسے بِٹھاکر اسپتال لے گئی اور مرہم پٹّی کرواکر اُسے گھر پہنچایا تھا۔کتنے لوگوں نے اُسے سراہا تھا۔آزمانے کے لئے اُس نے بچی کا ہاتھ دھیرے سے پکڑ کر کہا تھا :
’’نانی ! اب میں بڑی ہو گئی ہوں ۔ مجھے دیجئے…‘‘
  وہ کسمسا کر بولیں:
’’اچھا ٹھیک ہے ،دو منٹ کے لئے تو بھی راجکماری کو گود میں رکھ لے ۔‘‘
وہ جلدی سے چوکی پر پالتی مار کر بیٹھ گئی تھی۔نانی نے بچی کو اُس کے ہاتھوں پر آہستہ سے رکھاتھا۔ لیکن اُس نے پَٹ سے آنکھیں کھول دی تھی۔ گویا وہ یہ دیکھنا چاہتی ہو کہ اب وہ کس کی گود میں ہے۔ نانی کا رکھا نام اُسے پسند آیا۔ راجہ کی بہن راجکماری ۔ وہ خوش ہوکر مٹر مٹر دیکھتی بچی سے بولی :
’’راجکماری! میںتمھاری دیدی ہوں۔‘‘
 پھر اُس نے اُسے چومنا چاہا تھا۔لیکن نانی نے فوراً روک دیا :
’’بس بس اِسی طرح لے کر بیٹھی رہو…منھ چومنے سے بچہ کو بیماری لگ جاتی ہے۔‘‘
وہ بت بنی اُسے دیکھ رہی تھی۔ایک مکھّی کو شرارت سوجھی تھی۔ وہ اُس کے رخسار پر بیٹھ کراِدھر اُدھر چلنے لگی تھی۔اُس نے دھیرے سے سَرجھٹکا تو وہ کان پرجا بیٹھی۔پھر گردن پرچہل قدمی کرنے لگی۔ گدگُدی برداشت سے باہر ہورہی تھی پھر بھی وہ ضبط سے کام لیتی رہی۔ مکھّی جب بچی کے منھ پر بیٹھتی تب وہ پھونک مار کر اُسے اُڑا دیتی۔وہ جسم نہیں ہلا رہی تھی ۔ اُسے معلوم تھا کہ اگر وہ رو ئی تو نانی کو موقع ہاتھ لگ جائے گا۔ وہ اِ سے فوراًاُٹھا لے جائیں گی۔اُسے بچی کی سگبگاہٹ اور گرماہٹ سے بہت لطف مل رہا تھا۔ اچانک وہ رونے لگی تب  اُس نے اُسے چھاتی سے لگاکر کہا تھا: ’’اُو،اُو … بابو کو بھوک لگی ہے۔‘‘وہ چُپ ہوگئی تھی۔اُس نے ماں کو ایسے ہی چُپ کراتے دیکھا تھا…ننھی سی بچی کا وجود مرغی کے چوزہ کی طرح نرم اورگرم تھا۔اچانک اُس کے دل میں یہ خیال در آیاکہ مرغی کے چوزے بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کوئی بتا نہیں سکتا ، کون مرغی اور کون مرغا ہوگا۔لیکن آدمی کے بچے جنمتے پہچان لیے جاتے ہیں۔کاش!بچپن میں چوزے جیسے ہی ہوتے تب جنم کی خبر سنتے ہی باپ کے سَر میں درد نہیں ہوتااور ماں بھی اُداس نہیں ہوتی…اُسے یاد ہے، روز روز کے جھگڑے سے تنگ آکر ہی ماں نے اُسے نانی کے گھر بھیج دیا تھا۔اُسے یہ بھی معلوم ہے کہ ماں خفیہ طور پر ماما کی مالی مدد بھی کرتی تھی…
’’ دیکھو دیدی! بوڑھا سڑک پار کر رہا ہے۔تم رہ رہ کر کہاں کھوجاتی ہو؟ ‘‘
 تیزی سے کٹ مار کررانی جھینپتے ہوئے بولی:
’’میں دیکھ رہی تھی…وہ کسی سوچ میں ڈوباتھا۔رجّو!سوچ،بھی سایہ کی طرح وجود کا حصّہ ہے…‘‘
راجکماری قطع کلام کرتے ہوئے بولی:
’’لیکن ڈرائیونگ کرتے اور سڑک پر چلتے سمَے سوچنا ٹھیک نہیں۔آشرم گیٹ کے سامنے ہی ایک سوچتا ہوا نوجوان بس کی چپیٹ میں آگیا تھا۔‘‘
’’ رجّو! تم نے بھی نیوز میں دیکھا ہوگا،ایک بچہ کان میں اِیر فون لگائے ریل ٹریک پار کر رہا تھا۔ڈرائیور ہارن بجاتا رہا لیکن وہ سن نہیں پایا۔ ریل گاڑی رُکی تب اُس کی چھت وِچھت لاش نظر آئی … موبائل اور انٹر نِٹ نے ہماری مٹھّی میں چاند ستاروں کے ساتھ انگارے بھی رکھ چھوڑے ہیں۔‘‘
’’ دیدی! میںنیوز نہیں دیکھ پاتی۔ٹی وی آفس اور ویزیٹرس روم میں لگا ہے۔ وہاں جاکر دیکھنا اچھا نہیں لگتا۔ ریڈیو پر ہی نیوز ،گانے اورکھیل کمِنٹری سنتی ہوں۔‘‘
 نو آباد کالونی کے فلیٹ نمبر۔۷؍ اے کے سامنے کار کھڑی کرکے رانی گیٹ کا تالا کھولتی ہوئی بولی :
’’یہی ہے میراآشیانہ۔اندرجاؤ۔میں کار لگاتی ہوں۔‘‘
رانی برآمدے اوراحاطے کے بلبوں کوجلاکر نکلی تھی۔ راجکماری کو فلیٹ خوبصوت لگا۔لت دار پھولوں سے ڈھکا محراب نما گیٹ جاذبِ نظر تھا۔ اُس کے دائیں شَمی اور بائیں ہار سنگار کا پیڑتھا۔رجنی گندھا اور رات رانی کے پودے کے پاس پانی بھرا لکڑی کا تسلارکھّاتھا۔ رات رانی کاگھنا پودااپنی خوشبو تھوڑی تھوڑی دیر پر اِسپرے کر رہا تھا۔چھوٹے سے صحن میں چھتری لگا ایک جھولابھی تھا۔ سجاکر رکھے گئے گملوں میں طرح طرح کے پھول اور کئی قسم کے کیکٹس لگے تھے۔برآمدے میں گوریّانے گھونسلہ بنا رکھا تھا۔ اُس نے محسوس کیا، فضا میں صحرا جیسی خاموشی، سونا پن اورہوا میں اُداسی گھلی ملی ہے۔
  راجکماری کو دیکھتے ہی خونخوارالشیشین نے اجازت طلب لہجے میں دو بار دھیمی آواز میں ’’ بَف…بَف‘‘ کی آواز نکالی۔
راجکماری سہم کر رانی کے پیچھے جا کھڑی ہوئی۔
 رانی جھُک کرمخصوص انداز میں کتّے کا سَر سہلاتے ہوئے بولی :
 ’’شیرو! مائی ڈیر!…‘‘
 کتّا،رانی سے لاڈ پیار کرنے لگا۔پھر وہ اچانک راجکماری کی طرف لپکااور اُس کے جسم کو عجیب طرح سے سونگھتے ہوئے، ’’کوں،کوں… آں۔‘‘ کی آواز نکالنے لگا ۔
رانی بھڑک اُٹھی۔وہ شیرو کا کان پکڑ کرکھینچتے ہوئے بولی:
’’یہ کیا ؟ ؟مردوں جیسی فطرت…‘‘
پھر وہ جلدی سے اُس کے پٹّے میں زنجیرکا ہُک لگا کر راجکماری سے بولی :
’’چلو! پہلے فریش ہولیتے ہیں…‘‘
 راجکماری نے پوچھا :
’’دیدی! تم اکیلی رہتی ہو؟‘‘
رانی تیز قدموں سے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے  بولی:
’’نہیں…شیرو، میرے ساتھ رہتا ہے…"


یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟