ویرانیئ دل : صائمہ زماں ۔ اسلام آباد، پاکستان
          معاشرہ کرداروں کا مجموعہ ہے اور یہ کردار ہمارے اردگرد موجود رہتے ہیں۔۔ یہی کردار کہانیوں کو جنم دیتے ہیں۔ کبھی یہ کہانیاں ہمارے اندر تخلیق ہوتی ہیں اور کبھی ہمارے نظروں کے سامنے یا پھر ہم خود ان کہانیوں میں اہم کردار کی حیثیت سے شریک ہو کر اس کی تخلیق کا سبب بنتے ہیں۔ ایک ایسی ہی کہانی صفیہ کی تھی۔ درحقیقت وہ اس کہانی کا اہم کردار تھی۔ ایک نمایاں کردار، تین بہنوں میں اس کا نمبر نمایاں تھا۔
منجھلی بیٹی کی حیثیت سے اس کے رویے میں بھی اتار چڑھاؤ رہتا۔ کھبی وہ خود کو ایک ذمہ دار لڑکی کے روپ میں دیکھتی تو کبھی اس کا جی چاہتا کہ وہ کھل کر اپنی زندگی سے لطف اندوز ہو۔ وہ کچھ کرے جو شاید اس نے کبھی نہیں کیا۔ لاپرواہی کی زندگی کا جنون اس کے سرپر طاری ہو جاتا۔ ان دونوں کیفیات کا الگ الگ مزہ تھا۔ مگر بہرحال وہ ان دونوں کیفیات سے وقتی طور پر تو تسکین حاصل کر لیتی مگر ہمیشہ ایک کمی کا احساس اسے پریشان کئے رہتا۔ وہ بچپن میں باپ کی شفقت سے محروم ہو چکی تھی۔ ماں کی مامتا کے زیر سایہ وہ زندگی کا سفر طے کر رہی تھی۔ وہ اکثر سوچتی کہ وہ باپ کی محبت سے محروم ہے مگر یہ محرومی اس کی کمی سے یکسر مختلف تھی جسے وہ محسوس کرتی۔ زندگی کا سفر جاری تھا اسے پڑھائی کا شوق تھا۔ سکول کے زمانہ میں جب اس کے والد کا انتقال ہوا تو اس کی زندگی یکسر بدل گئی۔ وہ سمجھی کہ یہ سفر اب اختتام پزیر ہوا، مگر زندگی کب رکی ہے۔ اسے تو چلنا تھا اور وہ چلتی رہی۔ یوں سکول کے بعد کالج کا آغاز ہوا۔ صفیہ کے اندر موجود بے باک لڑکی نے سر اٹھایا۔ اس کی ماں صغریٰ کو ادھر ادھر سے مشورے ملنے شروع ہوئے کہ بچیوں کی جلد از جلد شادی کردو۔ سرپر باپ کا سایہ نہیں اور نہ ہی گھر پر کوئی مرد موجود ہے۔ صفیہ کی بے باکی قطعاً منفی نہیں تھی۔ وہ زندگی اپنی مرضی سے گزارنا چاہتی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ اس کی ماں اور بہنیں بھی پُرسکون زندگی گزاریں جو کلی طور پر ان کی اپنی منشاء کے مطابق ہو۔ وہ کسی نہ کسی طرح منزلیں طے کرتی جارہی تھی۔ حالات کبھی بھی موافق نہیں تھے۔
زندگی کی دھوپ چھا ئوں یوں ہی آنکھ مچولی کھیل رہی تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ جوں ہی پڑھائی مکمل کرے گی نوکری خودبخود چل کر اس کی دہلیز پر دستک دے گی۔ مگر یہ اس کی خوش فہمی ثابت ہوئی۔ بہت کوشش کی مگر کوئی سبب نہ بن سکا۔ بالاخر اسے ایک معمولی تنخواہ کے عوض عارضی بنیادوں پر نوکری مل گئی۔ وہ پھر بھی خوش تھی کہ اب وہ کسی حد تک خودمختار ہو گئی ہے۔ مگریہ اس کی بھول تھی۔ عورت کھبی خودمختار نہیں ہو سکتی۔ کچھ عرصہ بعد نوکری ختم ہوگئی اور پھر سے وہی حالات پیدا ہو گئے۔ ضرورتیں بڑھتی جارہی تھی مگر آمدن تو جیسے ساکت ہو گئی تھی۔
گزشتہ سالوں میں باپ کے علاوہ بھی کئی رشتے اس جہانِ فانی سے رخصت ہو چکے تھے مگر ان رشتوں کے رخصت ہونے سے صفیہ یا اس کے گھر والوں پر کیا اثر پڑا تھا وہ سمجھ نہ پاتی ۔آج بھی وہ اپنی دو بہنوں اور ماں کے ہمراہ تھی مگر پھر بھی تنہا۔ کچھ سال کی بے روزگاری کے بعد صفیہ کو پھر سے ایک نوکری حاصل ہو گئی اور یہ پچھلی نوکری سے کافی بہتر تھی ،وہ بہت خوش ہوئی۔ زندگی اب کسی سایہ دار درخت کی مانند محسوس ہو رہی تھی۔ ہر مہینے وہ اپنی تنخواہ میںسے کچھ روپے بچا کر اپنی بہنوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں پوری کرتی۔ اس تمام عرصے میں اسے اپنی بڑھتی عمر کا احساس تک نہ ہوا۔ اسے یوں محسوس ہوتا کہ جیسے وہ اپنی بہنوں کی سرپرست کا کردار ادا کر رہی ہے۔ اسے پچھتاوا نہیں تھا مگر اکثر اوقات ذہن کے کسی گوشے میں وہی سوال ضرور بیدار ہو جاتا کہ آخر اس کی زندگی میں کس چیز کی کمی تھی۔
کافی سوچ و بچار کے بعد اسے لگا کہ شاید اس کی زندگی میں محبت کی کمی ہے۔ وہ اب رات دن اس مخمصے کا شکار رہتی۔ اسے لگتا کہ وہ جیسے مسلسل انتظار کی سی کیفیت میں ہے۔ مگر یہ انتظار زیادہ لمبا ثابت نہ ہوا۔ اس کی زندگی میں ایک ایسا شخص داخل ہوا کہ جس کی آمد نے اس کی زندگی میں کچھ سکون سا بھر دیا۔ آصف جو عمر میں صفیہ سے دوگنا تھا۔ صفیہ یہ بھی جانتی تھی کہ وہ شادی شدہ ہے مگر محبت میں ان تکلفات کو کہاں دیکھا جاتا ہے۔ یا پھر محبت کچھ سوچنے کا موقعہ ہی نہیں دیتی۔ دونوں کے درمیان ایک عجیب سا رشتہ استوار ہو گیا جو لفظوں کا محتاج نہیں تھا۔ دوستی سے شروع ہونے والا تعلق محبت کی شکل اختیار کر گیا کب اور کیسے ؟ دونوں ہی اس سے لاعلم تھے۔ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اس کا صحیح ادراک بھی صفیہ کو اس وقت ہوا جب اس کی دونوں بہنیں اپنے گھر کی ہو چکی تھیں۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ ایک معمول کی زندگی بسر کر رہی تھی اس کی محبت بھی عجب انتشار تھی اسے معلوم تھا کہ آصف کبھی اس کا نہیں ہو سکتا مگر وہ بہت زیادہ خواہش کے باوجود اسے حاصل نہیں کرنا چاہتی تھی مگر کچھ تھا جس سے وہ بے چین رہتی تھی۔
آصف ابتدا میں اس کا بہت خیال رکھتا تھا مگر اب اس کی توجہ میں وہ شدت نہیں تھی اسے صفیہ کی ناراضگی کی اب پرواہ بھی نہ رہتی۔ وہ اب ہر وقت اپنی ذات کے گرد پھیلی ذمہ داریوں میں جکڑا رہتا۔ یہ محبت کبھی روگ نہ بن جائے ، اس خیال سے وہ سہم جاتی مگر اظہار نہ کرپاتی۔ وہ اب تک غیر شادی شدہ کیوں تھی؟۔ شائد ماں کی ذمہ داری جو کندھوں پر تھی مگر کچھ اور بھی تھاجو اسے نکاح کے بندھن میں بندھنے سے روکتا تھا۔ یا پھر آصف کے بعد اب وہ کسی کو اپنا جسم دے تو سکتی تھی مگر روح پر صرف اس ایک ہی کا بسیرا تھا۔ آج بھی وہ برسوں پہلے کی کمی موجود تھی۔
ایک دن جب وہ صبح اٹھی اس نے طبیعت میں ایک شوخی سی محسوس کی۔ چھٹی کا دن تھا۔ صبح کے نو بج رہے تھے۔ اس نے بیدار ہوتے ہی اپنے موبائل فون کو چیک کیا کیونکہ رات آصف نے اسے فون کرنے کا وعدہ کیا تھا جو اکثر ایسے وعدے کرکے بھول جاتا تھا مگر توقع کے برخلاف فون پر آصف کی دو مسڈ کالز موجود تھیں وہ کچھ زیادہ ہی مغرور ہو گئی مگر آج کچھ مختلف ضرور تھا۔ ناشتہ بنانے کے بعد ماں کو اٹھایا۔ ناشتہ کرواکے دوائیاں جو وہ روز ماں کو دیتی تھی ،بڑے سلیقے سے باری باری ماں کے ہاتھوں پر رکھی اور پھر گھر کے کاموں میں مگن ہو گئی۔
وہ باورچی خانے میں دن کا کھانا بنا رہی تھی کہ موبائل فون بجناشروع ہو گیا۔ صفیہ کی ماں اکثر اس فون کی آواز سے بیزار رہتی۔ سکرین پر آصف کا نمبر دیکھ کر اسے یقین نہیں آرہاتھا کہ آصف کل سے اسے لگاتار فون کر رہا تھا۔ فون اٹینڈ کرنے کے بعد اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب آصف نے اسے بتایا کہ وہ دفتر کے کام کے سلسلے میں لاہور آرہا ہے اور کل اس سے ملاقات بھی کرنا چاہتا ہے۔ اس نے نہایت محبت اور چاہت سے آصف کی باتیں سنی اور فون بند کرنے کے بعد اسے یوں لگا کہ وہ دنیا کی خوش قسمت ترین انسان ہے۔ وہ یوں ہی ہمیشہ چھوٹی چھوٹی خوشیاں سمیٹنا چاہتی تھی۔ کھانے سے فارغ ہو کر جب اماں سونے کی غرض سے کمرے میں چلی گئی تو صفیہ کل کی ملاقات کے بارے میں سوچنے لگی۔ کس رنگ کے کپڑے پہنے ، آصف کیلئے خریدی گئی اشیاء کو کس طرح چیک کرے۔ اسی منصوبہ بندی میں رات ہو گئی۔ سب کاموں سے فارغ ہو کر صفیہ جب بستر پر لیٹی تو ہر چیز خوبصورت نظر آنے لگی۔ اسی سوچ میں وہ سو گئی اور جب صبح اٹھی تو معمول سے کچھ زیادہ ہی دیر ہو گئی۔ جلدی جلدی ناشتہ بنایا۔ ماں جی کو ناشتہ کروایا اور پھر تیاری کے بعد دفتر کیلئے روانہ ہو گئی۔
اس نے آصف کیلئے خریدے ہوئے تحفے بھی ساتھ رکھ لئے۔ دونوں نے دوپہر کے کھانے پر ملنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ وقت تھا کہ تھم گیا تھا وہ چاہتی تھی کہ پر لگا کر اُڑ جائے۔ اس نے گھڑی دیکھی تو ملاقات کے وقت میں ایک گھنٹہ باقی تھا۔ کہ اچانک فون کی سکرین پر آصف کا نام ابھرا۔ اس نے فوراً فون اٹھالیا۔ پانچ منٹ سے فون کان سے لگائے ہوئے وہ سن رہی تھی لفظ کہیں کھو گئے تھے پھر اس نے فوراً فون بند کیا اور واش روم میں چلی گئی تاکہ اس کی آنکھوں سے نکلنے والے سمندر کو اس کے دفتر کے ساتھی نہ دیکھ سکیں۔ جب بوجھ ہلکا ہوا تو اس نے دفتر سے جلدی چھٹی کرنے کا ارداہ کیا۔ چھٹی ملنے پر وہ کسی ٹوٹے ہوئے سپنے کی مانند کچھ ادھورا پن لیے گھر پہنچی۔ ماں نے جب جلدی آنے کا سبب پوچھا تو طبیعت کی ناسازی کا بہانہ کردیا۔ اسے اپنی پرواہ نہیں تھی مگر اماں کو وقت پر کھانا دینا ضروری تھا۔ ماں جی کو کھانا دینے کے بعد وہ اپنے بستر پر ڈھیر ہو گئی۔ آصف نے ایسا کیوں کیا ؟ اسے ملنا نہیں تھا تو یوں مجھے ادھوری خوشی کیوں دی۔ وہ اپنی یاد کو دہرانے لگی جب آصف نے ملاقات کا وقت قریب آنے سے قبل ہی اسے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ اسے ایمرجنسی میں واپس پنڈی جانا پڑ گیا۔ کیا وہ چند لمحے بھی میرے ساتھ نہیں گزار سکتا تھا ؟ اسے اپنا آپ بکھرتا محسوس ہوا۔ اسے لگا کہ اس کا ادھورا پن مزید ابھر آیا ہے۔ وہ کیا کرے؟ کسے اپنا دکھ سنائے ؟ کسی سے یہ سب کہہ کر وہ خود کو مزید کمزور نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اپنے اردگرد چڑھائے ہوئے بہادری اور بے فکری کے خول کو آنچ نہیں آنے دے گی۔ اس نے سوچ لیا تھا۔۔
اگلی صبح وہ ایک بار پھر خود کو یکجا کرتے ہوئے دفتر کیلئے روانہ ہو گئی اسے اپنا بھرم رکھنا خوب آتا تھا یا یوں کہئے کہ اس نے ایسا کرنا سیکھ لیا تھا۔ خدا خدا کرکے چھٹی کا وقت آیا اور وہ پھر خود کو سمیٹے گھر کی طرف چل نکلی۔ دن بھر میں آصف نے اسے تقریباً چار سے پانچ مرتبہ فون کرکے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر وہ چاہتے ہوئے بھی اُس سے بات کرنے پر خود کر رضا مند نہ کر سکی۔ وہ کھلونا نہیں تھی جو دوسروں کی خوشی کا سامان پیدا کرتی۔ گوشت پوست کے انسان کی ضروریات میں سے ایک ضرورت عزت نفس بھی تھی جو آصف کے ساتھ تعلق میں کہیں کھو چکی تھی۔
صفیہ کو کبھی پہلے اس کا خیال نہیں آیا تھا مگر شاید اب اس کی سوچ کی سمت تبدیل ہو رہی تھی۔ ساری زندگی کی ریاضتوں نے اسے اتنی تھکاوٹ نہیں دی تھی جتنی ان چند برسوں کی رفاقت نے اسے دی۔ اس نے ہمیشہ یہ سوچا تھا کہ وہ ہمیشہ اسے اپنائے گی جو خود چل کر اس کا ہاتھ پکڑنے آئے گا اور زندگی کے بھنور سے نکال لے جائے گا۔ آصف کے معاملے میں اس نے کبھی ایسا تصور ہی نہیں کیا تھا یا شاید اس محبت نے یہ موقع ہی نہیں دیا تھا۔ دو دن اسی کش مکش میں گزر گئے۔
وہ کسی حتمی فیصلے پر پہنچنا چاہتی تھی اور اس نے ٹھان لی کہ اب وہ پیچھے نہیں ہٹے گی لیکن یہ عزم دیرپا نہیں تھا۔ تیسرے دن جب آصف کا نام موبائل کی سکرین پر اُبھرا تو اس نے جھٹ سے فون اٹھا لیا۔ گلے شکوے ہوتے رہے مگر محبت بھرے چند لفظوں نے صفیہ کو پگھلا دیا۔ حتمی فیصلے کا ارادہ ریت کی دیوار کی مانند ڈھے گیا اور پھر سے وقتی خوشی کے حصار میں سب کچھ بھول گئی۔ اگر کچھ یاد تھا تو آصف کے محبت سے لبریز جملے۔ وہ ایک بار پھر خود کو دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی سمجھنے لگی۔
چھٹی کا دن یوں گزرتا ہے کہ جیسے چند گھنٹوں پر مبنی ہو۔ صفیہ کی ماں کے اس جملے پر صفیہ خیالوں کی دنیا سے باہر آئی۔ واقعی کچھ دن چند لمحوں کی طرح ہوتے ہیں جبکہ چند لمحے ایسے بھی ہوتے ہیں جو برسوں پر محیط ہوجاتے ہیں۔ٹھہراؤ کا شکار یہ لمحے کسی امربیل کی مانند سوچوں سے لپٹ جاتے ہیں۔
صفیہ کو اپنی ماں کیلئے کچھ خریداری کرنی تھی جلدی جلدی گھر کے کاموں کو نپٹانے کے بعد ماں کے ہمراہ بازار کا رخ کیا۔ خریداری کے دوران اچانک اس کی نظر افشاں پر پڑی جو اپنے بچوں کے ساتھ سڑک کے کنارے کھڑی نظر آئی۔ افشاں نے بھی صفیہ کو دیکھ لیا تھا۔ اس لیے وہ بلا توقف اس کی طرف دوڑی چلی آئی۔ دونوں نے یونیورسٹی کا سفر اکٹھے طے کیا تھا۔ اتنے برسوں بعد افشاں کو دیکھ کر صفیہ بہت خوش ہوئی۔
افشاں نے ماں جی کو پیار سے گلے لگا لیا۔ آنٹی آپ کتنی کمزور ہو گئی ہیں ؟
بس بیٹا اب شاید عمر کا تقاضہ ہے۔ ماں جی کے جواب میں جیسے برسوں کی تھکاوٹ تھی۔
افشاں نے اپنے دونوں بچوں کو متعارف کروایا۔ صفیہ کو افشاں کی نظریں کسی چیز کی متلاشی نظر آئیں جن میں کوئی سوال تھا۔ یہ کسوٹی یوں ہی جاری رہتی مگر افشاں نے پھر عین اپنی عادت کے مطابق بلاجھجھک سوال کر ہی ڈالا۔ یار کہاں ہیں تمہارے مجازی خدا ؟
سوال بہت پرُلطف انداز میں پوچھا گیا تھا مگر صفیہ کو یوں لگا کہ کسی نے اس کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد اس نے حواس پر قابو پاتے ہوئے جواب دیا چل یار چھوڑ میرے مجازی خدا کو تو اپنی سنا۔ بچوں کے ابا نہیں آئے شاپنگ کیلئے ؟
صفیہ نے سنجیدہ سوال کو مذاق میں نہ لینے کی کوشش کی جو بارآور ثابت ہوئی۔ افشاں کچھ دیر محو گفتگو رہی اور پھر صفیہ سے اپنے گھر آنے کا وعدہ لیکر رخصت ہوئی۔
گھر پہنچ کر صفیہ نے خریدی گئی اشیاء کو سلیقے سے الماری میں رکھا۔ رات کا کھانا تیار کیا۔ کھانا کھانے کے بعد جب وہ اپنے بستر پر لیٹی تو اسے یوں لگا کہ وہ پھر سے ٹوٹ رہی ہے۔ اس کا وجود اس کی سوچ کی طرح منجمد ہو رہا تھا۔ بالآخر وہ اس نتیجے پر پہنچی جو وہ اکثر پہنچ جایا کرتی تھی۔ اس کی زندگی میں محبت موجود ہے اسے اور کیا چاہیے ؟ اس کی اس حتمی رائے میں موجود اعتماد آج کچھ کم تھا وہ یہ جانتی تھی مگر اس نے ارادتاً خود کو دھوکہ دینا سیکھ لیا تھا۔ اس کیفیت میں جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی اور اگلے دن وہ پھر اسی عزم کے ساتھ نئے دن کے آغاز کیلئے نکل پڑی۔
دن گزرتے جارہے تھے۔ آصف سے اب بھی ہمیشہ کی طرح روز ہی بات ہوتی اور صفیہ روز آصف کی باتوں کو اپنے دل میں قید کر لیتی۔ آصف کے معاملے میں وہ فیصلے بھی اپنے دل سے کیا کرتی تھی۔ یہ معاملے ہی دل کے تھے۔ آج صفیہ پھر تذبذب کی کیفیت میں تھی۔ ایسا اکثر ہوا کرتا تھا۔ اور شاید آج بھی ان اکثر اوقات والے لمحات کو دہرائے جانے کا وقت تھا۔ آج بھی وہی پرانا سوال اسے اپنی گرفت میں لئے ہوئے تھا۔ اس نے خود سے بے تکلف ہونے کی ٹھان لی تھی۔ وہ ضرور اس سوال کا جواب ڈھونڈے گی۔ اس نے سوچ لیا تھا ۔کیا ہے وہ کمی جو مجھے بے چین رکھتی ہے ؟ میں نے ہمیشہ اپنی خواہشات کی قربانی دی۔ اپنے جذبوں کو ساحل پر پڑی ریت کی مانند اپنے اندر جذب کیا۔
آصف میری ذات کا محور ہے۔ سب کچھ تو ہے میرے پاس۔ آخر میں بے سکون کیوں ہوں ؟ نہیں میں بے سکون نہیں ۔نہ ہی بے چین ہوں۔ یہ سب شاید میرے مزاج کا حصہ ہے بالکل اسی طرح جیسے آصف مجھے خود سے منسلک لگتا ہے۔ میرا سایہ، میرا ساحل، میرا مقصدِ حیات۔ میں بہت خوش ہوں۔ میں قطعاً ادھوری نہیں۔ ایک مکمل ذات ہوں۔ سو فیصد مکمل۔ اسے لگا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ وہ زور زور سے رونا چاہتی تھی۔ وہ اپنے اِردگرد لوگوں کو بتانا چاہتی تھی کہ میری بھی چند ضروریات ہیں میں بھی انسان ہوں۔ جذبوں سے بھرپور۔ مجھے بھی رونے کیلئے ایک کندھے کی ضرورت ہے۔ کوئی تو ہو جو میرے بگڑے موڈ کے مطابق خود کو ڈھال لے۔ کوئی تو ہو۔ کوئی تو ہو۔
صفیہ کی آنکھیں حیرت سے شیشے میں ابھرتے اپنے عکس کو دیکھتی رہ گئیں۔
  تو یہ تھی میری زندگی کی کمی ؟
ہاں میری زندگی میں مرد کی کمی ہے۔ بچپن سے لڑکپن اور جوانی سب ادوار میں یہ کمی نمایاں رہی۔۔
ہاں میں مانتی ہوں میری زندگی میں مرد کی کمی ہے ؟ صرف مرد کی !!

یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟