بطور خاص : دلدار احمد علوی ۔ لاہور ، پاکستان



(۱)
آساں تو کبھی یوں بھی نہ تھیں شوق کی راہیں
اس دور کی آفات سے اللہ کی پناہیں

برسات کے موسم میں ہے بھیگی ہوئی ہر شے
تکیہ ہو کہ رومال ہو، دامن ہو کہ باہیں

بیگانہ کیا تجھ سے نہ دنیا کے غموں نے
ہر آن نگاہوں میں رہی ہیں تیری راہیں

بچھڑے ہوئے ماضی کو کہیں ڈھونڈ رہی ہیں
یادوں کے دریچوں سے، بہت دور نگاہیں

صحرا کو کیا جہدِ مسلسل نے گلستاں 
ہمت ہے تو کھل جائیں گی جو بند ہیں راہیں

افلاک سے نالوں کا جواب آئے گا اک دن
اک روز سنی جائیں گی اس دل کی بھی آہیں

ہم اہلِ وفا روز بدلتے نہیں دلدارؔ
اک بار کریں پیار تو تاحشر نباہیں
***



(۲)
برف کی وادی ہے یہ، ہر سُو ہے قبضہ برف کا
یہ زمیں ہے برف کی، وہ کوہِ بالا برف کا 

گرمیٔ احساس سے عاری ہے پتلا برف کا
برف کا سینے میں دل ہے اور کلیجہ برف کا

ہوتے ہوتے ہو گیا میخانہ سارا برف کا
یہ صراحی برف کی ہے، وہ پیالا برف کا 

سرد مہری کی فضا چھائی ہے روئے ارض پر
عہدِ حاضر بھی ہے گویا اک زمانہ برف کا

اب کہ ہونٹوں پر تبسم ہے نہ آنکھوں میں چمک
رہ گیا ہے آدمی بن کر نمونہ برف کا

وقت نے پگھلا کے جس کو پانی پانی کر دیا
یہ حیاتِ چند روزہ ایک ٹکڑا برف کا

رہ گیا ہے رک کے یوں دلدارؔ جیون کا سفر
آ گرا ہو رہ میں جیسے کوئی تودا برف کا
***



(۳)
کیا پوچھتے ہو سالکِ الفت کے رخت کی
بے معنی راہِ شوق میں چھائوں درخت کی 

کوشش ہے نام اس کے لکھے کی تلاش کا 
تفسیر کاوشوں سے عبارت ہے بخت کی 

آئی ہے ہوش مند کے حصے میں عافیت 
طوفاں میں کی لچک نے حفاظت درخت کی 

بانگِ درائے جہدِ مسلسل کو چھوڑ کر
اِکسیر کوئی جگ میں نہیں سوے بخت کی 

ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے جو محفل پھر ایک ہو 
یا رب! یہ التجا ہے دلِ لخت لخت کی 

اس کی گلی کی چاکری ہے اپنا مدّعا  
نے تاج کی ہوس ہے، نہ خواہش ہے تخت کی

مجروح کر کے رکھ دیا ہے ہر بشر کا دل
کیا بات ہے خطیب کے لحنِ کرخت کی

سختی سے سخت دل کی ہوا اور سخت دل
دلدارؔ داد دیجیے اُس خوئے سخت کی 
***



(۴)
یہ کیا ہوا کہ خانوں میں ہیں بٹ کے رہ گئے
انسان ایک دوسرے سے کٹ کے رہ گئے

آئی ہے اس ترنگ سے اس بار فصلِ گل
سینے کے جتنے زخم تھے سب پھٹ کے رہ گئے

بدلا ہے میرے شہر کا موسم کچھ اس طرح
بادل تھے جو امید کے سب چھٹ کے رہ گئے

پھر یوں ہوا کہ چھن گئی ہم سے رہِ حیات
دنیا کہاں پہنچ گئی ہم بھٹکے رہ گئے

سارا قرار سارا سکوں ان کے واسطے 
اپنے نصیب میں ہے فقط جھٹکے رہ گئے

ساری شراب ساقی نے اپنوں میں بانٹ دی
میرے لیے یہ ٹوٹے ہوئے مٹکے رہ گئے

دلدارؔ اب کہ کیسی ہوا چل پڑی ہے یہ
دل نفرتوں کی گرد سے ہیں اٹ کے رہ گئے
***


(۵)
ہزاروں راستے جس نے تراشے تیری چاہت میں
الجھ کر رہ گیا وہ راستوں کی زیب و زینت میں

کہ عقلِ بیکرانِ آدمی ادنیٰ سا آلہ تھی
سمجھنا چاہتے تھے جو تجھے ڈوبے ہیں حیرت میں

یہ تجھ سے دور رہنا چاہے بھی تو رہ نہیں سکتا
کہ تیری  جستجو پیوست ہے انساں کی فطرت میں 

مثالِ آہوئے صحرا رہا بے تاب فرقت میں
دلِ وحشی کو چین آیا نہ خلوت میں نہ جلوت میں

مری نشوونما کا استعارہ اس کی خوشنودی
معانی میری رفعت کے ہیں مضمر اس کی خدمت میں

نصابِ ارتقائے دل ہے، عرفاں جس کو کہتے ہیں
تلاشِ یار رمزِ خودشناسی ہے حقیقت میں

تکامل کو مرے اُس نے عبادت اپنی فرمایا
یہ نکتہ جب سے سمجھا، لطف آیا ہے عبادت میں

کسی ٹوٹے ہوئے دل میں اسے دلدار پائو گے 
ملے گا وہ نہ تاج و تخت میں، نے مال و دولت میں

فضائیں سرنگوں ہیں سامنے اِس دل کی رفعت کے 
سمندر تنگ داماں ہے، مقابل اِس کے، وسعت میں

مرے پیتل کو بھی اک روز وہ سونا بنائے گا 
وہ میرا کیمیاگر زہر کو بدلے گا امرت میں

یہی خواہش ہے اُس کے فضل کی باہوں میں دم نکلے 
بسر ہو زندگانی اُس کی رحمت کی رفاقت میں

وہ میرا ہمدمِ دیرینہ، ساتھی سارے وقتوں کا 
مدد کی ہے مری دلدارؔ اس نے ہر مصیبت میں
***



(۶)
بجز زیاں نہیں ملتا ہے کچھ عدو بن کے 
رہیں جہاں میں نہ کیوں پیار کی نمو بن کے 

جو مے رہے گی اسیرِ خم و کدو بن کے 
جہاں میں پھیلے گی کیسے وہ مشک و بو بن کے 

یہ تیرے میرے کی تفریق کھا گئی ہم کو 
رہیں ہیں ہم نہ کہیں کے بھی ما و تو بن کے 

جو بے کنار سمندر تھے، بٹ کے ٹکروں میں 
وہ رہ گئے ہیں ذرا سی اِک آبجو بن کے 

خزاں کی چشمِ بد اندیش میں کھٹکتا ہے 
جو پھول مہکا گلستاں کی آبرو بن کے 

بغیر ظرف کے پینے کی ہو سمجھ جن کو 
جہاں میں پھرتے نہیں طالبِ سبو بن کے 

یہ چاک ہائے گریباں ہیں عظمتِ عشاق 
گنوائو شان نہ منت کشِ رفو بن کے 

ہوئے نہ گیت زبانِ زدِ عوام و خواص 
ملا نہ کچھ بھی نوا سنجِ خوش گلو بن کے 

ٹپک گیا میری آنکھوں سے اشکِ غم بن کر 
رگوں میں دوڑتا پھرتا تھا جو لہو بن کے 

کبھی جدا نہ ہوا دل سے تیرا غم دلدارؔ 
رہا یہ ہار سدا زینتِ گلو بن کے
***



(۷)
میں اُداس اپنی جگہ، وہ بے قرار اپنی جگہ 
بیچ میں مجبوریوں کا کوہسار اپنی جگہ 

میں رہینِ گردشِ لیل و نہار اپنی جگہ 
کر رہا ہے روز و شب کا وہ شمار اپنی جگہ 

ڈھونڈتی ہیں بجلیاں میرے دلِ ناچیز کو 
ہو رہی ہیں اُس کی نظریں شعلہ بار اپنی جگہ 

دل گرفتہ میری حالت پہ زمیں کے کوہ و بن 
اور فضائیں آسماں کی اشک بار اپنی جگہ 

روز افزوں سامریٔ وقت کی افسوں گری 
اور احبابِ وفا کا انتشار اپنی جگہ 

ساغرِ اندیشۂ آئندہ بھی گردش میں لا 
میرے ہمدم بیتے وقتوں کا خمار اپنی جگہ 

تو بھی اُٹھ اپنے جمودِ کہنہ سے آزاد ہو 
گلستاں میں گل رہا کوئی نہ خار اپنی جگہ 

وقت نے دلدارؔ سب کچھ ہی بدل کر رکھ دیا 
میں رہا اپنی جگہ نہ دوست دار اپنی جگہ 
***


(۸)
اُس کو مری نماز کی کیا احتیاج ہے
میری نماز میرے دکھوں کا علاج ہے

بدلا کچھ اپنے شہر کا ایسا رواج ہے
اکھڑا ہوا ہر ایک بشر کا مزاج ہے

کوہِ محن ہے، بارِ گراں ہے، خراج ہے
تیرے بغیر زندگی کانٹوں کا تاج ہے

دانے کو بھس سے کر کے الگ چھوڑتا ہے یہ
کرتا نہیں لحاظ، زمانے کا چھاج ہے 

پھیلا ہوا ہے دامنِ دل، لب خموش ہیں
اے دوست تیرے ہاتھ میں اس دل کی لاج ہے

چاہت میں اضطرابِ مسلسل ہے زندگی
اک پل قرار دل کو نہ کل تھا نہ آج ہے

اے سرخیٔ شفق نہ مجھے دیکھ رشک سے 
میرے وطن پہ سرخ ہوائوں کا راج ہے

دلدارؔ ہم ہیں شہر میں اپنے ہی اجنبی
ہم راز ہے کوئی نہ کوئی ہم مزاج ہے
***


(۹)
یہ کارخانۂ ہستی، جہانِ بوقلموں
خدا کے مہرِ مسلسل کا فیضِ روز افزوں

چمک دمک نے ہے رکھا  ہمیشہ  زیرِ فسوں
پھرے سراب کے پیچھے ہوئے ہیں خوار و زبوں

خدا نے رکھا ہے صرف اپنی یاد میں اس کو
میں مال و دولتِ دنیا میں ڈھوندتا ہوں سکوں

نہ تار تار گریباں، نہ پائوں پر چھالے
بسے ہیں آن کے شہروں میں جب سے اہلِ جنوں

پروں میں بھی نہیں بے شک وہ پہلے سی طاقت
مرے بچھڑنے کا لیکن سبب ہے ضعفِ دروں

فریبِ کم نظری راستوں کی نایابی
جواں ہو عزم اگر راستے ہیں گونا گوں

مری امیدوں کا مرکز ہے کون تیرے سوا
میں تیری سمت نہ دیکھوں تو کس طرف دیکھوں

تمام قریۂ الفت لہو سے رنگیں ہے
یہ کس غنیمِ ستمگر نے مارا ہے شبخوں

تمہاری زلف کے یہ پیچ و تاب کیا کہنے!
دل و دماغ و نظر ہو گئے ہیں سب مفتوں

امنگ دل میں ہے کوئی نہ خواب آنکھوں میں
عجیب یاس کی رت چھائی ہے جہاں میں ہوں

تمام بزم میں اپنا نہیں کوئی دلدارؔ
میں حالِ زارِ دلِ ناتوان کس سے کہوں
***


(۱۰)
جز ملاقاتِ دوست، چارہ گراں
دردِ دل کا نہیں کوئی درماں

دشتِ ہستی میں بے سر و ساماں
ہو میسر اگر نہ تیری اماں

زندگی کی سیاہ راتوں میں
یادِ روئے حبیب ضو افشاں

بے نشاں جا بجا ہے تیرا نشاں
لا مکاں ہر جگہ ہے تیرا مکاں

اس کے آنے کا وقت آیا ہے
قریۂ جاں میں گونجتی ہے اذاں

دب کے دلدار رہ گئے ہیں ہم
زندگی ہے کہ کوئی کوہِ گراں
***

(۱۱)
مار ڈالے  گا  بشر  کو  یہ  نظامِ  بیش و کم
صاحبانِ اختیار و اہلِ زر، اہلِ حشم!

کون سلجھائے گا میری بے بسی کی گتھیاں 
گر رہیں گے گیسوئے ہستی کے یوں ہی پیچ و خم

آدمی احسان کے رتبے پہ گر فائز نہ ہو
عدل کے درجے پہ تو قائم رہے وہ کم سے کم

فرقتوں کے دشت میں وہ قربتوں کا گلستاں
جس کی خوشبوئے تبسم بانٹتی ہے سب کے غم

روز و شب کی ظلمتوں میں اک چراغِ ضوفشاں
سینۂ بے کینہ، لو جس کی کبھی ہو گی نہ کم

صبر کا ہے امتحاں، لمحہ بہ لمحہ، دم بہ دم 
ہمتوں کی داستاں، دریا بہ دریا، یم بہ یم

چھین سکتا ہے کوئی اس سے طلوعِ صبحدم
جس کی آنکھوں کی چمک دلدارؔ شمعِ شامِ غم
***


یہ غزلیں آپ کو کیسی لگیں؟ انہیں کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟