غزل : امتیاز الحق امتیاز ۔ ایبٹ آباد، پاکستان

کیسا خیال آیا تھا کیسا بنا لیا

پتھر تراش کر اُسے شیشہ بنا لیا


اک جبر کے پہاڑ کا تھا سامنا مجھے

میں نے قلم کی نوک کو تیشہ بنا لیا


دیکھی جو میں نے روشنی بیٹی کی آنکھ میں

دستار اپنی کاٹ کے بستہ بنا لیا


اک لمحہ انتظار کا گزرا نہ تھا ابھی

کاغذ پہ میں نے وقت کا چہرہ بنا لیا


تعمیر میری تشنۂ تکمیل ہے ابھی

اس نے مجھے بنانا تھا جتنا بنا لیا


تھا کوہِ سخت پیشِ نظر پھر بھی امتیازؔ

رستہ بنانے والے نے رستہ بنا لیا




یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟