غزل : عبیرہ احمد، لاہور، پاکستان

میری آنکھوں کو آئینہ کرنا

پھر ’من و تُو‘ کا فیصلہ کرنا


آ ٹھہرنا مرے دریچے میں

رنگ و خوشبو سا ماجرہ کرنا


لو ہمیں راس آ گیا دل کا

دل کے ماروں سے مشورہ کرنا


لے! تجھے سونپ دی جراحتِ دل

جو خوش آئے معاملہ کرنا


خود شناسی بھی اِک اذیت ہے

کیا کسی سے مقابلہ کرنا


در و دیوار گوش می دارند

خامشی کو مکالمہ کرنا


یاد رکھنا کہ بھول جانا ہے

کوئی اچھا سا فیصلہ کرنا


اب کھلا جسم خاک داں ہی تو ہے

خاک سے کیا مطالبہ کرنا


یوں بھی زیبا نہ تھا عبیرؔ تجھے

دل زدوں سے مباحثہ کرنا


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟