غزل : خداداد خالد، ملتان کینٹ، پاکستان

بکھرے پڑے ہیں رنگ کئی کائنات میں
ڈوبے ہوئے ہیں لوگ مگر اپنی ذات میں


بالائے طاق رکھ دیا رسم ورواج کو
اُلجھا نہیں ہے عشق کبھی ذات پات میں 


جو لوگ روشنی کے سفر میں بھی لُٹ گئے
دو گام چل نہ پائیں گے تاریک رات میں]


صد حیف ایسا دور چلا قتلِ عام کا
سارے قلم شکستہ لہو ہے دوات میں


خالدؔ وجودِ یار کی تعریف اتنی ہے
جلتا ہوا چراغ ہے میری حیات میں




یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟