غزل : عامر رضا خاتم، الخبر، سعودی عرب

طوفان میں کوئی تو مرا آسرا بنے

اس ڈوبتے سفینے کا جو ناخدا بنے


آئے صبا تو غنچہ گُلِ خوش ادا بنے

یعنی کہ اس کا بخت بھی بختِ رسا بنے


ہو ماورائے دوسرا دل کی یہ کائنات

ہرجائی پر بنے وہ کہ ہر جا مرا بنے


کوئی نہیں رحیم کوئی بھی نہیں کریم

پھرتے ہیں یوں بہت سے زمیں پر خدا بنے


مقبول اک دعا کا یوں اب چاہتا ہے رد

نوشہؔ کی آرزو ہے کہ ناکتخدا بنے


حاتمؔ کی ذات بسکہ ہو رشکِ سِکندری

اُس کی ادا بھی میرے لیے گر عطا بنے



یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟