غزل : احمد کمال حشمی، کانکی نارہ، مغربی بنگال، انڈیا

طفلِ دل سے مرے ھوجاتی ہے پسپائی مری
کام آتی ہی نہیں ہے مرے، دانائی مری

ابھی آیا ہے فقط میری کمر تک پانی
یہ ندی ناپ رہی ہے ابھی اونچائی مری

میں نے یہ سوچ کے عینک نہیں مانگی اس سے
ایک دن مانگ نہ لے وہ کہیں بینائی مری

کبھی ھونے نہیں دیتی ہے اکیلا مجھ کو
ایک محفل سی سجادیتی ہے تنہائی مری

بات دنیا کی سمجھ میں بھی نہیں پایا کبھی
بات دنیاکو سمجھ میں بھی نہیں آئی مری

اب وکیل اور گواہوں کی ضرورت ہی نہیں
میرے قاتل کی عدالت میں ھے شنوائی مری

دم بخود میں بھی ھوں اور وہ بھی ہے حیران بہت
میں ھوں دنیا کا، یہ دنیا ہے تماشائی مری

برے لوگوں کو دکھائی نہیں دیتی ہے کماؔل
اچھے لوگوں کو نظرآتی ہے اچھائی مری



یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟