غزل : ڈاکٹرعادل حیات، دہلی، انڈیا

دل سے اپنے ہی الجھتا ہوں، جھگڑتا ہوں میں 
نیند اڑ جاتی ہے جب، خود سے ہی لڑتا ہوں میں

نیند لے جاتی ہے یادوں کے گلستاں میں مجھے 
تتلیاں خواب کے ہاتھوں سے پکڑتا ہوں میں

ہر گھڑی اپنی ہی پرچھائیں سے ڈر لگتا ہے 
ہر گھڑی جسم سے اپنے ہی بچھڑتا ہوں میں

روبرو کون تخیل میں مرے ہوتا ہے 
کس پہ حق اپنا جتاتا ہوں، بگڑتا ہوں میں

دل کی بربادی نے رنگ ایسا دکھایا ہے مجھے 
ایڑیاں زیست کے زنداں میں رگڑتا ہوں میں

پھیل جاتا ہوں شعاعوں سا زمیں پر عادل 
اور کبھی ذات میں اپنی ہی سکڑتا ہوں میں


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟