غزل : مبارک علی مبارکی، کلکتہ، انڈیا

سہے جاتے نہیں اب غم خدایا
مِرے زخموں پہ رکھ مرہم خدایا

غموں سے جینا مشکل ہوگیا ہے
تٗو اِن کو تھوڑا  کردے کم خدایا

تبسّم ہے لبوں پر سب کے لیکن
مِری آنکھیں ہیں کیوں پُرنم خدایا

محبت سب سے میں کرتا ہوں لیکن
کوئ میرا نہیں ہمدم خدایا

چمن میں گُل کِھلے, پر میرے دل میں
خزاں کا ہے سدا موسم خدایا

کہاں میں دولت و زر مانگتا ہوں
سکونِ قلب دے کُچھ دَم خدایا
>
میں اِک کمزور بندہ ہوں تِرا پھر
دیئے کیوں درد یوں پیہم خدایا

مبارکؔ کیا بھلا شکوہ کرے گا
کِئے بیٹھا ہے وہ سر خم خدایا


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟