اداریہ
دیکھتے ہی دیکھتے ایک ماہ گزر گیا اور آج ماہنامہ ’کائنات‘کا75 واں شمارہ آپ کے کمپیوٹر یا اسمارٹ فون کے اسکرین پر نمودار ہو گیا۔
اس ایک ماہ میں ماہنامہ ’کائنات‘ کی تجدید اشاعت کی خبر دھیرے دھیرے خوشبو کی طرح دنیا بھر میں پھیلتی چلی گئی۔اس ایک ماہ میں دنیا کے 21 ملکوں کے سینکڑوں لوگوں نے اس رسالے کو پڑھا اور اس تعداد میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ ایک بڑی بات ہے۔ایک رسالہ جو گزشتہ ڈھائی سالوں سے بند پڑا تھا۔ لوگ اسے بھول چکے تھے۔اس کی تجدید اشاعت کی خبر ملتے ہی اس کے قارئین ایک بار پھر اس کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ انشا اللہ آئندہ چند مہینوں میں ایک بار پھر قارئین کی وہ تعداد پھر بحال ہو جائے گی جو ڈھائی سال قبل تھی۔ بلکہ اب تو اس تعداد میں کئی گنا اضافہ بھی ہونے کا امکان ہے کیونکہ اب یہ رسالہ کمپیوٹر کے علاوہ اسمارٹ فون پر بھی ایپ کی صورت میں دستیاب ہے۔
زیر نظر شمارے سے متعلق آپ کی قیمتی آرا ء کا انتظار رہے گا۔ 
’کائنات‘ کی ہر تخلیق کے نیچے Star Rating   کا نظام موجود ہے۔قارئین سے گزارش ہے کہ ہر تخلیق کو پڑھنے کے بعد اسے ستاروں سے ضرور نوازیں۔ ساتھ ہی اس کے نیچے موجود فیس بُک کے کمنٹس بکس میں اپنے تاثرات بھی درج کریں۔
صدیوں سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ کسی ادبی تخلیق کا معیار عموماً چند مخصوص لوگ طے کرتے ہیں جنہیں ’ناقد‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن ادب کی ترویج کے اس جدید ترین وسیلے (انٹرنیٹ) نے عام قارئین کے ہاتھوں میں ادب کو پرکھنے اور اس کا معیار طے کرنے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ اب انٹر نیٹ پر شائع ہونے والی زیادہ تر تخلیقات کے ساتھ قارئین کے لئے یہ سہولت بھی موجود ہوتی ہے کہ وہ اسے پرکھیں اور اس کا معیار طے کریں۔اب ادب کسی ’نک چڑھے‘ ناقد کا محتاج نہیں رہا۔
خورشید اقبال

ادارئیے کو آپ کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟