کتب نما : نقد و تجزیہ از ڈاکٹر وحید الحق ۔ مبصر: عظیم انصاری، جگتدل، مغربی بنگال، انڈیا

کتاب کانام۔نقدوتجزیہ
مصنف۔ وحیدالحق
قیمت۔ ۲۵۰ روپئے
ضخامت ۔ ۲۴۵ صفحات
ناشر  ۔ عرشیہ پبلیکشنز ، دہلی
مبصر:عظیم ؔ انصاری  

’’نقدوتجزیہ‘‘ وحیدالحق کے تنقیدی مضامین کا اولین مجموعہ ہے۔ اس میں گیارہ مضامین ہیں جو ان کی تنقیدی بصیرت کا عمدہ نمونہ ہے۔ بقول انیس رفیع  ’’ اس مختصر سے مجموعہ مضامین میں وہ ذہن کار فرما نظر آرہا ہے جس کی اُٹھان ہمیں آنے والے دنوں میں چونکا بھی سکتی ہے۔‘‘ اس سے پہلے کہ ہم اس کتاب پر اپنی گفتگو پیش کریں ہمیں تنقید سے متعلق مصنف کے اس آرا کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
’’ تنقید کا اصل مقصد تعبیر ہے۔ میں نے تعبیر کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ اس ادبی اصطلاح کے تحت  ، تنقید کے وہ تمام وسائل کام کرتے ہیں جن کی مدد سے کسی ادبی متن کے معنی تک پہنچنے کی ہم کوشش کرتے ہیں۔‘‘
مندرجہ بالا رائے کی روشنی میں ہمیں اس نوجوان مصنف کی نا قدانہ جرُات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
زیر نظر کتاب میں پہلا مضمون ’’ تنقیدی شعور ‘‘ ہے جس میں مصنف نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ’’ یہ شعور ،سچ اور جھوٹ  ، اچھے اور برُے ، حسن وقبح اور کھرے و کھوٹے کے درمیان امتیاز قائم کرتا ہے۔یہ صلاحیت ہر نوع کے مفروضات ، خیالات اور دعوے و دلائل کو تشکیک کی نظر سے بھی دیکھتا ہے اور سوالیہ نشان قائم کرتا ہے کہ فلاں مفروضہ ، خیال یا دعوے میں کتنی سچائی ہے ، کس حد تک ہماری منطق کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے۔کس حد تک وہ ہمارے معاشرے سے ہم آہنگ ہے ، اس کی قطیعت اور قیمت کیسی ہے۔‘‘
زیرِ تبصرہ کتاب کا دوسرا مضمون  ’’ تنقیدی تصور ‘‘ ہے جس میں مصنف نے یہ بتایا ہے کہ  ’’ ایک معاشرے میں ادب کی شناخت ، اس امتیازات ، اس کے وسائل اور مقاصد کے متعلق جو شعوری طور پر فکری نظام قائم کیا جائے گا اسے اس معاشرے میں ادب کا تنقیدی تصور کہا جائے گا۔
تیسرا مضمون  ’’ شاعری کی عملی تنقید ‘‘ ایک طرح کی نظریاتی تفہیم ہے جس میں فاضل مصنف نے عملی تنقید سے متعلق ایک نظریہ قائم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مضمون کا اصل مقصد عملی تنقید اور اس کے طریق ہائے کار پر بحث کی گئی ہے۔ مصنف کے مطابق  ’’ ادب میں نظریات کے تشکیلی مراحل سے لے کر ان کی تعریف اور تہذیب متن تک کا مطالعہ ، سنجیدہ قاری کے لئے گہرا عملی اور تنقیدی سفر ہے ۔ ‘‘چوتھا مضمون فیض کی نظم’’تنہائی کا تجریدی سفر ‘‘ ہے۔اس نظم کا تجزیہ کرتے وقت مصنف نے ساختیاتی اور پس ساختیاتی تصورات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہا ہے کہ ’’ فلسفہ ، شاعری میں نہیں ،زندگی میں ہوتا ہے۔ شاعری زندگی کی ترجمان ہے اور فلسفہ اسی زندگی کو سمجھنے کی ناتمام کوشش ۔ ازل سے انسان اپنے وجود کی گتھیوں کو سلجھانے میں لگا ہوا ہے۔ لیکن زندگی وہ تجریدہے جو آج تک معمہ بنی ہوئی ہے۔‘‘پانچواں مضمون ’’نظموں کے تجزیے - ایک مطالعہ‘‘ دراصل ایک تبصرہ ہے جس میں عملی تنقید کی روایت کو مزید مستحکم بنانے کی کوشش ہے۔ چھٹا مضمون ’’ فیض : شیشوں کا مسیحا ‘‘ہے جس میں مصنف نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ’’ فیض کی شاعری کا مجموعی آہنگ رومان و انقلاب کا امتزاج ہے اور یہ امتزاج ان کی غزلوں اور نظموں دونوں میں یکساں طور پر نظر آتا ہے۔غزلوں کے مقابلے میں فیض نے نظمیں زیادہ تخلیق کیں۔ انکی نظموں پر غزلوں کا غازہ چڑھا ہوا ہے۔ انکی رومانیت اختر شیرانی کی رومانیت سے مختلف ہے ۔ ان کا انقلاب جوش ملیح آبادی کے انقلاب سے جدا ہے۔ ‘‘ساتواں مضمون ’’فراق کی غزلوں میں ـ’’زیست‘‘ کا ـتصورـ‘‘ہے۔ اس مضمون میں فراق کے اشعار کے حوالے سے وجودکے مختلف پہلوؤ ں کو اجاگر کرتے ہوئے تصورزیست کومثبت وجودیت کے تناظر میںدیکھنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ 
آٹھواں مضمون ’’ڈرامے کی ادبی سماجیات اور محمدحسن‘‘ہے جس میں فاضل مصنف نے ترقی پسند نقادپروفیسر محمدحسن کو انکی کتاب ’ ادبی سماجیات‘ کی روشنی میں انکی تنقید نگاری کا جائزہ لیاہے اور مصنف کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ’’انہوں نے معاشرے کے متعلق جو کچھ لکھا ، جن سماجی تبدیلیوں کی نشاندہی کی ، جن عصری و معاشرتی میلانات کی طرف اشارہ کیا، ان سے اختلاف کی صورت کم نظر آتی ہے۔‘‘
زیرتبصرہ کتاب کا نواں مضمون ’’اردو تنقید کا جداگانہ اسلوب ۔ اسلوب احمدانصاری ‘‘ہے۔ اس مضمون کے ذریعہ قاری کو یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنے رسالے ’نقدونظر‘ کے ذریعہ تجزیوں کا مستحکم سلسلہ قائم کیااور یہ عملی تنقیدکے باب میں انکا گرانقدر کارنامہ ہے۔ فاضل مصنف نے اسلوب احمدانصاری کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ’’ انہوں نے اردو کو نئے اصطلاحوں سے واقف کرایااورمشکل انگریزی لفظوں کا اردو میں ترجمہ کر کے اسکے دامن کو وسیع کیا۔جہاں تک ان کی زبان کا تعلق ہے ۔قدرمشکل اور علمی زبان استعمال کرتے ہیںلیکن تنقید جس نوع کی زبان کا تقاضہ کرتی ہے اسکے ماہرانہ استعمال سے بخوبی واقف ہیں۔‘‘ 
دسواں مضمون ـــ’’قاضی افضال حسین اورمابعدجدیدتنقید‘‘ہے جوپروفیسرقاضی افضال حسین کی کتاب’تحریراساس تنقید‘ کے علمی و تنقیدی رویوں کی افہام وتفہیم پر مبنی ہے اور گیارھواں مضمون ’ تحریر اساس تنقید ‘ پر مکالمہ ہے۔ اس آخری مضمون میں مصنف نے قاضی صاحب سے ایک جامع اور دلچسپ انٹرویو لیا ہے جس میں مابعد جدیدیت پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے اور بقول مصنف ’’اس انٹرویو سے مابعد جدیدیت کا چہرا صاف ہواہے۔ 
وحیدالحق کی یہ کاوش اردو کے طالب علموں ، استادوں اور ارباب ادب کے لیے ایک نادر تحفہ ہے۔بقول راشد انور راشد’’ آم طور پر زمانہ ٔ  طالب علمی کا نقش اول ، ادب کے سنجیدہ پارکھوں کو متاثر نہیں کر پاتا لیکن وحیدالحق کی یہ کتاب سنجیدہ مشمولات اور پیش کش کی بنا پرنسبتاً بہتر تاثر قائم کرتی ہے۔ مجموعے کے بعض مضامین ادب  کے اہم پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہیں۔ان مضامین میں مصنف کانقطۂ نظر واضح ہے۔بیان میں الجھاؤ نہیں ہے اورزبان ، مقصدکی ترسیل میں کامیاب نظر آتی ہے۔ ‘‘
مختصر یہ کہ ’’نقدوتجزیہ‘‘ادبی ذوق رکھنے والے حضرات کے لیے صرف خاصے کی چیز ہے بلکہ عوامی مطالعہ گاہوں اور ذاتی کتب خانوں کے لیے بھی ضروری اور مفید ہے۔

یہ تبصرہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟