فیض احمد فیض اور پاکستان ٹائمز کے ادارئے : ڈاکٹر ارشد مسعود ہاشمی ۔ گوپال گنج، بہار، انڈیا

          پیرایۂ اظہار میں تغزل کے رنگ و آہنگ  ‘ لہجے کے طبعی دھیمے پن ‘  مزاج کی صلح پسندی  اور تحمل  وہ عناصر ہیں جن سے فیض کی شاعری کے کو ئے یار سے سو ے ٔدار کے سفر کی شناخت ہوتی ہے۔ رشید حسن خاں نے لکھا ہے کہ فیض اور فیض کی مرصع کاری اور رمزیت مبینہ انقلابی یا ایجیٹیشنل شاعری کی شہر آشوبی سے دور کی نسبت بھی نہیں رکھتی۔ عقیدے اور مزاج کی کشمکش نے انہیںرومانی بنا دیاتھا‘جبکہ مقدمۂ شازش راولپنڈی میں فیض کے واقعۂ اسیری نے انہیں دفعتاً مجا ہدانہ شہرت عطا کر دی۔ رہائی کے بعد ان کی بودوباش‘ بہ قدر توفیق ‘ کسی انقلابی یا باغی کی زندگی سے قطعی مخنلف ‘  اوراشرافیہ کے معیار سے قریب رہی ہے۔ ان کے مزاج کی رومانیت اس ارسٹو کریسی سے پوری طرح ہم آہنگ معلوم ہوتی ہے۔(۱) انہوں نے یہ اصرار کیا ہے کہ چوںکہ فیض تنہا ئی پسند واقع ہوے ٔ ہیں ‘ ہنگا مہ آرایٔ اور روایت شکنی سے ان کے مزاج کو قطعاً مناسبت نہیں ‘  اس لئے رومانیت ان کے مکمل انقلابی بننے کی راہ میں حا ئل رہی۔
     
         اس کے بر عکس فیض کی عملی زندگی اور فکری وسعت کی  دوسری تصویر بھی ہے جس میں وہ  ان دونوں ہی اعتباروں سے یقیناً مجاہد عصر کے منصب پر فا ئز نظر آتے ہیں۔ ایک جنگ اختتام پذیر ہوتی ہے تو فیض  Indian British Army کی ملازمت سے مستعفی ہوتے ہیں ۔تبھی نفرت و حقارت کی بنیادوں پر بر صغیر مبتلاے ٔ عذاب ہو جاتا ہے۔ اسی صورتحال میں وہ معاشرے کی رہبری کے لیٔ پیشۂ صحافت سے وابستہ ہو جاتے ہیں ‘ جو جلد ہی ان کا محبوب مشغلہ بن جاتا ہے۔ صحافتی ذمہ داریوں نے جس شعلہ نفس فیض کے جوہروں سے زمانے کو روشناس کرایا وہ ان کی دنیاے ٔ شاعری سے قدرے مختلف تھے۔ان کی روشنی میں فیض کومجاہدعصرتسلیم کرنے میںکوئی تامل نہیں ہو سکتا۔ فیض کی شخصیت کے اس پہلو کی شناخت  ‘ غالباً  ‘ سب سے پہلے میاں افتخارالدین نے کی ‘ جن کے پروگریسیو پیپرز لیمیٹڈ کے تحت پاکستان ٹائمز کا اجراس وقت عمل میں آیا جب پاکستان کی تشکیل نہیں ہو ئی تھی۔ اس اخبار کی اشاعت کی ابتدا کے چھ ماہ بعد برصغیر کی تقسیم کے عمل کا سانحہ رونما ہوا۔

        میاں افتخارالدین پنجاب کے معززاور ذی حیثیت خانوادے کے فرد تھے۔ ۱۹۳۶ سے ہی انڈین نیشنل کانگریس کے فعال رکن تھے ‘ پنجاب اسمبلی میں ۱۹۳۷ میں ہی منتخب ہو ئے تھے ‘  اور  ۱۹۴۰ سے  ۴۵  تک پنجاب پروونشیل کانگریس کے صدر بھی رہے۔کانگریس کمیٹی کی  ۲؍مئی  ۱۹۴۲  کی نشست میں جن ۱۵  ارکان نے علاحدہ مسلم ریاست  کے مطالبہ کی حمایت کی تھی ان میں آپ بھی شامل تھے۔ اس   ضمن میں کانگریس کی گو مگو کی کیفیت دیکھ کر انہوں نے کانگریس سے علاحدہ ہو کر مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہوں نے اس کے تحت  Progressive Papers Limited  کی بنیاد ڈالی کہ اس وقت تک بر صغیر میں ایسا کوئی اخبار نہ تھا جومسلم لیگیوں کے مطالبات کو موثر طریقے سے پیش کرتا ہو۔ قیام پاکستان کے بعد مہاجرین کی آبادکاری کی وزارت کا عہدہ  میاں افتخارالدین کو سونپا گیا۔ مزاجاً اشتراکی تو تھے ہی ‘ شہریوں کی فلاح و بہبود کے تئیں مخلص اور مثبت نقطۂ نظر کے حامل بھی تھے۔ مسلم لیگ کے وزیر ہونے کے باوجو د ایوان میں حکومت کی ان تمام تر تجاویز اور پیش رفتوں کی مخالفت کرتے تھے جو انہیں مسلم لیگ کے منشور کے منافی محسوس ہوتی تھیں۔ مسلم لیگ کے قائدین کی آمریت اور سامراجیت پسندی پر انگشت نمائی کے ساتھ ہی رہائش و املاک کی حسب ضرورت تقسیم  ‘ مہاجرین کو مساوی مراعات دیئے جانے کی ان کی سفارشوں ‘  اور ضابطۂ تحفظ عوام کے سرکاری حکم نامے کی سخت مخالفت کے خمیازے کے طور پر انہوں مسلم لیگ کی بنیادی رکنیت سے  ۱۹۵۱  میں دستبردار ہونا پڑا۔

         میاں صاحب ایوان میںجن تجاویزو ضوابط کی مخالفت کرتے رہے ‘  فیض نے دیگر متنوع عالمی و خانگی موضوعات کے علاوہ  انہیں بھی زوروشور سے اپنے اداریوں میںشامل کرتے ہوئے  عوام کو بیدارکرنے کی  حتی الوسع  کوشش کی ‘  اور ایک ایماندار ‘  مخلص ‘  سماجی مبصر ‘  سیاسی مدبر اور راہ ساز کے فرائض انجام دیئے۔

         V.G.Kiernan نے لکھا ہے کہ فیض نے  پاکستان ٹائمز کے اداریوں میں نظم و نثر دونوں ہی  کے ذریعہ  درون ملک موجود بدعنوانیوں  پر سخت تنقیدوں کے ساتھ ہی بیرونی ممالک میں سوشلسٹ  رجحانات کے فروغ کی حمایتیں بھی کیں۔  فیض کی  وجہ  سے  پاکستان  ٹائمز کو جلد ہی ایسا مرتبہ حاصل ہو گیا کہ اس کی آر املک گیر پیمانے پر ہی نہیں ‘  بیرون ملک بھی  مقبول ہونے لگیں اور انہیں حوالے کی صورت استعمال کیا جانے لگا۔(۲ )  علی مدیح ہاشمی نے ذکر کیا ہے کہ فیض نے اپنے اداریوں کے میں حکومت کی خانگی  نیز  خارجی پالیسیوں کی گرفت اور سخت نکتہ چینی کی ‘ اور اس کوشش میں بھی مصروف رہے کہ سوشلسٹ  بلاکوں  سے پاکستان کے رشتوں میں  ا ستواری قائم ہو سکے۔(۳)  صداقت پسندی ‘  حق گوئی اور بیباکی کے اس میلان کے پیچھے حب الوطنی  کے علاوہ عالمی خیر سگالی اور امن و مساوات کی قندیلدیںروشن رکھنے کا جذبۂ بے اختیار بھی تھا۔ Ludmila Vasileva  ماسکو میں فیض سے قریب تر رہنے والی شخصیتوں میں شامل ہیں۔انہوں نے فیض کو ایسے دانشور کی شکل میںپیش کیا ہے جس نے تمام عمر نو آبادیاتی کی تکذیب کرنے والے ادب  اور ما بعدنوآبادیاتی ادب سے خود کو وابستہ رکھا  (۴)۔  اپنی تصنیف  Culture and Imperialism میں ایڈورڈ سعید نے بارہا فیض کا ذکر مابعد نوآبادیات کے مبصر کی حیثیت سے کیا ہے(۵)۔اس کے با وجود ‘  بقول ادیب خالد ‘  ما بعد نو آبادیاتی نقادوں کی جتنی توجہ کے متقاضی فیض ہیں ‘  وہ انہیں اب تک نہیں ملی۔ (۶) پاکستان ٹائمزکے متفرق اداریے بھی فیض کے اس تصور کی توثیق کرتے ہیں کہ ان کی نظروں میں سچا فنکار وہ ہے جس کی فنکارانہ وابستگی بین الاقوامیت کے تصور کو بالیدگی عطا کرتی ہو۔ ان کے اداریوں سے صراحت ہوتی ہے کہ انہوں نے فن ‘  رجائیت اور انسان دوستی پر اپنے بے پایاں اعتماد کے وسیلے سے نہ صرف یہ کہ تیسری دنیا بلکہ پوری دنیا کو جو تحفہ دیاوہ بنی نوع انسان سے ان کی بے لوث محبت کی علامت ہے۔

      فیض کی شاعری میں رموز و علائم کی خوبصورت بندشوں میں محصور نظریئہ حیات ‘  اور تدبروتفکر کی محزن  لہریں ان کے اداریوں میں شعلہ بیانی کی شان بے نیازی  سے مملو ہیں۔ سامراجیت ہو یا فسطا ئیت ‘ خواہ  ہندوئوں کی ہو ‘ مسلم لیگیوں کی یا نازیوں کی ‘ فیض نے ہمیشہ اپنے اداریوں میں ان کی مخالفت بھی کی اور انہیں تاراج کرنے پر بھی کمربستہ رہے۔پاکستان کے سیاسی انتشاروبحران اور حکومت کی ناعاقبت  اندیشیوں سے وہ اتنے کبیدہ خاطر تھے کہ انہوں نے بھی میاں صاحب کی طرح ‘  حکومت کے خلاف آواز بلند کرنا اور اسے عوام تک پہنچانا اپنا فریضہ تصور کیا۔حکومت  کے گمراہ کن قوانین و تجاویز کو اپنے اداریوں کاموضوع بناتے ہوئے انہوں نے اپنی فکری وابستگی کے واضح ثبوت فراہم کئے ہیں۔ میاں صاحب جب ایوان میں  Public Safety Act کے نفاذ کی مخالفت کر رہے تھے ‘  فیض  نے اپنے اداریے میںاسے ایسے قانون سے موسوم کیا  جس سے حاصل ہونے والے اختیارات حکومت کے جبرواستبداد کو مزیدتند کر دینے کی مکمل گنجائش رکھتے تھے۔انہوں نے ۱۵ ؍اپریل  ۱۹۴۸  کے اداریہ میںمتعلقہ ایکٹ کی فاش لفظوں میں مخالفت کرتے ہوئے لکھا کہ:
 غلامی اور آزادی کے درمیان کوئی پڑائو نہیں ہوتا۔اب تو یہ عوام پہ منحصر ہے کہ وہ اس گرانقدر آزادی کے صلے میں ان خطروں کو خود پہ مسلط ہونے دیں  اور اپنی حریت و حمیت کو ان کی غذا بنا کر مکتفی ہو لیں۔زمام حکومت کو مہیا کرایا جانے والا Public Safety Act کا یہ اسلحہ بڑا ہی مہلک ہے۔یہ نہ ہی بچوں کا کھلونا ہے اور نہ ہی سادیت پسندوں کا۔اسے بہر قیمت ان سے چھین لینا ہوگا ،یاپھر انہیں اس کا صحیح استعمال سکھانے کے لئے پہل کرنی ہوگی کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جن سے اس کے صحیح استعمال کی توقع نہیں کی جا سکتی۔یہ وہ ملعون لوگ ہیں جن کے بطون میں مانند فیل کینہ پروری موجود ہے ‘  اور ان میں گرگ صفت درندگی موجود ہے۔(۷)
     
          فیض متفکر بھی تھے اور متوحش بھی کہ جن خوابوں نے ایک نئی ریاست کے قیام کی سبیلیں پیدا کی تھیں ‘  وہ بکھرنے لگے تھے اور نو زائیدہ ملک نئے فتنوں کا شکار ہو چکا تھا۔فیض نے پاکستان ٹائمز کو مسلم لیگی اخبار کہتے ہوئے  ۴؍فروری  ۱۹۴۷  ہی کے شمارے میں کہا تھا کہ متعلقہ اخبار  ۳۰  لاکھ مسلماتوں کی آواز ہے۔اسی اداریے میں انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی تھی کہ پاکستان ایسا ملک ہوگا کہ جہاں اقلیتوں کو متحدہ بھارت کے بمقابلہ زیادہ آزادیاں حاصل ہونگی۔لیکن اب صورتحال ان امیدوں کے برعکس ہی نہیں ،  ناقابل یقین حد تک بگڑی ہوئی بھی تھی۔فیض کی دور اندیشی  نے اس صورتحال کو آزادی کے ووسرے دن ہی  بھانپ لیا تھا۔ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷  ہی کے شمارے میںپاکستان کے قیام پر مسرت کا اظہار کرتے ہو ئے انہوں نے قتل و غارت گری سے دل برداشتہ ہو کراسے خون میں نہائی ہوئی آزادی سے بھی موسوم کیا‘ اور یہ اندیشہ بھی  ظاہر کیا کہ آیا یہ نو زائیدہ ملک کبھی اپنی آزادی کی قیمت سمجھ بھی پائے گا۔یہ اندیشہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یقین میں تبدیل ہوتا گیا ‘ اور فیض ہمیشہ ایک ایماندار مدیر کے فرئض ادا کرتے ہوئے معاشرے کی رہبری کرتے رہے۔ ان کی  صاف گو ئی کی مزید مثال کے طور پہ  ان کے ا یک  اداریہ کا  نقل ذیل اقتباس ملاحظہ فرما ئیں۔
 مغربی پنجاب کی اسمبلی تحلیل کر دی گئی ہے۔ اٹھارہ ماہ سے  مفاد پرستوں ‘ خود غرضوں اور مصلحت پسندوں کے جس غول نے آزادی کی میت کو مذاق بنا رکھاتھا ،  ا سے نابود کر دیا گیا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہر ایک بالغ شہری کوحق رائے دہندگی حاصل ہو۔ہم اس اسلامی مساوات کا مطالبہ کرتے ہیں جس نے غربت اور امارت میںکوئی فرق روا نہیں رکھا۔ہم اپنی آزادی کا واسطہ دے کر ان سب کا مطالبہ کرتے ہیں جو ہمارا حق بھی ہے اور ہمارا اجتماعی ورثہ بھی۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی کو بھی یہ اختیار نہ دیا جائے کہ وہ مسلم لیگ کے شاندار ماضی کا استعمال اپنے مفاد کے لئے کرنے لگے کیونکہ یہ وہ وراثت ہے جو پوری قوم کے لئے باعث افتخار ہے۔ ہم یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ کوئی بھی سیاسی  بازیگر کسی بھی شہری کے حقوق پامال نہ کرے ‘ اور نہ ہی کسی کی حمایت یا مخالفت میں حد سے گذر جائے۔(۸)

فیض جب بھی پاکستان  کے سیاسی معاملات  یا  سیاستدانوں کو موضوع بناتے ہیں ‘  ـا ن کے لہجے میں درشتگی آ جاتی ہے۔اقبال کے جشن صد سالہ کے موقع پرانہیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہ تھاکہ جس اقبال کی تعریف و توصیف میںہم روزوشب رطب اللساں رہتے ہیں ‘ ان کی یادگار کی شکل میںاک مقبرہ ہے ‘ وہ بھی نا مکمل جبکہ معمولی افسروں ‘ میونسپل کے ملازموں ‘  سیاسی مفادپرستوں اور زرپرستوں کی مدارات میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔( ۹) محمد علی جناح کی وفات پر اپنے اداریے میںانہوں نے یہ اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ اب نہ جانے پاکستان سلامت و ثابت قدم رہ پائے گا ‘  یا نہیں۔ہندوستان نے توگاندھی کا غم برداشت کرتے ہوئے ترقیوں کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے ‘ لیکن پاکستان نا قابل تلافی خسارے میں ہے۔(۱۰ )

         وہ فیض جس نے۱۹۴۳ میں نظم  ’ایک سیاسی لیڈر کے نام‘  لکھ کر گاندھی کے تئیں اپنے سخت محاسبہ کا اظہار کیا تھا ‘ وہی فیض اب اپنے خواب کے ملک  کے معاملات سے اتنا شکستہ ہو چکا ہوتا ہے کہ گاندھی کے سانحئہ قتل پہ قلم برداشتہ لکھتا ہے۔ـ’گاندھی جی۔زندہ باد ‘  کے عنوان سے شائع  اداریہ یقینا حکومت پاکستان کے لئے تکلیف دہ رہا ہوگا۔اس اداریے کا ابتدائی حصہ ملاحظہ فرمائیں:
 برطانوی روایتوں کے مطابق بادشاہ کی رحلت کی خبر عام کرنی ہو توکہا جاتا ہے کہThe King is Dead! Long Live The King!۔ برسوں قبل  سی۔آر۔ داس کی رحلت پہ گاندھی جی ہی نے لکھا  تھا:   Deshbandhu is Dead! Long Live Deshbandhu!!
 ہم نے گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یہ عنوان چسپاں کیا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موجودہ صدی میںانسانیت اور مظلوموں کی بے لوث خدمت کرنے والی ایسی کوئی اور شخصیت نہیں جسے زمانہ زندہ جاوید بنا سکے۔۔۔ہم  اپنے مشکوک ہندوستانی بھائیوںکوبآواز بلند یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ گاندھی جی کی رحلت جتنی تکلیف دہ ہندوستان کے لئے ہے ‘  اتنی ہی پاکستان کے لئے بھی ہے۔(۱۱)
فیض نے پاکستانی حکو مت کی سخت بندشوں ‘  اور بذات خود ہندوستان کی نا مساعدصورتحال کے باوجود گاندھی کی آخری رسوم میں شرکت کے لئے ہندوستان کا سفربھی کیا۔
       
           اس قلب ماہیت کی بنیادی وجہ تشکیل پاکستان کے بعد ملک کے قائدین میں دفعتاًابھر آنے والی وہ  مفادپرستی تھی  جس نے ملک و عوام کی فلاح کو کاری ضرب لگائی۔حیف ‘ کہ ببانگ دہل سچ کو سچ ‘ اور غلط کو غلط ثابت کرنے والی یہ آوازعصر ۹؍مارچ  ۱۹۵۱ کے سانحہ کے بعدجوش و ولولہ ‘  تندی و گیرائی کی اس بلندی کو پھر حاصل نہ کر سکی۔  ۱۹۵۵  میں رہائی کے بعد فیض نے کم و بیش آٹھ ماہ تک خود کو   Progressive Papers Limited سے وابستہ تو رکھا لیکن وہ جذبۂ تند خو نہ رہا۔
   
           بین الاقوامی معاملات پر لکھے فیض کے ’پاکستان ٹا ئمز‘ کے اداریوں کی عبارتیں دلا ئل و منطق کے علاوہ زور بیان کی حامل بھی ہیں۔فیض نے جب کبھی خانگی سیاسی بحران اور معاشرتی انتشارکو موضوع بنایا تو ان کی عبارتوں میں ہیجانی کیفیت در آئی جس میں معماران قوم کے وعدوں اور دعووں کے کھو کھلے پن کی وجہ سے غم و غصہ ‘  جھنجھلاہٹ اور نفرت کے پہلو بہ پہلو حب وطن‘ ہم وطنوں سے محبت ‘ اور مستقبل کی امیدیں بھی شامل ر ہیں۔فیض کی انگریزی عبارتوں کے فقرے چبھتے ہوئے اور طویل ہوتے ہیں۔ان میں ‘ حسب موقع ‘  محاورات اور ضرب الامثال کی فراوانی بھی ملتی ہے۔ان اداریوں کی نثر میںموجود جوش و ولولہ کا پر زور آہنگ اور عزم مستحکم کی قوت ماضی و مستقبل کو بیک وقت اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔فارغ بخاری نے درست ہی لکھا  ہے کہ فیض نے چیف ایڈیٹر کے طور پر ایسے جوہر دکھائے کہ صحافت کی کایا پلٹ دی۔سچ پوچھئے تو ان دو اخباروں(پاکستان ٹائمز اور امروز) نے بیرونی دنیا میں پاکستان کا وقار بلند کیا۔اگر یہ نہ ہوتے تو نہ جانے نا اہل حکمرانوںکے ہاتھوں اس ملک کی  لٹیاکب کی ڈوب چکی ہوتی۔( ۱۲)  ۱۹۵۱  میں میاں افتخارالدین کے مشیر رہ چکے حمید اختر کا خیال ہے کہ ایک ایسا شخص جسے  Progressive Papers Limited  کے اشاعتی گروپ کا چیف ایڈیٹر بننے سے قبل  صحافت کا ذرہ برابر بھی تجربہ نہ تھا ‘ اس کی مدت کار میںTimes Magazine نے  ’پاکستان ٹا ئمز‘ کوایشیا کے Best Edited اخبارکا مرتبہ عطا کیا تھا۔  یہ بعید از قیا س نہیں کہ حکومت اس اخبار کی بے پناہ مقبولیت کی ہی وجہ سے فیض سے خار کھائے بیٹھی ہو ‘  ا ور  راولپنڈی سازش محض ایک بہانہ ہو۔
       
          شاعر فیض کے بمقابلہ صحافی فیض وہ آتش بارشخص ہے  جسے ’  لندن ٹائمز ‘  نے  ۱۰؍ مارچ  ۱۹۵۱  کے اداریے میں پاکستان  کا    ’ سب سے خطرناک شخص ‘  تصور کیا تھا۔
                                            ::::::::::::::::::::::::::::::
حوالے:
۱ :      ’ فیض کی شاعری کے چند پہلو ‘۔  رشید حسن خاں ، مشمولہ:’فیض احمد فیض۔تنقیدی جائزہ ‘  ، (مرتبہ)  خلیق انجم، انجمن ترقی اردو                                       (ہند)، دہلی، ۱۹۸۵۔ص  ۱۹۵
۲ :    "Let Them Snuff Out the Moon": Faiz Ahmed Faiz's Prison Lyrics in Dast-e Saba, by Ted Genoways; in The Annual of Urdu Studies; Department of Languages and Cultures of Asia, University of Wisconsin: vol. 19, 2004; 96
۳ :     "Faiz Ahmed Faiz: Life and Poetry", by Dr. Ali Madeeh Hashmi, inpaperMagazine (online), 23rd February, 2011
۴ :    "The Life and Works of Faiz Ahmad Faiz" (Review Article), by Adeeb     Khalid, The Annual of Urdu Studies, vol 19, 2006:96
۵ :    Said, EDWARD W: 1984,"The Mind of Winter: Reflections on Life in
 ۶ :       "The Life and Works of Faiz Ahmad Faiz" ibid.64
۷ :       پاکستان ٹائمز  ۱۵ ؍اپریل  ۱۹۴۸  ( سبھی تراجم۔ام ہ)
۸ :       پاکستان ٹائمز ‘  ۲۵ ؍ جنوری ۱۹۴۹
۹ :       پاکستان ٹائمز ‘  ۲؍اپریل  ۱۹۴۸
۱۰ :       پاکستان ٹائمز ‘  ۱۳؍اگست  ۱۹۴۸
۱۱ :       پاکستان ٹائمز‘ ۲؍فروری  ۱۹۴۸
۱۲:      ’  فیض کی باتیں، فیض کی شاعری ‘  ، از فارغ بخاری۔مشمولہ:’فیض احمد فیض۔تنقیدی جائزہ  ‘ ایضاً۔ص  ۹۳
۱۳ :     Hameed Akhtar: Herald Exclusive: Editorial Excellence, 28th
                            www.dawn.com28th December, 2011
۱۴ :       "Let Them Snuff Out the Moon"ibid. 95


یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟