فیض کا حاسہء انتقاد : ڈاکٹر محبوب ثاقب ۔لاٹور، مہاراشٹر، انڈیا
دنیائے ادب میں بہت کم ایسا ہوا ہے کہ کسی شاعر یا ادیب کو اس کی حیات ہی میں بے پناہ شہرت و مقبولیت ملی ۔اس سلسلے میں مثل مشہور ہے کہ یہ دنیا  ’قدرمردم بعد مردن‘ کی قائل ہے۔ اس لیے کہ یہاں کسی زندہ ہستی کی حقیقی عظمت کا اعتراف کرنا کسر شان سمجھا جاتا ہے ۔میر و ؔغالبؔ جیسے بلند پایہ شعرا بھی اس’’ ناقدریِ ابنائے وطن‘‘ کا رونا تادمِ حیات روتے رہے لیکن اردو کے چند معدودے فن کار ا یسے بھی ہوئے ہیں جن کی شہرت و مقبولیت کا آفتاب ان کی حیات ہی میں نصف النہار پر پہنچ چکا تھا ان میں علامہ اقبال کے بعد فیض احمد فیضؔکا نام لیا جاسکتا ہے۔فیض ؔ بڑے خوش قسمت تھے۔ انہوں نے اپنی قدر شناسی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔اس بات کا احساس فیضؔ کو بھی تھا۔انھیں اپنی اس قدر دانی پر فخر توتھا لیکن وہ اسے اپنی حد سے زیادہ عزت سمجھتے تھے۔فیض ؔ نے خود اس بات کا اعتراف ظفرالحسن سے کی گئی ایک گفتگو میں کیا ہے ۔ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
’’ ہمارے شعرا کو مستقلاََ یہ شکایت رہی ہے کہ زمانے نے ان کی قدر نہیں کی ۔’ناقدریِ ابنائے وطن ‘ ہماری شاعری کا ایک مستقل موضوع ہے ہمیں اس سے الٹ یہ شکایت ہے کہ ہم پر لطف و عنایات کی اس قدر بارش ہوتی رہی ہے ،اپنے دوستوں کی طرف سے اپنے ملنے ولوں کی طرف سے ،اور ان کی جانب سے بھی جنہیں ہم جانتے بھی نہیں کہ اکثر ندامت ہوتی ہے کہ اتنی داد و دہش کا مستحق ہونے کے لیے جو تھوڑا بہت کام ہم نے کیا ہے اس سے بہت زیادہ ہمیں کرنا چاہیے تھا ۔‘‘   ۱؎

عموماََ بڑا فن کا ر اپنے کام کو معمولی گردانتے ہوئے یہی کہتا ہے جو درج بالا اقتباس میں فیضؔ نے کہا ۔فیضؔ بچپن ہی سے ذہین و متین تھے ۔ان کی کتابِ حیات کا مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کا بچپن کھیل کود میں کم اور پڑھنے لکھنے اور گھر کی دیگر ذمہ داریاں پوری کرنے کے علاوہ ایسے بزرگوں کی صحبت میں گزرا جن کی صحبت سے فیضؔ کی صلاحیتوں کوپھلنے پھولنے کے بھر پور مواقعے ملے ،جس کا اثر ان کی شخصیت اور فن پر واضح طور پر نظر آتا ہے۔فیض ؔنے نظم نگاری کے ساتھ ادبی دنیا میں قدم رکھا ۔ان کی پہلی تخلیق ’’ میرے قاتل کی موت ‘‘کا لج رسالہ ’’ راوی ‘‘ میں۱۹۲۹ء میں شائع ہوئی ۔فیض ؔ کا اصل میدان شاعر ی ہے لیکن فیضؔ نے شاعر ی کے علاوہ نثر میںبھی اپنی جولانیِ طبع کے جوہر دکھائے ہیں۔ وہ اردو کے ہمہ جہت فن کار تھے۔وہ ایک طرف نظم تراش ،غزل نقاش ،رباعی گو اور قطعہ نگار ہیں تو دوسری جانب صحافی بھی ہیں اور ناقد بھی ۔فیض کا ادبی سرمایہ پچپن برسوں پر محیط ہے ۔ اس دوران انہوں نے اردو ادب میں جو سرمایہ کا اضافہ کیا اسے کلیات کی شکل میں’’ نسخہ ٔ ہائے وفا ‘‘ کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے۔

فیض ؔ کے سرمایائے شعر و نظم پر تو ہمارے ارباب نقد نے اب تک بھر پور رورشنی ڈالی اوریہ سلسلہ ہنوز جاری ہے لیکن ان کی نثر ی کاوششیں آج بھی احباب فکر و فن اور اہل نظر سے اپنی قدر شناسی کا تقاضہ کررہی ہیں۔فیضؔ کی نثری خدمات میں تنقیدپر بہت کم لکھا گیا ۔جب ہم فیض ؔ کے حاسئہ انتقاد کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ تنقید کے سلسلے میں صحت مند خیالات رکھتے تھے ۔ان کی تنقید نگاری تعمیر کا حسن رکھتی ہے ۔اس میں توازن ہے ۔وہ تخلیق کو پرکھتے وقت سب سے پہلے اس میں ادبیت دیکھتے ہیں ۔اس کے بعد اس کی قدر و قیمت کا تعین کرتے ہیں ۔اس سلسلے میں یہاں آل احمد سرور کا یہ قول درج کرنا بے محل نہ ہوگاجو فیض ؔ کے نظریہ شعر و ادب سے ملتا جلتا ہے:
’’میں پہلے ادب میں ادبیت دیکھتا ہوںبعد میں کچھ اور ۔گویا یہ جانتا ہوں کہ ادب میں جان زندگی سے گہرے اور استوار تعلق سے آتی ہے۔ میں ادب کا مقصد نہ ذہنی عیاشی سمجھتا ہوں نہ اشتراکیت کا پرچار ۔میں محض نیا پرانا کہلانا پسند نہیں کرتا ۔میں نیا بھی ہوں اور پرانا بھی ۔لیکن قدرتی طور پر اپنے دور کے میلانات و خیالات سے متاثر ہوں ۔میں مغربی اصولوں ،نظریوں اور تجربوں سے مدد لینا اردو ادب کے لیے مفید سمجھتا ہوں مگر اس کے یہ معنی نہیں لیتا کہ اپنے تہذیبی سرمائے کے قابل قدر حصوں کو نظر انداز کردوں۔‘‘  ۲؎
 
ہم جب فیض ؔ کی تنقید ی صلاحیتوں کو جانچنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ آل احمد سرور کے درجہ بالا قول پر پوری اترتی نظر آتی ہے ۔کیونکہ ان کی تنقید کی سب سے نمایاں خوبی ان کا متوازن رویہ نقد و نظر ہے ۔فیض ؔ کی تنقید کوبے جا تعریف و توصیف اور حد سے زیادہ جذباتیت سے کوئی علاقہ نہیں ہے۔فیض ؔ نے ۱۹۳۸ ء سے تنقیدی مضامین لکھنے شروع کیے ۔اس وقت ان کی عمر ۲۸ برس تھی ۔تنقید کے لیے ناقد کا با شعور ہونا ضروری خیال کیا جاتا ہے ۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو فیض ؔ نے اس وقت تنقید میں طبع آزمائی کرنی شروع جب وہ ایک پختہ کار ذہن کے مالک ہوچکے تھے۔ فیضؔ کے تیرا تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’’میزان ‘‘ کے عنوان سے ۱۹۶۲ء میں منصہ شہود پر آیا  ۔ ’’میزان ‘‘ کی ورق گردانی کرتے وقت ہمیں ایسی کئی مثالیں مل جاتی ہیں کہ فیض ؔ ترقی پسند ہونے کے باوجود ان کے نظریۂ ادب میں’’ادب برائے ادب ‘‘ کو اولیت حاصل ہے ۔یہاں یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ فیضؔ کے حاسئہ انتقاد کا اندازہ لگانے کے لیے صرف ان کی کتاب ’’میزان ‘‘ ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کے ادب سے متعلق انٹرویوز ، اداریے،مختلف اوقات میں ادب اور فن پر کی گئی گفتگو اور مباحثوں کے علاوہ ان کے اپنی اور دوسروں کی کتابوں پر لکھے گیے پیش لفظ وغیرہ کا مطالعہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔

فیض ؔ کے حاسئہ انتقاد اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں ہی پروفیسر پطرس بخاری جو ان کے عزیز استاد تھے ‘انہوں نے اپنی کتاب’’ مضامین پطرس‘‘ پر نظر ثانی کرنے اور اس پر پیشِ لفظ لکھنے کی خواہش فیض سے کی تھی ۔دراصل یہیں سے فیض ؔ کے تنقید کی ابتداہوتی ہے۔فیضؔ کے تنقید کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ انہوں نے ترقی پسند تحریک سے اپنی وابستگی کے باوجود ترقی پسند شعراء و ادبا پر تنقید کی تو غیر جانب داری سے کام لیا ۔ دوسری خاص بات جو فیض کی تنقید نگاری میں پائی جاتی ہے وہ یہ کہ فیضؔ جذبات میں آکر جذبات کی رو میں بہہ نہیں جاتے ورنہ جذباتیت ہم اردو والوں کی دائمی کمزوری ہے۔فیض نے اپنے مضامین میں اردو کے مختلف فن کاروں اور ان کے فن پر روشنی ڈالی ہے اور مختلف اصناف نثر پر بھی نہایت مربوط و جامع خیالات کا اظہار کیا ہے۔

’’میزان‘‘ میں شامل مضامین کی فیض نے درجہ بندی کی ہے ۔پہلا حصہ ’ نظریہ ‘ دوسرا ’ مسائل ‘ تیسرا ’ متقدمین ‘ اور آخری ’ معاصرین ‘ کے عنوان سے ہے ۔فیض احمد فیض ؔ کا مطالعہ وسیع تھا ۔غور و فکر ان کی عادت تھی ۔جب بھی کسی پر تنقید کرتے تھے ،کافی غور و فکر کے بعد قلم اٹھاتے تھے جب تک کسی موضوع کی تہہ تک نہیں پہنچ جاتے کوئی فیصلہ نہیں کرتے اور  جب کوئی فیصلہ کر لیتے تو اس پر آخر تک قائم رہتے تھے۔فیض نے ان مضامین کی اشاعت کے ۲۵ سال بعد جب انہیں کتابی شکل دی تو ان میں کسی طرح کا کوئی بدلائو نہیں کیا اور اپنی رائے پر قائم رہے ۔میزان میں شامل اپنے مضامین کے تعلق سے فیض ؔ کی رائے ہے:
’’ان میں سے بیشتر مضامین ۲۵ برس پہلے جوانی کے دنوں میں لکھے گیے تھے ۔بہت سی باتیں جو اس وقت بالکل نئی تھیں اب پامال نظر آتی ہیں اور بہت سے مسائل جو ان دنو ں بالکل سادہ معلوم ہوتے تھے اب کافی پیچیدہ دکھائی دیتے ہیں ۔ چنانچے اب جو دیکھتا ہوں تو ان تنقیدی مضامین میں جگہ جگہ ترمیم اور وضاحت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے لیکن میں نے رد و بدل مناسب نہیں سمجھا اول اس لیے کہ بنیادی طور پر ان تنقیدی عقائد سے اب بھی اتفاق ہے اور دوئم اس لیے کہ ہمارے ادب کے ایک خاص دور اور اس دور کے ایک مکتب فکر کی عکاسی کے لیے ان مضامین کی موجودہ صورت شاید موزوں ہو۔‘‘  ۳  ؎
فیضؔ نے ادب کے ترقی پسند نظریے، ادب اور جمہوریت ،شاعری کی قدریں ،فن تخلیق اور تخیل ،موضوع اور طرزادا ،پرانی روایتیں اور نئے تجربات اور اسی طرح متعدد موضوعات اور مسائل پر مضامین لکھے ہیں ۔فیض نے حالی کی طرح اصنافِ سخن پر کوئی خاص تنقید تو نہیں کی لیکن اپنے مضمون ’’شاعری کی قدریں ‘‘ میں انہوں نے ایک اچھے اور کامیاب شعر کی تعریف کچھ اس طرح کی :
’’مکمل طور پر ایک اچھا شعر وہ ہے جو فن کے معیار پر ہی نہیں زندگی کے معیار پر بھی پورا اترے ‘‘ ۴؎

 یعنی شاعری کے لیے کتاب حیات کا مطالعہ فیضؔ کی نظر میں سب سے زیادہ اہم ہے ۔اس کے علاوہ فنی مہارت کا ہونا بھی ناگزیر ہے ۔فیضؔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور درس و تدریس سے بھی کچھ عرصہ ان کی وابستگی رہی ہے ۔شائد یہی وجہ ہے کہ انہوں نے شاعری کے علاوہ تنقید کے میدان میں بھی قدم رکھا کہ اکثر دوران تدریس طلبہ کو سمجھاتے وقت ادب و شعر کی تشریح و تفہیم کا مسئلہ زیر بحث رہتا ہے ۔فیضؔ نے ہندوستان کے علاوہ کئی بیرونی ممالک کی سیر کی ہے ۔ان ممالک کے تہذیبی و ثقافتی ورثہ کاجائزہ لیا ہے ۔ہندوستان تو ان کا اپنا ملک تھا اس کے تہذیب و تمدن سے واقفیت ہونا حیرت کی بات نہیں ہے ،فیضؔ نے ایک مضمون ’’ادب اور ثقافت ‘‘ کے عنوان سے لکھا ۔اس مضمون میں انہوں نے ادب اور ثقافت کے درمیانی رشتے پر بھر پور روشنی ڈالتے ہوئے ادب کوثقافت کا ناگزیر جزو قراردیا ہے ۔ملاحظہ فرمائیں :
’’ ادب کلچر کا سب سے ہمہ گیر ،سب سے نمائندہ ،سب سے جامع اورسب سے موثرجزو ہے۔‘‘ ۵؎

فیض ؔ نے شعری ادب کے تعلق سے اپنے نظریے کے علاوہ نثری ادب کی اصناف ڈراما اور ناول کے فن پر ناقدانہ گفتگو کی ہے ۔خاص طور پروہ ناول نگاری کے فن پر گفتگو کرتے ہیں تو ان کے تنقیدی جوہر کچھ زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں ۔اس کی ایک خاص وجہ ہے کہ فیضؔ کو بچپن ہی سے ناول کے مطالعے کا شوق تھا ۔فیضؔ کی کتاب ِ حیات کا مطالعہ سے شہادت ملتی ہے کہ اس سلسلے میں انھیں اپنے والد سے ڈانٹ بھی کھانی پڑی۔لیکن ان کے والد نے جب یہ دیکھا کہ لڑکابڑے شوق سے ناول پڑھتا ہے، تو انہوں نے ترغیب دی کہ ناول پڑھنا ہی چاہتے ہو تو انگریزی ناول پڑھو۔اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اس وقت تک اردو میں قابل قدر ناولوں کا خزانہ نہیں تھا ۔فیض ؔ نے اپنے والد کی صلاح پر عمل کیا اور انگریزی ناول ان کے مطالعے میں آگئے۔اسی مطالعہ کا اثر تھا کہ فیضؔ ناول نگاری کے فن سے اچھی طرح واقت ہوگئے اور جب انہوں نے ہمارے ناولوں کا بھی بھرپور مطالعہ کر لیا تو اردوناول کا اصل سرمایہ نہایت قلیل نظر آیا۔لیکن وہ اس مختصر سرمایے پر بھی مطمئن ہیںاور اس سرمائے پر جو رائے دی اس کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔فیضؔ رقم طراز ہیں :
’’ ایسے ناول جنہیں آپ سنجیدہ کتابوں کی الماری میں رکھ سکیں جیسے میں نے عرض کیا یہی درجن دیڑھ درجن ہونگے۔تاہم اس مختصر پونجی سے بھی چند ایک رجحانات کا پتہ ضرور چلتا ہے۔‘‘  ۶؎      

فیضؔ نے شرر کی ناول نگاری کا جائزہ بڑی فن کاری سے لیا ہے ۔انہوں نے مختلف دلائل سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ شرر ناول نگار نہیں قصہ گو ہیں ۔مکالمہ نگاری کسی بھی ناول کا اہم جزو ہوتی ہے کیونکہ اسی سے کردار کی شخصیت کی گتھیاں کھلتی ہیں ۔انسان کے رہن سہن سے اس کی شخصیت کا کچھ کچھ اندازہ ضرور ہوتا ہے لیکن مکمل اندازہ اس کی گفتگو سے ہی ہوتا ہے ۔ناول کے فن پر فیض ؔ کی گفتگو دیکھئے جس کے مطابق شرر کے بیشتر کردار ،منصور،عزیز،زبیر،صلاح الدین ،رچرڈز ایک ہی شخص کی مختلف تصاویر معلوم ہوتی ہیں :
’’ وہ (شرر) ہر ایک بات ایک ہی لہجے اور ایک ہی انداز سے کہتے ہیں ۔ ایک ناول نویس میں یہ خوبی کمزوری میں بدل جاتی ہے۔اسے ہر قسم کے اشخاص ،ہر طرح کے کردار پیش کرانے ہوتے ہیں ۔ان کی شخصیت کا اظہار واقعات سے زیادہ ان کی گفتگو اور بول چال سے ہوتا ہے ۔اگر وہ سب کے سب ایک ہی طریقے سے گفتگو کریں تو ان کے شخصی امتیازات  بہت حد تک فنا ہوجاتے ہیں شرر میں یہی بڑی کمزوری ہے وہ بول چال کو مختلف سانچوں میں نہیں ڈھال سکے ۔ ان کے سب کردار ایک ہی زبان میں گفتگو کرتے ہیں اور وہ ان کی زبان نہیں۔ قصہ گو کی زبان ہے ۔‘‘   ۷؎

فیض ؔ کی تنقید میں تقابلی تنقید کی جھلکیاں بھی نظر آتی ہیں ۔میزان میں شامل ایک مضمون میں انہوں نے ڈپتی نذیر احمد اور رتن تاتھ سرشار کی ناول نگاری کا تقابل کیا ہے ۔فیض کا ؔ یہ مضمون اکتوبر ۱۹۴۵ ء کے ’’ آجکل ‘‘ میں شائع ہو چکا ہے ۔اس مضمون سے فیض ؔ کے تقابلی تنقید کی ایک مثال یہاں پیش ہے:
’’ نذیر احمد کا مقصد بنیادی طور اصلاحی ہے تو سرشر کا تفریحی ،نذیر احمد کا مزاج متین اور مفکرانہ ہے تو سرشار کا عین ان کے تخلص کے مطابق۔نذیر احمد کا انداز ناقدانہ اور ناصحانہ ہے تو سرشار کا خالص بیانیہ ۔لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ نہ صرف ’’ ابن الوقت ‘‘ اور فسانہ ٔ آزاد کے مصورااور ان مصوروں کے رنگ اور مو قلم الگ الگ ہیں بلکہ خود تصاویر کے موضوع بھی جدا جدا ہیں ۔مولوی کا سماج دہلی کے سفید پوش گھرانوں سے عبارت ہے تو سرشارکا سماج لکھنئو کے لاابالی افراد اور ان کے گرد گھومنے والی لا تعداد مخلوق کا مرقع‘‘  ۸ ؎

منشی پریم چند ہمارے مختصر افسانے کے بنیاد گزاروں میں سے ہیں۔ اردو اہم ناقدین نے انھیں بلند پایا ناول نگار بھی تسلیم کیا ہے اور ان کے فن کی خوبیاں گنواتے رہے ہیں لیکن فیض ؔ کی دقیق نگاہ نے منشی جی کے فن میں پائی جانے والی خامیوں کو اس انداز میں پیش کیا کہ ہمیں فیضؔ کے حاسہ انتقاد کا قائل ہوناپڑتا ہے ۔وہ پریم چند کی تحریروں کو پرپیگنڈا اور دیہات سدھارکا پامپفلٹ کا قرار دیتے ہیں۔پریم چند کی جنس کے معاملے  میں پہلو تہی کو گرفت میں لیتے ہیں اور ان کے کرداروں کو مثالی کردار قرار دیتے ہیں جن پر ہمیشہ تقدس اور طہارت کا ہالاچڑھا ہوتا ہے ۔ فیضؔ نے پریم چند کے فن میں پائی جانے والی ان کمزوریوں کی نشاندہی آغا عبدالحمید کے ساتھ ایک مباحثہ کی شکل کی ہے جو ۱۸ جون ۱۹۴۱ء کو آل انڈیا ریڈیو ، لاہور سے نشر ہوا تھا۔ مباحثہ ’’ پریم چند‘‘ کے عنوان سے تھا ۔ملاحظہ ہو یہ اقتباس :
’’ جنس کو ہی لے لو انہوں نے ہر جگہ اس موضوع سے پہلو تہی کی ہے۔ ان کے یہاں جب بھی ایک مرد عورت کو آپس میں محبت  ہوتی ہے، تو اس میں وہی طہارت اور تقدس اور روحانیت اور جانے کیاکیا الابلا شامل ہوجاتے ہیں ۔ جنھیں بیس بائیس سال کی عمر تک ختم ہو جانا چاہیے۔پریم چند کے کرداروں کی محبت وہی نوخیز جوڑے کی سی محبت ہوتی ہے‘ جس پر روحانیت اور آئڈیلیزم کا ملمع چڑھا ہوتا ہے۔مجھے پریم چند پر ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ وہ کبھی کبھی اپنے افسانوں میں کھلم کھلا واعظ شروع کر دیتے ہیں ۔یوں تو آرٹ پروپیگنڈے سے خالی نہیں ہوتا ۔لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ ایک ناول نگار پر دیہات سدھار کے پامپفلٹ کا شبہ ہونے لگے ۔‘‘۹؎

فیض ؔ کی تنقید نگاری پر بہت کم لکھا گیا اور جن احبابِ فکر و فن نے قلم اٹھایا ان میں بھی زیادہ تر مبتدیانہ قسم کے نقاد ہیں ۔وہ نقاد جن کی تنقید نگاری کو اردو دنیا میں اعتبار حاصل ہوا ہے ،کم کم ہی ہیں تاہم ان میں سے ایک بڑا نام ہے عبادت بریلوی ہے۔ فیض ؔ کی ناقدانہ عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے ڈاکٹر عبادت بریلوی لکھتے ہیں :
’’ فیض ؔ کے تنقیدی نظریے میں توازن و اعتدال ہے۔ انھوں نے ترقی پسندی ، رجعت پرستی اور اپنے عہد کے دوسرے ادبی و تنقیدی مباحث پر اظہار خیال کیا ہے وہ بنیادی طور پر شاعر تھے لیکن ان کی تنقیدوں میں کسی طرح کی جذباتیت یا انتہاپسندی نہیںملتی‘‘۱۰؎

فیض ؔ نے اپنی تنقید کو مدلل بنایا اور جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی تفصیل سے اس پر بحث بھی کی ۔انہوںنے جب غالب ؔ کی شاعری پر قلم اٹھا یا تو نہ صرف غالب ؔ کے نظریہ ٔ شعر پر اعتراض کیا بلکہ اس اعتراض کا مدلل جواز بھی پیش کیاہے ۔غالب ؔ جیسے نابغہ ٔ روزگار شاعر پر پہلے تو قلم اٹھا نا کسی ایرے غیرے کے بس کی بات نہیں ہے اور جب کوئی اس پر قلم اٹھا رہاہو تاہے ، تو دس نہیں سو بار سوچنا پڑتا ہے اور ہزار بار اس پر نظر ثانی کرنی پڑتی ہے، تب جاکر کچھ کہنے کی گنجائش ہو سکتی ہے ۔فیض ؔ نے یہ کام کیا ہے اور بہت خوب کیا ہے ۔انہوں نے غالب ؔ کو نظریہ ادب پر بحث کی ہے اور ان کی اس تلقین کو رد کیا ہے کہ شاعر کی آنکھ ’’کو قطرے میں دجلہ‘‘ دیکھنا چاہیے۔ دیکھئے یہ اقتباس :
’’ ایک زمانہ ہوا جب غالب ؔ نے لکھا تھا کہ جو آنکھ قطرے میں دجلہ نہیں دیکھ سکتی دیدۂ بینا نہیں بچوں کا کھیل ہے ۔اگر غالبؔ ہمارے ہم عصر ہوتے تو غالبا کوئی نہ کوئی ناقد ضرور پکار اٹھتا کہ غالبؔ نے بچوں کے کھیل کی توہین کی ہے یا یہ کہ غالب ادب میں پروپگینڈا کے حامی معلوم ہوتے ہیں ۔شاعر کی آنکھ کو قطرے میں دجلہ دیکھنے کی تلقین کرنا صریح پروپگینڈا ہے اس کی آنکھ تو محض حسن سے غرض ہے اور حسن اگر قطرے میں دکھائی دے جائے تو وہ قطرہ دجلہ کا ہو یا گلی کی بد رو کا ،شاعر کو اس سے کیا سروکار ! یہ دجلہ دیکھنا دکھانا حکیم ،فلسفی یا سیاست داں کا کام ہوگا شاعر کا نہیں ہے ۔‘‘  ۱۱؎

فیض ؔ نے تنقید نگاری پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے ۔عبادت بریلوی کے مطابق ان کا خیال ہے کہ ہماری تنقید کو تشبہوں یا استعاروں کی ندرت یا مضامین و خیالات کی جدت پر التفا نہیں کرنا چاہیے بلکہ تخلیق کے سماجی پس منظر کا تجزیہ کر کے ہر ادیب کو اس کے ماحول کی روشنی میں جانچنا اور پرکھنا چاہیے ۔ غرض کہ اس مختصر سے مطالعے کے بعد یہ نتائج برآمد ہوتے ہیں کہ فیض ؔ جب تنقید کی غرض سے قلم اٹھاتے ہیں ،تو فن پارے میں ٹھوس اور معنی خیز مواد ، منفرد سلیقہ ٔ اظہار اور آزادانہ تخلیقی رویہ پرز ور دیتے ہیں ۔فیض ؔ نے شاعری کی طرح تنقید نگاری پر بھی توجہ صرف کی ہوتی تو وہ ایک قدآور ناقد کہے جاسکتے تھے۔فیض ؔ کے یہاں فکشن کی تنقید کا ایک خاص ذائقہ ملتا ہے ۔ان کا مطالعہ وسیع، فکر بالیدہ اور ذہن زرخیز تھا۔انہوں نے نہایت بے باکی اور جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غالب ؔ اور پریم چند جیسے جید فنکاروں ہر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے لیکن ہم نے ان کو محض ایک ترقی پسند شاعر کہہ کر ان کی بقیہ تحریروں سے کنارہ کشی کرنے کی کوشش کی ہے۔زیادہ سے زیادہ ایلس کے نام لکھے گئے ان کے خطوط کا مطالعہ کیا ۔حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی نثری تحریروں کا بھی ازسر نو مطالعہ کیا جائے اگر سنجیدگی سے مطالعہ اور تجزیہ کیا جائے تو مجھے یقین ہے کہ ہمارے سامنے فیضؔ کے حاسہ ٔ انتقاد کے وافر مقدار میں ثبوت فراہم ہوں گے ۔
٭٭٭٭
حوالے و حواشی:
۱)  فیض احمد فیض،نسخہء ہائے وفا ،فرید بک ڈیپولمیٹیڈ،دہلی،۱۹۹۷ء ،صفحہ ۴۸۹
۲)نورالحسن نقوی ،فن تنقید اور اردو تنقید نگاری ،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس،علی گڑھ،۱۹۹۵؁،صفحہ۱۴۵
۳)فیض احمد فیضؔ ، میزان،دیباچہ ،صفحہ ۱۳
۴)شاعری کی قدریں ، میزان ، صفحہ ۳۳
۵)ادب اور ثقافت ، میزان، صفحہ ۱۳۶
۶)اردو ناول ، میزان، صفحہ ۱۶۰
۷) اردو ناول ،میزان ،صفحہ ۱۶۶
۸) سرشار ،رسالہ آج کل ، اپریل ۱۹۴۵ ء
۹)مباحثہ ’’ پریم چند ‘‘ تاریخ ِنشر ۱۸ جون ۱۹۴۱ء آل انڈیا ریڈیو ، لاہور
۱۰)ترقی پسند ادب : پچاس سالہ سفر،مرتبین ،پروفیسر قمر رئیس و سید عاشور کاظمی،ترقی پسند ادب پچاس سالہ سفر،ای پی ایچ ،دہلی،۲۰۰۰؁،صفحہ ۵۵۳
۱۱)فیض احمد فیض ؔ ،ابتدائیہ،دست صبا ،ای ۔پی۔ایچ،دہلی،صفحہ ۹
؁  


یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟