فرحت نواز بحیثیت ایک اہم شاعرہ اور نقاد : محمد اویس الحسن خان ۔ اسلام آباد، پاکستان
فرحت نواز کی ادبی شخصیت کے بہت سے روشن و تابناک پہلو ہیں۔ وہ بیک وقت شاعرہ، مترجم، مرتب، مضمون      نگار، کالم نویس اور نقاد ہونے کی گوناگوں صفات سے متصف ہونے کا شرف رکھتی ہیں۔ گوکہ وہ اپنے تعلیمی پس منظر کے حوالے سے شعبۂ انگریزی کی استاد ہیں تاہم ان کی ہمہ جہت ادبی بالغ نظری نے انہیں اردو اور سرائیکی دونوں زبانوں کا بہت معتبر حوالہ بنا دیا ہے۔
  ۱۷۔جون ۱۹۵۷ء کو ڈیرہ نواب صاحب تحصیل احمد پورشرقیہ ضلع بہاولپور میں پیدا ہونے والی فرحت نواز نے اپنی ابتدائی عملی زندگی میں ہی اردو دنیاکے نامور جریدے ’’جدید ادب‘‘ خانپور میں شریک مدیرہ کی حیثیت سے ۱۹۷۸ء سے لے کر ۱۹۸۶ء تک بہت شاندار صحافتی خدمات سرانجام دیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان کا اردو افسانوں کے سرائیکی تراجم پر مبنی مجموعہ ’’منزلاں تے پندھیڑے‘‘ کے عنوان سے ۱۹۸۰ء میں اشاعت پذیر ہوا تو بے حد پذیرائی کا مستحق ٹھہرا۔ اسی طرح جب ان کا ایک اور اہم ادبی کام یعنی ڈاکٹر وزیر آغا کی منتخب اردو نظموں کا سرائیکی ترجمہ ’’چونڑویاں نظماں‘‘ کے نام سے چھپا تو اسے ہر دو زبانوں کے ادباء کی تحسین وستائش نصیب ہوئی۔ انہیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اکبر حمیدی کی غزلوں کے انگریزی ترجمہ کو جمیل آذر اور حامد برکی کے اشتراک  کے ساتھ The Day Shall Dawn کے خوبصورت عنوان سے شائع کیا۔ علاوہ ازیں انھوں نے’’ ۱۹۸۰ء کے منتخب افسانے‘‘ کے نام سے ایک انتخاب بھی کیا جو ۱۹۸۱ء میں منصہ شہود پر ظہور پذیر ہوا۔ وہ اپنے کالج میگزین ’’لمعہ‘‘ کے انگریزی سیکشن کی تاحال نگران ہیں۔ ان تمام مصروفیات کے باوصف بھی انھوں نے شاعری کے حوالے سے اپنا تخلیقی سفر جاری رکھا اور بالآخر ایک طویل توقف کے بعد ان کا پہلا مجموعۂ کلام ’’استعارہ مری ذات کا‘‘ جب منظرِ عام پر ابھرا تو اس نے عالمِ ادب کے اکناف و اطراف میں تازہ ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کا سا فریضہ سرانجام دیا۔فرحت نواز کے اس شعری سفر کی روداد خود فرحت نواز کی اپنی زبانی سنیے:
             ’’میری شاعری، میرا فن میرے لیے اپنی پہچان کا ایک عمل ہے۔ خود کو پہچاننے کا یہ عمل مستقل طور پر جاری رہتا ہے کیونکہ انسانی ذات کی اتنی پرتیں ہیں کہ انسان ساری زندگی خود کو ڈھونڈتا رہے پھر بھی پوری طرح نہیں ڈھونڈ پاتا۔ اپنی پہچان کا یہ عمل مجھے ایک انفرادیت بھی عطا کرتا ہے اور ایک ایسی لذت بھی جسے کوئی نام نہیں دیا جا سکتا، لیکن جسے ایک فنکار یا فن کی پہچان رکھنے والا محسوس ضرور کرسکتا ہے۔‘‘
ان کا یہ معنویت اور معروضیت  پر مبنی یہ انکسار بھرا لہجہ اور رویہ خود اس امر کی گواہی دیتا اور اس ثقاہت پر دلالت کرتا نظر آتا ہے کہ ان کے ہاں وفورِ محبت کے جذبات خلوص و محبت کے رنگوں سے رنگے ہوئے ہیں  اور ان کے کلام میںسادگی، نرمی اور فطری پن  کے عناصر اپنی کنہ میں پائی جانے والی چاشنی و حلاوت کے سبب نہ صرف قارئین کے لیے کشش و جاذبیت کے حامل ہیں بلکہ وہ ایک خاص کیفیت کے طفیل پڑھنے والے کو بھی اپنے دلکش فطری بہائو میں بہاتے چلے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری کا بنظرِ عمیق جائزہ کچھ اس طرح پردہ کشائی کرتا دکھائی دیتا ہے کہ شاعرہ کے باطنی وجود پر روح کے رنگوں کی عجب پھوار سی پڑتی محسوس ہوتی ہے ایسی پھوار جو شام ڈھلے جلتی ہوئی کچی مٹی پر پڑتے ہی ایک طرف تو ہلکا ہلکا سیک اڑاتی دکھاتی دیتی ہے تو دوسری طرف مٹی کی اپنی تاثیر کو ایک سوندھی سوندھی مہک کی صورت بخشتی چلی جاتی ہے۔ یہی سوندھا پن فرحت نواز کی شاعری کا خاصہ ہے جس کے سبب ایک پر اسرار سادگی بھرا رنگ ان کی غزلوں اور نظموں  کے آبگینوں سے جھلکتا اور ہلکورے بھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اسی باعث ڈاکٹر رشید امجد کا یہ کہنا کتنا برمحل دکھائی دیتا ہے کہ:
’’ فرحت نواز جذبوں کی کوملتا اور نرول پن کی شاعرہ ہے۔‘‘ اور یہ کہ ’’ اس کے یہاں جذبہ روح کی ایک بنیادی طلب ہے اور رومان محض جسمانی محبت نہیں بلکہ وجدانی کیفیات کا عکاس ہے۔ ’’محبوب پہلی نظر میں‘‘ جیتا جاگتا انسان ہے مگر پوری نظم کے تخلیقی عمل میں گوشت کی لذتیں منہا ہوکر روح کی رنگینیاں باقی رہ جاتی ہیں۔‘‘

فرحت نواز تخلیقی صفات سے مالا مال دکھائی دیتی ہیں۔ جبھی تو ان کی شاعری بظاہر سادہ سادہ بیانیہ انداز میں وارداتِ قلبی کی روداد پر مبنی اک کتھا کہانی جیسی لگتی ہے لیکن وہ ایکا ایکی ایک ایسا یک لفظی یا یک مصرعی موڑ لاتی ہیں کہ ہماری اپنی آنکھوں کے سامنے موجود منظر دیکھتے ہی دیکھتے بدل بدل سا جاتا ہے اور وہ بدلتا منظر ہمارے اندر فکرو خیال کے نئے دریچے وا کرتا چلا جاتا ہے۔ شاید یہی سبب 
ہے کہ ڈاکٹر رشید امجد بھی فرحت نواز کی شاعری کا جب تجزیہ کرتے ہیں تو حیرت کے ہاتھوں مجبو ر ہو کر کہہ اٹھتے ہیں کہ:
  ’’ ایک عجب بات یہ ہے کہ فوری طور پر اس کی نظمیں سادہ سی محسوس ہوتی ہیں لیکن ایک مصرعہ یا لفظ کو وہ اس طرح تخلیقی حرکت دیتی ہے کہ نظم کے معنی ہی بدل جاتے ہیں۔‘‘
  بات صرف ڈاکٹر رشید امجد کی حیرت تک محدود نہیں رہتی بلکہ پروفیسر مظہر مہدی بھی اپنے تاثرات مشمولہ ’’استعارہ مری ذات کا‘‘ میں اسی عجیب بات کی طرف بلیغ الفاظ میں اشارہ کرتے نظر آتے ہیں کہ فرحت نواز کی شاعری میں خوابوں کا ایک جہان آباد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فرحت نواز کے یہاں ان خوابوں کی اتنی جہتیں ملتی ہیں کہ ان سے صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔
             اس لئے جب حیدر قریشی صاحب کو فرحت نواز کی تازہ نظموں اور غزلوں میں بیس سال کے سکوت کا ٹوٹنا جلترنگ کی جھنکار اور چہکار جیسا لگا تو ہمیں کسی استعجابی کیفیت سے دوچار نہیں ہونا پڑتا کیونکہ ان کا یہ کہنا وسیع معنی رکھتا ہے کہ :
  ’’ محبت کا موضوع اتنا ہی پرانا ہے جتنا آدم و حوا کی قصۂ اور اتنا ہی نیا ہے جتنا ہم سب کی زندگیوں میں چاہے اور چاہے جانے کا جذبہ موجود ہے۔‘‘ اور اسی لیے’’ فرحت نواز کی شاعری میں محبت کی مختلف النوع کیفیات کو عمومی طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر انور سدید نے فرحت نواز کو فطری شاعرہ قرار دیا۔ ایسی فطری شاعرہ جو اپنے جذبات و احساسات کا اظہار پوری روانی اور تازگی سے کرتی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے ہماری شاعرہ سے یہ بھی درخواست کی اب بیس سالہ سکوت کا سلسلہ ٹوٹا ہے تو اس سلسلے کو پھر نہ ٹوٹنے دے۔
فرحت نواز کی شاعری میں نسائی جبلت اور اس کے تقاضے اپنے اظہار کی طرف بڑھتے تو نظر آتے ہیں لیکن ایوب خاور کے خوبصور ت الفاظ میں ’’ ایک ایسی عورت کی ''Creative Sensibility''منظوم ہوتی نظر آتی ہے جس نے زندگی کو 360کے تمام زاویوں  سے نہ صرف دیکھا ہے بلکہ اپنے تخلیقی شعور میں جذب کرکے اظہار کے ایک ایسے سانچے میں ڈھالا ہے جو آج کل سوشل میڈیا پر نظر آنے والی خواتین کے شعری تصور کے نصیب میں نہیں ہے۔ــ‘‘
فرحت نواز کی شاعری میں جدت پسندی تو ملتی ہے لیکن روایت کی پاسداری بھی بہت سلیقہ مندی سے جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ قرینِ قیاس ہوگا کہ انھوں نے ہر دو کے مابین اپنے لیے ایک نیا متوازن راستہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ ان کی شاعری  میں گھرہستی اور گھرہستی سے جڑے افراد کے حوالے سے بھی بہت خوبصورت جذبوں سے لدی پھندی نظمیں پڑھنے کو ملتی ہیں ۔ ان کے پڑھنے سے جو تاثرات جنم لیتے ہیں وہ شہناز خانم عابدی کے بقول کچھ یوں سامنے آتے ہیں:
’’فرحت نواز نے نسائی زندگی کے سچے سیدھے روپ کچھ اس طرح سے نظمائے ہیں کہ مرحلہ وار بچپن، کچی عمر، جوانی، ہم جولیوں کے ساتھ کھیلنے اور خوابوں کے شہزادوں کی آمد کا انتظار کرنے اور ان خوابوں سے قطع نظر کرکے خانہ داری کے بندھن میں بندھے اور سسرال کے فریم ورک میں اپنی جگہ بنانے، بیٹی سے بہو، بہو سے ماں کے مرتبے تک پہنچنے کی روئیداد کو ایک مونتاج کی شکل میں پیش کیا ہے۔ اگر خواتین شعراء کی شاعری کو پیشِ نظر رکھ کر بات کی جائے تو ہم یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ فرحت نواز ہم عصر شاعرات 
سے قطعی مختلف لہجے اور اسلوب کی شاعرہ ہے۔ اور ایک علیحدہ  مقام کی حقدار بھی۔ــ‘‘
اسی تناظر میں فرحت نواز کی ایک نظم ’’بن باس میں ایک دعا‘‘ کا جب جائزہ لیا جائے تو یہ بات حقیقت کا روپ سروپ دھارتی ہمارے آنکھوں کو خیرہ کرنے لگتی ہے۔ آئیے آپ بھی لطف اٹھایئے:
اب کے لچھمن میرے گرد
حفاظت ریکھا کھینچ کے جانا
بھول گیا ہے
لیکن ریکھا نہ بھی ہو تو کیا خدشہ ہے
ہر آفت میں مجھ کو میرے بن باسی
کے سچے پیار کی ڈھال بہت ہے
یوں بھی میرا اس کی خاطر
دنیاکی ہر ایک بلا سے
اپنا آپ بچا رکھنے کا اپنے آپ سے دعدہ ہے
مجھ کو تو بس تنہائی سے ڈر لگتا ہے
اور خدا سے ایک دعا ہے
میرے بن باسی کو اتنی دیر نہ ہو کہ
جسم کے اندر خواہش کا لوبان سلگ کر بجھ جائے
اور پیاس چمک کر مٹ جائے
میرے مالک!
میرے بن باسی کو اتنی دیر نہ ہو کہ دنیا مجھ کو
پھر دوبارہ شک سے دیکھے
پھر ویسا بہتان لگے! 
  فرحت نواز کی شاعری کا اس مختصر مضمون میں کماحقہٗ جائزہ لینا ممکن نہیں ۔ اختصار مانع ہے کہ یہاں مزید حوالے بھی پیش کئے  جاسکیں۔ البتہ یہ بات پورے تیقین اور تنقیدی شعور کے آئینے میں بلا خوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ ان کے یہاں نہ تو موضوعات کی کمی ہے اور نہ اظہار کی۔ وہ اپنے من ساگر سے پھوٹ بہنے والے سبھی دھاروں اور جھرنوں کے جلترنگ سنا دینے پہ قادر شاعرہ ہے بلکہ اس کی 
منظر کشی کردکھانے کی بھی بے مثال صلاحیتوںکی حامل ہے۔ 
  ’’رقصِ وحشت کروں‘‘، ’’بن باس میں ایک دعا‘‘، ’’منت کے دھارے‘‘، ’’ناانصافی‘‘، ’’جائے پناہ‘‘، ’’تیز چلتی ہوا نے تماشا کیا‘‘،  ’’مجھے اک نظم لکھنی ہے‘‘، ’’ایک مشکل‘‘، ’’بچھڑتے لمحوں میںــ‘‘، ’’دعا‘‘ جیسی نظمیں فرحت نواز کی نمائیندہ شاہکار نظمیں کہی 
جاسکتی ہیں۔ 
فرحت نواز جہاں بہت سی دوسری ادبی حیثیتوں کی مالک ہیں وہاں بطور ِ تخصیص ان کی ایک حیثیت نقاد ہونا بھی ہے۔ ان کی اس حیثیت سے جب ہم ان کے مقام کا جائزہ لیتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ انھوں نے جب جب اور جہاں جہاں کسی بھی ادیب کے کام پر تنقید نگاری کی ہے وہاں وہاں خود ان کی اپنی شخصیت کے بے شمار پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ وہ جس موضوع پر قلم اٹھاتی ہیں اس کے تمام پہلوئوں سے انصاف کرتی ہیں۔ سبھی قابلِ ذکر گوشے ان کی نگاہوں کے حلقے میں جکڑے نظر آتے ہیں۔ وہ کوئی بھی تنقیدی رائے بنا دلیل کے قائم نہیں کرتیں۔ دراصل تنقیدنگاری ایک مشکل فن ہے اور اس فن کے تقاضے سمجھنا اور انہیں بطریقِ احسن نبھانا مشکل تر۔ ایک اچھی نثر کی خوبی ہی یہی ہوتی ہے کہ وہ ابہام سے مبرا ہوتی ہے۔ نثرنگار کا اسلوب ایسا ہونا چاہیے کہ پڑھنے والا نہ صرف اس کو بڑی آسانی کے ساتھ سمجھ سکے کہ مصنف کیا کہنا چاہتا ہے ۔ تحریر ادق یا گنجلک نہیں ہونی چاہئے۔ تنقید نگاری کے لیے بہت ضروری ہے کہ نقاد نہ صرف وسیع مطالعہ کا حامل ہو بلکہ وہ خاص تنقیدی شعور ی صفات سے بھی متصف ہو۔اور اگر یہ خصوصیات نہ ہوں تو ضروری ہے کہ ایسا شخص تنقید نگاری سے اجتناب کرے۔ کیونکہ سبھی قابلِ ذکر نقاد حضرات کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی ادب پارے کے حسن وقبح پر رائے زنی کرنا ہر کس و مہ کا 
کام نہیں۔ جو جس کام کی اہلیت رکھتا ہو اسے وہی کام ہی سرانجام دینا چاہیے یعنی جس کا کام اسی کا ساجھے۔
  درج بالا اصول و قواعد کی روشنی میں جب ہم فرحت نواز کا بحیثیت نقاد جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں بڑی خوشگوار حیرت سے دوچار ہونا پڑتا ہے کہ اس میدانِ پرخار میں بھی فرحت نواز نمایاں کامیابی سے سرخرو نظر آتی ہیں۔ اگرچہ ان کا تنقیدی کام زیادہ نہیں تاہم جتنا بھی ہے وہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ وہ نہ صرف موضوع زیرِ بحث سے پوراپورا انصاف کرتی ہیں بلکہ اس کے سبھی گوشوں پر پوری جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالتی ہیں۔ ان کی تنقید نگاری بڑے واضح انداز میں یہ بتاتی ہے کہ صاحبِ تنقید اپنے اسلوبِ تحریر میں سنجیدگی، متانتِ فکر اور وسیع مطالعہ کے روشن پہلوئوں سے وابستہ ہیں۔ ان کی نثر اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ وہ فلسفہ، ادب، مذہب ، اخلاقیات اور تاریخ پر خاصی گرفت رکھتی ہیں۔الفاظ کی نشست و برخاست سے بخوبی واقفیت کی حامل ہیں۔ وہ نہ صرف تنقیدنگاری کے تقاضے ممکنہ طور پر نبھاتی ہیں بلکہ دلائل کے ساتھ نتائج کا استنباط بھی کرتی ہیں۔ یہی بات ان کو ہم عصر نقادوں کی فہرست میں نمایاں جگہ عطا کرتی ہے۔  ایک ٹھوس حقیقت یہ بھی ہے کہ فرحت نواز ۱۹۷۸ء سے ۱۹۸۶ء تک ماہنامہ ’’جدید ادب‘‘ خان پور کی شریک مدیرہ کے طور پر اپنی خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں۔ اہلِ نظر سے یہ بات کسی طور پوشیدہ نہیں ہو سکتی کہ کسی بھی معیاری جریدہ کے مدیر کی اہلیت کن کن خصوصیات سے منسلک ہوتی ہے اور اسے کون کون سی ادبی حیثیتوں کا مالک ہونا چاہیئے، ہوتا ہے بلکہ اسے اپنی ان حیثیتوں کو منوانا بھی پڑتا ہے ۔ جیسے کہ حضرت حفیظ جالندھری مرحوم نے فرمایا تھا :؎ 
حفیظ ؔ اہلِ زباں کب مانتے تھے
بڑے زوروں سے منوایا گیا ہوں
کے مصداق فرحت نواز نے بھی تنقید نگاری کے میدان میں جو نام کمایا ہے وہ ہتھیلی پہ سرسوں جمانے والی بات نہیں ہے بلکہ بقولِ شاعر ، نقش ناتمام ہیں خونِ جگر کے بغیر، والی تصویر کا عکسِ جمیل ہے۔ 
فرحت نواز نے جب اکبر حمیدی کے انشائیوں کا جائزہ لیا تو ان کے انشائیوں کے تمام گوشوں پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے نہ صرف انشائیہ نگاری کے فن کو سمجھا، پرکھا اور اس پر اپنی ذاتی رائے قائم کی بلکہ اس کے بعدہی انھوں نے اکبر حمیدی کے انشائیوں پر اس انداز میں تنقید نگاری کی کہ اس کے قریباََ سبھی پہلو ہمارے آنکھوں کے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں :
’’ اردو انشائیہ کی خوبی یہ ہے کہ اس نے تہذیبی بے چہرگی اور بے یقینی کے عالم میںانسان کو مزید پریشان نہیں کیا بلکہ اس کے یقین اور اعتماد کو بحال کرنے کی کوشش کی ہے۔ دکھ کی حالت میں بھی خوش رہنے کی راہیں تراشی ہیں۔ خوف کے عالم میں حوصلہ بڑھایا ہے۔ ‘‘ 
               اور پھر وہ اکبر حمیدی کے انشائیوں پر مبنی کتاب ’’جزیرے کا سفر‘‘ پر اپنی تنقیدی رائے دیتی ہوئے بالآخر اس نتیجے پر پہنچتی ہیں :
’’ڈاکٹر وزیر آغا کے انشائیوں سے لے کر اکبر حمیدی کے انشائیوں تک تمام جینوئن انشائیہ نگاروں کے انشائیوں میں زندگی کی دھڑکنیں صاف سنائی دیتی ہیں۔ یہ امر بے حد خوشی کا باعث ہے کہ ڈاکٹر وزیر آغا نے اردو انشائیہ کی جو صحت مند روایت قائم کی تھی وہ نہ صرف ادب میں جڑیں پکڑ چکی ہے بلکہ اس کی شاخوں پر اب پھول اور پھل بھی آنے لگے ہیں۔‘‘
             ایسی رائے کوئی پختہ کار ادیب ہی دے سکتا ہے۔ تبھی تو ڈاکٹر انور سدید مرحوم نے اپنی شہرہ ٔ آفاق کتاب ’پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘میں صفحہ نمبر ۲۴۰ پر جب ’’جدید ادب‘‘۔ خان پور کا تذکرہ کرتے ہیں تو دیگر ادیبوں کے ساتھ اس پرچے کی شریک مدیرہ کا بھی بطور خاص تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’یہ ادب کی ایک ایسی نئی جماعت تھی جس کے خلوص و خدمت نے اپنے لئے نئی راہیں تراش لیں۔ اور 
یہ کہ ’’جدید ادب‘‘ نے ’’طغیانِ فکر و نظر پیدا کیا اور اس کی  صدائے بازگشت پورے برصغیر میں سنی گئی۔‘‘
اسی طرح فرحت نوازنے جب اکبر حمیدی کے ریڈیائی کالموں پر قلم اٹھا یا ہے تو بھی اس کے سبھی گوشوں پہ پوری پوری تنقیدی نگاہ ڈالی ہے۔ قارئین درج ذیل اقتباس سے فرحت نواز کی تنقیدی شعور کی لو کو محسوس کرسکتے ہیں:
’’المیہ یہ ہے کہ بہت سے طنز ومزاح نگاراور کالم نگاراپنی تحریروں پر انشائیے کا لیبل لگانا چاہتے ہیں اور جب اس میں کامیاب نہیں ہوتے توپھر انشائیے کی مذمت شروع کر دیتے ہیں۔یہ دراصل ان کی بے بسی کا اظہار ہوتا ہے۔ ‘‘
اور یہ کہ ’’زیرنظر مجموعہ ’’ریڈیو کالم ‘‘ کالم نگاری کو کسی احساس کمتری کا باعث بنانے کی بجائے ادب میں ایک محترم مقام عطا کرتا ہے۔ــ‘‘
اسی طرح فرحت نواز نے جب طارق محمود کے افسانوں پر تنقید نگاری کی تو اس کی ایک جھلک آپ بھی ملاحظہ فرمالیں:
’’مختلف رسائل میں متعدد افسانہ نگاروں کے افسانوں کے ہجوم میں طارق محمود کے مختلف افسانے بھی میری نظروں سے گزرے ہیں۔ان افسانوں میں مجھے تین چیزیں شدت سے محسوس ہوتی تھیں۔
۱۔  طبقاتی آویزش میں نچلے طبقے سے ہمدردی کے باوجوداونچے طبقے کے رکھ رکھائوسے پوری طرح آگہی۔
۲۔   کہانی میں سنسنی پیدا کرنے والی خبر کا انداز۔
۳۔   کہانی کی پیش کش میں لفظوں کوتصویر کی طرح پیش کرنے کا اسلوب۔ـ‘‘
 درج بالا رائے کا سرسری جائزہ ہی یہ بتا نے کے لیے کافی ثابت ہوجاتا ہے کہ ہماری ممدوح تنقید نگاری کی ہمہ جہت صفات سے بھی مملو ہیں۔ اسے قباحت تو ہرگز نہیں کہا جاسکتا کہ انھوں نے اس میدان میں زیادہ کام نہیں کیا جس کا باعث ان کی گونا گوں دیگرادبی مصروفیات ہی کہی جاسکتی ہیں۔ البتہ یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اگر وہ اس میدان میں مزید کام کرتیں یا کریں تو ان کا نام اردو ادب کے بڑے بڑے نقادوں کی صف میں شمار ضرور کیا جائے گا۔ اور ایسا کرنا اس لیے بھی ضروری نہیں ہے کہ اس سے محض ان کی اپنی ذات کو فائدہ پہنچے گا بلکہ یہ اردو ادب کے دامن کو مزید موتیوں سے بھرنے کے مترادف قرار پائے گا۔



یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟