پنواڑی : گرگٹ گورکھپوری، گورکھپور،انڈیا



سنا رہا ہوں میں ایک داستانِ پنواڑی!
کہ جس کی شہر میں مشہور تھی پھٹے حالی

بڑھاپا آگیا شاخ امید پھل نہ سکی
جتن ہزار کئے پر دکان چل نہ سکی

یوں خاندانی اصولوں پہ اپنی اینٹھ گئی
دکاں پہ دختر پنواڑی خود ہی بیٹھ گئی

دکاں پہ بیٹھتے ہی مستیاں تھرکنے لگیں!
پتیلیوں میں مرغن غذائیں پکنے لگیں!

دکاں کا جائزہ لینے جو نیک باپ گیا
کھڑا کھڑا فنِ حرفت کو دیکھتا ہی رہا

دکاں پہ دیکھ کے لونڈوں کا ایک جم غفیر!
سیاہ چہرے پہ والد کے چھا گئی تنویر

پڑی نگاہ اچانک لباس ِ دختر پر
تو اوس پڑ گئی فوراً شریف پیکر پر

ضمیر زندہ تھا اس کا خموش رہ نہ سکا
چھٹی جو بھیڑ تو والد نے کان میں یہ کہا

""سنبھل کے بیٹھ ترا جسم بیٹی دکھتا ہے
وہ ہنس کے بولی ،پتا جی یہی تو بکتا ہے

یہ مزاحیہ کلام آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟