لمس : کرنل(ر) سید مقبول حسین ۔ پاکستان


مری زندگی کے اتارے ہوئے چند کپڑے
جو خوابوں کی مٹی سے سلے ہوئے تھے
ہواؤں سے اڑ کر کہیں کھو گئے تھے
مگر یاد آتا نہیں کہاں کھو گئے تھے
زمیں سے فلک تک میں سب دیکھ آیا
کہیں کچھ نہیں تھا
تجسس کا بچھو
مرے ہاتھ کی انگلیوں میں ہی پھرتا رہا تھا
سفر کھوج کا رائیگاں جا رہا تھا
مگر تم اچانک
کہاں سے مری زندگی میں چلی آئی ہو
برف ہوتے سے ان ہجر لمحوں میں تم بس
محبت کا سب لمس بھرنے کی خواہش لئے
دل میں میرے اتر آئی ہو
سوچتا ہوں تمہاراا یہ اصرار ہے تو
چلو زیست کا استعارہ پہن لوں
بدن کو بدن کی طرح پھر دوبارہ پہن لوں


یہ نظم آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟