توجہ کا کوئی بوسہ : ارشاد عرشی ملک ۔ پاکستان


عجب تھا بچپنے کا دور ،جب ہم کو رُلاتے تھے
وہ سستے سے کھلونے جو اچانک ٹوٹ جاتے تھے
کبھی چِھلتے جو گٹھنے، کہنیوں پر چوٹ لگ جاتی
طبیعت ماں کے بوسے اور ٹافی سے بہل جاتی

پلٹ کر جھانکتے ہیں اب جو ماضی میں تو لگتا ہے
کہ وہ ٹوٹے کھلونے اور وہ اکثر چِھلے گٹھنے
بہت بہتر تھے ٹوٹے دل سے اور سینے کے داغوں سے

دلِ زخمی ہے تنہا ،پر کسی جانب سے بھی عرشی
کوئی حرفِ تسلی ہے ،نہ معافی نہ تلافی ہے
توجہ کا کوئی بوسہ،نہ دل جوئی کی ٹافی ہے


یہ نظم آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟