مجھے آزاد ہونا ہے : کامران غنی صبا ۔ پٹنہ، بہار، انڈیا

کہاں تک بھاگ پاؤ گے
کہاں کس کو پکارو گے
یہ عزت اور شہرت، علم و حکمت
مال و دولت کی فراوانی
یہیں رہ جائے گی اک دن
بہت ہو گا تو بس اتنا
کہ کچھ دن، کچھ مہینوں تک
تمہارے نام کا چرچا رہے گا
کسی اخبار میں، جلسے میں، محفل میں
بہت ہو گا تو چلئے مان لیتے ہیں
کہیں کوئی
تمہارے نام کو تحقیق کی بھٹی میں ڈالے گا
کوئی کندن بنائے گا، کوئی شہرت کمائے گا
تمہیں اس سے ملے گا کیا؟
کبھی سوچا ہے تم نے؟
غلغلہ جتنا اٹھے جب تک اٹھے
آخر بھلا ڈالیں گے سب تم کو
تمہیں معلوم ہے!
اس زندگی کے سارے شعبوں میں
سیاست میں، صحافت میں، ادب میں،
صوت و رنگ و چنگ میں،
دولت کمانے سینتنے میں اور لٹانے میں
ہزاروں نام ایسے ہیں
کہ جن کے سامنے سورج دیے کی لوَ سا لگتا تھا
مگر کوئی کہاں باقی رہا، دائم رہا
سارے عدم کی راہ کے راہی
کسی ایسے جہانِ بے نشاں میں جا بسے
جانو، کسی کا نام تک کوئی نہیں ہوتا
یہی سب کچھ میں اکثر سوچتا ہوں
اور جب بھی سوچتا ہوں
تب مجھے یہ سب فقط کارِ عبث محسوس ہوتا ہے
مرا جی چاہتا ہے تیاگ کر سب کچھ
کسی گمنام بستی میں چلا جاؤں
جہاں میرے کسی پہچاننے والے
کسی بھی جاننے والے کے جانے کا
کوئی امکاں نہ ہو
اس گوشہء عزلت میں، اس پاتال میں
گم نام ہو جاؤں
مجھے آزاد ہونا ہے
زمانے بھر کی ہر خواہش سے
ہر رعنائی سے جھوٹی نمائش سے
مجھے آزاد ہونا ہے


یہ نظم آپ کو کیسی لگی؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟