عمرِ دراز : ایم مبین ۔ بھیونڈی، مہاراشٹر، انڈیا
         وہ بے حس وحرکت پلنگ پر پڑا ہواتھا۔اس کے لاغر جسم میں کوئی حرکت کرنے کی بھی سکت نہیں تھی۔وہ اپنی مرضی سے اپنا ہاتھ بھی نہیں اٹھا سکتا تھا، نہ کروٹ بدل سکتا تھا، نہ منہ سے کوئی آواز نکال سکتا تھا۔اس کا جسم جیسے بے جان ہوگیا تھا ۔صرف اس کا ذہن اور آنکھیں جاگ رہی تھیں۔ذہن اچھی طرح کام کررہا تھا کیوںکہ اس کی دونوں آنکھوں کا موتیا بند کا آپریشن ہوچکا تھا اس لیے آنکھیں بھی اچھی طرح کا م کررہی تھیں۔ڈرائنگ روم کا وہ کونا کچھ دنوں قبل اس کے لیے اس وقت کسی اسپتال کا وارڈ بن گیاتھا جب اس کے پلنگ کے گرد پردے لگا کر اتنے حصے کو ڈرائنگ روم سے الگ کردیا گیا تھاتا کہ ڈرائنگ روم میں آنے جانے والوں ، بیٹھنے والوں ، کام کرنے والوں کے کاموں میں اس کی وجہ سے رخنہ نہ پیدا ہو۔
جب اسے اس پلنگ کے ساتھ ڈرائنگ روم کے اس کونے میں منتقل کیا گیا تھا تو اس کے جسم میں اتنی طاقت تھی کہ وہ پلنگ سے اٹھ کر دوسرے کمروں میں جا سکے،آنے جانے والوں کو دیکھ کر پلنگ پر اٹھ بیٹھے،ان سے باتیں کرسکے، گھر والوں کو روک ٹوک کر سکے۔کچھ دنوں میں ہی اس اک نتیجہ یہ نکلا کہ ہر کوئی شکایت کرنے لگا ۔بابا کو درائنگ روم میں لاکر بہت بڑی غلطی کی گئی ہے۔وہ ہر کسی سے الجھتے ہیں۔ہر بات پر ، ہرکام پر ٹوکتے رہتے ہیں۔ ملنے جلنے والے ا ن کی باتوں سے بیزار ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔لیکن مجبوری تھی۔
بابا کو ان کے کمرے سے نکال کر اس پر قبضہ کرنا بے حد ضروری تھا۔وہ کمرہ سب سے چھوٹے پوتے کے حصے میں آیا تھا۔اس کی شادی کی تاریخ پکی ہوگئی تھی اور گھر میں شادی کی تیاریاں چل رہی تھیں۔بہو گھر میں آئے گی تو کہاں رہے گی؟یہ مسئلہ تھا۔اس مسئلہ کو اس طرح حل کیا گیا کہ اس کا کمرہ چھوٹے پوتے کو دے دینے کا طے کیا گیا ۔اس سلسلے میں بڑی شرافت سے بہو اور بیٹے نے اس سے بات کی تھی۔
’’ بابا! چھوٹے کی شادی پکی کی ہے۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ اچھی بات ہے۔‘‘
’’ ۔۔۔۔۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بہو گھر آئے گی تو کہاں رہے گی؟ اس لیے ہم نے سوچا ہے کہ کچھ دنوں کے لیے انھیں آپ کا کمرہ دے دیا جائے۔ آپ کا پلنگ ہم ڈرائنگ روم میں لگادیتے ہیں۔شادی کے بعد کچھ دنوں میں چھوٹا جب اپنے لیے کمرے کاانتظام کرلے گا تو آپ واپس اپنے کمرے میں چلے جانا۔‘‘
’’ چھوٹے کو کہیں اور کمرے کا انتظام کرنے کی کیا ضرورت؟ یہ گھر اور کمرا اس کا ہے، میرا کیا ہے؟ میں ایک کونے میں پڑا رہوں گا۔‘‘ اس نے بڑی فراخدلی سے جواب دیاتھا۔سب کو اس سے اسی طرح کے جواب کی امید تھی۔
اور ودسرے ہی دن اس کا پلنگ درائنگ رو م کے ایک کونے میں منتقل کردیا گیا۔پہلے تو یہ طے کیا گیا تھا کہ ایک کونے میں بستر لگادیا جائے،پلنگ کی کیا ضرورت لیکن جب اس نے اعتراض کیا تو بیٹا لوہے کا ایک چھوٹا سا پلنگ لے آیا جس پر بمشکل اتنی جگہ تھی کہ وہ لیٹ سکے، کروٹ بدل سکے۔اس کا پلنگ اس کے کمرے میں تھا۔یاد نہیں کتنے سالوں کے بعد وہ اپنے ہی گھر میں اپنے کمرے کے باہر سویا تھا۔اسے تو بس اتنا یاد ہے جب سے اس نے یہ گھر لیاتھا تب سے وہ کمرہ اسی کا تھا۔گھر کافی بڑا اور کشادہ تھا۔ان کے کمرے کے علاوہ بچوں کے لیے دوکمرے ،ڈرائنگ روم اور کچن تھا۔بچے بڑے ہوگئے ۔۔ بیٹوں کی شادیاں ہوگئیں۔دولڑ کے نوکری کے سلسلے میں دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے۔صرف بڑا لڑکا پاس رہابڑے لڑ کے کی جب شادی ہوئی تو اس کو بچوں کے دوکمروں میں سے ایک کمرہ مل گیا۔دوسرا اس کے غیر شادی  شدہ بچوں کے حصے میں آیا۔بیوی کے انتقال کے بعد وہ اکیلا ہوگیاتھا۔ اس لیے اتنے بڑے کمرے میں اکیلے اس کا دل گھبراتاتھا۔اس لیے وہ اپنے پوتے یا پوتی کو اپنے پاس سلاتا تھا۔تب تک وہ پوتا ،پوتی،نواسہ ، نواسی والا ہوگیا تھا۔بیوی کے انتقال کو بھی دس سال ہوگئے تھے اور اس کے ریٹائرمنٹ کو بھی۔ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی بیوی کاانتقال ہوگیا تھا۔اس لیے ریٹائر منٹ کے بعد بہت اکیلا ہوگیاتھا۔کوئی کام ہی نہیں تھا۔دن بھر اپنے کمرے میں پڑا رہتا یا پھر محلے میں اپنی ہم عمر لوگوں کے ساتھ وقت گزارتایا مسجد میں عبادت کرتا۔
گھر میں وقت گزارنے کے لیے پوتے پوتیاں تھیں۔ان کے ساتھ اچھا وقت گزرتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے گئے ان کے ماں باپ نے ان پر پابندیاں لگادیں۔دادا کے ساتھ کھیل میں وقت ضائع مت کرو۔یہ تمھاراپڑھائی کا وقت ہے۔جائو پڑھو۔خبردار اگر اس کے بعد داداکے کمرے میں قدم رکھاتو۔۔۔۔۔
ماں باپ کی ڈانٹ کے بعد بھلا،بچے اس کے کمرے میں قدم رکھنے کی کس طرح جرأت کرسکتے تھے اور اس طرح وہ پھر اکیلا ہوگیا۔ہاں نواسی یا نواسے آجاتے تو وقت گزرتاتھا۔وہ اسے چھوڑتے ہی نہیں تھے۔ وہ بھی انھیں لیے سارا شہر گھومتا رہتا۔بیٹیاں دوچار دن رہتیں۔اس کاحال چال پوچھتیں پھر اپنے بچوں کے ساتھ سسرال چلی جاتیںاور وہ گھر اکیلا رہ جاتا۔اس پر اپنے دوستوں کو گھر لانے پر پابندی تھی۔پہلے اس کے ہم عمر دوست اکثر اس کے گھر آجاتے تھے اور وہ اس کے کمرے میں بیٹھ کر گھنٹوں باتیں اور ہنسی مذاق کیا کرتے تھے۔ تھوڑے تھوڑے وقفہ سے وہ بہو کو چائے لانے کے لیے کہتا۔ بہو چائے لاتی،وہ چائے پیتے اور اپنی خوش گپیوں میں مبتلا ہوجاتے۔لیکن بہو یہ زیادہ دنوں تک برداشت نہیں کرسکی۔اس نے بیٹے سے شکایت کردی اور بیٹاآکر اس پر برس پڑا۔
’’ بابا  !  یہ آپ نے کیا لگا رکھا ہے؟ اپنے دوستوں کو بلاتے ہو اور سارا دن گھر میں ۔۔’’ ہوہا۔۔۔‘‘ کرتے رہتے ہو۔ اپنی عمر کا کچھ تو لحاظ رکھو۔کیا یہ تم لوگوں کی عمر ہے۔۔’’ہوہا۔۔۔۔‘‘ کرنے کی اور ایسی گندی گندی باتیں کرنے کی؟ ۔۔۔۔۔خبردار !۔۔۔۔ آج کے بعد آپ کا کوئی بھی دوست گھر میں آنا نہیں چاہیے۔اگر آپ کو اپنے دوست اتنے ہی پیارے ہیں تو ان کے گھر جاکر ان سے مل لیا کیجیے یا پھر کسی پبلک پارک میں گھنٹوں بیٹھ کر وہی سب کیا کیجیے جو اس گھر میں، اس کمرے میں کرتے ہیں۔یہ شریفوں کا گھر ہے،کوئی محلہ کا چوراہا نہیں۔‘‘
اس کے بعداس نے دوستوں کو گھر آنے سے منع کردیا تھا۔جب وہ دوستوں کو گھر آنے سے منع کررہا تھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔اس پر اس کے دوست اسے سمجھانے لگے تھے۔۔۔۔۔
’’ رونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ،قادری۔آج جو تمھارے ساتھ ہوا ہے یہ ہمارے ساتھ عرصہ پہلے ہوچکا ہے۔ہم جانتے تھے کہ ایک دن یہ تمھارے ساتھ بھی ہونا تھا۔بچے جب بڑے ہوجاتے ہیں اور ہم ریٹائر ہوجاتے ہیں تو ہم لوگ بھی بچوں اور دنیا والوں کے لیے بیکار کی چیزین بن جاتے ہیں۔۔۔۔۔ ہم اپنے گھر میں پرائے ہوجاتے ہیں۔۔۔۔۔ ہمارے اپنے بنائے ہوئے گھر پربھی کوئی اختیار نہیں رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ بس ہمارے پاس ایک ہی کام رہ جاتا ہے،باقی بچی زندگی جیسے تیسے کاٹ دیں۔۔۔۔۔۔۔ عمر گزارنا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔ عمر کبھی کبھی ایک روگ بن جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ ہم میں خوش نصیب وہ ہیں جو ہم سے پہلے اس دنیا سے چلے گئے۔۔۔۔۔۔کم سے کم انھیں تو ان کربوں سے نجات مل گئی۔۔۔۔۔۔‘‘
دوستوں نے بڑھ خلوص سے اس کے فیصلے کو قبول کیاتھا اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا ، نہ کسی نے جلی کٹی سنائی تھی۔جب یہ ان کی آپ بیتی تھی تو پھر وہ دوسروں کی آپ بیتی پر کس طرح انگلی اٹھا سکتے تھے۔دل بہلانے کا ایک ذریعہ تھا وہ بھی جاتا رہاتھا۔وقت گزررہا تھا ، عمر گزر رہی تھی ۔   ۔۔۔۔  ۷۰  ،  ۷۲  ،    ۷۵  ،  ۸۰  ۔۔۔۔۔۔۔سال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ نئی پریشانیاں بھی بڑھ رہی تھیں۔ ہر بات ایک پریشانی اور بیماری بنتی جارہی تھی۔ دانت منہ میں نہیں رہے تھے اس لیے صرف پتلی اور ہلکی غذاہی کھائی جاسکتی تھی۔بہو کو صرف ان کے لیے ایسی غذابنانی پڑتی تھی ۔کبھی وہ دل سے بناتی تھی تو کبھی بے دلی سے ۔اس لیے کبھی تھوڑا بہت کھایا جاتا تھاتو کبھی بالکل کچھ بھی نہیں کھایا جاسکتا تھا۔ 
کبھی پیر میں درد ۔۔۔۔۔کبھی سر میں درد۔۔۔۔۔۔۔ کبھی قے ہورہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کبھی پیشاب رک گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔کبھی آنتوں میں جلن ۔۔۔۔۔۔کبھی سانس پھول رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ کبھی چکر آرہے ہیں تو کبھی کھڑے ہونے سے پیر کانپنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ہاتھوں میں رعشہ آگیاہے۔۔۔۔تو کبھی زبان بھی لڑ کھڑانے لگتی ہے۔۔۔۔۔۔کبھی ان کی شکایت سن کر بہو بیٹا انھیں ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں تو ڈھیر ساری دوائیاں کھانے کے لیے لازمی قرار دی جاتی ۔کھانا کھایاجائے یانہ کھایا جائے لیکن دوائیاں لینی ضروری ہے۔خالی پیٹ میں کوئی کتنی دوائیں لے اگر نہ لیں تو بہو بیٹے کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
’’ بابا  !  ہم ڈاکٹر سے آپ کی ہر تکلیف کے لیے دوالاتے ہیں۔آپ دوائیں کھائیں گے تو آپ کی تکلیف جاتی رہے گی۔نہیں کھائیں گے تو آپ کو تکلیف ہوگی۔ آپ کی تکلیف دیکھ کر سب ہم پر ہی الزام لگائیں گے کہ کیسے بہو بیٹے ہیں؟  باپ اتنا بیمار ہے،اس کا علاج بھی نہیں کرواتے۔‘‘
مجبوراً انھیں باقاعدگی سے دوالینی پڑتی۔
لیکن کتنی بیماریوں کی دوائیں لیں۔ہرتکلیف کے لیے ایک دوالینی پڑتی تھی۔ اس لیے وہ دوائوں سے گھبراگئے تھے۔ کئی تکلیفیں تو برداشت کرلیتے تھے۔ان کا کسی سے ذکر بھی نہیں کرتے تھے۔اس ڈر سے کہ اگر تکلیف بیان کی تو ڈاکٹر کے پاس جانا ہوگا ۔دوائیاں لانی ہوگی اور انھیں کھانا ہوگا۔لیکن جو تکلیف حد سے زیادہ بڑھ جاتی تھی اسے بیان کرنا ہی پڑتا تھا اور دوائیاں مقدربن جاتی تھیں۔دوائیوں نے انھیں آدھا بیمار کردیا تھا ۔دوائیوں سے ایک طرح چڑ ہوگئی تھی لیکن دوائیوں کے بنا جیابھی نہیں جاسکتا تھا۔ساری جدوجہد جینے کے لیے ہی تو ہے۔
زندگی کی ہر سانس قیمتی ہے اور ہر سانس کے لیے ایک قربانی دینی ہے۔ ۸۰ ۔۔۔۔،  ۸۲۔۔۔۔۔،  ۸۴۔۔۔۔سال ہوگئے تھے اور کتنی زندگی ہے کوئی کہہ نہیں سکتا تھا۔ان کے ساتھی ہم عمر ایک ایک کرکے ان سے بچھڑ تے جارہے تھے۔سالوں سے یہ معمول تھا۔ہر مہینہ کوئی نہ کوئی ساتھی ، یا ہم عمر کاانتقال ہوتا تھااور وہ اس کی تدفین میں شریک ہوتے تھے۔تدفین میں اس کی عمر کے لوگ ملتے تو موضوع بحث ایک ہی ہوتا۔
’’ اس بیچارے کو تو ساری تکلیفوں سے نجات مل گئی۔دیکھیں اب ہماری باری کب آتی ہے؟‘‘
زندگی کا موہ ہی انسان کو جینے کے لیے جدوجہد کرنے پر مجبور کرتا ہے اور اس کے عزیز واقارب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ زندگی کی آخری سانس لینے سے قبل لوٹ آئے۔اس کے لیے وہ سو طرح کے جتن کرکے اس کی زندگی بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتے ہیں لیکن جینے والوں کو کبھی کبھی اپنی زندگی بوجھ لگنے لگتی ہے اور وہ زندہ رہنے کے بجائے موت طلب کرتا ہے۔جب اس پر سخت پریشانیاں اور تکلیفیں آپڑتی ہیں لیکن اب اس پر ایسا وقت آگیا تھا کہ وہ خود بھی موت کے لیے دعا کرنے لگا تھا۔
اسے کوئی زیادہ اورخاص تکلیف نہیں تھی لیکن وہ جیسے زندگی سے بیزار ہوگیا تھا۔عمر ِ دراز اس کے لیے مسئلہ بن گئی تھی۔کئی مہینوں سے وہ گھر کے باہر بھی نکل نہیں سکا تھا۔اس میں گھر سے باہر نکلنے کی سکت نہیں تھی۔بڑی مشکل سے وہ گھر کے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جاتا تھا اور کبھی کبھی تو اتنا مجبور ہوجاتا تھا کہ پلنگ سے نیچے بھی نہیں اتر پاتا تھا۔چپ چاپ پلنگ پر لیٹا چھت کو تاکتا رہتا یا پھر آنکھ بند کرکے سونے کی ناکام کوشش کرتاتھا۔ لیکن بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ نیند بھی کم ہوگئی تھی۔رات میں وہ مشکل سے تین چار گھنٹے گہری نیند سوپاتاتھاتو بھلا دن میں کس طرح سوسکتا تھا؟وقت کیسے گزارے ۔۔۔۔؟  کچھ نہ توسمجھ میں آتا تھا نہ کوئی ذریعہ دکھائی دیتا تھا۔پوتے پوتیاں اسکول اور ٹیوشن میں مصروف رہتے تھے ۔ان سے آتے تو ٹی وی سے چپک جاتے تھے۔
بیٹا اپنے کاروبار میں دن بھر گھر سے باہر رہتا۔شام میں ،رات میں گھر آتا تو ایک دومنٹ کے لیے اس کے پاس آکر خیر خیریت پوچھ لیتاتھا۔ بہو اپنے کاموں میں لگی رہتی تھی۔تین چار بار کوئی چیز مانگنے پر وہ چیز دیتی تھی۔چہرے پر ناگواری کے تاثرات رہتے تھے۔کبھی کبھی اپنی جھنجھلاہٹ کا اظہار بھی کردیتی تھی اور ڈانٹ دیتی تھی۔اس وجہ سے اب بہوسے بھی کوئی چیز مانگنے سے خوف محسوس ہوتا تھا۔گھر میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کے ساتھ دو باتیں کرکے دل بہلائے۔جب سے اسے ڈرائنگ روم میں شفٹ کیا گیا تھا ،کچھ راحت ملی تھی۔ہر آنے والا اس کے پاس آکر اس کی خیر خیریت ضروردریافت کرتا تھا۔جواب میں جب وہ اپنی تکلیفیں اور پریشانیاں بتاتا تو سامنے والے کے کیا تاثرات ہوتے تھے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا لیکن اس کو ضرور کچھ راحت ملتی تھی اور تھوڑا سا وقت بھی گزرجاتا تھا۔ لیکن ہر کسی کو آوازدے کر بلانے اور اسے اپنی بپتا سنانے اور اس سے گھنٹوں باتیں کرنے کی وجہ سے نہ صرف لوگ گھر آنے سے کترانے لگے تھے بلکہ بہو اور بیٹے سے اس کی شکایت بھی کرنے لگے تھے۔وہ ڈرائنگ روم ہی میں تھا اس لیے کوئی بھی اس سے بچ نہیں سکتا تھا۔
اس مسئلے کے بارے میں بہو اور بیٹے نے سنجیدگی سے کافی دیر تک سوچا۔پھر یہ طے کیا تھا کہ اس کے پلنگ کے گرد اسپتال کی طرح پردا باندھ دیا جائے۔ اس طرح اس کا پلنگ پردے کے اندر رہے گا۔آنے جانے والوں کو نہ تو وہ دکھائی دے گا نہ آنے جانے والوں کو وہ دیکھ سکے گا۔ اس لیے کوئی مسئلہ نہیں رہے گا۔جو لوگ اس سے کترانا چاہیں وہ اس سے بنا ملے چلے جائیں گے۔جن لوگوں کو ملنا ہوگا ،پردہ ہٹا کر اس کے پاس جائیں گے اور مل لیں گے۔پچھلے دو چار مہینوں میں کئی ایسے مواقع آئے جب اس کی حالت بہت نازک ہوگئی۔سارا خاندان جمع ہوگیا ۔اسپتال میں ایڈمٹ کیا گیا۔اسپتال میں آٹھ دس دن رہنے کے بعد طبیعت کچھ سدھر گئی اور اسے واپس گھر لایا گیا۔اب پھر گھر میں اس کی وہی زندگی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔تنہائی۔۔۔۔۔۔۔۔چپ چاپ پلنگ پر لیٹے رہنا۔۔۔۔۔۔۔طبیعت خراب ہوتی تو ساراخاندان جمع ہوجاتا۔۔۔۔۔۔۔اسپتال لے جایا جاتاتو بیٹے بیٹیاں اسپتال آتے جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی خوب خدمت کرتے۔ہر بار ان کو ایسا محسوس ہوتا ۔۔۔اب بابا نہیں بچیں گے۔۔۔۔۔۔شاید بابا کا آخری وقت آگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔ان کا سایہ ان کے سروں سے اٹھنے والا ہے۔۔۔۔۔
لیکن جب حالت سنبھل جاتی تو ان پر کون سی کیفیت طاری ہوتی اس کا تو نہ وہ اندازہ لگاسکتا تھا نہ کوئی اور۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں وہ خوش ہوتے تھے یا اداس۔۔۔۔۔ لیکن کبھی کبھی ہر کسی کے منہ سے یہ بات ضرور نکلتی تھی۔۔۔۔۔
’’ اللہ بابا کی تکلیف کم کرکے۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ اللہ بابا کوساری تکلیفوں سے نجات دے دے۔۔۔۔‘‘
’’ اللہ بابا کی اس تکلیف سے تو اچھا ہے تو اسے اٹھا لے۔۔۔۔اپنے پاس بلا لے۔۔۔۔‘‘
لیکن موت اور حیات بندوں کے بس میں نہیں ہوتی ہے۔زندگی کا دینے والا اور زندگی کا لینے والا اللہ ہی ہے۔کبھی بندوں کو اس سے شکایت رہتی ہے کہ وہ اچھے انسانوں کو کتنی کم چھوٹی زندگی دیتا ہے اور انھیں اتنی جلدی اپنے پاس بلا لیتا ہے۔اور کبھی کبھی وہ کسی کے لیے دعا کرتے ہیں کہ اسے موت دے ۔اسے اپنے پاس بلا لے۔۔۔۔۔۔لیکن وہ نہیں سنتا۔
وہ شخص زندہ رہتا ہے او ر اپنی زندگی گزارتا رہتا ہے،جتنی عمر اس نے لکھ دی ہے اتنی تو گزارنی ہی ہوتی ہے۔چاہے دکھ میں ہو ،چاہے تکلیف میں ہو۔ کرب میں ہو، پریشانی میں ہو ، چھوٹی عمر خوشیوں مسرتوں میں گزر سکتی ہے۔
لیکن عمر ِ دراز۔۔۔۔۔۔۔
عمر دراز گزارنے کے اپنے الگ ہی پیمانے ہیں۔۔۔۔
اور وہ ان ہی پیمانوں پر اپنی عمر گزاررہا ہے۔۔۔۔۔۔۔

یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟