قربانی : جعفر محمود ہاشمی ۔ حویلیاں، پاکستان
رنگ برنگے برقی قمقموں سے جگمگاتی خیمہ بستی کی چکاچوند رات کی تاریکی میں آنکھوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ دن بھر کا تھکا ہارا خان محمد بستی سے باہر ایک ٹیلے پر بیٹھا خیمہ بستی کو دیکھ کر من ہی من میں خوش ہورہا تھا۔وہ سارا دن خیمہ بستی کی صفائی ستھرائی اور اسے سجانے میں جٹا رہا۔ چاروں اور روشنیاں پھیلاتی ہوئی بستی کو دیکھ کر اس کی تھکن جاتی رہی جس کی وجہ شاید خوشی کا یہ احساس بھی تھا کہ کل اس بستی میں اجتماعی شادیاں ہونی تھیں اور اس پر مستزاد یہ کہ آج خان محمد نے اپنی ماں جی کی قربانی کی دیرینہ خواہش پوری کرنے کے لئے دس ہزار روپے جمع کرلئے تھے جنھیں اس نے گزشتہ تین ماہ کی محنت سے پیسہ پیسہ جوڑ کر اکٹھاکیا تھاتاکہ آمدہ بقر عید پر قربانی کا فریضہ انجام دے کر ماں جی کی خواہش کی تکمیل کی جاسکے۔
متاثرین زلزلہ کیلئے عارضی رہائش کے طور پربسائی گئی یہ بستی ندی دوڑکے کنارے ایک بلند اور وسیع و عریض جگہ پر ہونے کے باعث بہت خوبصورت منظر پیش کرتی تھی۔اس بستی کے قیام سے ایک تو زلزلہ زدگان کو سر چھپانے کیلئے جگہ میسر آئی تھی اور دوسرے یہ کہ یہاں سینکڑوں محنت کشوں کو روزگار کے مختلف مواقع بھی ملے تھے۔ خان محمد اسی بستی میں مزدوروں کے میٹ کے طور پر کام کرتا تھا۔ وہ شروع میں تو یہاں ایک عام مزدور کی حیثیت سے آیا مگر اپنی ایمانداری، ان تھک محنت اور کام کی دھن کے سبب مہینہ بھر میں ہی مزدوروں کا انچارج مقرر ہوگیا تھا۔ اسے میٹ ہونے کی تنخواہ تو الگ سے ملتی تھی اور ساتھ ہی وہ بستی میں کئے جا نے والے مختلف کاموں میں مزدوروں کے ساتھ مل کر کام کرتا جس کی اسے الگ سے اُجرت ملتی اور اس طرح اسے خاصی بچت ہوجاتی تھی۔ چنانچہ وہ بہت خوش تھا کہ اس بار قربانی جیسےعظیم فریضے کو نبھا سکے گا۔
عید قربان کے قریب آتے ہی ماں جی روزانہ اسے قربانی کرنے کیلئے تاکید کرتیں اور خان محمد بھی انھیں یقین دلاتا کہ وہ اس بارضرورقربانی کرے گا۔
خان محمد رات گئے گھر پہنچا تو اس کی بیوی اورماں جی اس کا انتظار کررہی تھیں۔ کھانا کھانے کے دوران ماں جی اسے یاد دہانی کراتے ہوئے۔
"خانو! قربانی کاکیا کرو گے؟"
"ہاں ماں جی۔ انشاء اللہ اس بار قربانی ضرور کریں گے۔آپ فکر نہ کریں میں نے اس کیلئے الگ سے پیسے جمع کر رکھے ہیں۔"
"تو بیٹا جانور کب لاؤگے پرسوں عید ہے؟"
"کل لے آؤں گاانشاء اللہ ہماری بستی کے پاس ہی تو منڈی لگتی ہے۔"'
خان محمد کا آٹھ سالہ بیٹا حمزہ اور چھ سالہ بیٹی زینب دونوں اس کے قریب آتے ہوئے۔
        "ابو لائیں نا دنبہ ، کب لائیں گے؟"
"بیٹا کہا نا کل لے آؤں گا۔"
دونو ں بچے خوشی سے جھوم اٹھے ۔
حمزہ خوشی سے اچھل پڑا  !…کل ہمارا دنبہ آجائے گا۔
زینب امی کی طرف دوڑتی ہوئی !…  ابو دنبہ لائیں گے۔
حمزہ بھی امی کے قریب آتے ہوئے!…پھر ہم بھی قربانی کریں گے۔
امی نے دونوں بچوں کو دل سے لگاتے ہوئے کہا…"ہاں انشاء اللہ"
خان محمد انھیں دیکھ کر مسکرا اٹھا۔
اگلے دن علی الصبح خان محمد نے قربانی کیلئے جمع کی گئی رقم لی اورخیمہ بستی کی طرف چل پڑااس نے سوچا کہ کام سے فراغت ملتے ہی جانور بھی خرید لے گا۔ آج چونکہ خیمہ بستی میں اجتماعی شادیاں ہونی تھیں اسلئے اُسے دلہن کی طرح سجایا گیا تھا،مختلف خیموں کو رنگ برنگی جھنڈیوں اور سنہری لڑیوں سے مزین کیا گیا تھا۔ بستی کے مرکزی میدان میں شادیانے بجائے جار ہے تھے،ایک طرف پارکنگ کیلئے جگہ مختص کی گئی تھی اور بستی کے عقب میں مہمانوں کیلئے کھانا پکانے کیلئے دیگیں چڑھائی گئی تھیں۔ مختلف کھانوں کی سوندھی خوشبو پوری بستی میں پھیلی ہوئی تھی۔ خان محمد بہت خوش تھا کیونکہ زلزلے کی تباہ کاریوں سے لٹے پٹے گھرانوں کی اس بستی میں آج پہلی بار خوشیوں کا سماں بندھا ہوا تھا ۔ نئے شادی شدہ جوڑوں کیلئے خیمہ بستی کی شمالی جانب زمین کے بڑے حصے میں ایک فلاحی تنظیم کے تعاون سے بنے بنائے چھوٹے چھوٹے گھروں کی نئی بستی بنائی گئی تھی اور اس کے سامنے نکاح کی رسم کیلئے خوبصورت سٹیج سجایا گیا تھا جس کے سامنے کچھ کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ خان محمد ایک ایک چیز کی چھان پھٹک میں لگا ہوا تھا کہ ادھر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اور ان کے سٹیج پر جلوہ افروز ہوتے ہی بستی کے باسی اورمضافات کے لوگ بھی آ پہنچے یوں اجتماعی شادیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہر نئے جوڑے کا نکاح کر کے اسے دس ہزار روپے کے عوض عروسی گھر سونپ دیا جاتا۔
یہ رقم مہمانوں کے طور پر آنے والے وزرا،امراء اور شرفاء اس طرح ادا کرتے کے باقاعدہ ان کا نام بمع حیثیت پکارا جاتا کہ فلاں وزیر پچاس ہزار روپے ادا کرکے پانچ جوڑوں کی شادی کا بیڑا اٹھا رہے ہیں۔ منڈوا تالیوں کی صدائوں سے گونج اٹھتا…فلاں تیس ہزار …فلاں بیس ہزار…تالیاں۔
اخبارات اور ٹی وی چینل اس ساری کارروائی کو بھر پور کوریج دے رہے تھے۔خواص فوٹو کھنچوانے اور ٹی وی کیمروں کے سامنے رہنے کیلئے مختلف حربے استعمال کر رہے تھے چند گھنٹوں میں تقریباً تمام جوڑو ں کا بیا ہ کردیا گیا
 پھر عوام ،خواص سب کھانے پر پل پڑے یہاں خواص کیمرے کی آنکھ سے نظریں چراتے جبکہ عوام اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے دانستہ طور پر کیمرے کی رسائی میں آنے کیلئے پیش پیش تھے کچھ ہی دیر میں کھا نے کے سارے برتن چٹ کردیئے گئے اب خواص خیمہ بستی کے انچارج کے پاس نام لکھو ا کر چلتے بنے جبکہ عوام اپنے اپنے خیموں اور بستی سے ملحقہ آبادیوں کا رخ کرتے گئے ۔
خان محمد پھر سے بستی کی صفائی ستھرائی،کھانے کی باقیات سمیٹنے ،برتن اور دیگر سامان اٹھوانے میں مصروف ہوگیااورپھر سارا کام نمٹاکر کچھ دیر سستانے کی غرض سے اپنے خیمے میں جا لیٹا۔ اچانک اسے قربانی کا جانور خریدنے کا خیال آیا تو وہ منڈی جانے کیلئے فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن اپنے خیمے سے نکلتے ہی اسے کسی کے رونے کی آواز آئی تو خان محمد جھٹ سے اس خیمے میں پہنچ گیا جہاں ایک ادھیڑ عمر عورت زاروقطار رورہی تھی اور اس کی جوان بیٹی اسے دلاسہ دے کر چپ کرانے کی کوشش کررہی تھی
  خان محمد سے بستی کے سبھی باسی اچھی طرح مانوس تھے وہ ہر ایک کے دکھ درد میں شریک ہوتا ،ساری بستی کو اپنا گھر اور متاثرین کو گھر کے افراد کی طرح سمجھتا تھا۔ خان محمد کے دیکھتے ہی عورت اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بولی "آؤخان بھائی "
"کیا بات ہے بہن ،کیا ہوا؟" خان محمد نے استفسار کیا۔
"کچھ نہیں خان بھائی ۔۔۔ وہ ۔۔ آج اپنا اجڑا ہوا گاؤں بہت یاد آرہاتھا۔" عورت ہکلاتے ہوئے بولی۔
"نہیں نہیں۔۔ مجھے سچ بتاؤ۔۔ کیا ہوا؟" خان محمد بات کو بھانپتے ہوئے بولا۔
"کچھ نہیںچاچا امی تو بس ویسے ہی ۔۔۔۔۔۔" لڑکی بول پڑی۔
خان محمد لڑکی کو بغور دیکھتے ہوئےحیرت سے بولا "یہ کیاآج تُو وداع نہیں ہوئی۔۔یہ سب کیا معاملہ ہے؟ "
لڑکی کی خاموشی پر خان محمدعورت سے اصرارکرتے ہوئے ۔۔۔" تمھاری بیٹی کی شادی کیوں نہیں ہوئی؟ کہاں تھے آپ لوگ؟"
"ادھر ہی تھے۔۔ بس نصیب پھوٹ گئے تھے۔ اس کا ہونے والا شوہر صبح سے نہ جانے کہاں جھک مار رہا تھا اور اب آیا ہے ۔۔۔۔  سیٹھ لوگ توچلے گئے ہیں اب اسے کون دس ہزار روپے دے اور کیسے ان کی شادی ہو؟"
خان محمد لڑکی کا سر سہلاتے ہوئے بولا "کوئی بات نہیں بیٹی اللہ رحم کرے گا۔"
پھرعورت کی طرف متوجہ ہوتے ہوئےبولا" اور بہن تم بھی فکرنہ کرو۔"
خان محمد تیز تیز قدم اٹھاتا ہوانئی بستی کے ٹھیکیدار کے پاس گیا اورایک عروسی گھر خرید لیا۔
کچھ ہی دیر بعد اسی خیمے میں لڑکی کا نکاح ہورہا تھا لیکن اب کوئی اخباری رپورٹر تھا نہ کوئی ٹی وی چینل کا نمایندہ ،نہایت سادگی کے بعد نکاح کے بعد رخصتی بھی ہوگئی اور اس جوڑے کو بھی عروسی گھر سونپ دیا گیا ۔
خان محمد پھر سے اپنے خیمے میں آبیٹھا اور ایک گہری سوچ میں ڈوب گیا کہ آج و ہ گھر جانے پر بیوی بچوں اور ماں جی سے کیا بہانہ کرے گاچنانچہ وہ یہ سوچ کر دانستہ گھر کو دیر سے گیا تا کہ ماں جی کو خبر کیے بغیر وہ چپکے سے سو جائے لیکن گھر پہنچا تو بیوی بچوں اور ماں جی کو اپنے انتظار میں پایا ۔
        ماں نے دوڑ کر دروازے سے باہر جھانکتے ہوئے کہا " کہاں ہے قربانی کا جانور۔۔ خانو کیا لائے ہو؟"
        بچے بھی بھاگتے ہوئے باہر آگئے اور فوراً واپس آتے ہوئے مایوسی کے ساتھ باپ کی صورت تکنے لگے۔
"کیا آج بھی تم خالی ہاتھ آئے ہو؟" ماں نے پوچھا۔
خان محمد ہکلاتے ہوئے بولا" وہ ماں دیر ہوگئی تھی بستی میں آج اجتماعی شادیاں تھیں دن بھر سر کھجانے کی فرصت نہ ملی کیا کرتا کیسے لاتا قربانی؟"
"تو پھر کل توعید ہے اب کیا ہوگا؟ "
        "کچھ نہیں آپ فکر نہ کریں مجھے تو کل بھی کام پر جانا ہے ۔ وہاں خیمہ بستی میں اجتماعی قربانیوں کا بندو بست کیا گیا ہے میں وہیں پر قربانی کر لوں گا۔"
       "اور یہاں ہمیں۔۔۔اوربچوں کو کتناشوق تھا ۔۔۔۔" بچوں کے بجھے چہروں کی طرف دیکھتے ہوئے ماں جی بولیں۔
"مجبوری ہے ماں جی۔۔"
        وہ بچوں کو بغل میں لے کر پیار کرنے لگا۔ "میرے بچے تو بہت اچھے ہیں میں ان کیلئے ڈھیروں چیزیں خرید کر لاؤں گا اور قربانی کا گوشت بھی۔"
خان محمد کو یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کا تراشا ہوا بہانہ ایسا کاریگر ثابت ہوگا اسے اپنی حاضر دماغی پر رشک ہونے لگا۔ مگر اسے اپنی ماں کے خوابوں کی فکر تھی کہ وہ تو ہر اہم بات خواب میں دیکھ لیا کرتی ہیں۔ اپنی سوچوں میں گم جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی اور صبح ناشتہ کرکے وہ پھر سے کام پر چل دیا وہ دن بھر اپنے کام میں مصروف رہا۔  بستی میں آج خوب رونق تھی عید کی نماز کے بعد نئے نویلے جوڑے اپنے والدین کو عید کا سلام کرنے آتے جاتے۔ ہر طرف گہماگہمی تھی۔ خا ن محمد سے ہر کوئی گرم جوشی سے عید ملتا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبا تھا کہ وہ ماں جی کو کیا جواب دے گا انھیں تو خواب کے ذریعے سب پتا چل جاتاہے۔
جب خیمہ بستی میں قربانی کے جانور ذبح کئے جانے لگے تو خان محمد کے دل میں قربانی نہ کرنے کا خیا ل بار بار آتا اور وہ سوچتا کہ اس نے ایسا کیوں کیا ۔ اپنے معصوم بچوں کی خواہش کا گلا گھونٹا اور ماں جی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ۔ وہ قربانی کیے جانے والے ہر جانور اور کارندوں کے پاس کچھ دیر کورکتا اور اپنے خیالوں میں گم آگے بڑھ جاتا اس دوران جب اسے نوبیاہتا جوڑوں کے ساتھ وہ لڑکی سلام کرنے آئی جس کی شادی اس نے کروائی تھی تو کچھ دیر کیلئے اس کی پریشانی شادمانی میں بدل گئی لیکن جلد ہی ماں جی کے سچے خوابوں کے بارے میں سوچ کر وہ پھر سے پریشان سا ہوگیا۔ اسے اپنے کئے پر ندامت تو نہ تھی مگر ماں جی کا سامنا کرنے کی ہمت بھی نہ تھی اور عید گھر سے باہر کرنے کا دکھ بھی ۔۔۔۔
انہی خیالوں میں غلطاں و پیچاں اس کا دن بیت گیااوررات گئے قربانی کا بہت سارا گوشت لئے گھر کو چل پڑا راستے میں اسے بار بار یہی خیال آتا کہ وہ ماں جی کو کیا جواب دے گا۔ وہ ان کا سامنا کیسے کرے گا۔ دعائیں کرتا کہ ماں جی سو چکی ہوں تو یہ معاملہ کم از کم صبح تک تو نبٹ ہی جائے۔
گھر پہنچ کر اس نے ماں او ربچوں کو سوئے ہوئے پا کر موقع کو غنیمت جانا اور کھانا کھاتے بغیر ہی سو گیا۔
اگلی صبح منہ اندھیرے ماں جی آپہنچیں ۔۔خان محمد کو جھنجوڑتے ہوئےبولیں " اُٹھ خانو جلدی اُٹھ"
خان محمد گھبر کر اٹھ بیٹھا کہ اب ایک طوفان بپا ہونے کو ہے۔۔۔جی ماں جی۔۔ کیا ہوا ؟
"یہ باہر اتنا سارا گوشت کہاں سے آیا ۔۔کیا تم نے قربانی کی؟"
"وہ ماں جی مجھے پتا تھا آپ سب کچھ خواب میں دیکھ لیں گی مگرماں جی میں کیا کرتا۔۔ وہ۔۔ وہ"
"کیا وہ۔وہ۔ لگا رکھی ہے۔۔۔ مجھے سچ سچ بتاؤکیا قربانی کی تم نے؟ '
"کچھ نہیں ماں جی وہ پیسے تو مجھ سے…"
"تو اتنا بڑاہوگیا ہے کہ مجھ سے جھوٹ بولتا ہے۔ تمھیں پتا تو ہے کہ مجھ سے تمہاری کوئی بات چھپ نہیں سکتی۔"
ماں جی اور خان محمد کی باتیں سن کر دوسرے کمرے سے خان محمد کی بیوی بھی آنکھیں ملتی ہوئی آپہنچی اور ماں سے گویا ہوئی بولی "کیا ہوا ماں جی؟"
"بہو ! یہ خانو اب مجھ سے باتیں چھپانے لگا ہے ۔ تمھیں پتا ہے میں نے خواب میں کیا دیکھا؟"
بہو اپنے شوہر کو دیکھتے ہوئےبولی "کیا ماں جی؟"
"میں دیکھتی ہوں کہ اللہ کی راہ میں قربانی کرنے والوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی ہے اور ایک مقرب فرشتہ ہر شخص سے قربانی کا جانور وصول کر رہا ہے میں یہ سوچ کر رک گئی کہ ان میں میرا خانو بھی ہوگا۔ اچانک ایک خوبصورت سا جوان سفید کپڑے پہنے بڑے ٹھاٹ سے قربانی کا ایسا حسین جانور لئے آگے بڑھتا چلا آرہاہے کہ قطار کے سبھی لوگ جانور کی خوبصورتی سے متاثر ہوکراسے راستہ بنا کر دے رہے ہیں اور وہ فرشتہ جو باقی سب لوگوں کو مصافحہ کرکے جانور وصول کر رہا تھا،آگے بڑھ کر اس جوان کو گلے لگا کر ملتا ہے اور اس سے وہ حسین اور انوکھا دنبہ وصول کرتا ہے جسے دیکھنے کیلئے سارے لوگ مضطرب تھے۔ میں تو اس جوان کو دیکھنے کیلئے بے تاب تھی کی یہ قد کاٹھ سے میر ا خانو لگتا ہے جب وہ جانور اس فرشتے کے حوالے کر کے واپس پلٹا تو میں حیران رہ گئی ۔۔۔ پتا ہے وہ کون تھا ؟۔۔۔ میراخانو"
ماں نے آگے بڑھتے ہوئے خانو کو ماتھے پر بوسہ دیا۔۔۔ "ہاں ہاں میرا خانوتھا۔۔ تم نے کیا قربانی دی ہے بیٹا؟"
ماں مسلسل خانو کی پیشانی کو چوم رہی تھیں اور خانو ان کے کندھے پر سر رکھے بیوی کودیکھ کر مسکرارہا تھا جب کہ اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے جسے دیکھ کر بیوی بھی روپڑی اور ماں جی اپنے پلو سے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے اسے ہاتھوں اور گالوں پر بوسے دیتے ہوئے… میرا خانو ۔۔۔میرا خانو۔۔۔ کہے جارہی تھی۔

یہ افسانہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟