بطور خاص : عالم خورشید ۔ پٹنہ، بہار، انڈیا



غزل


کرتے ہیں دور ہی سے اشارے ہمارے خواب
شاید بدل رہے ہیں کنارے ہمارے خواب

ہر روز پوچھتی ہیں مرے گھر کی کھڑکیاں
اتریں گے کب زمیں پہ ستارے ہمارے خواب

بادل میں چاند ہے کبھی بادل ہیں چاند میں
کیا کیا دکھا رہے ہیں نظارے ہمارے خواب

مجرم تو ہم بھی ہیں کبھی ان کی خبر نہ لی
قیدی ہیں جن کے پاس تمہارے ہمارے خواب

شاید ہمارے خواب گروں کو خبر نہیں 
بنتے ہی جا رہے ہیں شرارے ہمارے خواب

تعبیر کو گماں ہے شکستہ ہوئے ہیں ہم 
اور سچ ہے ہم نہ ہارے، نہ ہارے ہمارے خواب

تپتے سفر میں سائے کی صورت ہر ایک پل 
چلتے  ہیں ساتھ آج بھی سارے ہمارے خواب

ممکن نہیں ہے ان سے گریزاں ہوں ہم کبھی
عالم! ہمیں ہیں جان سے پیارے ہمارے خواب


غزل


تختِ شاہی تری اوقات بتاتے ہوئے لوگ
دیکھ ! پھر جمع ہوئے خاک اڑاتے ہوئے لوگ

توڑ ڈالیں گے سیاست کی خدائی کا بھرم
وجد میں آتے ہوئے ، ناچتے ، گاتے ہوئے لوگ

کچھ نہ کچھ صورتِ حالات بدل ڈالیں گے
ایک آواز میں آواز ملاتے ہوئے لوگ

کوئی تصویر کسی روز بنا ہی لیں گے
روز پانی پہ نئے عکس بناتے ہوئے لوگ

کتنی حیرت سے تکا کرتے ہیں چہرے اپنے
آئینہ خانوں میں آتے ہوئے جاتے ہوئے لوگ

ہاں ! سبھی اہلِ محبت کو بھلے لگتے ہیں 
نفرت و بغض کی دیوار گراتے ہوئے لوگ

کاش ! تعبیر کی راہوں سے نہ بھٹکیں عالم
بجھتی آنکھوں میں نئے خواب جگاتے ہوئے لوگ



غزل


نہ جانے کیوں زمانے سے تمہیں اتنی شکایت ہے
زمانے میں محبت تھی، زمانے میں محبت ہے

بظاہر جو بھی بدلا ہو ، بہ باطن کچھ نہیں بدلا 
وہی ہے آدمی اب تک ، وہی اس کی جبلت ہے

یہ کیسا شور گریہ ہے ، یہ کیسی مرثیہ خوانی
ابھی فنکار زندہ ہے، ابھی انساں سلامت ہے

اسی تاجر زمانے میں وہی دل کی دکانیں ہیں
وہی سودے جنوں کے ہیں، وہی رنگِ تجارت ہے

وہی آشفتگی کا رقص جاری ہے ہر اک جانب
وہی اہلِ جنوں ہیں اور وہی صحرائے وحشت ہے

جدھر چاہو چلے جائو! وہی رستے ابھی تک ہیں
وہی بستی ہوس کی ہے ، وہی شہرِ قناعت ہے

بدل کر زاویہ تم نے کبھی دیکھا نہیں عالمؔ
یہ دنیا آج پہلے سے زیادہ خوبصورت ہے


غزل


در و دیوار کی زنجیر سے آزاد ہو جانا
جنوں اب چاہتا ہے دشت میں آباد ہو جانا

محبت! خوب یہ انجام ہے اہلِ محبت کا
تجھے آباد کرنا اور خود برباد ہو جانا

نئی دیوانگی ہے ایک دن خود ہی سمجھ لے گی
بہت آساں نہیں ہے عشق میں فرہاد ہو جانا

ازل سے دل کی بستی کا یہی معمول ہے شاید
کبھی ویران ہو جانا ، کبھی آباد ہو جانا 

ہمارا حق طلب کرنا تمہیں اچھا نہیں لگتا
ہمیں آتا نہیں ہے کاسہء فریاد ہو جانا

ستم کے موجدوں کو کیوں بھلا حیران کرتا ہے
کسی مظلوم کا اک دن ستم ایجاد ہو جانا

مرض اپنا پرانا ہے اچانک بے سبب عالمؔ
کبھی دلشاد ہو جانا ، کبھی ناشاد ہو جانا



غزل


کیوں خیال آتا نہیں ہے ہمیں یکجائی کا 
جب ہر اک شخص گرفتار ہے تنہائی کا 

وہ بھی اب ہونے لگے  ایذا رسانی کے مریض
جن کو دعویٰ تھا زمانے کی مسیحائی کا

شک نہیں کرتا میں رشتوں کی صداقت پہ کبھی
بس یہی ایک سبب ہے مری رسوائی کا 

زخم بھرتے ہی نہیں میرے کسی مرہم سے 
جب بھی لگتا ہے کوئی تیر شناسائی کا 

بزدلی سمجھی گئی میری شرافت ورنہ 
کب مجھے شوق رہا معرکہ آرائی کا 

اپنی رسوائی کو اعزاز سمجھ لیتے ہیں
خوب یہ شوق ہے احباب کی دانائی کا 

چھیڑ چلتی ہے مری صنفِ غزل سے عالم
میں فسانہ نہیں لکھتا کسی ہرجائی کا 


غزل


میں پرستار ہوں اب گوشہء تنہائی کا
خوب انجام ہوا انجمن آرائی کا

بس وہی ملنے ، بچھڑنے کی کہانی کے سوا
کیا کوئی اور بھی حاصل ہے شناسائی کا 

خود ہی کھنچتے ہوئے آتے ہیں ستارے ورنہ
چاند کو شوق نہیں حاشیہ آرائی کا 

اب کسی اور نظارے کی تمنا ہی نہیں
اب میں احسان اٹھاتا نہیں بینائی کا 

کتنے بے خوف تھے دریا کی روانی میں ہم
کوئی اندازہ نہ تھا جب ہمیں گہرائی کا 

ہم نے سمجھا نہیں دنیا کو تماشا ورنہ
یوں بھی ہوتا ہے کہیں حال تماشائی کا 

پھر غزل روز بلانے لگی عالم صاحب
اور کچھ شوق ہے شاید اسے رسوائی کا 



غزل


مرحلہ سخت سہی ہم سفراں اور بھی ہیں
چڑھتے دریا میں سرِ آب رواںاور بھی ہیں

ایک ہم ہی تو نہیں ہیں تری وحشت کے اسیر
دیکھ اے موجِ بلا ! رقص کناں اور بھی ہیں

آ گئے ہیں ترے در پر تو بہت ناز نہ کر
کوچۂ اہلِ صنم ، کوئے بتاں اور بھی ہیں

عشق اب ایک ہی معشوق سے منسوب نہیں
خوش بدن اور بھی ہیں، ماہ رخاں اور بھی ہیں

ختم ہوگا نہ ابھی سلسلہء مکر و فریب
ناخدا اور بھی ہیں ، راہبراں اور بھی ہیں

صرف تجھ کو نہیں قامت کی بلندی کا گماں
خود ستاں شہر میں کوتاہ قداں اور بھی ہیں

شعر گوئی بھی عبادت ہے ہماری عالمؔ 
ورنہ دنیا میں کئی کارِ زیاں اور بھی ہیں



غزل


بے کار ہے تم کو یہ گماں اور ہے کوئی 
دیوانہ کوئی تم سا کہاں اور ہے کوئی 

ہم بھی تو یہی سوچ کے آئے تھے بیاباں 
ہم کو بھی گماں تھا کہ یہاں اور ہے کوئی 

ہر سمت یہ آواز لگائی کہ کوئی ہے 
آواز کہاں آئی کہ ہاں ! اور ہے کوئی 

وحشت میں بہت خاک اڑائی ہے تو جانا
آشفتہ سراں میں بھی نہاں اور ہے کوئی

ہوگا کوئی مجنوں کبھی ہوگی کوئی لیلہٰ
وہ اور جہاں تھا یہ جہاں اور ہے کوئی

کیوں پھیلی چلی جاتی ہے ہر سمت سیاہی 
کیا اب کے چراغوں میں دھواں اور ہے کوئی 

تم ڈھونڈتے پھرتے ہو جسے ہر گھڑی عالم
وہ اور زماں ہے وہ مکاں اور ہے کوئی



غزل


حضور! خوب ہیں یہ عجز و انکسار کے رنگ
چڑھے نہیں ہیں ابھی ان پہ اختیار کے رنگ

چلیں! اب آپ کے بھی رنگ دیکھ لیتے ہیں
اگر چہ دیکھے بہت ہم نے اقتدار کے رنگ

کبھی خیال بھی آیا جناب جیسوں کو
جو بے قرار ہیں، ان کو ملیں قرار کے رنگ

ہوا یہ کس نے چلائی کوئی بتائے گا
کہ زرد زرد ہوئے سارے شاخسارکے رنگ

تمام قصر تو باغِ ارم ہوئے لیکن
ہماری سمت چلے آئے زار زار کے رنگ

دکھائی دیتے ہیں کیا آپ کو ہماری طرح
کلی کلی میں دمکتے ہوئے شرار کے رنگ

ہماری سادہ دلی کو دعائیں دو صاحب
کہ ہم خزاں سے طلب کرتے ہیں بہار کے رنگ

خدا کرے کہ حقیقت میں بھی نظر آئیں
قرارداد میں شامل سبھی قرار کے رنگ



غزل


 اداس ہونے لگے ہیں اب انتظار کے رنگ
اتر نہ جائیں کہیں دل سے اعتبار کے رنگ

وہ خوش خرام اب آتا نہیں ہے سیر کو کیا
کہ زرد ہونے لگے سبز مرغ زار کے رنگ

نہیںاے قوسِ قزح ! تجھ میں بھی وہ رنگ نہیں
دمک رہے ہیں کہیں پر جو گل عذار کے رنگ

اب اس کے رنگ کی تمثیل کیا بتائوں میں
کہ چاندنی میں گھلے ہیں ذرا شرار کے رنگ

وہ نیم باز تھیں آنکھیں کہ کوئی جام و سبو
نگاہِ شوق سے جاتے نہیں خمار کے رنگ

مہ و نجوم ! عبث ہی چمک دکھاتے ہو
کبھی تو دیکھو! ذرا آ کے میرے یار کے رنگ

بلائو بادِ صبا ! تم اسے بلائو ذرا
کہ اب خزاں میں نظر آئیں کچھ بہار کے رنگ



غزل


ذرا سی دھوپ ذراسی نمی کے آنے سے
میں کھل اٹھا تھا نئی تازگی کے آنے سے

اداس ہو گئے اک پل میں شادماں چہرے
مرے لبوں پہ ذرا سی ہنسی کے آنے سے

دکھوں کے یار بچھڑنے لگے ہیں اب مجھ سے
یہ سانحہ بھی ہوا ہے خوشی کے آنے سے

بہت سکون سے رہتے تھے ہم اندھیرے میں
فساد پیدا ہوا روشنی کے آنے سے

کرخت ہونے لگے ہیں بجھے ہوئے لہجے
مرے مزاج میں شائستگی کے آنے سے

یقین ہوتا نہیں شہرِدل اچانک یوں
بدل گیا ہے کسی اجنبی کے آنے سے

میں روتے روتے اچانک ہی ہنس پڑا عالم
تماش بینوں میں سنجیدگی کے آنے سے




غزل


ہم پنچھی ہیں جی بہلانے آتے رہتے ہیں
اکثر میرے خواب مجھے سمجھاتے رہتے ہیں

تم کیوں ان کی یاد میں بیٹھے روتے رہتے ہو
آنے  جانے والے ، آتے جاتے رہتے ہیں

وہ جملے جو لب تک آ کر چپ ہو جاتے ہیں
اندر اندر برسوں شور مچاتے رہتے ہیں

شاید ہم کو چین سے جینا راس نہیں آتا
شوق سے ہم دکھ بازاروں سے لاتے رہتے ہیں

آنکھوں نے بھی سیکھ  لیے اب جینے کے دستور
بھیس بدل کر آنسو ہنستے ، گاتے رہتے ہیں

کانٹے بونے والوں کو کیوں شرم نہیں آتی
پھول کھلانے والے ، پھول کھلاتے رہتے ہیں

جانے کیا تبدیلی آئی چہرے میں عالم
آئینے بھی اب مجھ سے کتراتے رہتے ہیں



یہ غزلیں آپ کو کیسی لگیں؟ انہیں کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟