غزل : صابر اقبال، جگتدل، مغربی بنگال، انڈیا

خاک میں ملنا ھے،پھر بھی خاکساری کچھ نہیں
اے رعونت! قبر رکھے گی اُدھاری کچھ نہیں

اقتدارِ وقت تجھ کو مجھ سے ڈر کاہے کوہے
مجھ قلندر کی نظر میں شہر یاری کچھ نہیں

تشنگی کو پیتے پیتے صبر ایسا آگیا
ساغرِ جم کیلئے بھی بیقراری کچھ نہیں

بانٹتے رہتے ہیں باہم اپنا دردِ مشترک
دل جلوں کا ساتھ ہوتو رات بھاری کچھ نہیں

اِن ہوس زادوں کی بستی میں وہی محفوظ ہے
جس کے پیکر میں ہویدا اشتہاری کچھ نہیں

میری بربادی پہ اس نے لاکھ برتی احتیاط
پھیلتے کاجل نے رکھی پردہ داری کچھ نہیں

اک نظر کافی ہے اسکو مان لینے کیلئے
نکتہ چینی کیلئے تو عمر ساری کچھ نہیں

محوِ حیرت ہوں، سزا ہوگی مجھے کس جرم پر
نامۂ اعمال میں جب اختیاری کچھ نہیں

مبتلائے فکرہے سارے کا سارا رنگ منچ
مرکزی کردار ہی کو جانکاری کچھ نہیں

گرمیٔ رفتار کو ہے اسپ تازی کی للک
کاٹھ کے گھوڑے پہ لطفِ شہسواری کچھ نہیں

اے خدا عزّت بچادے، دے کے پردہ خاک کا
میری حالت کو سمجھتے ہیں بھکاری کچھ نہیں

جب امینِ علم و فن تھے، ہم ہی ہم تھے ہر جگہ
بے ہنر ہم ہوگئے، عزّت ہماری کچھ نہیں

کشورِ مقصود پر مرکوز رکھ اپنی نگاہ
کام صاؔبر آئے گی کشتہ شماری کچھ نہیں

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟