غزل : سعید صاحب، سرائے صالح، پاکستان
جیسے شامِ وصال ہو کوئی
جیسے میرا خیال ہو کوئی

جیسے تجھ سا حسین کوئی نہ ہو
جیسے حدّ کمال ہو کوئی

جیسے سرمہ سجا کے تُو نکلے
جیسے دورِ قتال ہو کوئی

جیسے بڑھتے ہوئے قدم رُک جائیں
جیسے فکرِ مآل ہو کوئی

جیسے سرما کی میٹی میٹی دھوپ
جیسے پُرسانِ حال ہو کوئی

جیسے پھولوں پہ گرد جم جائے
جیسے دل میں ملال ہو کوئی


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟