غزل : اصغر علی، خانیوال، پاکستان
متاعِ جاں کو اِس طرح نگل گئیں اُداسیاں
مقامِ ہست و بود بھی بدل گئیں اُداسیاں

غریقِ مے انہیں کبھی جو کرنے میکدہ گیا
تو ذائقے شراب کے بدل گئیں اُداسیاں

کمال بھی ہوا تو پھر کمال اِس طرح ہوا
کہ میرے سر سے پا تلک میں ڈھل گئیں اُداسیاں

بڑی ہی مشکلوں سے میں انہیں سُلا چکا تو پھر
نکل رہا تھا گھر سے میں سنبھل گئیں اُداسیاں

کبھی کرن خوشی کی جو نظر کو چومنے لگی
تو آنکھ میں اُسی سمے مچل گئیں اُداسیاں

محبتوں کے لفظ تھے ابھی مری زبان پر
کہ بولنے سے قبل ہی کچل گئیں اُداسیاں

لگا تھا ایک پل کو جب وہ سینۂ خراب سے
لگا تھا ایک پل کو اب نکل گئیں اُداسیاں 

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟