غزل : راشد محمود راشد، شیفیلڈ، برطانیہ
جتنی سڑکیں دیہاتوں کو جاتی ہیں
شہروں میں ہریالی لے کر آتی ہیں

ایک گلی تک میں نے جانا ہے لیکن
ایک گلی تک اور بھی گلیاں جاتی ہیں

دل میں سمندر زندوں کو ہی رکھتا ہے
لاش کو لہریں ساحل پر لے آتی ہیں

لیکن مجھ کو کام پہ جانا ہوتا ہے
جب آنگن میں چڑیاں رنگ جماتی ہیں

سب افکار ودیعت ہیں مجھے فطرت سے
سب موتی زنبیل سخن میں ذاتی ہیں

ان آنکھوں میں خواب اترتے ہیں راشد
ان چشموں پر اب بھی کونجیں آتی ہیں


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟