غزل : محمد فاروق المنان، راولپنڈی، پاکستان
تیری عجلت بھی مرے کام ابھی آئی نہیں
تو نے آنا تھا سو وہ شام ابھی آئی نہیں

گھپ اندھیرا ہے چراغوں میں نہیں کوئی تڑپ
کوئی امید مرے نام ابھی آئی نہیں

جس کی زلفوں میں اسیری کو ہے تیار یہ دل
وہ حسینہ تو لبِ بام ابھی آئی نہیں

نامہ بر بھول گیا ہے مرے گھر کا رستہ
کیا کوئی ساعتِ پیغام ابھی آئی نہیں

جو چھلکتی ہے مری درد بھری آنکھوں سے
وہ کہانی تو سرِ عام ابھی آئی نہیں

ثبت کر دی ہے مرے لب پہ تو نے مہرِ سکوت
پیاس فاروق لبِ جام ابھی آئی نہیں

یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟