غزل : صبا جرال، بحرین
تمام عمر گزاری ہے اک اذیت میں
ملا ہے درد یہ کیسا مجھے محبت میں

کتابِ زیست میں ہوگی رقم کہانی نئی
لکھوں گی عشق ، محبت ، وفا ، وصیت میں

میں تیرے نقش ِ قدم پر سفر کروں گی سدا
نمازِ عشق ادا ہو تری امامت میں

قسم خدا کی میں ہوش وحواص کھو دوں گی
وہ روبرو مرے آئے گا جب حقیقت میں

یہ میرے بس میں کہاں کہ تمہیں بھلا دوں میں
میں پور پور ہوں ڈوبی تمہاری چاہت میں

میں تیرے ہجر میں جل کر نہ خاک ہو جائوں
بس ایک شام ہی کر دے تو میری قسمت میں

تمام شہر ہی میرے خلاف ہے اب تو
ذرا سا بول دیا کیا تری حمایت میں

سفر لکھا ہے مری آنکھ کے مقدر میں
کہ ایک خواب نے رکھا مجھے مسافت میں

 یہ سلسلۂ محبت چلے گا  مجھ سے صباؔ
ملے گا درد مری نسل کو وراثت میں


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟