غزل : مسرت حسین عازم، آسنسول، مغربی بنگال،انڈیا
یہ کس کی رہ و ربط میں رہنے لگا کمبخت
دل خواہشِ بیجا پہ مچلنے  لگا کمبخت

اس نے جو کری تیغ ستم تیز تو دل بھی
یکلخت شہادت پہ مچلنے  لگا کمبخت

نذرانہ الفت میں دیا گُل جو بصد شوق
برہم ہوا اتنا کہ مسلنے  لگا کمبخت

پہلے تو بہ اندازِ گل اندام ملا وہ
جب ربط بڑھا آگ اگلنے  لگا کمبخت

کر کے تُو قلم شاد تھا جس پیڑ کو اک دن
اب دیکھ وہی پھولنے پھلنے  لگا کمبخت

دریا کہاں اک پل میں بپھرتا میاں عازمؔ
برسات کا نالا تھا ابلنے  لگا کمبخت


یہ غزل آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟