کتب نما : نقد و تجزیہ از ڈاکٹر وحید الحق ۔ مبصر: عظیم انصاری، جگتدل، مغربی بنگال، انڈیا

                کتاب :      دیوار
مصنف :  جاوید نہال حشمی
صفحات : ۱۵۴
قیمت :     ۲۰۰   روپئے
مطبع:    آفسیٹ آرٹ پرنٹرس، ۷۳ ایلیٹ روڈ
مبصر :  عظیم انصاری

’’دیوار ‘‘جاوید نہال حشمی کے افسانوں کا اولین مجموعہ ہے جو تیرہ (۱۳) افسانوں پرمشتمل ہے۔ ان افسانوں کے مطالعہ سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ موصوف صرف زندگی گزارتے نہیں ہیںبلکہ زندگی کو بنظر غائر دیکھتے ہیں اور اپنے مشاہدات کی ترجمانی بخوبی اپنے افسانوں میں کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ ایک ذہین افسانہ نگار ہیں ۔اس کا اندازہ اُن کی آرا ءسے لگاسکتے ہیں۔
’’کہتے ہیں اچھا آرٹ وہ ہے جو غیر شفاف ، قدرے مبہم اور کثیر الجہت معنوی ابعاد کا حامل ہو،اور ایسی کیفیت علامتی انداز کے ذریعہ ہی پیدا کی جاسکتی ہے۔ یہ رائے اپنی جگہ درست سہی ، مگر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دورازکار علامتوں نے ادب کو قاری سے بہت دور کر دیا ہے۔‘‘
شاید یہی وہ سوچ ہے جو جاوید کو مجبور کرتی ہے کہ وہ عام قاری کو بھی ساتھ لے کر آگے بڑھیں اور اپنی زبان کی سادگی کو برقرار رکھتے ہوئے چھوٹے چھوٹے جملوں میں بڑی بڑی باتیں کہہ دیں۔ ان کے افسانوں کے درج ذیل اقتباسات میری باتوں کے شاہد ہیں۔
٭  افسانہ ’’نئی صبح‘‘ کا یہ اقتباس دیکھئے
’’ لیکن بیٹے ، فسادات میں تو اُن کا ہی زیادہ نقصان ہوتاہے۔ پھر میرا ذاتی خیال کہ فسادات کے ذمہ دار جتنے وہ ہوتے ہیں ۔اتنا ہی اکثر یتی طبقہ بھی ہوتا ہے۔ سار الزام صرف انہیں پردے دینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ اور پھر اُن کے ساتھ ایک مجبوری یہ بھی ہوتی ہے کہ اگر وہ بے چارے چاہیں بھی تو فسادات نہیں رُکواسکتے۔ لیکن اگر ہمارا اکثر یتی فرقہ چاہے تو ایسا ہوسکتا ہے اور پھر میں تو کہتا ہوں انہیں ساتھ لے کر چلنے میں ہرج ہی کیا ہے؟ وہ بھی ہمارے ملک کی تعمیر وترقی میں حصہ لے سکتے ہیں اور۔۔۔۔۔‘‘
٭  افسانہ روبوٹ کی یہ سطریں دیکھیں  :
’’ یار‘حقیقی دنیا کتابوں کی دنیا سے مختلف ہوتی ہے بلکہ بالکل برعکس ہوتی ہے۔ کتابیں ہمیں وہ نہیں پڑھاتیں جو دنیا میں ہوتا ہے بلکہ وہ پڑھاتی ہیں جو دنیا میں ہونا چاہیے۔نتیجتاً جب ہم مکتب کی دنیاسے نکل کر مطلب کی دنیامیں قدم رکھتے ہیں تو یہ دنیا اتنی بری معلوم ہوتی ہے کہ ساری زندگی اخلاقی قدروں کی تنزلی اور کرپٹ سسٹم کا رونا روتے گزاردیتے ہیں۔نہ اپنا اور اپنے خاندان کا بھلا کر پاتے ہیں اور نہ ہی سماج اور دنیا کا۔‘‘
٭  افسانہ بہ عنوان’’دیوار‘‘ کا یہ جملہ ملاحظہ فرمائیں۔
’’ کچھ پڑھائی بغیر استاد کے بھی ہوتی ہے۔ آنکھوں کی زبان سمجھنے لے لیے کسی ٹیوشن کی ضرورت پڑتی‘‘
٭ افسانہ  ’’ امیج ‘‘ کا یہ اقتباس دیکھئے:
’’آپ نے اپنے آپ کو مثلثوں اور دائروںمیں مقید کررکھا ہے۔ کبھی ان محیطوں اور اضلاع کے حدود سے باہر نکلئے اور دیکھئے کہ دنیا کتنی حسین ہے۔ماہرین  طبیعات وفلکیات اپنے تمام تر نظریوں اور مفروضوں کے باوجود کا ئنات کی لامحدود وسعت کا اندازکرنے سے قاصر ہیں۔ کبھی محبت کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر کر دیکھئے ، کائنات کی وسعت محدود معلوم ہوگی!ــ‘‘
مندرجہ بالا اقتباسات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جاویدنہال حشمی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گہری نظر رکھتے ہیںاور اس کی سچائی اور تلخ حقیقتوں کو سلیقے اور سادگی سے پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ان کے افسانے کے مختلف موضوعات ہیں۔کہیںوہ جنسی اور نفسیاتی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیںتو کہیں موجودہ زمانے کی تیزرفتار زندگی کی نئی روش کی طرف بلیغ اشارہ بھی کرتے ہیں۔آن لائین میگزین کائنات کے مدیر خورشید اقبال صاحب نے اپنی حالیہ کتاب ’’اردو میں سائنس فکشن کی روایتــ‘‘ میں جاویدنہال حشمی  کے سائنسی افسانے "Beseiged" کی تعریف کرتے ہوئے انہیں کلکتے کا ذہین اور باشعور افسانہ نگار کہا ہے۔اس افسانے میں ایک ایسے کیمرے کا تصور پیش کیا گیا ہے جو انسانی ذہن میں ابھرنے والے خیالات اور تصورات کی تحریکوں کو ڈیجیٹل لہروں میں تبدیل کرکے متحرک تصویروں کی شکل میں اسکرین پر دکھانے کی صلاحیت رکھتاتھا۔
مشہور افسانہ و ناول نگار شموئل احمد نے جاویدنہال حشمی کے افسانے ’’ـگرچیاںـ ‘‘ کو اپنی مشہور کتاب ’اردو کی نفسیاتی کہانیاں ‘ میں شامل کیا ہے۔
’’دیوار‘‘میں افسانوں کے علاوہ ادبی دنیاکے معروف ہستیوں کے مضامین بھی شامل ہیں جنھیں پڑھ کر ہمیں جاویدنہال حشمی کی افسانہ نگاری کا مداح ہونا ہی پڑتاہے۔ آئیے چند اقتباسات کا ملاحظہ کریں۔
٭ عالمی شہرت یافتہ افسانہ و ناول نگار شموئل احمد کا کہنا ہے کہ ’’ جاویدنہال حشمی‘‘ کی اس کتاب میں شامل تیرہ افسانوں کا مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ جاوید کا زندگی سے بڑا گہراربط ہے اور وہ ہر چیز کوٹھہر کر دیکھنے کے عادی ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں سماجی سروکار کا وہ منظر رونما ہوتا ہے جو دوسروں کے یہاں ذرا کم نظر آتا ہے۔‘‘
٭ معروف افسانہ نگار انیس رفیع جاویدنہال حشمی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’ اُن کے افسانوں میںوصف خاص متعین و مسلم ہے ،وہ ہے اُن کی سادہ بیانی۔ سادہ بیانی مفاہم و نفس مضمون کی ترسیل کاطاقتوراوزار ہے اور یہ اوزار سب کو نصیب نہیں۔ ‘‘
٭ پروفیسر علی احمدفاطمی کی رائے ہے کہ ’’حشمی کے افسانے دل بہلاوے سے بہت دور زندگی کے مشاہدات و تجربات کا نچوڑ پیش کرتے ہیں۔ ‘‘   ٭ معروف افسانہ نگار فیروزعابد کا کہنا ہے کہ  ـ’’ ان کے افسانے آسان ، سہل ، رواں اور مختصر ہیں۔ بات ایسی کہتے ہیں جو دل پر اثر کرتی ہے۔ قاری کے دل کو گرفت میں لینے کے لیے حشمی نہ تو لفاظی کرتے ہیں اور نہ واقعات کا پہاڑ کھڑا کرتے ہیں۔ بات مختصر لیکن جامع کرتے ہیں اور قاری کے دل تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔
٭ پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی کی رائے یہ کہ ’’ جاویدنہال حشمی کے افسانوں کے تین ثقیں ہیں۔ ایک جذباتی ، دوسری نفسیاتی اور تیسری جنسیاتی لیکن قابل تحسین بات یہ ہے کہ ان تینوں ثقوں میں ا ن کے افسانوں کا رابطہ یا محور سماج اور سماجیت سے قائم رہتاہے۔ ‘‘
٭ مدیر ماہنامہ ’’انشا‘‘ ف۔ س۔اعجاز کا یہ کہنا ہے کہ’’ جاویدنہال حشمی زیادہ طویل افسانے نہیں لکھتے لیکن زیادہ عمیق اور نتیجہ خیز باتوں کا مشاہدا اپنی کہانیوں میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔سائنس اور منطق سے حاصل کردہ ان کو روزمرہ ادب کے تصرف میں ذی فہم افسانہ نگار ہی لا سکتا ہے۔‘‘
مندرجہ بالا تاثرات کے مطالعے سے یہ بات یقینی طور پر کہی جاسکتی ہے کہ جاویدنہال حشمی ایک کامیاب افسانہ نگار ہیں اور مستقبل میں وہ اپنے آپ کومزیدمعتبر بنائیں گے۔امید ہے کہ ادبی حلقوںمیں یہ کتاب قدرومنزلت کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔کتاب کی طباعت دیدہ زیب ہے اورقیمت بھی  مناسب ہے۔

یہ تبصرہ آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟