جوہر غالب، مشکل پسند شخصیت : کرنل(ر)سید مقبول حسین ۔راولپنڈی، پاکستان
         غالب دُنیائے شعر میں اپنی ہی حیثیت کے حامل ہیں۔ غالب وہ شاعر ہے جس کا دیوان ان کی زندگی میں پانچ دفعہ شائع ہوا۔ چنانچہ پانچویں دیوان میں ان کے شعروں کی تعداد2105شمار ہوتی ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سو سالوں میں غالب کے متعلق بے شمار کتب شائع ہوئیں۔ نواب مرزا اسد اللہ نام اور غالب تخلص لکھتے۔ ان کا تعلق دہلی سے تھا۔ عبدالرزاق شاکر کے نام ایک خط میں غالب(پیدائش۲۷ دسمبر۱۷۹۷ء -وفات۱۵ فروری۱۸۶۹ئ) نے اپنے متعلق پیش گوئی کی تھی جو آج بھی حرف بحرف صحیح ہے… ’’ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو قیامت تک میرا نام و نشان باقی رہے گا‘‘۔ چنانچہ آج تک غالب کا نام زندہ ہے اور آئندہ بھی اسے دوام کی ودیعت ہے۔
غالب کے کلام میں کہیں کہیں مقطع اور مطلع بھی غائب ہے۔ وہ اپنی فارسی شاعری پر نگاہ فخر سے ڈالتے ہیں۔ مولانا حالی، غالب کی شاعری کے بارے میں لکھتے ہیں…’’ جس قدر بلند اور عالی خیالات مرزا کے ریختے میں نکلے اس قدر کسی اور کے کلام میں دکھائی نہیں دیتے‘‘۔ غالب کے کلام کی خوبی یہ ہے کہ اس میں آمد کی شان اور مصرع لگانے کی خوبصورتی دکھائی دیتی ہے۔ قافیوں کو جس قدر خوبصورتی سے غالب نے استعمال کیا ہے وہ شعر کا حسن بڑھاتے ہیں۔ گو کہ وہ لکھنؤ کے محاورہ و زبان سے منحرف نہیں ،ان کی تحریروں میں محاورۂ لکھنؤ کے خلاف چند الفاظ دکھائی دیتے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ لکھنؤ اور دہلی کی زبان ایک ہی ہے۔ دلی ۱۱۵۲ء سے ۱۲۷۰ء تک تین دفعہ تاراج ہوئی چنانچہ وہاں کے دانشور لکھنؤ ہی میں آ کر آباد ہوئے۔ اس لیے اس کے بعد دلی میں پنجاب کا رنگ غالب آ گیا۔ غالب کے مذہبی عقائد بھی زیر بحث رہے ہیں ۔ان کو اہلِ بیت سے حد درجہ عقیدت تھی۔ چنانچہ ان کو شیعہ مسلک سے جڑا سمجھاجاتا رہا اور لوگوں نے ان کو اثناء عشری میں داخل کیا لیکن انہوں نے اس کی تردید کی اور خود کو سنی مسلک سے جڑا قرار دیا وہ خود کو سلسلہ چشتیہ نظامیہ سے قرار دیتے تھے۔
یہ ماننے کی بات ہے کہ غالب کا اسلوب اور تخیل جتنا مشکل تھا اتنا ہی اس کے پرستار ان کے کلام کو سمجھنے کی خاطر ان کی طرف راغب ہوئے۔ ان کا یہ شعر اس کی مثال ہے:
دیار بادہ، حوصلہ ساقی، نگاہ مست
بزمِ خیال میکدۂ بے خروش ہے
غالب کی انشاء پردازی کی جھلک اس شعر میں دکھائی دیتی ہے:
ابھی آتی ہے بو بالش سے اس کی زلفِ مشکیں کی        ہماری دید کو خوابِ زلیخا عارِ بستر ہے
غالب کے اشعار کی سب سے پہلی شرح ان کے شاگرد درگا پرشاد نادر نے غالب کی حیات میں لکھی۔ غالب کے شعروں پر روشنی ڈالنے والے ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، اثر لکھنوی، غلام رسول مہر، آغا محمد باقر اور دیگر دانشور وں کے علاوہ پرتو روہیلہ بھی ہیں۔ جنہوں نے غالب کے کلام کی شرح ’’ مشکلاتِ شرح‘‘ کے نام سے تحریر کی۔ غالب زبا ن کے عام محاورات کو نظر انداز کرنے والا شاعر تھا۔ ان کی نظر میں خیال مقدم ترین چیز ہے۔ ان کا ہر خیال فطری طور پر ایک مناسب اور موزوں سانچے میں ڈھلا معلوم ہوتا ہے۔
کئی نامور دانشوروں اور غالب پرستوں نے غالب کے دیوان کے بجائے ان کے شعروں کی شرح لکھی ہے۔ غالب کے کلام میں منفرد اور عجیب تراکیب استعمال ہوئی ہیں۔ اس سے ان کی فنِ شاعری پر گرفت مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ غالب کے مشکل کلام پر نیاز فتح پوری نے بھی طبع آزمائی کی ہے۔ مگر عوام الناس میں اس کی پذیرائی نہیں ہوئی کیونکہ ان کی تشریحات ممکنات کے احاطے سے باہر ہو جاتی ہیں۔گویاکلامِ غالب کو مشکل بنانے میں ان دانشوروں کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ جب کہ عام قاری کلامِ غالب کی لطافت اور تخیّل سے لطف اندوز ہونے کی خواہش رکھتا ہے۔غالب کا ایک اور شعر اس ضمن میں ملاحظہ فرمائیں:
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پرواہ
گر نہیں ہیں میرے اشعار میں معنی نہ سہی
غالب کی شخصیت کے کئی پہلو تھے۔ گو ان کو زیادہ تر مشکلات اور تکالیف کا سامنا رہا مگر بذلہ سنجی اور لطیفہ بازی ان کی طبیعت کا حصہ تھی۔ شراب کے رسیا ، ڈومنیوں کے ہاں موسیقی سننے کی لت اور جمالیات کے پرستار تھے۔ محفلی شخصیت تھے۔ تخیل کی پرواز اور طبیعت کا میلان سیکولر بنیاد پر تھا۔ طبقاتی نظام کے خلاف اور مذہبی فرقوں کی تقسیم طبیعت پر گراں گزرتی تھی ۔ غالب کے خطوط ایک ادبی خزانہ ہیں اور تاریخِ عصر بھی۔
جس دور میں غالب نے شاعری کی اور اپنے ہم عصروں سے آگے نکلے تو یہ محض ان کی لگن، مشکل پسندی اور چیلنج کا سامنا کرنے میں مہارت تھی۔ متحرک اندازِ حیات ان کی سرشت میں تھا۔ آج غالب زندہ ہے اور اس کا کلام اُسے آنے والے وقت میں بھی زندہ جاوید رکھے گا:
جذبۂ بے اختیارِ شوق دیکھا چاہئیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
ہم نہیں جلتے نفس ہر چند آتش بار ہے
آگ سے، پانی میں بجھتے وقت کی اٹھتی ہے صدا
غالب بطور شاعر جس اہمیت کا حامل ہے اس کا بیان تو ان سطور کے علاوہ کئی مضامین میں بھرپور انداز میں آ چکا ہے۔ اب ذرا غالب کی نثر پر نگاہ دوڑاتے ہیں۔ غالب کی نیرنگیٔ بیان ان کے خطوط میں بخوبی عیاںہے اور ان کا منفرد اسلوب اپنی مثال آپ ہے۔ ان کے خطوط کا زمانہ1847-49کا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب بطور شاعر انہوں نے خاموشی اختیار کی تو قلم کا رخ نثر کی طرف مڑا۔ یہ خطوط سلاست اور شگفتہ بیانی جیسی خوبیوں سے مرصّع تھے۔مشکل نثر کے بیانیے کو غالب نے عام فہم اندازِ گفتگو میں بدل دیا۔ ان کا انداز حقیقت نگاری کے انتہائی قریب تر ہے۔ گویا غالب کے ابتدائی محققین کو ان کی نثر میں افسانے اور ناول کے اجزاء کی جھلک دکھائی دی۔ محمد یحییٰ تنہا مصنف سیر المصنفین نے1924ء میں تحریر کیا کہ غالب کے خطوط میں وہ لطف اور دلچسپی پائی جاتی ہے کہ عمدہ سے عمدہ افسانے اور ناول بھی ان پر قربان ہیں۔ ڈاکٹر سید عبداللہ نے کہا کہ غزل کے پابند اظہار نے غالب کومفصل اظہار کی اجازت نہ دی ورنہ وہ ایک بہترین ناول نگارہوتے۔ 1847ء میں غالب محسوس کرنے لگے کہ’’ کچھ اور چاہئیے وسعت میرے بیاں کے لیے‘‘…غالباً یہی سال غالب کے بطور شاعر خاموشی اختیار کرنے اور بطور نثر نگار ہونے کا بھی قرار پایا ہے۔ انتظار حسین نے خطوطِ غالب میں ناول کے اجزاء کی نشاندہی کرکے منظر نگاری کی تعریف کی ہے۔مثلا ً اس اقتباس سے اس امر کی وضاحت ہوتی ہے:
’’ ۔۔۔ لو سنو! اب تمہاری دلی کی باتیں ہیں۔ چوک بیگم کے باغ کے دروازے کے سامنے حوض کے پاس جو کنواں تھا، اس میں سنگ و خشت و خاشاک ڈال کر بند کر دیا۔بلی ماروں کے دروازے کے پاس کی دکانیں ڈھا کر راستہ چوڑا کر لیا۔‘‘
اس طرح کی زور دار تمثال نگاری سے بھرپور نثر ان کے خطوط کی زینت ہے۔غالب ؔ کے فن کی جھلک میرتقی میرؔکے اس شعر سے واضح ہے:
مصائب اور تھے پر دِل کا جانا
عجب اِک سانحہ سا ہو گیا ہے
  میر ؔکے اس شعر میں ایک طویل خاموشی پائی جاتی ہے۔ جبکہ غالب نے دل کا نقشہ کھینچتے ہوئے ایسے جملے لکھے ہیں جن سے ویرانی، خاموشی اور افراتفری کا سمندر موجزن ہے۔
غالب ایک ایسا جوہر تھا جس نے ایک وقت میں اپنی شاعری کے اندر مشکل پسندی کو اپنایا ہوا تھا اور دوسری طرف نثر میں انہوں نے سہل پسندی کو شخصی پہلو بنایا ۔غالب کی شخصیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے نسب کو اعلیٰ تر سمجھتے تھے۔ انہوں نے شاعری کو ذریعہ عزت سمجھنے میں تگ و دو سے کام لیا۔غالب کی خود پسند شخصیت ان کی شاعری اور نثر میں دو مختلف اسالیب میں ظاہر ہوئی۔ اس کے باوجود ان کی شخصیت کا جوہر اپنی جگہ قائم ہے۔ گو بحیثیت شاعر اور نثر نگار شخصیت نے چولا ضرور بدلا ہے لیکن مجموعی طور پر نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خان غالب اردو شاعری سے نثر نگاری تک یکتا و نادرِ روزگار شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ چنانچہ غالب انفرادیت پسندی کی مثال ہے اور وہ ہر دور کے مقبول شاعر اور نثر نگار ہیں۔
افادہ و حوالہ جات
۱۔ محمد یحییٰ تنہا:سیر المصنفین، شیخ مبارک علی ، لاہور، ۲۰۰۳ء ص ۴۸
۲۔ انتظار حسین:غالب غزل سے ناول کی طرف مشمولہ نظریے سے آگے، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز
۲۰۰۴ئ،ص
۳۔ غلام رسول مہر(مرتبہ): خطوطِ غالب،ص۲۳۲
۴۔ عزیز ابن الحسن،ڈاکٹر:مجلہ ’’معیار‘‘،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد،ص۲۸۱


یہ مضمون آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟