خلیل طوقار کا انٹرویو : کامران غنی ، پٹنہ، بہار، انڈیا

ڈاکٹر خلیل طوقار نسلاً ترک ہیں۔ ان کی پیدائش استنبول (ترکی) میں ہوئی۔ ترکی میں ہی انھوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ فی الوقت وہ استنبول یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو ہیں۔ڈاکٹر طوقار کی تقریباً دو درجن کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔وہ ترکی سے شائع ہونے والے اردو کے واحد ادبی مجلہ’’ارتباط‘‘ کے مدیر بھی ہیں۔ یورپین اردو رائٹرس سوسائٹی ، لندن نے سن 2000ء میںانھیں ’’علامہ اقبال‘‘ ایوارڈ سے نوازا۔اس کے علاوہ عالمی اردو مرکز، لاس انجلس اور دیگر قومی وبین الاقوامی اداروں کی جانب سے انھیں اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔ پیش ہے ڈاکٹر خلیل طوقار سے ماہنامہ"کائنات" کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر کامران غنی کا انٹرویو


کامران غنی: آپ کی پیدائش کب اور کہاں ہوئی؟
خلیل طوقار: میں ۳ اپریل ۱۹۶۷ء میں استنبول کے باقرکوئے نامی علاقہ میں پیدا ہوا ۔
ک غ: آپ نے کب سے اردو زبان و ادب سے دلچسپی لینا شروع کی؟
خلیل طوقار: بچپن ہی سے کامران صاحب! بچپن ہی سے مجھے بہت خواہش تھی کہ مختلف ملکوں اور زبانوں کے بارے میں معلومات حاصل کروں۔ اس لیے شروع شروع میں جب مجھے پڑھنا لکھنا آ گیا توجہاں کہیں سے مجھے مختلف ملکوں، تہذیبوں اور زبانوں کے متعلق معلومات ملتی تھیں میں اسے فوراً پڑھنا شروع کرتا تھا۔ اس طرح بچپن میں ہی میں نے مختلف زبانوں کے الف بے سیکھے اور جب میں مڈل اسکول میں جا رہا تھا تو ایک چھوٹی سی کتاب کی مدد سے خود سے ہی پرانی ترکی یعنی عثمانی زبان (عربی رسم خط میں لکھی جانے والی ترکی زبان) کے حروف تہجی کو سیکھ لیا تھا اور ترکی زبان کی پرانی کتابیں پڑھنے لگا تھا پھر عمر کے ساتھ ساتھ لسانیات اور ادب کا شوق بھی بڑھتا گیا۔ میرے دوست کہتے ہیں کہ خلیل کی زبان سیکھنے کی خواہش دیوانگی کی حد سے بھی آگے بڑھی ہوئی ہے۔ کامران صاحب! اسی دیوانگی نے مجھے اردو زبان میں دلچسپی لینے اوراسے سیکھنے پر مجبورکیا۔
ک غ: آپ کے لئے اردو بالکل نئی زبان تھی۔ اردو زبان سیکھنے کے عمل میں کیا دشواریاں اور چیلنجز پیش آئے؟
خلیل طوقار:  جی، شروع میں تو اردو میرے لیے بالکل نئی زبان تھی نہ ہی اردو کے صرف و نحو سے متعلق مجھے کچھ علم تھا مگر یہاں تک مجھے معلوم تھا کہ اردو برصغیر پاک و ہند کی اور ہندوستانی مسلمانوں کی زبان ہے جنھوں نے ہماری جنگ آزادی کے دوران ہماری مدد کی تھی۔ جی نہیں، جب انسان کسی سے پیار کرے تو اُس کو حاصل کرنے میں اُس کی راہ میں کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہوسکتی۔ اردو سے مجھے محبت تھی اور ہے بھی لہٰذا میںہر قیمت پر اس کو سیکھنے میں مصر رہا، یہاں تک کہ میں ترکی وزارت خارجہ کے تمام تر امتحانات پاس کرکے اس وزارت کے لیے منتخب ہوا تھا لیکن مجھے معلوم تھا کہ اگر وزارت خارجہ میں جاؤں گا تو اردو کو خیرباد کہنا ہوگا اسی لیے میں نے اردو ہی کے لیے یونیورسٹی سے منسلک ہونے کو ترجیح دی۔
ک غ:  ترکی میں اردو کی کیا صورت حال ہے؟
خلیل طوقار: ترکی میں اردو کی صورت حال کے بارے میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ اردو زبان ترکی میں ایک اجنبی زبان ہے اور اسے اجنبی زبان کی حیثیت سے سکھایا جاتا ہے جس طرح انگریزی یا فرانسیسی کو سکھایا جاتاہے۔ ترکی میں اردو بولنے والوں کی تعداد بہت کم ہے وہ بھی پاکستانی یا ہندوستانی النسل لوگ ہیں جو اعلیٰ تعلیم یا کاروباری سلسلے میں موجود ہیں۔  اسی سبب ترکی میں اردو اخبارات یا ویب سائٹ تقریباً مفقود ہے۔ ایک میرا ادبی اور علمی مجلہ ’’سہ ماہی ارتباط۔استنبول‘‘ اردو میں شائع ہورہا ہے۔ وہ بھی پچھلے سال میری طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے تعطل کا شکار ہوگیا ہے مگر ذرا طبیعت بحال ہونے پر اس کی طرف پھر سے توجہ دینے کا ارادہ رکھتا ہوں۔یہاں ارتباط کی بات آئی تو مجھے بالخصوص پشاور کے دو دوست محمد ظہور سیٹھی اورنسیم خواجہ صاحبان اور کراچی کے معراج جامی صاحب کاذکر خیر کرنا چاہئے کیوں کہ ان تینوں ادب دوست اور ادب پرور ہستیوں نے ارتباط کی اشاعت میں میری ہر طرح کی مدد کی ہے ۔میں ان کا کتنا بھی شکریہ ادا کروں وہ ناکافی ہے۔
ک غ : کیا ترک اردو زبان کے تعلق سے دلچسپی رکھتے ہیں؟
خلیل طوقار: جی ہاں، ترکی میں اردو زبان کے متعلق دلچسپی موجود ہے، اس کا اندازہ یہاں سے کیجئے کہ ترکی کی تین یونیورسٹیوں میں یعنی استنبول، انقرہ اور قونیہ سلجوق یونیورسٹیوں میں اردو کے شعبہ جات ہیں اور میں اپنے شعبے کے بارے میں بات کروں تو ہر سال ہماری بی اے کی کلاسوں میں تیس کے قریب قریب طالبعلم باقاعدہ امتحانات پاس کرکے داخلہ لیتے ہیں اور وہ سب کے سب ترک النسل ہیں، اسی طرح ہماری چار سالہ بی اے کی کلاسوں میں کم و بیش ایک سو کے قریب طالبہ و طالبات اردو کی تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
ک غ:  آ پ کے نزدیک اردو اور ترکی زبان کس حد تک مماثل ہے؟
 خلیل طوقار: دونوں زبانیں الگ الگ زبانی خاندانوں سے تعلق رکھنے کے باوجود بالخصوص نحو کے لحاظ سے بہت ساری مماثل رکھتی ہیں اور دونوں زبانوں کے تہذیبی اور ثقافتی پس منظر میں کئی پہلوؤں سے مماثلت پائی جاتی ہے۔ ہاں یہ تو آشکار بات ہے کہ دونوں زبانوں کا صرف بالکل مختلف ہے۔
ک غ:   آپ شاعری بھی کرتے ہیں۔ آپ کے دو شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ آپ نے کب سے شاعری شروع کی؟
خلیل طوقار: جی شاعری میں طبع آزمائی کرتا ہوں اور میرے دو شعری مجموعہ کی اشاعت ہو چکی ہے اور تیسرا بھی ’’پردیسی‘‘ کے عنوان سے انشاء اللہ عنقریب شائع ہوگا۔جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے میں نے یونیورسٹی کی تعلیم کے دوران شاعری کی طرف قدم بڑھایا ۔ یہ بات تو سب کو عجیب لگتی ہے لیکن میں سب سے پہلے فارسی میں شاعری کرنے لگا اور پھر اردو کی طرف آیا اور اپنی زبان ترکی میں ایک شعر تک نہیں لکھا۔ اس کی وجوہات مجھے بھی معلوم نہیں ہیں۔ شاید تحت الشعور میں کچھ گڑبڑ ہے۔
ک غ : اردو کے کن شعراء سے آپ متاثر ہیں؟
خلیل طوقار: اردو کے شعراء میں سے مجھ پر اثر چھوڑنے والوں میں میر تقی میر، مرزا غالب اور محمد اقبال کے نام سر فہرست ہیں۔ جدید شعراء میں فیض احمد فیض اور احمد فراز ہیں۔
ک غ: اردو کی کون سی صنف آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے اور کیوں؟
خلیل طوقار: ظاہر ہے کہ شاعری، کیونکہ شاعری میری طبیعت کو راس آتی ہے۔ ساتھ ساتھ افسانہ اور مزاحیہ ادب بھی مجھے اچھا لگتا ہے۔آج کل میں امجد اسلام امجد، عطاالحق قاسمی، ترنم ریاض اور پوپلر میرٹھی کی شاعری کو توجہ سے اور پسند سے پڑھتا ہوں۔
ک غ:  قدیم ترکی زبان میں بے شمار الفا ظ عربی و فارسی کے تھے، اب عربی و فارسی کے الفاظ تقریباً متروک ہو چکے ہیں۔ رسم خط بھی رومن ہے۔اردو کے تعلق سے بھی اکثر یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ اس کا رسم خط بدل کر رومن یا دیو ناگری کر دینا چاہیے۔آپ کا کیا خیال ہے؟
خلیل طوقار: اس موضوع پر تو میرا ایک طویل مضمون ہے جسے میں نے ایکسپرس میڈیا گروپ کی دوسری عالمی اردو کانفرنس میں پیش کیا تھا۔ میں رسم الخط بدلنے والوں سے یہ سوال کرتا ہوں کہ ترکی میں ترکی زبان کا رسم الخط بدل دینے سے ہمارا چھ سو سال کاادبی، تہذیبی، مذہبی اور علمی سرمایہ کالعدم ہوگیا اور ہم ترکی میں اسی نوے سال سے اس سرمایہ کی بازیابی کی کوشش کرتے ہیں اور اس میںآج تک کامیاب نہیں ہوپائے ہیں۔کیا آپ بھی اپنے آبا و اجداد کے چار پانچ سو سال کے تہذیبی، ثقافتی اور دینی سرمایہ سے ہاتھ دھونا چاہتے ہیں،؟ اگر چاہتے ہیں تو رسم الخط بدل دیں جس طرح ترکی میں کیا گیا تھا اوراگر نہیں چاہتے ہیں تو اردو کے رسم الخط کو ہاتھ تک نہ لگائیں کیونکہ یہ رسم الخط مکمل اور بہت خوبصورت ہے۔مزید بر آں اردو رسم الخط کو مشکل کہنے والوں سے میں یہ عرض کرتا ہوں کہ جبکہ جاپانی بچے تین مشکل سے مشکل رسم الخط سیکھ سکتے ہیں اور چین کے بچے ایک اخبار پڑھنے کے لیے چار سو سے لے کر ایک ہزار تک کی شکلیں یاد کرپاتے ہیں تو پاک و ہند کے بچے اس قدر سلیس اور آسان الفہم رسم الخط کو یاد نہیں کرسکیں گے؟ اگرجواب نفی میں ہوگا تو میرے خیال میں یہ رسم الخط کی غلطی نہیں اس کو نہ سیکھنے والوں کی سہل پسندی ہے۔
ک غ:  اردو کے مستقبل کے حوالے سے آپ کتنے مطمئن ہیں؟
خلیل طوقار: دل تو مطمئن ہوں کہنا چاہتا ہے مگر دماغ سے رجوع کرتا ہوں تو وہ اس کا انکار کرتا ہے۔ جبکہ پاک و ہند میں والدین بالخصوص مائیں اپنے بچوں سے انگریزی میں بات کرنے کی کوشش کریں گے، ان کی انگریزی دانی کو بہتر بنانے کی خاطر ہر چیز حتیٰ کہ اپنی شناخت کھونے پر تیار ہوں گی،لوگ انگریزی دانی کو علم و فضل سمجھتے رہیں گے اور مجھ جیسے ایک اجنبی اردودان سے بھی اردو کے بجائے انگریزی میں بات کرنے کی ضد کریں گے تو میں اردو کے مستقبل سے کس طرح مطمئن ہوسکتا ہوں؟ ہاں امیدوار تو ہوں کیونکہ دنیا امید پر قائم ہے۔
ک غ:  محبان اردو کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟
خلیل طوقار: جی ہاں، میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ اللہ تعالی نے آپ لوگوں کو اردو جیسی خوبصورت، شیریں اور باصلاحیت زبان عطا کی ہے تو اس کی اہمیت جانئے۔ اردو دنیا کہ واحد زبان ہے جس کی پیدائش بین الاقوامی اور بین المذاہبی گہوارہ میں ہوئی ہے اور مختلف قوموں اور مذاہب کے لوگوں کے ہاتھوںپروان چڑھی ہے۔ اگر اردو ہے تو آپ سب کا  تہذیبی اور ثقافتی اتحاد اور رابطہ ہے۔اس لیے اردو بولتے ہوئے فخر محسوس کیجئے اور اپنے بچوں کو بھی اردو بولنے پر فخر کرنا سکھائیے!

یہ انٹرویو آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟