ڈاکٹر مزاح نگار : خورشید احمد عوان، ہری پور ، پاکستان



کہنے لگے، ’’ والدین نے خواہ مخواہ مجھ سے ڈاکٹری کا پیشہ کروایا‘‘۔
آپ کیا بننا چاہتے تھے؟
بولے،  جو کچھ اب بنا بیٹھا ہوں۔
یعنی مزاح نگار…؟
میرے الفاظ کی تصدیق میں اُنہوں نے سر ہلادیا…
تو وہ مزاح نگار بننا چاہتے تھے ۔ اسی لیے اپنے  اُوقات مشورہ (نو بجے تا دو بجے سرکاری ہسپتال ) میں مریضوں کو نہ صرف قابل حکیم یا ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ دیتے بلکہ طب خانے اور کلینک کا پتا بھی بتاتے تھے۔ اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ شام کو جب کمیشن لینے جاتے تو مریض کی عیادت بھی کرتے۔ 
اپنے فارغ اُوقات (اُن کے فارغ اُوقات سے مراد وہ وقت ہے جب کوئی مریض موجود نہیں ہوتا۔ قدرت نے اُنہیں یہ فراغت بہت بخشی تھی) میں وہ مزاح نگاری پر جو طبع آزمائی کرتے ہیں اس کے متعلق لوگوں میں متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ واقعی مزاح لکھتے ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ وہ مذاق کرتے ہیں۔
اُن کی مزاح نگاری کے قائل چند لوگ کئی ثبوتوں کی بنا پر اپنی آراء کو درست ثابت کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں ایک تو یہ کہ اُن کی ہر کتاب پر مزاحیہ مضامین کا مجموعہ لکھا ہوتا ہے اور یہ تو ہر سدھوتا شخص جانتا ہے کہ مزاحیہ مضامین صرف مزاح نگار ہی لکھتا ہے عام لوگوں کے پاس اتنا فالتو وقت کہاں ہے۔دوسرا اُن کے وزٹنگ کارڈ پربھی  مزاح نگار ہی لکھا ہوا ہے۔
چنانچہ وہ لوگ کہتے ہیں کہ اتنے ثبوتوں کی موجودگی میں محض ڈاکٹر صاحب کے مضامین پڑھ کر یا کسی ضد میں آکر یہ کہنا کہ وہ مذاق کرتے ہیں ۔ مذا ق ہی ہوگا۔ 
ڈاکٹر صاحب کا اپنا کہنا ہے کہ علاقے کے لوگ اُن کی مزاح کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تا ہم اُنہیں اُمید ہے کہ ایسا وقت ضرور آئے گا جب اِ ن لوگوں سے خود کو مزاح نگار تسلیم کروالیں گے۔ البتہ اُنہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ وقت کب آئے گا ۔ بہت کسی نے اصرار کیا تو غالب کا یہ شعر پڑھ دیتے ہیں۔
ہوں گرمیٔ نشاط تصور سے نغمہ سنج
میں عندلیب گلشن نا آفریدہ ہوں
غالب کی مثال دے کر وہ خود کو مزاح نگاروں کا غالب کہنا چاہتے ہیں۔ شاید سچ ہی کہتے ہیں غالب کی شاعری عام آدمی کہاں سمجھ سکتے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ جلد ہی ایسی کوئی نسل وجود میں آجائے جن کا ذوق مزاح اُن کے ’’شوق مزاح ‘‘ سے لگا کھاتا ہو۔ 
پچاس کے قریب کتابیں چھاپ چکے ہیں۔ شروع شروع میں لوگوں میں حسد و رقابت اور منافقت اتنی تھی کہ کوئی ناشر اُن کے مسودوں کو کتابی شکل دینے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ رائیلٹی دینے کا تو رواج ہی نہیں کتابیں چھپوانے پر راضی بھی ہو جائیں نہ صرف وہ ایڈوانس رقم طلب کرتے بلکہ اسٹاکسٹ بھی کتابیں رکھنے کا ماہانہ کرایہ مانگتے تھے۔ 
کچھ عرصہ تک ناشروں اور اسٹاکسٹ کے نخرے برداشت کرتے رہے مگر جلد ہی اپنا پبلشنگ ادارہ کھول دیا۔ اور وجہ یہ بتائی کہ ناشر چھاپتے وقت سر ورق پر ’’ماخوذ‘‘ لکھ دیتے تھے…
ادارہ کھولنے کے بعد اپنی کتابیں بیچنے اور کرایے پر دینے کے لیے ایک عدد دکان بھی کھول لی جو کلینک کے ساتھ بالکل جڑی ہوئی تھی۔
جہاں تک اُن کے فکر و فن کا تعلق تھا تو فن کے متعلق اتنا ہی عرض ہے کہ اُنہوں نے فنِ مزاح نگاری کے تمام حربے (بقول مخالفین ڈاکٹر صاحب چربے) استعمال کیے ہیں۔ اور فکر ایک ایسا سمندر ہے جس سے کوئی دریا نہریں اور چوبچے طویل مدت تک استفادہ بلکہ سرقہ کرتے رہے۔ چنانچہ اُن کی کتاب شائع ہونے سے پہلے اُن کے خیالات بلکہ جملے تک عصر حاضر کے کالم نویسوں دانشوروں اور ادیبوں کے ہاں مل جاتے تھے۔ یہ سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہا  یار دوستوں نے توجہ دلائی مگر وہ اس قزاقی Piracyپر خاموش رہنا چاہتے تھے۔ لیکن جب اُن کے دو چار قارئین نے اُ ن کی خاموشی کو دوسرا رنگ دینا شروع کیا تو اُنہیں تائو آگیا۔ 
تائو کھانے کے بعد اُنہوں نے آیندہ آنے والی ہر کتاب پر درج ذیل نوٹ لکھنا شروع کر دیا۔ 
’’ کتاب میں موجود تما م خیالات و اقعات بلکہ الفاظ تک مصنف کے اپنے ہیں۔ کسی قسم کی مماثلت ثابت کرنے کی کوشش مصنف کی ساکھ خراب کرنے کی سازش ہو سکتی ہے۔ اور اس میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کا قوی امکان ہے۔‘‘
بیرونی ہاتھ پر ایک دفعہ میں نے حیرت کا اظہار کیا اور کہا یہ تو ایک سیاسی اصطلاح ہے ۔ ادب میں اس کا استعمال کچھ نا مناسب ہے۔ 
اپنی کتاب میز پر پٹختے ہوئے بولے۔ کیا ہمارے نقاد غیر ملکی ایجنٹ نہیں جو بلا معاوضہ غیروں کے نظریات اور اصطلاحات ہمارے ادب میں نہ صرف پھیلا رہے ہیں بلکہ ہمارے ادیبوں کو ذلیل بھی کر رہے ہیں۔ 
مگر ڈاکٹر صاحب اتنے پڑھے لکھے لوگوں کو غیر ملکی ایجنٹ کہنا زیادتی ہے۔ 
ایجنٹوں کے ساتھ…؟ واقعی آپ ٹھیک کہتے ہو کیونکہ وہ ایجنٹ اتنے ظالم نہیں ہوتے… ارے دوست! ان ناقدین نے جرمن ، روسی ، فرانسیسی اور انگریزی ادیبوں کو اتنا چبا یا ہے کہ انہیں بدہضمی ہونے لگی ہے۔ ان کے ہر بُن مو سے اقوال زریں اور حوالے پسینے کی دھار بن کر ٹپکتے ہیں۔  دل میں مروڑ اُٹھتے ہیں بلند فشار خون کا مرض لاحق ہوتا ہے جسے وہ آگاہی کی سوغات سمجھ کر ساری حیاتی بلبلاتے رہتے ہیں۔ واللہ ان کے دماغوں سے غیر ملکی اور تحریروں سے حوالے نکال دئیے جائیں تو پیچھے شاید یہ خود بھی نہ بچیں…
’’ مگر جناب۔ آگاہی کے سوتے تو وہیں سے پھوٹتے ہیں اسی لیے تو……
تو کیا یہاں سے نقال پھوٹتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی سوچ کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ اب مجھے ہی دیکھ لو۔۔ میں نے وہ کیا چیز بیان نہیں کی جو عالمی ادب میں نہیں پائی جاتی…
’’پھر بھی یہ… اس طرح نہیں ہوتا دراصل یہ نقاد……‘‘
یہ نقاد… ارے یہ نقاد تو اسی دن وجود میں آگئے تھے جب پہلا ہندوستانی انگریز ہوا تھا۔ یعنی اب وہ ایسی جداگانہ قوم کا فرد نہیں رہا جس کے افکار اور اصلاحات تک اپنی ہوتی ہیں۔ اسی طرح کے احساس کمتری کے مارے ہوئے غیر ملکی ایجنٹوں کا طریقہ واردات یہ ہوتا ہے کہ اپنے آقائوں کے تمام افکار بڑے زور و شور سے من و عن بیان کر دیتے ہیں۔ اپنے ایک مضمون میں دس دس حوالے دیتے ہیں پھر جب میرے جیسے لوگ خالصتاََ اپنے افکار عالیہ کسی لطیف پیرائے میں بیان کرتے ہیں تو یہ اُنہیں ماخوذ قرار دے دیتے ہیں۔ اور دنیا کے دوسرے ادیبوں کو دیکھیے وہ بھی ان افکار کو واوین کے اندر نہیں لکھتے۔ یہ ایک عالمی سازش ہے۔ 
میری اکثر اُن سے اسی موضوع پر بات ہوتی حتیٰ کہ کسی ڈکیتی کی واردات پر تبصرہ کرتے تو بات Piracyپر ہی ختم ہوتی ۔ میں شدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُنہیں سخت سے سخت قدم اُٹھانے کو کہتا۔ مگرہ وہ افکار کرتے ہوئے کہتے کہ میں چاہتا ہوں کہ زیادہ دشمنی نہ پالوں تو بہتر ہوگا۔ 
آخر ایک دن مجھے بلایا۔ میں جب اُن کے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کتابوں کے ڈھیر لگے ہیں خود ہاتھ میں کسی کتاب کانسخہ پکڑے گم سم بیٹھے ہیں۔ آہٹ سن کر چونک اُٹھے۔ کتاب چھپاتے ہوئے سنبھل کر بیٹھ گئے ۔ میں نے بھی نظر انداز کرتے ہوئے سامنے رکھی کرسی گھسیٹی اور پھربیٹھتے ہوئے بولا۔ خیریت… کیوں یاد کیا…
نئی کتاب کا مقدمہ لکھ رہا ہوں تم جیسے مہربان دوستوں کے باربار اصرار کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے اس مقدمے میں تمام ملکی و غیر ملکی قزاقوں کا ذکر کروں گا۔
کہاں تک پہنچے ہیں…
بس یار کیا بتائوں… بہت وسیع کام ہے۔ اپنے دو تین جملے تلاش کرنے کے لیے سینکڑوں کتابیں دیکھنی پڑ رہی ہیں۔ لکھنے والے اتنے زیادہ ہیں کہ شاید مجھے اس مقدمے کی الگ سیریز لکھنی پڑے گی۔ 
جناب الگ سے مقدمہ لکھیں بھی اورکریں بھی… میں نے پر جوش ہو کر کہا۔
نہیں… دیکھو ایک ادب ہی تو ہے جو تھانے کچہریوں سے دور ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ یہ سلسلہ شروع ہو جائے اور ہر ادیب کٹہرے میں کھڑا وضاحتیں دیتا رہے۔ ’’جناب والا ۔ صفحہ نمبر ۲۵ پر لفظ ہے وہ واقعی میرا اپنا ہے۔‘‘
جیسے آپ کی مرضی… ویسے آپ کی طرح دوسرے کئی ادیب بھی ہیں جو اپنے جملے اور خیالات  چرائے جانے پر خاموش بیٹھے رہتے ہیں وگرنہ ہمارے ہاں کئی ادیب ایسے بھی ہیں کہ اُن کو ’’مستقلاََہتھ کڑی‘‘ لگی ہوتی۔
میرا فقرہ ختم ہوتے ہی مجھے گہری نظروں سے دیکھ کر بولنے لگے۔
کہیں آپ بھی تو طنزوغیرہ نہیں لکھتے……
ارے نہیں بھئی… میں تو سیدھا سادا انسان ہوں۔ بیلچے کو بیلچہ کہنے والا۔
میرے اعتراف پر اُنہیں اطمینان ہوا تو … مجھے گھر جانے کی اجازت ملی۔ 
پھر گھر کے بکھیڑوں میں تین چار ماہ تک اُلجھا رہا اور اُن سے ملاقات نہ ہو سکی۔ ایک دن صبح سویرے اُن کا پیغام ملا تو فرصت پاتے ہی ملنے چلا گیا۔ 
اُنہیں ملا تو ملتے ہی پریشان ہوگیا۔ پہلے تو اُن تک پہنچنے تک رستہ نہ ملا۔گاہکوں کی ایک بھیڑ اُن کی دکان کے سامنے پسینہ پسینہ ہو رہی ہے۔ کتابیں حاصل کرنے کے چکر میں وہ ایک دوسرے کو گرا کر پھلانگنے سے بھی گریز نہیں کر رہے تھے۔ عام گاہک ہی نہیں وہ دکاندار جو اُن کو گھاس تک نہیں ڈالتے تھے سامنے لان میں گھاس پر بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے ۔ ایں چہ بوالعجبی است۔
رسائی پاتے ہی سلام و دعا کیے بغیر میں نے چیخ کر پوچھا۔ لوگ اتنی زیادہ تعداد میں آپ کی کتابیں کیوں خرید رہے ہیں۔ 
کیا وہ آپ کے مزاح کو سمجھنے لگے ہیں۔ ’’ع غ‘‘ کے دسویں ایڈیشن کی ہزارویں کاپی دوگنی قیمت پر گاہک کے ہاتھ تھماتے ہوئے بولے۔ 
’’فارغ ہو جانے دو ساری کہانی سناتا ہوں۔‘‘
گاہکوں کی دھند کافی دیربعد چھٹی تو میری طرف متوجہ ہوئے۔
علاقے کے لوگوں میں کوئی انقلاب نہیں آیا۔ میں نے سوچا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ضد، تعصب اور حسد کی وجہ سے یہ لوگ میرے مزاح سے محروم ہو جائیں۔ یہ بہت بڑا نقصان ہوگا جس کی تلافی شاید صدیوں میں بھی ممکن نہ ہو۔ لہذا کوئی ایسا طریقہ ہونا چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک میری کتابیں پہنچ جائیں۔
’’تو آپ نے کیا کیا‘‘ … میں نے تیزی سے پوچھا۔ میری عجلت دیکھ کر مسکرائے اور میز کے نیچے سے ایک کاغذ نکالا۔ میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولے۔ 
’’کچھ انعامی اسکیمیں تیار کی ہیں ذرا پڑھو‘‘۔
میں نے پڑھنا شروع کیا۔ 
اسکیم نمبر1:۔کتاب ’’سین شیں‘‘ میں مصنف نے کس صفحے پر اپنے بارے میں کیا لکھا ہے۔ ( اپنی کتاب ’’ع غ‘‘ کے متعلق اُنہوں نے کہیں خود کہا تھا کہ وہ مشہور زمانہ کتاب ہے) یہ بھی بتائیں کہ مصنف نے ایسا کیوں لکھا ہے۔ اصل ورق پھاڑ کر کتاب اپنے پاس رکھیں پھر الگ سے ایک خالی ورق پر جوابات لکھ کر اس ورق کے ساتھ مصنف کو بھیجیں ۔ صحیح جوابات یا وجوہات بتانے والے خوش نصیبوں کو قرعہ اندازی کے ذریعے انعام دیا جائے گا۔ انعام کی رقم بیس ہزار (جنرل ٹیکس کاٹ کر)…
اسکیم نمبر2:۔کتاب ’’دال ذال‘‘ کے کس صفحے پر مصنف نے پہلی مرتبہ اپنے مزاح نگار ہونے کا انکشاف کیا ہے۔ مذکورہ صفحے کو تہہ کر کے کتاب کی دو جلدوں کے ساتھ بھیجیں ۔ جیتنے والے سو خوش نصیبوں میں پچاس ہزار روپیا تقسیم کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اس اسکیم میںحصہ لینے والوں کی تعداد تقریباََ پانچ ہزار ہونی چاہیے۔ اس اسکیم میں بچے بوڑھے خواجہ سرا اور عورتیں بھی حصہ لے سکتی ہیں۔ فوت شدہ افراد کے پسماندگان دو جلدوں کے ساتھ اُن کی شناختی کارڈ کی نقل بھیج کر اُنہیں اسکیم میں شامل کرا سکتے ہیں۔ 
اسکیم نمبر3:۔مصنف کے والد کا کیا نام ہے اور اُن کا پیشہ آبا پچھلی سات پشتوں سے کیا رہا ہے۔
جواب ’’لام میم‘‘ کے صفحہ نمبر 52کے نیچے موجود خالی جگہ لکھ کر شناختی کارڈ کی نقل کے ساتھ بھیجنے سے پہلے سو روپیے کا پوسٹل آرڈر لف کریں۔ پوسٹل آرڈ ر نہ ہونے کی صورت میں نام قرعہ اندازی میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ جن لوگوں کو شک ہے کہ اُن کے جوابات غلط ہو سکتے ہیں وہ سو سو کے دو پوسٹل آرڈر ساتھ بھیجیں۔
اسکیم نمبر4:۔ مصنف کی مشہور زمانہ کتاب کا نام بتائیں جس میں سب سے زیادہ مزاح ڈالا گیا ہے۔ تمام کتابیں خرید کر پڑھیں پھر سوچ سمجھ کر جواب دیں۔ اس اسکیم میں شامل ہونے والے افراد کا پہلے انٹرویو لیا جائے گا اور اُن سے کہا جائے گا کہ وہ دوسری کتابوں سے موازنہ کر کے یہ ثابت کریں کہ مصنف نے فلاں کتاب میں…
زیادہ مزاح ڈالا ہے۔ اگر اُنہوں نے واقعی مصنف کی بیان کردہ مشہور زمانہ کتاب کا نام بتا دیا تو قرعہ اندازی کے ذریعے تین افراد میں پچاس ہزار روپیا تقسیم کیا جائے گا۔ 
نوٹ:۔ مصنف کو بھیجی گئی تمام کتابیں نصف قیمت پر اُن کے چھوٹے سالے کی دکان سے مل سکتی ہیں۔ یہ پیش کش لامحدود مدت کے لیے ہے۔ 
زبردست واہ واہ… میں نے ورق اُن کو واپس کیا۔
’’اچھا بتائو تمہارے لیے کتنی کتابیں پیک کروں۔ میرا خیال ہے تم ساری اسکیموں میں حصہ لے لو میں ہر اسکیم کے لیے الگ الگ کتابیں پیک کر دیتا ہوں۔‘‘
اس کی ضرورت نہیں ہے۔ میں تو انعام کے بغیر بھی آپ کے مزاح سے لطف اندوز ہوتا رہتا ہوں۔ 
میں نے جلدی سے کہا۔
اچھا… بہر حال تم بھی حصہ لے لیتے تو اچھا تھا۔ زیادہ تر سوالات کے جواب تو تمہیں آتے ہیں… میں تمہارے لیے چائے کا کہہ کر آتا ہوں۔
گھر واپس آکر میں سوچتا رہ گیا کہ ڈاکٹر صاحب کی ان انعامی اسکیموں کا کیا ہوگا۔ لوگ پتا نہیں کیا جواب دیتے ہیں۔ تا ہم مصروفیات زمانہ نے مجھے زیادہ سوچنے کا موقع نہ دیااور قرعہ اندازی کا دن آگیا۔ 
ڈاکٹر صاحب بھی کتابیں بیچنے میں اتنے مصروف رہے کہ مقررہ تاریخ سے پہلے آیا ہوا کوئی جواب نہ پڑھ سکے ۔ آخری رات کو فراغت ملی اور پھر…
یہ کیا… مصنف نے لوگوں کو انعام دینے کی بجائے گالیاں دینا شروع کر دیں ۔ جس پر بعض سر پھروں نے انہیں سر عام پیٹ ڈالا۔ تین دن تک اپنے کلینک میں زیر علاج رہے۔ حکیم صاحب باقاعدگی کے ساتھ آتے اور زخموں پر مرہم رکھتے۔ چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تو تشدد پسندوں کی فہرست لے کر تھانے پہنچ گئے۔ 
اب چونکہ معاملہ عدلیہ کے پاس ہے تو اُن کے ایک سالہ بیٹے سے پندرہ بیس سال بعد پوچھ کر بتا دوں گا کہ مجرموں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔ سردست میں وہ اسباب بیان کرتا ہوں جن سے معاملہ یہاں تک پہنچا۔ 
شرکاء نے ان اسکیموں کے عجیب و غریب (بقول مصنف نازیبا) جواب دئیے۔ پہلی اسکیم جس میں مصنف نے اپنے بارے میں پوچھا تھا اس کے جواب میں تو انتہائی نا مناسب باتیں لکھیں۔ مذکورہ صفحے میں ڈاکٹر صاحب نے لڑکیوں سے عشق نہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ لوگوں نے اس کی وجہ جو بتائی مصنف اس پر ہتھے سے اکھڑ گئے۔ میڈیکل فٹنس کا سرٹیفیکیٹ لوگوں کے منہ پر دے مارا۔ لڑکھڑاتے ہوئے اُٹھے اور الماری سے حکیمی نسخوں کا پلندہ نکال کر میرے آگے ڈھیر کر دیا۔ 
یہ دیکھو……
دوسری اسکیم مطلوبہ تعداد میں افراد کی کمی کے باعث ختم کرنی پڑی۔ اسکیم نمبر3کے سلسلے میں موصول ہونے والے جوابات نے بھی ان کا فشار خون بلند کر دیا۔ لوگوں نے پیشہ آبا، قصابہ اور قزاقی وغیرہ قرار دیئے۔
چلیے۔یہ سب کچھ تو ہوا سو ہوا ۔ اس دھماچوکڑی میں ‘ میں اُن سے اس مقدمے کے بارے میں پوچھنا بھول گیا جس کے ذریعے وہ قزاقوں کو طشت ازبام کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ 

یہ مزاحیہ کلام آپ کو کیسا لگا؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟