تیسری آنکھ: ڈاکٹر ستیہ پال آنند ۔ امریکہ
آج جب میں چلتے چلتے تھک گیا ہوں
اور اپنی تیسری چشمِ بصیرت کاذرا سا کھولنابھی
مجھ کو مشکل لگ رہا ہے
کیوں مرا ہمزاد
مرا یہ ہم شبیہ ِ ذات
پھر اک بار مجھ سے آ ملا ہے؟

ایک مدّت تک
مرے اپنے بدن میں بیٹھ کر
یہ فاجر و فاحش ، فنا فی الفْرج
میرے جسم پر قابض رہا ہے
کس قدر مشکل سے میں نے
اس ’سیامی بھائی ‘ کو 1
یوں جسم و جاں سے کاٹ کر پھینکا تھا
جیسے جونک ہو
چمٹی ہوئی میرے لہو کو پی رہی ہو
اور میں آزاد ہو کر سوچتا تھا
اب مرا ہمزاد پیچھے رہ گیا ہے
اور اپنی ذات کی تسخیر کے لمبے سفر میں
میں کسی آزاد طائر کی طرح اڑتا پھروں گا!
روح پرور کس قدر احساس تھا یہ
جانتا ہوں!
آج، لیکن، پھر مری ازلی ہزیمت
مجھ سے واپس آ ملی ہے
وہ شبیہ ِ ذات جو کل تک مرے نقشِ قدم کو ڈھونڈتی
مجھ سے کروڑوں سال پیچھے رہ گئی تھی
مجھ کو پھر چھونے لگی ہے
اس کے ٹھندے، موت جیسے لمس کا احساس پھر کرنے لگا ہوں
اب فقط اک معرکہ
غارت گری اپنے ہی جسم و جاں کی
اک شبخون ہی میری نجات ِ آخری ہے
دونوں آنکھیں بند کر کے
اپنی فاضل آنکھ کھولو ں
اس کو، یعنی اپنے ’’میَں‘‘ کو
خود جلا کر خاک کر دوں
--------------------------------------------
1.   Siamese Twin

یہ نظم آپ کو کیسی لگی ؟ اسے کتنے ستارے دینا چاہیں گے؟